پاکستان میں جمہوریت کو کچلنے کا آغاز ہو چکا ہے

محمود ایاز
امریکہ  پاکستان کو عراق ،افغانستان اور عرب ممالک کی طرح تباہ و برباد کرنے کی جستجومیں بے چین و بے قرار ہے، کیونکہ وہ پاکستان کے کندھے پر سوار ہوکر چین، ایران اورہندوستان کو کمزور کرنے اور ان میں افراتفری پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے اس کے ناز و نخرے اپنے مفاد کی خاطر برداشت کرتاہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ وہ کسی کا بھی دوست نہیں اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ اس کا اگلا نشانہ فی الحال ایران ہے، یہ صاف دکھائی پڑتا ہے۔ اس کی حسد بھری نظریں خصوصی طور پر چین اور ہندوستان پر بھی ہیں۔ دوسرے ملکوں میں افراتفری و بد امنی پھیلانا اس کے مفا د کا حصہ ہے۔ دلائی لامہ اور سید علی شاہ گیلانی جیسے لوگوں سے اس کے مفا دا ت کو تقویت ملتی ہے، کیونکہ یہ لوگ نام نہاد امن کے نام پر ، انصاف کے نام پر، حق پرستی کے نام پر گھنائونے چہرے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ’رائے شماری امریکی خنجر‘پکڑایا جاتا ہے۔ ان کی خفیہ و اعلانیہ مد د کی جاتی ہے۔ ایسے لوگوںکو امریکہ عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کی خوب آئو بھگت کرتا ہے۔ اس لیے یہ امن کے فرشتے اس کے خصوصی مفاد کا خاص حصہ ہوتے ہیں۔ دلائی لامہ کے ذریعہ چین کو کمزور کرنا ہے، جبکہ سید علی شاہ گیلانی کے ذریعہ ہندوستان کے عوام کو پریشانی میں مبتلاکرنا ہے۔ پاکستان کے عوام امریکہ کی ظلم بربریت کا مشاہد ہ کرچکے ہیں۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ و دیگر جہاد کے جذباتی نعرہ بلند کرنے والے لوگ امریکہ کی حکمت عملی کامخصوص حصہ ہیں۔ یہ لوگ مذہبی لباس میں اسلام و مسلمانوں پر حملہ آور ہیں۔ امریکہ نے یہ سب کھیل مذہب اسلام کو دہشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے، جہادکا جذباتی نعرہ بلند کرنے والوں کو دہشت گرد کا خطا ب دلانے کے لیے کھیلا ہے، جو مذہبی حلیہ میں تخلیقی کیسٹوں سے پید ا کیے جاتے ہیں۔ ان کی نکیل امریکہ کے ہاتھ میںہوتی ہے۔ ان سے امریکہ کو دوسرے ملکوں میں مداخلت کا راستہ ملتا ہے۔
یہ سب کو یاد ہے کہ جب افغانستان میں القاعدہ وطالبان کے عنوان سے مکھوٹے بنائے گئے تھے اور پھر ان کو برسراقتدار لایا گیاتھا، ان کی سرکار کو تسلیم کرانے کے لیے امریکہ نے سعودی عرب اور پاکستان کوہدایت و درخواست کی تھی کہ وہ ان کی حکومت کو تسلیم کرے۔ قندھار میںہندوستان کا جہاز اغوا کرکے، اس کو وہا ں لے جا کر ہندوستان پر دبائو ڈالاگیا تھا کہ وہ اسلام کا لباس پہنے اِن اسلام دشمن نمائندوں کو تسلیم کرے۔ القاعدہ، لشکر طیبہ ، یہ خوبصورت نام دنیا کی تباہی کے لیے ایک خاص مقصد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی تخلیقی کیسٹوں سے تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کی خبروں کی تشہیر کے لیے الجزیرہ کا عربی چینل وجود میں لایا گیا۔ مسٹر جارج بش کے دور اقتدار میں الجزیرہ کے انگریزی چینلوں کا امریکہ و برطانیہ میں وجود بخشا گیا ۔ ان انگریزی چینلوں کے لیے امریکی القاعدہ کے لوگ پید ا کیے گئے، عظام الاامریکی کو انگریزی زبان میں ان چینلوں سے خبریں پڑھنے کے لیے تیار کیا گیا۔ ان الجزیرہ چینلوں کے منظر عام پر آتے ہی امریکہ کی پالیسی و حکمت مسلم دنیا پوری طرح بے نقاب ہوگئی کہ القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ اور جذباتی جہاد کا نعرہ لگانے والے لوگوں کو، مذہب اسلام کو دہشت گرد مذہب میں تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا مذہب اسلام ومسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ان کو صرف مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے اسلامی لباس و حلیہ بنا یا جاتا ہے۔
پاکستان کے زبردستی بنے صدر پرویز مشرف نے امریکی مفاد کا حصہ بن کر ان کی خوف پبلِسٹی کی۔اس لیے وہ ان کے پسندیدہ بن گئے۔امریکی قیادت کو پاکستان کے وہ لیڈر پسند ہیں، جو دہشت گردوں کی پبلسٹی کے لیے کام کرتے ہوں، کیونکہ القاعدہ وطالبان کے حوالہ سے دہشت گردی کی باتیں اجاگر کرنے کی مہم ان کی سیاست کا ایک خاص حصہ ہوتا ہے۔ تخلیقی کیسٹوں سے تخلیقی مکھوٹے دکھائے جاتے ہیں، پھر عملی دہشت گردی وجود میں لائی جاتی ہے۔ اہم مقصد اسلام و مسلمانوں کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح جارج بش نے دوبارہ امریکی صدارت کے حصول کے لیے تخلیقی کیسٹوں کو سہار ا لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اس کام میں مدد جنرل پرویز مشرف سے لی تھی، جن کو ناجائز طور پر پاکستان کا حکمراں اسی لیے ہی بنایا گیا تھا کہ وہ تورا بورا کی پہاڑیوں میں اسامہ بن لادن کی موجوگی کی پبلسٹی کی مہم چلائیں اور دنیا کو یہ احساس کرائیں کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں۔ اسی لیے جنرل صاحب نے کبھی اس کو امریکی بمباری میں مارا ہوا دکھا کر جارج بش کی چناوی مدد کی۔ ’’ اسامہ بن لادن ‘‘ امریکن ری پبلیکن پارٹی کا ایک چناوی مشن تھا۔اسی کے ذریعہ انہوںنے اپنے حریفوں کو پریشان کرکے ان کو شکست دی۔انہوں نے صدارتی چنائو میںاسلامی حلیہ مکھوٹوں کا سیاسی استعمال کرکے اپنے مدمقابل جان کیری کو پٹخنی دی۔ جب ڈیموکریٹ ان کی اس چال کو سمجھے تو اس وقت کافی دیر ہوچکی تھی۔ ری پبلیکن نے پاکستان کا اقتدار نوازشریف سے چھین کر پرویز مشرف کے اس لیے ہی حوالہ کیا تھا کہ وہ ان کے لیے زیادہ کارگر تھے۔ نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہی عراق و افغانستان کی تباہی کی مہم تیار ہوئی۔ری پبلیکن کو اپنی مہم کی تکمیل کے لیے پوری دنیا میں القاعدہ و طالبان ہی نظر آنے لگے۔حالانکہ ان کا وجود سیاسی مقاصد کے تحت ازخود ری پبلیکن نے ہی تیار کیا تھا اور پبلسٹی کا کام پرویز مشرف کے بھی سپرد کیا تھا، جس میں پاکستان کے صدر رہتے ہوئے وہ (مشرف) ان کا آلہ کار بن کر ان کی کافی سیاسی مدد کرنے لگے۔ری پبلیکن اپنے چناوی مشن سے اسامہ بن لادن کی موجودگی پاکستان میں مسلسل درج کراتے رہے ہیں۔ اس لیے ڈیموکریٹ نے اسامہ بن لادن کے سیاسی قتل کا تخلیقی ڈرامہ بھی پاکستان کی سرزمین میں رچ کر ری پبلیکن کے چناوی مشن کا خاتمہ کردیا۔ دوسرے عراق سے امریکی فوجوں کا انخلاء کرکے عراق کو دہشت گردی سے پاک کرکے دکھا دیا۔ امریکی سیاست جو مسلمانوں کی تباہی سے شروع ہوتی ہے اور ان کو برباد کرکے ختم کی جاتی ہے، ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ دونوں ہی اپنی پالیسوں سے دنیا پر اپنی بالادستی کی مہم چلاتے ہیں۔ مسلم ،عرب ودیگر ملکوں کے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ’کرایہ کے احتجاج کی مہم‘ ڈیموکریٹ کی ہے۔یہ مہم ری پبلیکن کی مہموں سے زیادہ کارگرہورہی ہے۔کسی بھی حکمران کو ایک ہفتہ کے اندر اندر اقتدار سے بے دخل کرنے کا کارنامہ مصر میں ظہور پذیر ہوا ، جس کو سب نے دیکھا، جبکہ عراق کے حکمران کو ہٹانے میں ایک طویل عرصہ لگ گیا، لیکن کرائے کااحتجاج ہندوستان میں چوٹ کھاگیا۔
پاکستان میں جنرل مشرف کی واپسی نہیں ہورہی ہے، بلکہ وہاں جمہوریت کو پھر سے کچلنے کے لیے امریکہ کی واپسی ہورہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اب ری پبلیکن کے لیے کام کرنے کو تیار ہوگئے ہیں۔ ان کو غالباً پرویز مشرف کی طرح اقتدا ر کا لالچ دیا گیا ہے۔ ماضی کے اوراق پر نظر ڈالیں کہ مشرف کی موجودگی میں عراق و افغانستان تباہ ہوئے۔ شاید عمران خان کے اقتدار پر قبضہ کے بعد ایران کی تباہی میں وہ امریکہ کی مدد کریں گے۔ عمران خان کی مشرف کی جماعت سے متوقع اتحاد و مفاہمت صرف اس لیے کرائی جارہی ہے کہ نواز شریف کو اقتدار میں آنے سے کسی طرح روکا جائے۔ اس کام میں امریکہ کی مخصوص جماعت کی مدد عمران خان کو ہے۔ اسی لیے مشرف میاں پاکستان آنے کی جسارت کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں، خاص کر نواز لیگ کے دبائو میں شمسی ائر بیس امریکہ سے خالی کرایا گیا۔ اس کا بدلہ امریکی انتظامیہ پاکستانی عوام سے لینا چاہتی ہے۔ سیاست دانوں کو سبق سکھانے کے لیے فوجی بغاوت کا بھی سہار ا لیا جاسکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ، طالبان کی تازہ دہشت گردی پھر سیاسی مفاد کا حصہ لگ رہی ہے۔ اب پاکستان میں مزید دہشت گردی پھیلائی جائے گی، کیونکہ عمران خان اور مشرف کی جماعت متحد ہوکر شمسی ایئربیس دوبارہ امریکہ کو واپس کرنے کا کوئی خفیہ معاہدہ کرنے والی ہے؟ اس لیے جنرل پرویز مشرف کو امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پاکستان میں بھیجا جارہا ہے۔ اب پاکستان میں مشرف خود نہیں آرہے، جن کو پاکستانی عوام نے بھگایا تھا، بلکہ ان کو لایا جارہا ہے۔ عمران خان امریکی مفادات کی نگہبانی و تحفظ اسی طرح کریں گے، جس طرح ماضی میں مشرف میاں کر چکے ہیں۔ عمران خان کو اپنے فوجیوں کی شہادت کا کوئی مخلص غم نہیں۔ گویا یہ ان کی شہادت پر خاموش جشن ہے۔ مشرف کی جماعت سے مفاہمت ہورہی ہے۔ ان کو شاید پاکستان کے عوام کا وقار عزیز نہیں ۔ ان کو اپنا اور امریکہ کا وقار عزیز ہے۔ یہ تکلیف کی بات ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت جو اب صرف دشمنوں کا فائدہ دیکھ رہی ہے اور ان کی گود میں بیٹھنے کے لیے بے چین و بے قرار ہے۔ بہرحال، دیکھنا ہے کہ عمران خان پاکستان کو، اس کے عوام کو امریکہ کے پاس گروی رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ اب پاکستان میں کوشیش یہ کی جارہی ہیں کہ عمران کی جماعت کو برسراقتدار لانے کے لیے وہاں ایک فوجی بغاوت پیدا کرکے ایک آسان راستہ عمران کو فراہم کردیا جائے۔ پاکستان میں تازہ اتھل پتھل نواز لیگ اور پی پی پی کو اقتدار کے گلیاروں میں پہنچنے سے روکنے کی نئی مشق کی جارہی ہے۔ اس میں وہ کتنے کامیاب ہوں گے، اس کا انداز ابھی لگانا مشکل ہے۔
بہرحال، یہ دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو کچلنے کی نئی کوششوں کا آغاز ہوگیاہے۔ پہلے فوج کو ہی زیادہ قصور وار مانا جاتا تھا، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ میں بھی اس میں شریک ہے۔ ایک منتخب حکومت کو اپنے وقت سے قبل ہٹانے میں کوئی سازش کارفرما ضرور ہے۔ جو لوگ قبل ازوقت حکومت کو گرانے کی حکمت عملی اپنارہے ہیں، وہ یقینا نہ صرف پاکستان کے بلکہ جمہوری عمل کے بھی دشمن ہیں۔ پاکستان میں مقررہ مدت میں اگر انتخاب ہوتے ہیں تو نواز لیگ یا پھر پی پی پی ہی برسراقتدار آئے گی۔مگر قبل ازوقت اس کا انعقاد ہوتا ہے تو پھر مشرف و عمران خان کے عنوان سے امریکہ کی واپسی طے ہے۔ پاکستان میں وزارت عظمیٰ کا امریکی نمائندہ پھر عمران خا ن کو ہی مان لیجئے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *