یہ اصولوں کی جنگ ہے

جنرل وی کے سنگھ
تاریخ پیدائش کے معاملے میں سپریم کورٹ اس لیے گیا کیونکہ یہ اصول کی بات تھی۔ میں نے سپریم کورٹ میں بھی یہی کہا کہ مجھے اپنی مدت کار نہیں بڑھانا ہے۔ اس میں سپریم کورٹ نے ایک طرح سے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ انہوںنے یہ کہا کہ ہمارے پاس جو مسئلہ آیا ہے اسے ہم اس طرح لے رہیں کہ جو ان کی عمر ہے، جو ریکارڈ میں ہے، اس میں ہمیں کوئی دقت نہیں ہے اوراس پر اٹارنی جنرل صاحب اورسرکار نے جو حکم دیا ہے وہ انہوںنے واپس لے لیا ہے۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔ پٹیشنر نے اپنی پٹیشن واپس لے لی ہے تو یہ کیس وڈراہوجاتا ہے۔ سپریم کورٹ میں بیٹھے لوگ بڑے عظیم لوگ ہیں ان کے کیا خیالات تھے کیا سوچ تھی، وہ جانیں۔ البتہ ایک چیز الگ لگتی ہے کہ ہماری عدالت عظمیٰ نے عمر کے لیے ایک ضابطہ بنایا، وہ سب کے لیے نافذ ہے۔ رٹائرمنٹ کے لیے ہم نے پہلے کہا تھا کہ ہماری مدت کار، جیسا کہ سرکار نے کہا کہ 31مئی تک ہے، ہم 31مئی کو رٹائرہوجائیں گے۔ لڑائی مدت کار کے لیے نہیں تھی، لڑائی اصول کے لیے تھی۔

جب میں فوج کا سپہ سالار بنا تب سب سے بڑی چنوتی میرے سامنے تھی کہ کس طرح ہم اپنے آپ کو مستحکم کریں۔ ہم نے ٹرانسفارمیشن اسٹڈی کی اوراس کے ذریعے ہمیں پتہ چلا کہ کافی چیزیں ایسی ہیں جن سے ہم فوج کو اور اچھا بنا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک اور دقت تھی کہ ہماری ماڈرنائزیشن اسپیڈ کافی سلو تھی۔ کافی چیزیں ایسی تھیں جو پائپ لائن میں رکی پڑی تھیں۔ ایک مسئلہ جسے میں ایک طرح سے کسی آرگنائزیشن  کے لیے بنیادی چیز سمجھتاہوں کہ ہماری جو ویلیوز تھیں، جو ہماری شبیہہ تھی، کہیں اس نے چوٹ کھائی تھی، کیونکہ کچھ معاملے ایسے ہوئے تھے۔ لوگوں کو لگنے لگا تھا کہ فوج کے اندر کہیں بدعنوانی بڑھ گئی ہے۔ اگرآپ شبیہ کو سدھارنا چاہتے ہیں تو بہت وقت لگتا ہے۔

پہلی بات جو میں بتانا چاہتاہوں وہ یہ کہ فوج ایسا کوئی کام نہیں کرتی جو سرکار کے خلاف ہو۔ دوسری، ہم ایسی کوئی چیز اپنے پاس نہیں رکھتے، جس سے کہ ہمیں جاسوسی کرنی پڑے اور جاسوسی کس لیے؟ آخرسرکار اورفوج کے درمیان تال میل ہے تو ہمیں ایسی کیا ضرورت ہے کہ ہم کسی طرح کی جاسوسی کریں گے۔ اسے لے کر میڈیا میں ایک من گھڑت کہانی چلائی گئی تاکہ شبیہ کو خراب کیاجائے آپ کے اوپر کیچڑ پھینکی جائے۔ جن دوگاڑیوں کا ذکر کیا جارہاہے کہ وہ دو گاڑیاں وزارت دفاع کے باہر تھیں اور جاسوسی کاکام کرتی تھیں، ان کے بارے میں بتانا چاہتاہوں کہ اگر آپ کی گاڑی کہیںکھڑی ہو، کوئی اس کا نمبر نوٹ کرکے لے جائے اور اخبار میں نکالے کہ آپ جاسوسی کررہے تھے تو کیا آپ سچ مچ جاسوسی کررہے تھے۔ آپ تو بولیں گے کہ آپ کی گاڑی وہاں کھڑی تھی۔ تو انہوںنے کن گاڑیوں کے نمبر نوٹ کیے ہیں، کیا ان کے اندر سامان تھا؟ اگر وہ ایک نارمل ڈٹیچمنٹ، جو ہمارا ایک کائونٹر انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ ہے، اگر اس کی گاڑی ہے تو وہ گاڑی تو روز آتی ہے وہاں پر۔ لیکن اگر اس کے اندر ایک اکیوپ منٹ لگاہوتا۔ تو اس میں کوئی سوراخ ہوتا، کوئی چیز ہوتی، کوئی باہر سامان نکلاہوتا دوسری چیز یہ ہے کہ اگر فوج کے پاس ایسا سامان ہوتا تواس کی لسٹ باقاعدہ آئی بی کے پاس ہوتی۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ اب سوال ہے کہ اس ساری کہانی کے پیچھے کون ہے۔ ہم نے جب پتہ کرنے کی کوشش کی تو ہمیں انٹیلی جنس سے پتہ نہیں چلا۔ میڈیا کے ذریعے ہی پتہ چلا ۔ وہاں سے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے ہی کچھ رٹائرڈ لوگ تھے جو میڈیا کو بریف کررہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کے غیرملکی ہتھیار والوں کے ساتھ کچھ تعلق ہیں۔ اب کس نے کس سے کیا کہا، نہیںمعلوم، لیکن اس سب کے بیج تعلق ضرور ہے، یہ مجھے معلوم ہے۔
جہاں تک سکناکامعاملہ ہے، ایک کورکمانڈر کہہ کر گیا تھا کہ سیکورٹی کے لحاظ سے فوج کو یہ زمین لے لینی چاہئے۔ دوسرا کور کمانڈر آتا ہے، وہ بھی چھ مہینے تک اسی بات کو دہراتا ہے کہ یہ زمین سرکار سے فوج کو لے لینی چاہئے اور ایک مہینے کے اندر وہ بالکل پلٹی کھاجاتا ہے۔ جب ہم لوگوں کو شک ہوا تو ہم نے تحقیقات کی۔ آرمی ہیڈ کوارٹر کو بتایا گیا کہ اس کے اندر یہ نقص ہیں۔ کورٹ آف انکوائری چلی۔ میراکام تھا اس چیز کو صحیح جگہ لے جانا۔ جن لوگوں نے غلطی کی ہے ان کانام اجاگر کرنا اوران کے خلاف کارروائی کرنا۔ میں یہ کہوں گا کہ اس معاملے میں ہمارے وزیر دفاع نے صحیح فیصلہ لیا اور ان کے پاس جو ہیڈکوارٹر کی ریکمنڈیشن گئی تھی اس کو انہوںنے مانا۔ انہوںنے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ میرے رشتے سب کے ساتھ ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ شاید جنرل کپور کے ساتھ رشتوں میں کچھ من مٹائو ہوسکنا کو لے کر، کیونکہ اس میں جنرل اودھیش شامل تھے۔ آدرش سوسائٹی گھوٹالے کو فوج نے اجاگر نہیں کیا۔ یہ معاملہ اجاگر ہوا میڈیا کے ذریعے۔ ہماراکام صرف یہ تھا کہ ہم اس کی انکوائری کریںکہ قصوروار کون ہے۔ کس کی غلطی سے فوج کی زمین ایک پرائیویٹ بلڈر کے پاس چلی گئی یا کیسے ایک سوسائٹی کے پاس چلی گئی۔ اس کے اندر کافی لوگ شامل تھے۔ یہ نہیں کہ ہم نے اس میں کوئی الگ سے دلچسپی دکھائی۔ اس کے اندر وہ کیا جو فوج کے ضابطے سے ہونا چاہئے تھا۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ فوج نے اور خاص طور سے فوج کے جو کمانڈرزہیں، ان کی طرف سے میں  نے کہہ دیا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں فوج نہیں جائے گی اور میں نے سرکار کی بات نہیں مانی۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ہم سے صلاح مانگی گئی تھی کہ آپ پوری صورتحال پر غور کرکے بتائیے کہ کیا فوج کو اس معاملے میں اترنا چاہئے یا نہیں۔ ایک پروفیشنل کی طرح ہم نے صلاح دی اور کہا کہ نکسلواد ایک سماجی، اقتصادی اور گورننس کا مسئلہ ہے۔ وہاں کے ٹرائبل شاید اسی حالت میں ہیں جس حالت میں آزادی سے پہلے تھے۔ا یسے لوگوں کو جب نکسلی آکر بتاتے ہیں کہ دیکھئے آپ ابھی تک وہیںکے وہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ دیکھئے شہر کی فوٹو۔ ہم نے صرف یہ کہا کہ اس مسئلہ کے سدھار کے لیے آپ کولاء اینڈ آرڈر مضبوط کرناہے۔ وہاں پر ڈیولپمنٹ ہوناچاہئے دوسری چیز وہ آپ سے کوئی الگ ملک نہیں مانگ رہے ہیں۔ اپنے حق کے لیے لڑرہے ہیں، فوج آخری ذریعہ ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے وزیر داخلہ نے اس بات کو مانا۔ جب میں فوج کا سپہ سالار بنا تب سب سے بڑی چنوتی میرے سامنے تھی کہ کس طرح ہم اپنے آپ کو مستحکم کریں۔ ہم نے ٹرانسفارمیشن اسٹڈی کی اوراس کے ذریعے ہمیں پتہ چلا کہ کافی چیزیں ایسی ہیں جن سے ہم فوج کو اور اچھا بنا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک اور دقت تھی کہ ہماری ماڈرنائزیشن اسپیڈ کافی سلو تھی۔ کافی چیزیں ایسی تھیں جو پائپ لائن میں رکی پڑی تھیں۔ ایک مسئلہ جسے میں ایک طرح سے کسی آرگنائزیشن  کے لیے بنیادی چیز سمجھتاہوں کہ ہماری جو ویلیوز تھیں، جو ہماری شبیہہ تھی، کہیں اس نے چوٹ کھائی تھی، کیونکہ کچھ معاملے ایسے ہوئے تھے۔ لوگوں کو لگنے لگا تھا کہ فوج کے اندر کہیں بدعنوانی بڑھ گئی ہے۔ اگرآپ شبیہ کو سدھارنا چاہتے ہیں تو بہت وقت لگتا ہے۔ جہاں تک بچولیوں کا سوال ہے، سرکار نے بہت پہلے ایک فیصلہ لیا تھا کہ ہم بچولیوں کو نہیں آنے دیں گے۔ یہ سرکار کا فیصلہ ہے اوراس کی تعمیل کرنا سب کاکام ہے۔ ہم نے یہ کہا کہ جو سامان ہم خرید رہے ہیں، جس پروسیجر کے اندر ہم چل رہے ہیں اس کے اندر ٹرانسپیرنسی ہونی چاہئے۔ سب کو نظرآنا چاہئے کہ کیا ہے؟ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ دوسال بعد ہم کہیں کہ یہ سامان ہی خراب تھا یا یہ جو بندوقیں خریدی ہیں وہ خریدی ہی نہیں جانی چاہئیں تھیں۔ فوج کے ایک رٹائرڈ شخص کے ذریعے رشوت دینے کی کوشش کرنے کی خبر آئی۔ میں بتانا چاہتاہوں کہ ایک شخص جو ابھی رٹائر ہواہو اور وہ کئی باتوں کے اندر یہ کہے کہ اگر آپ ایسا کام کریں توآپ کو شاید یہ چیز ملے گی۔ اگر آپ نے ایسی چیز پہلے سنی نہ ہو تو آپ تعجب میںرہ جائیں گے۔ آپ کو یہ سمجھ  میں نہیں آئے گا کہ یہ آدمی کیا بول رہاہے۔ ایسا ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ چلے جائیے، اس سے پہلے کہ کچھ اورہو۔ بعد میں میں نے یہی بات اپنے وزیردفاع کو بتائی کہ یہ صورتحال ہے۔ وزیردفاع نے اپنے ماتھا پیٹ لیا۔ انہوںنے کہا کہ ایسے لوگوں کو ہمیں باہر رکھنا چاہئے۔ اس وقت جس طریقے سے اس شخص نے بات کی اور یہ کہا کہ یہ فائل کلیئر ہوگی تو اتنے پیسے ملیں گے سب لوگ لیتے ہیں آپ کو کیا دقت ہے؟ تو ایک طریقے سے یہ ایک انڈائرکٹ طریقہ تھا آپ سے بولنے کا اور شاید اسی لیے اس کی گرفتاری نہیں ہوئی۔ ہم یہ سوچ کر چلیں کہ ایک قلیل مدت کار کے دوران سب کچھ صاف کردیں گے، لیکن یہ بہت مشکل ہے، کیونکہ جو چیز کینسر کی طرح ہمارے سسٹم میں گھس گئی ہے اسے نکالنے کے لیے کافی بڑی سرجری کی ضرورت ہے میرے اور وزیر دفاع کے درمیان صافہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے، جس سے اسے بڑھاوا ملے۔ اس میں وقت لگے گا ۔ مجھے پوری امید ہیکہ اگر سسٹم کے مطابق اگر آگے والے چلیں گے تو ہم ضرور ایک ایسی پوزیشن میں پہنچیںگے، جہاں  کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایسے لوگوں کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔
بوفورس توپ آئی تھی تو ساتھ میں تکنیک بھی لائی گئی تھی، لیکن اتنے سالوں میں بھی یہ توپیں ملک میں نہیں بنائی جا سکیں۔ جب ہم نے اپنے توپ خانہ کی جدیدکاری کے بارے میں تجزیہ کیا تو پایا کہ کافی غلطیوں میں ہم وردی والے بھی شامل ہیں۔ بار بار آپ یہ کہیں گے کہ اس جگہ ہمیں یہ کیلیبر چاہئے ۔ دنیا کے اندر ٹوٹل پروڈکشن کو نہیں دیکھیں گے تو آپ کو تاخیر ہوگی۔ تب آپس میں کانٹریکٹر ، وینڈرس کے درمیان آپ کا کانٹریکٹ لینے کے لئے مقابلہ آرائی ہوگی۔ کوئی انگلی اٹھائے گا، کوئی کورٹ جائے گا، کوئی نہ کوئی یہ کہے گا کہ فلاں دلال نے پیسے لئے ہیں۔ بوفورس کے واقعہ کے بعد انتظامیہ میں جو پروکیورمنٹ پروسیس تھا، اس میں یہ دیکھنے کی کوشش کی جانے لگی کہ ہمارا نام نہیں آنا چاہئے۔ کوئی ایسی ڈیل نہیں ہونی چاہئے، جس سے دس سال بعد ہم پھنس جائیں۔ لوگوں نے اس عمل میں کافی ڈھیل دی، وہ سست ہو گئے، کافی مستعد ہو گئے ۔ جب ہم نے اپنا تجزیہ کیا تو پایا کہ تکنیک اور ڈرائنگ ہمارے پاس ہے، لیکن کوئی اس کے  بارے میں سوچ نہیں رہا ہے۔ آرڈیننس فیکٹری سے ہم نے پوچھا کہ آپ  اس پر کام کر سکتے ہیں تو انھوں نے حامی بھر دی، انھوں نے گن تیار کی اور اس سے 450رائونڈ فائر بھی کئے جا چکے ہیں۔ ملک میںبنی بوفورس گن کامیاب ہے۔ ہم نے ایک بڑھیا ڈیفنس پروکیورمنٹ پروسیزربنایا۔ اگر ہم جے ایس کیو آر (جوائنٹ سروسیز کوالیٹیٹیو ریکوائرمنٹس) ہی غلط بنا دیں گے تو وہ چیز آپ کونہیں ملے گی، جو آپ چاہتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں پوری دنیا میں ہتھیار ایک طرح کا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ ہتھیار ایسا ہونا چاہئے، جو اڑ سکے، جو پانی میں بھی جا سکے، زمین میں بھی نیچے جا سکے تو آپ کو ایسا ہتھیار نہیں ملے گا۔ لہٰذا آپ کو موجودہ ٹیکنالوجی کو دیکھنا پڑے گا۔ کئی بار ہم اس پر غلطی کرتے ہیں۔ ہم جو دوسری غلطی کرتے ہیں، جو وردی والے لوگ ہیں کہ ہمارا ٹینڈر چھوٹا ہوتا ہے۔ ہم نے اپنا کام کیا، اس کے بعد ہم بھول گئے۔ دوسرا آدمی آتا ہے ، وہ کیا کرتا ہے، اس میں کیا کمیاں نکالتا ہے۔ ہم نے اس سب سے ڈیل کرنے والے ڈپارٹمنٹ کو ری آرگنائز کیا، تاکہ کمیاں دور کی جا سکیں۔ سب سے بڑی دقت ہماری یہ ہے کہ فوج کے تین اعضاء ہیں اور جہاں تک فوج کا سوال ہے تو ہماری ضرورت زیادہ ہے۔ چیزیں ہمیں زیادہ چاہئیں۔ سب الگ الگ طرح کی چاہئیں، لیکن ان کی قیمت کوئی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارا ایک پروجیکٹ ہو پانچ سو کروڑ کا اور اس کے مقابلہ میں شاید ایئر فورس کی ایک یا دو چیزوں کی قیمت ہو چار ہزار کروڑ۔ کئی فائلیں ہوتی ہیں۔ ایک فائل ہوتی ہے چار ہزار کروڑ کی، کوئی تین ہزار کروڑ کی، کوئی پانچ سو کروڑ کی۔ سبھی فائلوں میں وقت تو اتنا ہی لگتا ہے، چاہے وہ کم رقم کی ہوں یا زیادہ رقم کی۔ اب اگر آپ کے پانچ سو کروڑ کے دس معاملے ہیں ۔ تو آپ کو بہت وقت لگے گا۔ اس لئے فوج پیچھے رہ جاتی ہے، لیکن ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ 2010-11کے مالی سال میں پہلی بار فوج اور ایم او ڈی کی تاریخ میں خریداری کا کیپٹل بجٹ پورا ختم ہوا۔ 2011-12میں ہمیں دقت ہوئی۔ 106تجاویز ہم نے مالی سال کے شروع میں دی تھیں، لیکن ان کا عمل سست روی میں پڑ گیا۔ انتظامیہ کا طریقہ کار ایسا ہے کہ کسی افسر کے نیچے کا افسر نہیں ہے تو کام آگے نہیں چل سکتا۔ کام چھ مہینے سست روی سے چلا۔ اس کے بعد آگے بڑھانے کی کوشش کی تو جو نئے آدمی آئے ، اس سے پھر وقت لگا، مجھے امید تھی کہ یہ چھ مہینے اگر برباد نہ ہوتے تو اس سال بھی اپنا پورا کیپٹل بجٹ ہم ختم کر سکتے تھے۔
ہماری اسلحہ فیکٹری پوری استعداد سے کام نہیں کر پائی،کیونکہ ذمہ داری مقررنہیں ہو رہی تھی۔ کافی غلطیاں تھیں۔ ہم انہیں ایک سالانہ ٹارگیٹ دیتے تھے۔ ہم ان سے یہ نہیں کہتے تھے کہ ہمیں آئندہ پندرہ سالوں کے لئے کیا چاہئے۔ اگر آپ کسی کو نہیں بتائیں گے کہ آئندہ پندرہ سالوں میں ہماری ہر سال کی یہ ضرورت ہے تو وہ بھی اپنا ڈیولپمنٹ حساب سے نہیں کر پائیں گے۔ آرڈیننس فیکٹری اور ہمارے درمیان تال میل کی کمی تھی۔ وہ کیا کر رہی ہیں، کچھ پتہ چلتا تھا ، کچھ نہیں۔ ہم کیا چاہ رہے ہیں ، انہیں کچھ پتہ چلتا تھا، کچھ نہیں۔ لیکن اب چیزیں سدھررہی ہیں۔ ہندوستانی فوج جس غیر ملکی ٹرک (ٹریٹا) کا استعمال کرتی ہے، اس کے لئے کسی وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں ایک ہائی موبیلٹی وائیکل چاہئے۔ اس ہائی موبیلٹی وائیکل کے لئے اس ٹر ک کا انتخاب ہوا اور ایک ڈیفنس پی ایس یو کے ذریعہ اس کی خرید فروخت ہوئی، لیکن یہ اپنے ملک میں نہیں بن رہا تھا۔ یہ دیکھنے کی کوشش کسی نے نہیں کی کہ ایک اوریجنل فیکٹری سے ایک اور سبسڈیری خریدتی ہے، وہ سبسڈیری ڈیفنس پی ایس یو کو دیتی ہے، پھر ڈیفنس پی ایس یو فوج کو دیتی ہے۔ ظاہر ہے، اس میں پیسہ زیادہ لگا۔ اس طرح کے ہمارے تقریباً7ہزار ٹرک ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کے لئے کوئی انفرسٹرکچرنہیں کیا گیا تھا۔ اگر کوئی کمپنی، مثلاًٹاٹا کو لیں، اگر وہ آپ کو ایک ٹرک دے تو اس کا الگ سروس سینٹر ہے۔ آپ کا ٹرک کچھ دنوں بعد وہاں جا کر صحیح ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ ایک غلطی ہے، جو کسی کو ٹھیک کرنی چاہئے تھی اور اسے ہم نے اب ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے اب کہا ہے کہ آپ پہلے 7ہزار ٹرکوں کی سروسنگ تو کرئے۔ ابھی تو اسے ٹھیک کرنے کے لئے چیکوسلوواکیا سے آدمی بلانا پڑتا ہے۔ہمارے پاس خود کے تربیت یافتہ آدمی ہونے چاہئیں۔ جوان فوج میں آتے ہیں اور جلدی رٹائر ہو جاتے ہیں۔ کم عمر کے اندر رٹائر ہو کر گھر چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں آپ کیسے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہم نے ایک اسکیم شروع کی کہ ہم کس طرح اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی سے انہیں ڈگری دلا سکیں۔ اس کے اوپر کافی زور دیا گیا۔ آج کی تاریخ میں کم سے کم ساڑھے چار لاکھ اہلکار اس اسکیم کا حصہ ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہمارے پاس ایک تجویز آئی کہ ہمارے اہلکار دیہی علاقوںسے آتے ہیں، بیشتر طبقہ کاشتکار ہے، جس کے پاس تھوڑی بہت زمین ہوتی ہے۔ہم اس کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔اس تجویز کے تحت ہم نے پایا کہ اگر ہم انہیں آرگینک فارمنگ کی تربیت دلوائیں تو یہ ادارہ (مرارکا فائونڈیشن) ان سے ان کے گھر پر ان کی پیداوار لینے کے لئے تیار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسی اسکیم ہے، جس سے فوج کا بڑا طبقہ مستفید ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے گھر جا کر تربیت حاصل کر کے اس چیزکو اگر شروع کرے اور اسے یہ فکر نہ ہو کہ سامان منڈی میں لے جانا ہے ۔ اگر ان سے سامان گھر پر خریدا جائے گا اور وہ بھی ایسا سامان جس کی قیمت عام چیزوں سے تین چار گنا زیادہ ہے تو اسے فائدہ ہوگا۔ ہم نے فوج میں ٹرانسفارمیشن کے عمل کو ایک اسٹیج تک پہنچایا۔ مزید وقت ہوتا تو میری خواہش یہی تھی کہ اسے جس اسٹیج تک ہم نے سوچاتھا اسے پورا کر سکیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ جو عمل ہم نے شروع کیا تھا، وہ پورا ہوگا۔ اس کے اندر کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ فوج اور اہلکاروں کے لئے میرا پیغام یہی ہے کہ ہم ہمیشہ فوج کے مفاد میں کام کریں۔ جہاں بھی ہم جائیں، اپنا سر اٹھا کر کہیں کہ یہ فوج ہمارے ملک کی ہے اور ملک ہمارے لئے سب سے اوپر ہے۔ ہمارے اندر ایک جذبہ ہونا چاہئے، ایک جنون ہونا چاہئے کہ ہم جو بھی کریں، وہ فوج کے  ویلیو سسٹم کے اندر کریں۔
چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ سے ہوئی بات چیت پر مبنی

Latest posts by جنرل وی کے سنگھ (see all)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *