سپریم کورٹ کا فیصلہ : غیر امداد یافتہ مسلم مائنارٹی اسکولوں کو من مانی کرنے کا لائسنس

وسیم راشد
کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس ملک کے شہریوں کے تعلیمی معیار سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے تعلیم ہر انسان کابنیادی حق ہے اورتعلیم ہر دور میں سربستہ رازوں کوکھولنے کا ذریعہ رہی ہے۔ جدیدیت کے اس دور میں بھی تعلیم ہی کامیابیوں کی کلید ہے۔ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک ہے مگر اس کا تعلیمی معیار دیگر کئی ترقی یافتہ ملکوں سے بہتر ہے ۔ ایسا ہم اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ آج ہماری اپنی یونیورسٹیوں ، کالجوں سے فارغ طلباء دوسرے ملکوں میں اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے  ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ تیار کرنے میں اسکولوں کا اہم رول رہا ہے مگر ساتھ ہی ملک کی یہ بد قسمتی رہی کہ تعلیمی معیار بلند ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں غریبوں  کے لئے کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔

 غیر امداد یافتہ اقلیتی اسکول ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہمیشہ سے سپریم کورٹ ان اقلیتی اداروں کو اپنے قانون ،اپنے فیصلے کے لئے آزاد چھوڑ دیتا ہے اور یہ تمام اسکول اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مسلم مائنورٹی اسکولوں کی انتظامیہ اس کا فائدہ اٹھاکر سب سے پہلے اساتذہ کا استحصال کرتی ہے ۔ آنریبل سپریم کورٹ سے میں ایک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا سرکاری اسکول کے اساتذہ کے مقابلے میں پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کم محنت کرتے ہیں ؟نہیں بلکہ ان سے کہیں زیادہ  ان پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ  پر کام کا بوجھ ہوتا ہے۔

غریب طلباء کو آج بھی گلی کوچوں کے چھوٹے چھوٹے اسکولوں یا سرکاری اسکولوں میں ایڈمیشن لینا پڑتا ہے اور ان سرکاری  اسکولوں کا تعلیمی معیار کیا ہے یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں۔ مسلم بچوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔مسلم بچے غربت کی وجہ سے مدرسوں میں بھیج دیے جاتے ہیں اور ان مدرسوں میں جو چند بڑے نامور مدرسے ہیں صرف اور صرف ان میں ہی کسی حد تک تعلیم کا بہتر انتظام ہے بقیہ مدارس کسمپرسی کے شکار ہیں۔
ہندوستانی آئین کے آرٹیکل  45،A 21،29،30، کے مطابق 14 سال تک کے سبھی بچوں کومفت تعلیم دینے کی ضمانت دی گئی ہے ۔رائٹ ٹو ایجوکیشن یعنی 6 سے 14 سال کی عمر کے ہر بچے کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کا قانون لاگو کیا گیا۔ اس قانون کا نفاذ کتنا ہوا ہے یا ہورہا ہے، فی الوقت ہمیں اس پر بحث نہیں کرنی ہے۔ ہاں سپریم کورٹ نے رائٹ ٹو ایجوکیشن قانون 2009  کو آئینی طور پر جائز تسلیم کیا ہے۔ہمیں اس پر ہی بات کرنی ہے۔ اس قانون سے ملک بھر میں سرکاری  اور پرائیویٹ اسکولوں میں غریب بچوں کو مفت تعلیم مل سکے گی۔ یقیناً یہ ایک قابل ستائش قدم ہے اور حکومت  کی طرف سے غریب بچوں کے لئے  ایک تحفہ۔ یہ قانون سبھی اسکولوں کے لئے ہوگا ۔بس اس قانون سے غیر امداد یافتہ اقلیتی اداروں کو مستثنیٰ  رکھا گیا ہے۔کافی عرصے سے سرکاری اور پرائیویٹ  اسکولوں میں غریب بچو ں کو  ایڈمیشن دینے کی بات کہی جارہی تھی اور سبھی اسکولوں کو یہ ہدایت بھی دی گئی تھی ،مگر افسوس اس کو کسی بھی اسکول نے نہیں مانا اور غریب بچوں کے لئے ان اسکولوں کے دروازے بند رہے کیونکہ ان اسکولوں کا یہ ماننا تھا کہ آرٹیکل19.1.G سبھی تعلیمی اداروں کے حق کو ختم کرتا ہے جس کے تحت پرائیویٹ مینجمنٹ کو حکومت کی دخل اندازی کیے بغیر اپنا ادارہ چلانے کی خود مختاری فراہم کی گئی ہے۔ مگر ان پرائیویٹ اسکولوں نے جس طرح اپنی من مانی  کر رکھی تھی اس کا اندازہ سب کو بخوبی ہے۔سب بڑے بڑے اسکول ، صنعت کاروں  اور  تاجروں کے بچوں کے لئے ہی مخصوص ہوچکے تھے ۔ غریب بچے تو اسکولوں کی دیوار کے سائے سے بھی نہیں گزر سکتے۔ ظاہر ہے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ نے پورے طور پر یہ صاف کردیا ہے کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ حق تعلیم سے باہر نہیں،  حالانکہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اسکولوں کے پرنسپل اور انتظامیہ ناخوش ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ ہم کسی سے امداد نہیں لیتے اورویسے بھی غریب بچوںکی تعلیم کا ذمہ حکومت کا ہے‘‘۔ ٹیگور انٹرنیشنل کی پرنسپل مدھولیکا سین کا کہنا ہے کہ’’ حکومت خود ادارے کیوں نہیں کھولتی ‘‘، ہم پر یہ بوجھ کیوں ڈالا جارہا ہے۔پرہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس فیصلہ سے بھی غریب بچوں کا بھلا نہیں ہونے والا کیونکہ اسکول اپنے طریقے نکال ہی لیتے ہیں البتہ ہم احتجاج کرنا چاہتے ہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر جس میں کورٹ نے غیر امداد یافتہ اقلیتی اسکولوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ غیر امداد یافتہ اقلیتی اسکول ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہمیشہ سے سپریم کورٹ ان اقلیتی اداروں کو اپنے قانون ،اپنے فیصلے کے لئے آزاد چھوڑ دیتا ہے اور یہ تمام اسکول اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مسلم مائنورٹی اسکولوں کی انتظامیہ اس کا فائدہ اٹھاکر سب سے پہلے اساتذہ کا استحصال کرتی ہے ۔ آنریبل سپریم کورٹ سے میں ایک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا سرکاری اسکول کے اساتذہ کے مقابلے میں پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کم محنت کرتے ہیں ؟نہیں بلکہ ان سے کہیں زیادہ  ان پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ  پر کام کا بوجھ ہوتا ہے۔ انتظامیہ کو چونکہ کسی کو جواب دہ نہیں ہونا پڑتا ہے اس لئے وہ اساتذہ کو صرف کٹھ پتلی بنا کر رکھتی ہے اور مسلم مائنورٹی اسکول کا مینجمنٹ تو اس قدر اساتذہ کا استحصال کرتا ہے ،جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔بہت سے مسلم مائنورٹی غیر امداد یافتہ اسکولوں میں تو گورنمنٹ اسکیل کے حساب سے تنخواہیں نہیں دی جاتیں ۔ ان کو ایریئر بھی نہیں دیے جاتے۔ ان کے مقابلے میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔ انہیں ہر سال LTC بھی ملتا ہے ۔سال میں دو مرتبہ جب بھیDA بڑھتا ہے ، ایریئر کے حساب سے دیا جاتا ہے، مگر پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو وہ بھی نہیں ملتا یہاں تک کہ مسلم مائنورٹی اداروں کا مینجمنٹ ان اساتذہ کو بیس بیس سال  نوکری کرنے کے بعد بھی کوئی گریجویٹی نہیں دیتا ،کوئی فائدہ ان اساتذہ کو نہیں ملتا ۔کسی بھی اسکول کا اثاثہ اسکول کے سینئر ٹیچرس ہوتے ہیں مگر مسلم مائنورٹی اسکول چن چن کر ان اساتذہ کو نکال باہر کرتے ہیں تاکہ ان کو نہ کوئی گریجویٹی دینی پڑے اور نہ ہی ان کی پنشن بن سکے۔ آنریبل سپریم کورٹ ہر بار ان اداروں کو کھل کر استحصال کرنے کا موقع فراہم کردیتا ہے۔ اگر غیر امداد یافتہ مائنورٹی اداروں کو بھی سپریم کورٹ قانون کے اس دائرے میں لائے، جس میں باقی اسکول آتے ہیں تو کبھی بھی ان مائنورٹی اداروں کی انتظامیہ کو اساتذہ اور بچوں کے استحصال کرنے کا موقع نہ ملے، مگر ان اداروں کی انتظامیہ جانتی ہے کہ ان سے کوئی جواب طلب کرنے والا نہیں ہے ۔ اس لئے وہ جو چاہتی ہے کرتی ہے۔ مسلم مائنورٹی اسکولوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ کام تو اپنے اساتذہ سے بے تحاشہ لیتے ہیں۔ایکسٹرا کلاس کے نام پر اساتذہ کو چار پانچ بجے تک روکتے ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں جو دو مہینے  کی کہی جاتی تھیں۔ اب صرف ان دو مہینوں کا نام ہی رہ گیا ہے۔ صرف ایک مہینہ کی چھٹی ہوتی ہے اور ان میں  بھی اساتذہ کو بار بار کسی نہ کسی بہانے بلا لیا جاتاہے ۔ کبھی ورک شاپ ، کبھی ایڈمیشن ٹیسٹ وغیرہ کے نام پر۔ مائنورٹی  ادارے اپنے اساتذہ کو لمبی چھٹی تک نہیں دیتے ،حتیٰ کہ وہ اساتذہ جو اٹھارہ بیس سال سے کام کررہے ہوتے ہیں،ان کو اگر کسی دوسرے اسکولوں میں بڑے عہدے جیسے وائس پرنسپل یا پرنسپل کے عہدے پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو یہ پرائیویٹ مائنورٹی اسکول ان کولائن تک نہیں دیتے جو اساتذہ کا حق بنتا ہے۔اس طرح غریب ٹیچر کے لئے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے قیمتی سال برباد کرکے صرف اور صرف استعفیٰ دے کر ہی جائے۔ ساری سہولیات سرکاری اسکول کے اساتذہ کو ملتی ہیں ، وہ ڈیپوٹیشن پر بھی جا سکتے ہیں، ان کو لاکھوں روپے گریجویٹی کے بھی ملتے ہیں، ان کو تنخواہ بھی پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ ملتی ہے،ان کا سال میں دو بار DA بھی بڑھتا ہے ، ان کو ایریئر بھی ملتا ہے ، ان کو LTC بھی ملتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد لاکھوں روپے ان کے پروویڈنٹ فنڈ کے بھی ملتے ہیں۔ یعنی سرکاری اسکول ایسے سونے کی کان ہیں جہاں ایک بار آپ کی انٹری ہوجائے، اس کے بعد آپ کے وارے نیارے ہیں۔ ہاں کچھ ایسے بھی  امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول ہیں جو اپنے اساتذہ کو یہ سب سہولتیں دیتے ہیں مگر مسلم مائنورٹی پرائیویٹ اسکولوں میں تو جہاں تک ہم جانتے ہیں وہاں صرف اور صرف اساتذہ کا استحصال ہے۔ کبھی انتظامیہ کے ذریعہ اور کبھی پرنسپل کے ذریعہ۔ ان کی سنوائی کہیں نہیں ہے۔ یہ ادارے اس حد تک جا سکتے ہیں کہ کسی بھی ٹیچر کا کریئر تک ختم کر سکتے ہیں ۔کوئی ٹیچر،وائس پرنسپل یا پرنسپل اگر ان اسکولوں میں اپنے 22,20 سال کے کریئر کو دائوں پر لگا کر آجاتے ہیں تو انٹرویو کے وقت یہ اس کو پورا تحفظ دینے کا وعدہ کرتے ہیں مگر اس غریب کو کام کرنے کا موقع تک نہیں ملتا اور یہ اس کو کھڑے کھڑے نکال دیتے ہیں۔کوئی بورڈ،کوئی بھی ان کو چیک کرنے والا نہیں ہے۔یہ تو تھی اساتذہ کی بات، مگر مائنورٹی اسکولوں  میں تو غریب بچوں کو ایڈمیشن ہی نہیں ملتا ۔ مسلم مائنورٹی اسکول اس وقت دہلی میں بہت ہیں ۔ اول تو ان کی نہ جانے کیسے سیٹیں پہلے سے فل ہوجاتی ہیں ۔ جس اسکول میں جائو ،وہاں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ سیٹیں فل ہوگئیں۔ انتظامیہ سے بات کرو تو وہ کہتے ہیں ہمارے یہاں تو ٹرانسپیرنسی ہے ۔ سب کچھ سامنے ہے جبکہ ہوتا وہی ہے جو انتظامیہ اور پرنسپل چاہتے ہیں ۔ ان اسکولوں کی فیس کسی بھی بڑے انگریزی میڈیم اسکول سے کم نہیں ہے۔ غریب بچوں کے لئے ان اسکولوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب  یا تو ان غریب بچوں کے ماں باپ اپنا ضمیر بیچ کر اور مذہب کو بالائے طاق رکھ کر زکوٰۃ فنڈ میں سے پیسہ لیں ورنہ  پھر پوری فیس ادا کریں ۔ سچ جانئے، ہمیں دکھ ہے اس بات کا کہ عزت مآب سپریم کورٹ نے ایک بار پھر ان اسکولوں کو کھیل کھیلنے کے لئے پورا میدان دے دیا ہے۔ ایک بار پھر سے یہ ادارے اپنی من مانی کرنے کے لئے آزاد ہیں۔’ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس آف آر ٹی ای‘ تامل ناڈو کے ریاستی نمائندے جناب ہیزی ٹپ ہیگنے کا کہنا ہے کہ’’ اگر سپریم کورٹ نے مائنورٹی اداروں کو بھی اسی میں شامل کیا ہوتا تو ہمیں زیادہ خوشی ہوتی کیونکہ اس میں مقصد اقلیت سے نہیں بلکہ غریب بچوں سے ہے‘‘ ۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ غیر امداد یافتہ اقلیتی اداروں میں غریب بچوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا‘‘۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ان اداروں میں انتظامیہ کی من مانی بہت زیادہ نہیں ہوتی ، چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ،جسٹس سوتنتر کمارکا  یہ کہنا ہے کہ ’’25 فیصد ریزرویشن اگر غیر امداد یافتہ اقلیتی اسکولوں کو دیا جاتاہے تو اس سے ان اسکولوں کا اقلیتی کردار متاثر ہوگا‘‘ ۔ مگر عزت مآب سپریم کورٹ کے جج یہ نہیں جانتے کہ یہ مائنورٹی اسکول غریب بچوں کا کردار کس طرح متاثر کررہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ یہ اسکول زبان، رسم الخط اور تہذیب کی حفاظت کرتے ہیں‘‘ ۔جسٹس کے ایس رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ’’ آرٹیکل 21A  غیر امداد یافتہ اسکولوں کو یہ نہیں کہتا کہ غریب بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری ان پر ہے بلکہ اس آرٹیکل کے تحت ریاستی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کے تحت غریب بچوں کو تعلیم دلائے‘‘۔ جسٹس رادھا کرشنن کا یہ بیان بھی کافی حد تک صحیح ہے کہ’’ جو ذمہ داری حکومت کی ہے وہ اسے دوسروں پر کیوں ڈال رہی ہے؟ مگر پھر بھی غریب بچوں کے لئے  سپریم کورٹ کا یہ قدم  لائق تحسین ہے ایسے میں پرائیویٹ اقلیتی غیر امداد یافتہ اداروں کو اس قانون سے مستثنیٰ کرنا ان اداروں کے مینجمنٹ اور پرنسپل کے لئے تو راحت کا سبب ہوسکتا ہے مگر غریب بچوں اور اساتذہ کو اس سے نقصان ہی نقصان ہے۔جینت جین صدر فورم فار فیئرنیس ان ایجوکیشن  کا بھی یہی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ RTE کا فیصلہ غلط ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً70 فیصد غیر امداد یافتہ اسکول اقلیتی کردار کے ہیں اور اگر ان کو اس قانون میں شامل نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس قانون کا اطلاق صحیح طور پر ہوہی نہیں سکے گاکیونکہ اچھے معیار والے اسکول  یا تو اقلیت کے ہیں یا پھر اتنے زیادہ مہنگے اور اعلیٰ معیار کے ہیں کہ ان میں غریب بچے خود کو ایڈجسٹ ہی نہیں کر پائیں گے۔اسی طرح ارون دھتی چوان PTA کے صدر کا بھی یہی ماننا ہے کہ اقلیتی اسکولوں کو پہلے سے ہی بے پناہ رعایتیں دی جا چکی ہیں ۔ اس سے یہ ہوگا کہ اب دوسرے اسکول بھی یہی کوشش کریں گے کہ اپنے اسکولوں کو اقلیتی کردار والا اسکول بنا دیا جائے ظاہر ہے غریب بچوں کا فائدہ ہوگا ہی نہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *