صرف چہرہ بدلا ہے حکومت کی تصویر نہیں

اجے کمار
کسی بھی حکومت کے کام کاج کے تجزیہ کے لیے دو چار ہفتے کا وقت کافی نہیں ہوتا، یہ حقیقت ہے، لیکن اس کے برعکس سچائی یہ بھی ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آنے لگتے ہیں۔ کچھ یہی سوچ سماجوادی پارٹی کی حکومت کو لے کر عوام کے درمیان بن رہی ہے۔ کچھ لوگ اکھلیش کی حکومت کو نوجوانوں کی حکومت بتا رہے ہیں اور اس سے کئی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی تعداد کم نہیں ہے، جو اکھلیش کی قیادت والی ایس پی حکومت کو ملائم حکومت کی کاربن کاپی مانتے ہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل سے لے کر آج تک وزیر اعلیٰ کی کرسی پر اکھلیش کی تاج پوشی کے علاوہ کچھ بھی نیا دیکھنے کو نہیں ملا۔

اکھلیش کو کام کرنے کی پوری آزادی نہیں مل پا رہی ہے، اس میں تجربہ کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ حالانکہ ان کے سر پر ملائم سنگھ جیسے تجربہ کار اور ماہر لیڈر کا ہاتھ ہے۔ ان کے لیے کئی محاذوں پر دشواریاں کھڑی ہو رہی ہیں۔ حکومت کا خزانہ خالی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے جتنے اعلانات کر رکھے ہیں، انہیں پورا کرنے کے لیے پیسے کا انتظام کرنے میں حکومت کو پسینہ آ سکتا ہے۔ اکھلیش نے دعویٰ ضرور کیا ہے کہ پیسے کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن مالیاتی خسارے کو دیکھیں تو یہ کام آسان نہیں لگتا۔ لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ دینے میں ہی 41 ہزار کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔ حکومت اگر پیسے کا انتظام کر بھی لیتی ہے تو بنکروں کو مفت بجلی دینے کا اعلان پورا کرنا آسان نہیں ہے۔ مالیاتی خسارہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ 2008-09 میں یہ تقریباً 11 ہزار سات سو کروڑ روپے تھا، جو 2010-11 میں بڑھ کر 17 ہزار کروڑ روپے سے اوپر پہنچ گیا۔ بی ایس پی حکومت نے گزشتہ نومبر میں جو ریاستی بجٹ پیش کیا، اس میں مالیاتی خسارہ تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔ 2012-13 میں یہ اعداد و شمار 22 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ حال تب ہے، جب کہ مرکزی مالیاتی کمیشن لگاتار ریاستوں کو 2014-15 تک سرکاری خزانے کے خسارے کو کم کرنے کی ہدایت دے رہا ہے۔ صوبہ پر رواں مالی سال میں دو لاکھ 52 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے، یعنی یہاں کا ہر باشندہ 20 ہزار روپے کا قرض دار ہے۔

نئی حکومت کے ذریعے فیصلے بھی ٹھیک اسی انداز میں لیے جا رہے ہیں، جیسے ملائم سنگھ لیا کرتے تھے۔ لوگ اکھلیش حکومت کو نئی بوتل میں پرانی شراب کی تشبیہ دے رہے ہیں۔ امید تھی کہ یہ حکومت نوجوانوں کی ہوگی، لیکن ایک جھٹکے میں بھرم ٹوٹ گیا۔ اکھلیش کابینہ میں بھی وہی چہرے دکھائی دیے، جو 2002 میں ملائم کابینہ میں تھے۔ وزیر وہی، محکمہ بھی قریب قریب وہی۔ بدلا ہے تو وقت اور وزیر اعلیٰ کا چہرہ۔ صوبہ میں اقتدار کی تبدیلی سے عام لوگ جتنے خوش تھے، وزیروں کی تقرری اور انہیں تقسیم کیے گئے محکموں نے ان کی امیدوں پر اتنا ہی پانی پھیر دیا۔ نوجوان اکھلیش کی کابینہ میں بزرگ وزراء کی کثرت ہے۔ اسی لیے نوجوان وزیر اعلیٰ کی قیادت سے عوام کے درمیان جو پیغام جانا چاہیے تھا، وہ نہیں پہنچ پایا۔ سماجوادی پارٹی کی پانچ سال بعد واپسی پر زیادہ تر وزراء کو ان کے پرانے محکمے سونپ دیے گئے۔ کابینہ میں کچھ نئے نوجوان چہرے ہوتے، نوجوانوں کو محکمہ بانٹتے وقت ان کی قابلیت کو پیمانہ بنایا جاتا تو زیادہ بہتر رہتا۔ عجیب صورتِ حال یہ بھی ہے کہ وزراء کو چھوٹے چھوٹے محکمے سونپ کر انہیں وزیر کابینہ کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
ملک میں نوجوانوں کو لے کر بہت باتیں ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آنے والا وقت انھیں کا ہے۔ یہی وجہ تھی، جب اکھلیش وزیر اعلیٰ بنے تو پورے ملک میں ان کو لے کر باتیں ہوئیں، لیکن کابینہ میں نوجوان ایم ایل ایز کو تجربہ کی کمی کے سبب جگہ نہیں مل پائی۔ والد کی ٹیم اور اسے بھی پرانے دائرے میں رکھنے کی قواعد صوبہ کو کیا اور کتنا نیا دے پائے گی، یہ سوچنے والی بات ہے۔ ایسا تب ہوا، جب اکھلیش کہہ چکے تھے کہ وقت کی مانگ کے مطابق حکومت میں نئے لوگوں کو موقع دیا جائے گا، مگر سیاسی توازن اور علاقائی تال میل بیٹھانے کے چکر میں وہ سب بھول گئے۔ انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر سوا کروڑ نئے اور پرانے ووٹروں نے ان کے اوپر اعتماد کا اظہار کیا ہے تو پرانی سماجوادی پارٹی کی شبیہ دیکھ کر نہیں، بلکہ یہ سوچ کر کہ پارٹی کی چال، کردار اور چہرے میں اس بار تبدیلی ہوگی۔ اتر پردیش بدلنے کی بات راہل بھی کر رہے تھے، لیکن ووٹروں نے اکھلیش پر زیادہ بھروسہ کیا۔ اب اکھلیش کی باری ہے کہ وہ ووٹروں کی کسوٹی پر کھرے اتریں۔ یہ کہنے سے کام نہیں چلنے والا کہ ان کی حکومت انتخابی منشور کے ہر وعدے کو پورا کرے گی۔ وعدے جلد پورے ہونے چاہئیں، تبھی کام بنے گا۔ بات چاہے کسانوں کو مفت بجلی او رپانی دینے کی ہو یا پھر بے روزگاری بھتے کی، ایسے تمام وعدوں سے سماجوادی پارٹی کا منشور بھرا ہوا ہے۔ ویسے کچھ غذائی اشیاء اور پٹرول سے ویٹ ہٹانے کے اعلان سے عوام کو تھوڑی راحت مل سکتی ہے۔ ایسے ابھی کئی اور فیصلے درکار ہیں۔ اکھلیش اگر سیاست میں مضبوطی سے قدم جمانا چاہتے ہیں، تو انہیں فیصلہ لیتے وقت مضبوط رہنا ہوگا۔ ووٹ بینک کی سیاست کو ذہن میں رکھ کر فیصلے لینے کی بجائے اس سے اوپر اٹھ کر کام کرنا ہوگا۔ حالیہ دنوں ان کے ذریعے لیے گئے کچھ فیصلوں سے عوام خوش ہیں، تو کچھ فیصلوں سے ناراضگی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ کسی حکومت کے تئیں اتنی جلدی ناراضگی دکھائی دینا اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا۔ سماجوادی پارٹی کو کسی ایک مخصوص طبقہ کا ووٹ نہیں ملا، اس پر سبھی نے اعتماد جتایا۔ مایاوتی حکومت سے تنگ آکر ایس پی کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کو اگر انصاف نہ ملا تو وہ اسے بھی سبق سکھانے سے ہچکچائیں گے نہیں۔
اکھلیش کو دو دھاری تلوار پر چلنا ہوگا۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی حکومت پچھلی ایس پی حکومت کے مقابلے کافی بدلی ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ کچھ نیا کرنے کی ذمہ داری بھی ان کے کاندھوں پر ہے۔ اکھلیش کے ایک دو فیصلے ایسے رہے، جن سے صوبہ کے عوام کے دماغ میں یہ بات گھر کر گئی کہ ان کے قول اور فعل ایک جیسے نہیں ہیں۔ شہ زور ڈی پی یادو کو پارٹی میں نہ لے کر انہوں نے جو نام کمایا تھا، اسے راجا بھیا کو وزیر بناکر ایک ہی جھٹکے میں مٹا دیا۔ بے روزگاری بھتے کے معاملے میں نوجوان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ اکھلیش نے 35 سال سے اوپر والوں کو بے روزگاری بھتہ دینے کی بات کہہ کر نوجوانوں کے خواب چکنا چور کر دیے۔ بے روزگاری بھتہ کی شکل میں ملنے والا پیسہ نوجوانوں کے کام آ سکتا تھا۔ انہیں نوکری کے لیے جگہ جگہ درخواست جمع کرنے اور امتحان دینے کے لیے باہر جانا پڑتا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے پچھلے دورِ حکومت کے آخری مہینو ں میں نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ ملا بھی تھا۔ ایس پی کی حکومت بننے کی آہٹ ملتے ہی پورے صوبہ میں بے روزگاری بھتہ کی امید میں لاکھوں نوجوان امپلائمنٹ ایکسچینج کے دفاتر میں رجسٹریشن کرانے امنڈ پڑے تھے، لیکن عمر کی قید 35 سال سے زیادہ کیے جانے سے وہ مایوس ہوگئے۔ دسویں پاس مسلم لڑکیوں کو آگے کی تعلیم یا شادی کے لیے 30 ہزار روپے کی سرکاری مدد کا اعلان بھی لوگوں کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ حکومت نے اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں رکھی ہے۔ غریب امیر سبھی لڑکیوں کو بلا امتیاز یہ مدد دی جائے گی۔ اکھلیش کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ فیصلہ آئینی طور پر بھی صحیح نہیں ہے۔ انہیں دسویں پاس لڑکیوں کی مدد کرنی تھی تو اس میں ذات برادری کی دیوار نہیں بنانی چاہیے تھی۔
اقتدار حاصل کرنے کے لیے سب سے وعدہ کرنا سماجوادی پارٹی کے لیے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ بے روزگاری بھتہ کے لیے امپلائمنٹ ایکسچینج کے دفاتر میں جمع ہونے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کی آنچ ٹھنڈی نہیں ہو پائی تھی اور ٹی ای ٹی کے درخواست گزاروں پر لکھنؤ میں پولس نے لاٹھیاں برسا دیں۔ پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے نوکری مانگنا انہیں بھاری پڑ گیا۔ وِدھان بھون کی طرف جا رہے بے روزگاروں کو روک کر پولس نے لاٹھیاں برسانا اور پانی کی بوچھار کرنا شروع کردیا۔ کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتے ہی ہر طرف انارکی دکھائی دینے لگی ہے۔ کہیں وزیر کے استقبال میں فائرنگ کی جا رہی ہے تو کہیں طلبہ اپنے ٹیچروں سے مارپیٹ کر رہے ہیں۔ بی ایس پی حکومت کے دوران اسٹوڈنٹ یونین کے انتخاب پر روک لگی تھی، جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں ماحول کافی بہتر ہوا تھا، لیکن ایس پی کی حکومت بنتے ہی طلبہ جگہ جگہ بے قابو ہونے لگے ہیں۔ اقتدار کا رنگ تیزی سے یونیورسٹیوں میں چڑھنے لگا ہے۔ اسٹوڈنٹ لیڈر اب یونیورسٹیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آ جاتے ہیں۔ ضابطہ شکنی کے سبب نکالے گئے طالب علموں کے اخراج کو واپس لینے کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے۔ ٹیچروں میں خوف کا ماحول ہے۔ بورڈ کے امتحانات شروع ہوتے ہی نقل مافیا سرگرم ہو گئے ہیں۔ وہ بے خوف نقل کرانے کا ٹھیکہ لے رہے ہیں۔ ایس پی کارکن گزشتہ پانچ سالوں کا حساب کتاب اپنے مخالفین سے کرنے کے لیے بے تاب دکھائی دے رہے ہیں۔ بی ایس پی حکومت کے دوران ملائم سنگھ ایس پی کے حامیوں پر مظالم ڈھانے کی بات کہتے تھے، لیکن وہی نظارہ ایس پی حکومت کے دوران بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ ایس پی کارکنوں میں نالی، چھپر اور زمین جیسے تنازعات کے نام پر مخالفین، خاص کر بی ایس پی کارکنوں سے نمٹنے کی مقابلہ آرائی ہو رہی ہے۔ ملائم اور اکھلیش ایس پی کارکنوں کو روزانہ اخلاقیات کا سبق پڑھا رہے ہیں، وزیروں کو بھی اخلاق کے دائرے میں رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے، لیکن کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی نے ایک کام اچھا ضرور کیا کہ نئی رکنیت اور کسی بھی پارٹی کے لیڈر کو شامل کرنے پر روک لگا دی۔ اسے سمجھ میں آگیا ہے کہ اس کی حکومت بنتے ہی مجرمانہ پس منظر کے حامل کئی لوگ اس کا جھنڈا لے کر خود کو بچانا چاہ رہے ہیں۔
اکھلیش سرکار میں پرانے وزراء کی ہی بھیڑ نہیں ہے، افسروں کی تعیناتی میں بھی وہی ہو رہا ہے۔ جو ملائم کے وفادار تھے، اکھلیش نے بھی انہیں ترجیح دی ہے۔ آئی اے ایس افسر انیتا سنگھ، ایس پی کی حکومت بنتے ہی ایک بار پھر سب سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔ پنچم تل واقع وزیر اعلیٰ کے دفتر میں تعینات سکریٹری، انیتا سنگھ تمام محکموں پر نظر رکھیں گی۔ اسی طرح جاوید عثمانی کو چیف سکریٹری بنایا گیا ہے۔ وہ 2004 سے مرکزی حکومت میں ڈپیوٹیشن پر تھے۔ حال ہی میں ان کی تقرری پلاننگ کمیشن میں سکریٹری کے عہدے پر کی گئی تھی، جہاں انہوں نے ذمہ داری نہیں سنبھالی تھی۔ وہ 1978 بیچ کے آئی اے ایس آفیسر ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی حکومت آتے ہی آئی اے ایس آفیسر دیپک کمار، آلوک کمار – دوئم، پندھاری یادو، زبیر بن صغیر، آلوک کمار، شمبھو سنگھ یادو اور جگدیو سنگھ سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ پولس محکمہ میں بھی اپنوں کو بیٹھانے اور مایاوتی کے چہیتے افسروں کو حاشیہ پر ڈالنے کا کام چل رہا ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے قبل تک ڈی جی پی رہ چکے برج لال کو مراد آباد بھیج دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی کی کرسی پر سماجوادی پارٹی نے اپنے چہیتے افسر اے سی شرما کو بیٹھایا ہے۔ لکھنؤ کے ڈی آئی جی ٹھاکر کو چُنار میں ریکروٹمنٹ ٹریننگ سنٹر بھیج دیا گیا۔ یہ تعیناتی سزا کے طور پر مانی جا رہی ہے۔ یہ وہی ٹھاکر ہیں، جنہوں نے بی ایس پی حکومت میں سماجوادی پارٹی کی طرف سے مظاہرہ کرنے والے ایک آدمی کا منھ جوتے سے روندا تھا۔ مایاوتی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے آئی پی ایس افسروں کو حاشیہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ تازہ مثال ہیں ڈی جی شیلجا کانت مشرا۔ ان کے ریٹائرمنٹ کے صرف تین مہینے باقی تھے، لیکن جب نظام بدلا تو اُن پر تبادلے کی لاٹھی چلا دی گئی۔ وہ اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے وی آر ایس کی مانگ کر ڈالی۔ شیلجا کانت پاور کارپوریشن میں ڈی جی تھے، نئی حکومت نے ان کا تبادلہ ڈی جی سٹیزن سیکورٹی کے عہدہ پر کر دیا۔ غور طلب ہے کہ شیلجا کانت نے پچھلی ایس پی حکومت میں ہوئے بھرتی گھوٹالہ کی جانچ کی تھی، جس کی بنیاد پر تقریباً 18 ہزار سپاہیوں کی بھرتی ردّ ہو گئی تھی اور کئی آئی پی ایس افسروں کے خلاف کارروائی بھی ہوئی تھی۔ بی ایس پی کے دورِ حکومت میں چیف سکریٹری رہ چکے انوپ مشرا ڈپیوٹیشن پر مرکز جانے کی تیاری میں ہیں۔ اسی طرح آئی اے ایس افسر فتح بہادر سنگھ، نیتا رام، دُرگا شنکر مشرا اور نونیت سہگل کے بھی خراب دن شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش سنگھ نے حلف برداری کے بعد کہا تھا کہ بدلہ لینے کے جذبے سے کام نہیں کیا جائے گا، لیکن ان کے وزیر جس طرح آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے تو یہ لگتا ہے کہ فی الحال ان کا دھیان ترقی کی طرف کم، بی ایس پی حکومت کے دوران لیے گئے فیصلوں میں خامی نکالنا زیادہ ہے۔
اکھلیش کو کام کرنے کی پوری آزادی نہیں مل پا رہی ہے، اس میں تجربہ کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ حالانکہ ان کے سر پر ملائم سنگھ جیسے تجربہ کار اور ماہر لیڈر کا ہاتھ ہے۔ ان کے لیے کئی محاذوں پر دشواریاں کھڑی ہو رہی ہیں۔ حکومت کا خزانہ خالی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے جتنے اعلانات کر رکھے ہیں، انہیں پورا کرنے کے لیے پیسے کا انتظام کرنے میں حکومت کو پسینہ آ سکتا ہے۔ اکھلیش نے دعویٰ ضرور کیا ہے کہ پیسے کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن مالیاتی خسارے کو دیکھیں تو یہ کام آسان نہیں لگتا۔ لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ دینے میں ہی 41 ہزار کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔ حکومت اگر پیسے کا انتظام کر بھی لیتی ہے تو بنکروں کو مفت بجلی دینے کا اعلان پورا کرنا آسان نہیں ہے۔ مالیاتی خسارہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ 2008-09 میں یہ تقریباً 11 ہزار سات سو کروڑ روپے تھا، جو 2010-11 میں بڑھ کر 17 ہزار کروڑ روپے سے اوپر پہنچ گیا۔ بی ایس پی حکومت نے گزشتہ نومبر میں جو ریاستی بجٹ پیش کیا، اس میں مالیاتی خسارہ تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔ 2012-13 میں یہ اعداد و شمار 22 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ حال تب ہے، جب کہ مرکزی مالیاتی کمیشن لگاتار ریاستوں کو 2014-15 تک سرکاری خزانے کے خسارے کو کم کرنے کی ہدایت دے رہا ہے۔ صوبہ پر رواں مالی سال میں دو لاکھ 52 ہزار کروڑ روپے کا قرض ہے، یعنی یہاں کا ہر باشندہ 20 ہزار روپے کا قرض دار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *