مسلم بچے بھی اپنے ہیں، انہیں ایڈمیشن کا حق دیجئے

وسیم راشد
کیسی بد قسمتی ہے اس قوم کی کہ اسے ہر چیز کے لئے لڑنا پڑتا ہے ۔چاہے وہ اردو اساتذہ کی تقرری کا مسئلہ ہو یا ایڈمیشن کا۔ تعلیمی وظائف کی بات ہو یا اردو کتابوںکی۔ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا رونا تو سبھی روتے ہیں اور مل کر روتے ہیں۔ اس قوم کو جاہل ثابت کرنے کے  لئے جو بھی چاہتا ہے وہ اعدادو شمار کے ذریعے آسانی سے ثابت کردیتاہے مگر جب مسلم بچوں کی تعلیم ان کے ایڈمیشن اور اساتذہ کی تقرری کی بات آتی ہے تو سبھی ایک دوسرے پر ڈال کر اپنا پلہ جھاڑ لیتے ہیں۔ جب پاسوان جیسے با ضمیر لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں تو بی جے پی یہ کہہ کر کہ مسلمان اپنے بچوں کو مدرسوں میں پڑھاتے ہیں پھر اسکولوں کی کیا ضرورت ہے ۔ ایک طرح سے یہ اعلان کردیتی ہے کہ مسلمان بچوں کو اسکولوں میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دہلی کے پبلک اسکولوں میں اس بار مسلم بچوں کے ساتھ جو تعصب برتا گیا وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ  اس مسئلہ کو اردو اخبارات اور میڈیا نے ہی نہیں بلکہ پورے نیشنل میڈیا نے اٹھایا اور راجیہ سبھامیں بھی اس بات کواٹھا یا گیا کہ مسلم بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے نہیں ملے ہیں۔ اس سے پہلے اس مسئلے کو لوک جن شکتی پارٹی کے سکریٹری جناب عبد الخالق صاحب نے اٹھایا تھا اور انہوں نے اس سلسلے میں شیلا دکشت ، کپل سبل ، سلمان خورشید اور وجاہت اللہ حبیب کو بھی خط لکھے تھے۔راجیہ سبھا میں ہی نیشلسٹ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری طارق انور اور محمد ادیب نے بھی اسے مسلمانوں کے ساتھ ایک سازش قرار دیا اور اس ضمن میںاعداد و شمار بھی پیش کیے ۔راجیہ سبھا ہی کیا اقلیتی تعلیم کی نگراں کمیٹی این ایم سی ایم ای یعنی نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی فار مائناریٹی ایجوکیشن کی ایک میٹنگ میں کپل سبل صاحب کو پوری طرح آئینہ دکھایا جا چکا ہے جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر جناب نجیب جنگ نے کپل سبل اور وزرائے مملکت برائے ایچ آر ڈی پورن دیشوری اور ای احمد کے سامنے مسلم بچوں کے اسکولوں کی کمی کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ مسلم  علاقوں میں اسکولوں  سے زیادہ پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔اس میٹنگ میں کافی حد تک مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی اہم شخصیات بھی شامل تھیں جن میں اختر الواسع، سیدہ سیدین حیدر ، خلیق انجم وغیرہ نے مسلم علاقوں میں تعلیم کی کمی کی وجہ اسکولوں کا نہ ہونا بتایا ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی کہی گئی کہ دہلی اور مرکزمیں کانگریس کی سرکار ہونے کے باوجود  اردو زبان، اردو اسکولوں اور اردو اساتذہ کی حالت بہت بد تر ہے اور اسی میٹنگ میں کپل سبل نے وعدہ کیا تھا کہ اردو کے فروغ اور اس کو روزگار سے جوڑنے کے لئے مزید اقدامات کیے جائیں گے مگر وزیر موصوف کو اس بات کا علم شاید نہیں ہے کہ جب مسلم بچوں کو داخلہ ہی نہیں ملے گا تو وہ ملک کی مین اسٹریم میں کیسے شامل ہوپائیں گے۔ اردو میڈیم اسکولوںکی حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اردو میڈیم اسکولوں میں نہ تو اساتذہ ہیں  نہ ہی کتابیں ہیں ۔ اس وجہ سے چند ایک کو چھوڑ کر اردو میڈیم  اسکولوںکے نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہوتے اور ویسے بھی اس دوڑتی بھاگتی زندگی اور مقابلہ آرائی کے دور میں معمولی سے معمولی مزدور بھی ا پنے بچے کو انگلش میڈیم میں پڑھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ  جانتاہے کہ ہندی یا اردو یا دوسری علاقائی زبانوں میں پڑھوا کر  بچے کا مستقبل بہتر نہیں ہونے والا ہے۔ اسی طرح مسلمان بھی ہیں ،وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کریں مگر ان کو جب ان اسکولوں میں ایڈمیشن ہی نہیں ملیں گے تو وہ بے چارے کہاں جائیں گے ۔ ہاں ایک وقت تھا جب 70 فیصد مسلمانوں کی مالی حالت اس قابل نہیں تھی اور ہی ان کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا اس لئے وہ اپنے بچوں کو آس پاس کے سرکاری اسکولوں میں بھیج دیا کرتے تھے مگر اب نئی نسل میں تعلیمی بیداری آئی ہے۔دہلی میں مسلمانوں کی زیادہ تر آبادی اوکھلا، جامع مسجد ، سیلم پور، سنگم وہار، جعفرآباد ، باڑہ ، صدر وغیرہ علاقوں میں ہے اور قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے ان میں سے کچھ علاقے پوری طرح نیگیٹیو ڈکلیئر کردیے گئے ہیں۔ جامع مسجد ، اوکھلا کے بچوں کو تو اسکول فارم تک نہیں دیے جاتے اور صاف طور پر انکار کردیا جاتا ہے۔ایک وجہ اور بھی ہے مسلم بچوں کو داخلہ فارم نہ ملنے کی، کہ جو لوگ گھر کرائے پر لیتے ہیں ان کو کسی اچھی کالونی میں کوئی کرائے کا مکان نہیں ملتا ہے  ،کیونکہ مسلمان سنتے ہی ان کو انکار کردیا جاتا ہے ایسے میں جو مسلم کثیر آبادی والے علاقے ہیں ،وہیں پر مکان لینا پڑتا ہے اور ان علاقوں میں رہنے کے بعد پھر ان پر ایسا ٹھپہ لگ جاتا ہے کہ پوچھئے مت۔ اس سال نرسری ایڈمیشن میں پرائیویٹ اسکولوں نے مل کر تعصب کا ثبوت دیا اور تقریباً 92 اسکولوں  میں سے 12399 سیٹوں میں صرف 208 مسلم بچوں کو داخلے دیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ 20 اسکولوں  نے تو کسی مسلم بچے کو داخلہ ہی نہیں دیا جبکہ 17 اسکولوں  نے صرف ایک ایک مسلم بچے کو داخلہ دیا ہے۔ تصور نہیں کیا جاسکتا اس ناانصافی کا ۔کون ان اسکولوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟کون ان کے خلاف آواز اٹھائے گا؟راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے درمیان اٹھائے گئے اس واقعہ کو بس  ایک دن تو منظر عام پر لایا گیا مگر اس کے بعد کیا ہوا، کیا نہیں ؟کیا ان اسکولوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ اس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل پایا۔ ہاں! شیلا دکشت نے یہ کہتے ہوئے ضرور اپنی صفائی پیش کردی کہ نہ تو سرکاری اسکولوں اور نہ ہی پرائیویٹ اسکولوں نے مسلم بچوں کو داخلہ دینے سے انکار کیا ہے ۔ ان کا یہ کہنا کہ اخبار میں پڑھنے کے بعد انہوں نے اپنے دفتر سے پوچھا کہ کیا کوئی درخواست موصول ہوئی ہے ،جس پر انہیں جواب ملا کہ صرف ایک درخواست ملی ہے ۔شیلا جی سے کوئی یہ پوچھے کہ جس قوم کی پہلی نسل تعلیم حاصل کررہی ہے ،جسے یہی نہیں پتہ کہ اپنے حق کے لئے کس کے پاس جانا ہے اور کس کے پاس نہیں ،کس کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے اور کیسے؟اس کے علاوہ  جتنے دن درخواست دینے میں اور درخواست کا جواب ملنے میں گزریں گے اتنے دن میں تو داخلوں کا وقت ہی نکل جائے گا۔شیلا جی سے کوئی یہ سوال کرنے والا نہیں کہ جن علاقوں کو نیگیٹیو ڈکلیئر کیا گیا ہے ان علاقوں میں تو فارم تک نہیں دیے جاتے ،ایسے میں مسلمان کیا کریں۔ ایڈمیشن کے علاوہ بھی ہوم لون، کارلون یا دوسرے معاملات جو فائنانس سے تعلق رکھتے ہیں ان علاقوں میں یہ بھی نہیں دیے جاتے اور یہی رویہ ظاہر ہے ایڈمیشن  میں اپنایا جاتا ہے۔ ان کچھ اسکولوں سے جو کہ مسلم علاقوں میں فارم مہیا کرتے ہیں۔ جب والدین کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہاں داخلہ نہیں ملے گا تو فارم تک حاصل کرنے نہیں جاتے  جیسے اسپرنگ ڈیلس پوسا روڈ برانچ  میں 170 سیٹوں پر 2443 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں صرف 155 مسلم بچوں کے فارم تھے اور اس اسکول میں صرف دو بچوں کو داخلہ ملا اور وہ بھی مالی طور پر کمزور کٹیگری میں۔ دہلی پبلک  اسکول ایسٹ آف کیلاش میں 180 سیٹوں  کے لئے 2997 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں مسلم بچوں کی صرف 269 تھیں اور چونکہ یہ اسکول مسلم اکثریتی علاقے کے قریب ہے اس لئے اس میں 5 مسلم بچوں کو داخلہ ملا۔ جناب عبد الخالق نے اس ضمن میں شیلا دکشت ، کپل سبل اور اسکول کے پرنسپل کو خط لکھ کر  اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مسلمان جو کہ دہلی کی آبادی کا 15 فیصد  ہیں ۔ان کو 0.5 فیصد سے بھی کم داخلہ ملا ہے ۔ 179 اسکولوں میں سے 87 اسکولوں نے تو اپنی ویب سائٹس پر ڈاٹا تک نہیں ڈالا ہے۔اسپرنگ ڈیلس کی کیرتی نگر برانچ میں ایک بھی مسلم بچے کو داخلہ نہیں ملا جبکہ دھولا کنواں  میں ایک بچے کا داخلہہوااور لاجپت نگر کے بلیو بیلس اسکول میں 150 بچوں کا ایڈمیشن ہوا ہے ۔جس میں  سے دو بچے مسلم ہیں ۔صادق نگر کے انڈین اسکول میں 120 میں سے تین کو داخلہ دیا گیا ہے جبکہ ان میں سب سے بہتر دہلی پبلک اسکول متھرا روڈ ہے جہاں 240 سیٹوں میں 65 مسلم بچوں کو داخلہ ملا ہے جس میں 23 جنرل کٹیگری اور 42 معاشی طور پر کمزور کٹیگری  میں آتے ہیں۔اس ضمن میں ایک بات قابل غور ہے کہ دہلی کے سبھی پرائیویٹ اسکولوں  کے مقابلے دہلی پبلک اسکول متھرا روڈ میں ہمیشہ ہی مسلم بچوں کو زیادہ داخلے ملے ہیں ۔ اب اس کے مسلمان پرنسپل ایم آئی حسین کا کرشمہ سمجھئے یا کچھ اور ۔ یہاں اردو بھی تیسری زبان کی حیثیت سے پڑھائی جارہی ہے اور یہاں مسلم بچوں کا تناسب بھی زیادہ ہے ۔ ایم آئی حسین اب ریٹائر ہوچکے ہیں مگر ان کا بہتر اثر ابھی بھی اسکول پر باقی ہے۔ دراصل کم مسلم بچوں کو داخلہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سبھی اسکولوں میں پوائنٹس کی بنیاد پر ایڈمیشن دیے جاتے ہیں جن میں کلو میٹر کے حساب سے قریب رہنے  والوں کو پوائنٹس کا فائدہ ملتا ہے ۔ ہر اسکول کا الگ پوائنٹس سسٹم ہے ۔کیمبرج اسکول کے 7 پوائنٹس ہیںجبکہ نیو فرینڈ س کالونی کے لئے 10 پوائنٹس ہیں ۔ حالانکہ  دونوں کالونیوں میں صرف 1.18 کلو میٹر کا فرق ہے۔ ذاکر نگر کے علاقے کے مسلمانوں کو 10 پوائنٹس کا یہ فائدہ نہ مل کر صرف 7 پوائنٹس کا فائدہ ہے جس کے سبب نیو فرینڈس کالونی کے بچوں کو داخلے مل جاتے ہیں اور ذاکر نگر کے بچے  پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہاں یہ بات ضرور کہنی ہے کہ مسلم اکثریت والے علاقوں  میں پوائنٹس بہت ہی کم رکھے گئے ہیں جس کے بعد مسلم بچوں کے لئے صرف وہ اسکول رہ جاتے ہیں جو کہ انگلش میڈیم مسلم اسکول ہیں جیسے کہ ہمدرد پبلک اسکول، نیو ہورائزن اسکول ، کریسنٹ اسکول دریا گنج اور موج پور وغیرہ ۔جتنے بھی پوائنٹس رکھے  گئے ہیں  اگر ان کی بنیاد پر داخلوں کے پروسیس کو دیکھیں تو والدین کی تعلیمی لیاقت کے نمبر، بھائی بہن کے نمبر وغیرہ میں مسلمان بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان تمام اسکولوں میں ایک اسکول فرینک انتھونی پبلک اسکول  ایسا ہے جہاں مسلم بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اس بات سے خوشی ہوتی ہے مگر وہاں ICSE کا سلیبس ہوتا ہے جو مسلم بچوں کے لئے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مسلم اکثر یتی  علاقوں میں جہاں اچھے اسکول  قریب ہیں جیسے الکنندہ، سنگم وہار، ڈال بوسکو، امیٹھی شپ وہار، بلیو بیلس ، ٹیگور  انٹر نیشنل ، سمر فیلڈس، کیمبرج اسکول اوکھلا اور پرانی دہلی ۔ان سب اسکولوں میں مسلم بچوں کی تعداد  زیرو  ہے ۔یہاں مسلم بچوں کو ایڈمیشن ملنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ دریا گنج ایریا کے اسکولوں  میں مسلم بچوں کے 50 فیصد  فارم بھرے گئے  ہیں مگر ایڈمیشن کا فیصد زیرو ہے۔ہماری کمی ہے ہمارے مسلم قائدین کی کمی ہے ۔ہم ہر علاقے میں بڑی بڑی مسجدیں تعمیر کر لیتے ہیں اور اس میں خوب دل کھول کر پیسہ دیتے ہیں اور اسے صدقہ جاریہ سمجھتے ہیں مگر ہم یہ بھول جا تے ہیں کہ تعلیم بھی صدقہ جاریہ ہے ۔جس کا ثواب نسل در نسل ملتا رہتا ہے ۔ ہمارے رہنما RTE کے تحت مسلم اکثریت والے علاقوں میں کیوں اسکول نہیں کھلواتے جبکہ ہر گلی محلے میں اسکول کھولنا اس ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ زمین وقف بورڈ کی ہتھیا لیتے ہیں ، ڈی ڈی اے کی زمین پر قبضہ کرلیتے ہیں مگر ایڈمیشن کے وقت ہمارے ہی بچوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ CBSE کے  سابق  چیئرمین اشوک گانگولی جنہوں نے یہ پوائنٹس سسٹم 2006 میں لاگو کیا تھا ۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ پوائنٹس سسٹم اس لئے شروع کیا گیا تھا کہ بنا رنگ ، نسل ، ذات اور مذہب کے سب کو ایڈمیشن ملے ۔اگر اس میں کچھ خرابیاں ہیں تو اس کے لئے اسکول ذمہ دار ہیں۔
کچھ بھی کہیے ، حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہورہے ہیں اور مسلم بچے RTE ایکٹ کے تحت ہی ہر طرح کے فائدے سے محروم ہیں ۔مسلم بچوں کو نہ مڈ ڈے میل صحیح  طرح مل رہا ہے نہ ہی ان کو پرائمری اسکولوں میں سہولیات میسر ہیں نہ اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ اور کتابیں ہیں ۔ایسے  میں آج کی اس ترقی کی دوڑ میں ہمارے بچے کیسے آگے بڑھیں گے یہ لمحۂ فکریہ ہے مگر اس کے لئے سب کو مل کر  کوشش کرنی چاہئیں ۔اردو کے بڑے بڑے مافیا جو اردو کے اداروں کو گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں وہ کچھ کوشش نہیں تو 30 ،40 سالو ں میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ خدا ہی ہمارے بچوں اور ان کے بچوں پر رحم کرے۔     g

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *