آپ کے سوال ہمارے جواب

 پنچایت سے اطلاع نہیں ملتی:میری پنچایت، سنت نگر ،کے ہرترقیاتی پروگرام میں دھاندلی ہوتی ہے ۔ سرکاری  اہلکار،پنچایت سکریٹری اور مکھیا کی ملی بھگت سے یہ سب چل رہا ہے۔ آرٹی آئی کا استعمال کرنے پر بھی اطلاع فراہم نہیں کی جارہی ہے۔چائلڈ ویلفیئر اسکیم سے متعلق اطلاع کے لئے مجھ سے 75ہزارروپے مانگے گئے، جو میں نہیں دے سکتاتھا۔برائے مہربانی ہمیں بتائیں کہ قانون کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوئے اسکے آگے کیا کرنا چاہئے؟
وجندر کمار مشرا، رام کھتاری، جھنجھار پور
وجندر صاحب، آپ آر ٹی آئی کے ذریعے بدعنوانی اجاگر کرنے کے اس اچھے کام میں  اور بھی لوگوں کو شامل کیجیے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوںکو آرٹی آئی کے استعمال کے لئے حو صلہ افزائی کیجئے۔ اس سے بدعنوان لو گوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔ ساتھ ہی کسی بھی معاملے میں پہلی یا دوسر ی اپیل ضرور کریں۔ زیادہ پیسے مانگے جانے کی حالت میں آپ  دستاویز کے معائنہ کے اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں۔اس شمارے میں ہم سرکاری کام/دستاویز کے معائنہ سے متعلق ایک درخواست شائع کر رہے ہیں۔ آپ اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کالم میں ہم لگاتار آرٹی آئی درخواست و اپیل کافارم بھی شائع کرتے ہیں۔ آپ اسکا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، قانون کی خلاف ورزی کر کے بدعنوانی سے نہیں لڑا جاسکتاہے۔
بغیر کنکشن بل آ گیا: میںنے بجلی کنکشن کے لئے سدرن پاورڈسٹری بیوشن بلاک کے دفتر چھبرامئو، قنوج میں درخواست دی تھی۔ اس کے لئے طے فیس بھی جمع کرائی تھی۔ کنکشن تو نہیں ملی لیکن تین مہینے کا بل ضرور دے دیا گیا۔ شکایت کرنے پر الٹے ایس ڈی او نے بدتمیزی سے بات بھی کی۔ مجھے کیاکرنا چاہئے؟
شریمتی سونے شری، بھوانی گڑھ، مین پوری
آپ اس معاملے میں متعلقہ اعلٰی افسر کے دفتر ایک شکایت تحریری طور پر کو بھیج سکتی ہیں۔ اس کے دس دن بعد اگر کو ئی جواب نہیں ملتا تو ایک آر ٹی آئی درخواست دے کر صر ف یہ دریافت کریںکہ آ پ نے جو شکایت بھیجی تھی اس پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔
آرٹی آئی کارکن بننا چاہتاہوں:میں ایک ریٹائرڈ بینک آفیسر ہوں۔ آر ٹی آئی رضاکار بن کر اور میڈیا سے جڑ کر سماج کی خدمت کرنا  چاہتاہوں۔ کیا  اس کے لئے رجسٹریشن بھی کرانا ہوگا؟
او پی نرنجن، پنچاوٹی، غازی آباد
یہ اچھی بات ہے کہ آپ آرٹی آئی کے ذریعہ سماج کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے لئے کسی بھی طر ح کے رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ چوتھی دنیا  ہفت روزہ کے آرٹی آئی کالم کے ذریعہ اس قانون سے متعلق تفصیلی جانکاری لے سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ معاملوں میں آرٹی آئی درخواست دے کر اطلاع حاصل کر سکتے ہیں جسکو ہم شائع کر سکتے ہیں تاکہ سچ عوام کے سامنے آسکے۔ آپ مختلف مدعوں پر لوگوں کو اس قانون کے متعلق جانکاری دے کر انہیں اسکے استعمال کے لئے حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔
فرسٹ اور سیکنڈ اپیلٹ آفیسر کا پتہ چاہئے:میں نے اسٹاف سلیکشن کمیشن میں ایک آرٹی آئی در خواست دی تھی۔ لیکن جواب نہیں ملا اور نہ ہی پہلی اپیل کرنے کے لئے پتہ دیا گیا۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟
سدھارتھ سنگھ، رام پور، سہرسا
اسٹاف سلیکشن کمیشن ایک مرکزی ادارہ ہے۔ پہلی اپیل تو آپ الہ آباد میں واقع دفتر میں بھیج سکتے ہیں۔ جہاں تک دوسری اپیل کا سوال ہے توا سے آپ سنٹرل انفارمیشن کمیشن ، اولڈ جے این یو کیمپس، بیر سرائے ، دہلی ، کو بھیج سکتے ہیں۔اپیل کے لئے کوئی فیس نہیں لگتی ہے۔

درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
کاموں/دستاویزوں کا معائنہ
خدمت میں،پبلک انفارمیشن آفیسر
( محکمہ کا نام)محکمہ کا پتہ)
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
عالی جناب،
برائے مہربانی مجھے حق اطلاع ایکٹ ، 2005 کے تحت مندرجہ ذیل جانکاری فراہم کی جائے:
.1حق اطلاع ایکٹ کی دفعہ 2(j)(1)کے مطابق ہر ایک شہری کو سرکاری کاموں کے معائنہ کا حق حا صل ہے۔ اس کے تحت میں مند رجہ ذیل کام کا معائنہ کرنا چاہتا/چاہتی ہوں۔ برائے مہربانی مجھے تاریخ، وقت اور جگہ بتائیں جہاں آکر میں کام کا معائنہ کر سکوں۔
(کام کی تفصیل)
.2میں معا ئنہ کے وقت اس کام سے متعلق مندرجہ ذیل دستاویزوں کا بھی معا ئنہ کرنا چاہوں گا/گی، اس لئے معا ئنہ کے وقت  یہ دستاویز  مجھے دستیاب کرائیں:
الف۔ میزرمنٹ بک    ب۔ اخراجات کی تفصیل        ج۔نقشہ
ان دستاویزوں کے معائنہ کے بعد اگر مجھے کسی دستاویز کی ضرورت ہوگی تو قانون کے  تحت مختص کی گئی فیس لے کر اس کی کاپیاں دستیاب کرائیں۔
.3دفعہ 2(j)(3)کے مطابق ہر ایک شہری کو سرکاری کاموں میں استعمال ہونے والے سامان کا تصدیق شدہ نمونہ لینے کا حق حاصل ہے۔ اس کے تحت میں مندرجہ بالا کام میں استعمال کی گئی چیزوں کا شعبہ کے ذریعہ تصدیق کیا گیا نمونہ  لینا چاہتا/چاہتی ہوں۔ نمونہ میرے ذریعہ طے کی جگہ پر میری موجودگی میں شعبہ کے ذریعہ اکٹھا کیا جائے اور یہ سیل بند ہو اور شعبہ یہ تصدیق کرے کہ سیل بند نمونہ استعمال کی گئی چیز کا اصلی نمونہ ہے۔ برائے مہربانی  مجھے جگہ ، وقت اور تاریخ بتائیں جب میں تصدیق شدہ نمونے کے لئے آسکوں۔
میں درخواست کی فیس کی شکل میں10روپے الگ سے جمع کر رہا/رہی ہوں۔
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے یہ فیس مجھے معاف ہے۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……. ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے/آفس سے متعلق نہیںہو ، توحق اطلاع ایکٹ2005کی دفعہ6(3)کے مطابق میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کردیں۔ساتھ ہی اس ایکٹ کے تحت اطلاع فراہم کر تے وقت فرسٹ اپیلٹ افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
آپ کانام: ——————————–پتہ : ———————————-
فون نمبر:—————— منسلکہ(اگرکچھ ہو)  ————————–   (1)۔ درخواست کی کاپی
(2 )درخواست فیس کی رسید کی کاپی (3 )پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ دیے گئے جواب کی کاپی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *