آر ٹی آئی کی فیس سے متعلق جانکاری

حق اطلاع کے قانون کے تحت درخواست کی فیس یا اپیل یا فوٹو کاپی کی فیس کیا ہوگی، یہ طے کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کو دیا گیا ہے۔  یعنی ریاستی حکومت اپنی مرضی سے یہ فیس طے کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے مختلف ریاستوں میں اطلاع کی فیس /اپیل کی فیس الگ الگ ہوتی ہے۔ اس شمارے میں ہم آپکو آر ٹی آئی فیس اور اطلاع کے بدلے لی جانے والی فیس کے متعلق جانکاری دے رہے ہیں۔ حق اطلاع ایکٹ کی دفعہ7میں اطلاع کے عوض فیس مقر ر کرنے کے بارے میں بتایا گیاہے، لیکن اسی دفعہ کی شق 1میں کہا گیا ہے کہ یہ فیس حکومت کے ذریعہ مقر ر کی جائے گی۔اس کے تحت حکومتوںکو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مختلف شعبوں میں حق اطلاع کے قانون کے تحت ادا کی جانے والی فیس خود طے کریں گی۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوںنے اس حق کے تحت فیس  کے الگ الگ  اصول وضع کئے ہیںاور اس میں صاف کیا گیا ہے کہ درخوست کرنے اور اطلاع سے متعلق  فوٹو کاپی لینے کے لئے کتنی رقم لی جائے گی۔ دفعہ 7کی شق3کے تحت پبلک انفارمیشن آفیسرکو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے ذریعہ طے کی گئی فیس کی بنیاد پر حساب کرکے درخوست گزار کو بتائے گا کہ اسے کسی خاص اطلا ع کو حاصل کرنے کے لئے کتنی رقم ادا کرنی ہوگی۔ اس دفعہ کی شق 3میں یہ درج ہے کہ یہ وہی فیس ہوگی ، جو شق 1میں حکومت کے ذریعہ طے کی گئی ہوگی۔ مرکزی حکومت اور مختلف ریاستی حکومتوں کی فیس کے ضابطوں میں فرق ہے۔ کہیں درخواست کے لئے مختص کی گئی رقم10 روپے ہے تو کہیں50روپے۔ اسی طرح دستاویزوں کی فوٹو کاپی کے لئے کہیں 2روپے لئے جاتے ہیںتوکہیں5روپے۔ دستاویزوں کی جانچ، کام کی نگرانی اور سی ڈی /فلاپی پر اطلاع  لینے کی فیس بھی رول بک میں بتائی گئی ہے۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین کے لئے یہ جانکاری کافی مدد گار ثابت ہوگی اور وہ آرٹی آئی کا استعمال کھل کر کریںگے۔ g
درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
گرام پنچایت کے خرچوں کی تفصیل
خدمت میں،پبلک انفارمیشن آفیسر
( محکمہ کا نام) محکمہ کا پتہ
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
عالی جناب،
…………گرام پنچایت  سے متعلق مندرجہ ذیل تفصیل فراہم کریں:
.1سال …….کے درمیان ……….گرام پنچایت کو کن کن مدوں میں/پروگراموں کے تحت کتنی رقم مختص کی گئی ؟  سالانہ تفصیل فراہم کریں۔
.2مندرجہ بالا گرام پنچایت کے ذریعہ اس دوران کرائے گئے سبھی کاموں سے متعلق مندرجہ ذیل تفصیل فراہم کریں:
۔۔۔۔کام کانام    ۔۔۔۔کام کی مختصر تفصیل    ۔۔۔۔کام کے لئے مختص رقم    ۔کام کی منظور ی کی تاریخ    ۔کام ختم ہونے کی تاریخ یا جاری  کام کی حالت    ۔۔۔۔کام کرانے والی ایجنسی کا نام  ۔۔۔کام شروع ہونے کی تاریخ ۔۔کام ختم ہونے کی تاریخ    ۔۔۔۔کام کے لئے ٹھیکہ کس شرح پر دیا گیا؟
۔۔۔۔۔کتنی رقم کی ادائیگی ہو چکی ہے؟    ۔کام کے نقشہ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کریں  ۔کام شروع کرنے کا فیصلہ کب اور کس بنیاد پر لیا گیا؟ اس سے متعلق دستاویزوںکی تصدیق شدہ کاپی  دستیاب کرائیں۔    ۔۔۔ان آفیسرز /ملازمین کا نام عہدہ بتائیں جنہوں نے کام معائنہ کیا اور رقم کی ادائیگی کی منظوری دی۔    ۔۔۔۔کام کے ورک آرڈر رجسٹر/مسٹر رول کی کاپی دستیاب کرائیں۔
.3مندرجہ بالا گرام پنچائت میں سال …. کے دوران کاموں/پروگراموں پر ہونے والے اخراجات کی جانکاری مندرجہ ذیل تفصیلات کے ساتھ کے دیں:
.aکام کا نام جس کے کئے خرچ گیا۔    .۔۔۔۔۔کام کی مختصر تفصیل    .cکام کے لئے منظور رقم  ۔۔۔۔کام کرانے والی ایجنسی کا نام
.eکام شروع ہونے کی تاریخ        .fکام کے نقشے کی تصدیق شدہ کاپی    .gکام کرانے کا فیصلہ کب لیا گیا اور کس بنیاد پر لیا گیا؟ اس سے متعلق دستاویزوںکی کاپی بھی فراہم کرائیں۔
میں درخواست کی فیس کی شکل میں 10روپے جمع کررہا/رہی ہوں۔        یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے یہ فیس مجھے معاف ہے۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……. ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے/آفس سے متعلق نہیںہو ، توحق اطلاعات ایکٹ2005کی دفعہ6(3)کے مطابق میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کردیں۔ساتھ ہی اس ایکٹ کے تحت اطلاع فراہم کر تے وقت فرسٹ اپیلٹ افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
آپ کانام: ——————————–پتہ : ———————————-
فون نمبر:—————— منسلکہ(اگرکچھ ہو)  ————————–   (1)۔ درخواست کی کاپی
(2 )درخواست فیس کی رسید کی کاپی (3 )پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ دیے گئے جواب کی کاپی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *