مغربی ممالک میں حجاب کی سیاست

شفیق عالم
مشہور ماہرلسانیات اور امریکی خارجہ پالیسی کے سخت ترین نقاد ں میں سے ایک نوم چومسکی کا ماننا ہے کہ’’آپ کے حقوق یوںہی نہیںملیںگے ،ا ٓپ کو انہیں حاصل کرنا ہوگاـ‘‘۔ مغربی ممالک میں حجاب سے متعلق حالیہ تنازعات کااصل تناظر بھی یہی ہے۔یہاںگزشتہ دنوں حجاب اور اسکارف کے تعلق سے جو واقعات رونما ہو ئی ہیں ان میں زیادہ تر معاملات کا تعلق مذہبی احکام کی ادائیگی کے بجائے عورتوں کی ذاتی آزادی اور تہذیبی شناخت سے وابستہ ہے۔مغربی ممالک، خاص طور سے امریکہ، برطانیہ اور فرانس ، اپنے آپکو انسانی حقوق اور جمہوریت کے سب سے بڑے حمایتی کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ امریکہ نے تو دوسرے ملکوں ، خاص طور پر عراق ،پر حملے کے لئے انسانی حقوق کو بھی حربہ کے طور پر استعمال کیا۔لیکن اپنے ہی ملک کے شہریوں کی آزادی سلب کرنے اور انکی تہذیبی شناخت مٹانے میں ان ملکوں کو کوئی عار نہیں ہے۔ یوں توفرانس میں حجاب پر پابندی سے متعلق مباحث کا آغاز1980 کی دہائی کے اواخر میں ہی ہو گیا تھا، لیکن اس مخالفت میں تیزی9/11کے حملوں کے بعد آئی ۔ اس حقیقت کو مغربی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس میںمسلم مخالف جذبے کا بڑا عمل دخل رہاہے،اور اس میں حیرانی کی کو ئی بات نہیں ہے کہ برقعہ پر پابندی عاید کرنے والا سب سے پہلا ملک فرانس ہی تھا۔
بحر حال ،گزشتہ دنوں حجاب جن وجوہات کی بنا پر میڈیاکی سرخیوں میں رہا ان میںبرطانیہ کی ایک برقعہ پوش مسلم جوری ممبر کو حلف برداری سے روکنا ، امریکہ میں ایک عراقی خاتون کا قتل ، اور اسکارف پہن کر فٹ بال کھیلنے کی فیفا کی اجازت شامل ہیں۔جہاںتک بر قعہ پوش برطانوی جوری ممبر کی حلف برداری کا تعلق ہے یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے۔ لندن کی ایک عدالت کے جج نے ایک خاتون مسلم جوری ممبرکو حلف برداری سے اس لئے روک دیا کیوںکہ وہ عورت نقاب پہنے ہوئے تھی،جج کا کہنا تھا کہ نقاب پہننے کی وجہ سے فیصلہ سناتے وقت اور معاملے کی سماعت کے دوران اسکے چہرے کے تاثرات نہیں دکھیںگے لہٰذا وہ اپنا نقاب اتار دے ، لیکن اس جوری ممبر نے نقاب اتارنے سے انکارکردیا۔اس کے بعد معاملے کی سماعت کررہے جج نے اس عورت کے بجائے کسی دوسرے مر د جوری ممبر کو حلف لینے کے لئے کہا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس عورت نے نقاب کے علاوہ پوری طرح مغربی لباس پہن رکھاتھا۔اب سوال یہ اٹھتاہے کہ کیا چہرے کا تاثر اتنا اہم ہے کہ وہ کسی جج کو یاکسی فیصلے کو متاثر کرسکے؟  برطانوی عدالتوں میں حجاب سے متعلق سرکاری احکامات 2007میں جاری کئے گئے تھے۔ ان میں جیوری ممبر سے متعلق یہ احکامات تھے کہ’’اگر کسی شخص کا چہرہ قریب قریب پوری طرح سے ڈھکا ہوا ہے تو جج یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس شخص کا ڈھکا ہوا چہرہ (نقاب پوش عورتوں یا معاملے میں شریک دوسرے فریقین کا)کسی معاملے میںانکی موثر شراکت اور غیر جانب دارانہ سماعت میں حائل تونہیںہے ۔‘‘ ان احکامات کو جاری کرتے ہوئے جسٹس کوکس نے پانچ سال قبل کہاتھا ’’ ہم مسلم عورتوں کے مذہبی عقیدے کے لحاظ سے نقاب پہننے کی آزادی کی عزت کرتے ہیں، لیکن ہمارے لئے انصاف سب پر مقدم ہے۔‘‘ مدعا علیہ (جس پر دعویٰ کیاجائے) اور مدعی(دعویٰ کرنے والا) کے متعلق یہ دستاویز کہتی ہے کہ’’نقاب ہٹانے کی گزارش کرتے وقت متعلقہ شخص کے عقائد اور احساسات کا خیال رکھا جائے‘‘۔ان احکامات میںمسلم وکلاء کو یہ اجازت ہے کہ وہ مکمل چہرے کانقاب پہن کر اپنا مقدمہ پیش کر سکیں۔ مذکورہ حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے کا کلیدی نکتہ متعلقہ جیوری ممبر کی شناخت کاہے ۔اس میںسب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ معاملے کی سماعت کررہی جیوری ممبروہی ہے یا اس کی جگہ کوئی اور۔ اس مسئلے کا بظاہر ایک بہت ہی آسان حل موجود تھا ، جسے عدالت اور جج استعمال کرکے اس تنازعے کو مزید آگے بڑھنے سے روک سکتے تھے۔عدالت کسی خاتون اہلکار کے ذریعہ اس ممبر کی شناخت کی تصدیق کرا سکتی تھی۔ایک معمولی حیثیت کا انسان بھی یہ بتاسکتاہے کہ کسی جج کے چہرے کے تاثرات کسی مقدمے کے فیصلے کو متاثر نہیںکرسکتے ہیں۔ لہٰذااس طرح کے فیصلوں سے یہ گمان غالب ہوسکتا ہے کہ کہیں یہ مغربی ممالک میں موجودمسلم مخالف جذبہ کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا ہے؟ یہاں متعلقہ عورت کے چہرے سے نقاب ہٹانے کے بجائے مسلمانوں کے تئیں رائج تعصب سینقا ب ہٹانے کی ضرورت ہے۔  حجاب سے متعلق دوسرا واقعہ کیلی فورنیا ، امریکہ، کا ہے جہاںایک 32سالہ عراقی خاتون ، شائمہ علاودی ، کو بری طر ح سے پیٹ پیٹ کر اس لئے ہلاک کردیا گیا کیوںکہ اس نے اسلامی حجاب پہن رکھاتھا۔ ایک ہفتہ قبل اس خاندان کو ایک دھمکی بھرا خط موصول ہو ا تھا جس میں لکھا تھاــ’’دہشت گردو !اپنے ملک واپس جاؤ۔یہ ہمارا ملک ہے تمہارا نہیں‘‘۔ اس خط کے مضمون سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اس واردات کو امریکہ میں موجود نسل پر ستوں نے انجام دیاہے۔ اس ظالمانہ واقعہ کے بعد سینکڑوں لوگوںنے حجاب پہن کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنی کثیرتہذیبی وراثت پر ناز کرتا ہے، لیکن یہ واقعہ امریکہ کی اس شناخت کو مجروح کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وحشیانہ کارروائی کے پیچھے بھی اسی متعصب ذہنیت کی کار فرمائی ہے جو  9/11کے حملوں کے بعد مسلم مخالف ذہنیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔حجاب سے متعلق تیسرا واقعہ کھیلوں سے متعلق ہے ۔ فٹ بال کے کھیل کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے فیفانے خواتین کھلاڑیوں پر لگی پانچ سال پرانی اسکارف پہننے کی پابندی کو اٹھالیا ہے۔فیفاکے مطابق یہ پابندی نہیں تھی بلکہ کھلاڑیوں کے تحفظ کو دھیان میں رکھ کر اسکارف پہننے پر روک لگائی گئی تھی۔ اب فٹ بال کے کھیل کی مناسبت سے ڈیزائن کیا ہوا اسکارف پہننے سے یہ خطرہ بہت حد تک ختم ہو گیاہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ پابندی نہیں تھی تو فیفا جو اقدام ابھی کررہی ہے وہ پانچ سال پہلے بھی کرسکتی تھی ؟فیفا کے ان اقدام سے بہت سارے اسلامی ممالک کی خواتین فٹ بال ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے کا موقعہ ملے گا۔ وہیں بین مذہبی اور بین تہذیبی مکالمے کو ایک نئی سمت ملے گی۔
یوروپی ممالک اور امریکہ میں مسلمان کافی عرصے سے قیام پزیر ہیں۔ ظاہر ہے ان کے باہمی لین دین سے نہ صرف ایک نئی تہذیب کا وجود عمل میں آیا تھا بلکہ علم و آگہمی میں نئے امکانا ت روشن ہوئے۔ آج کے ترقیافتہ دور میں دنیا کو ایسے کثیر تہذیبی معاشرے کی ضرورت ہے جس میں ہر انسان کو اتنی آزادی ہو کہ وہ اپنی تہذیبی شناخت کا تحفظ کرسکے۔ اگر تاریخ میں کسی دور کو آج کے کثیر تہذیبی معاشرے کے لئے نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو وہ ہے مسلم اسپین۔ اسپین میں ہر قوم ، ہر فرقے ، ہر مذہب اور ہر نسلکے عوام کو اپنی بات کہنے ، اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اور رہائش اختیار کرنے کی پوری آزادی تھی، اور یوروپ کے نشاۃثانیہ میں بھی مسلم اسپین کا ایک بہت اہم رول تھا۔ لہٰذا آج مغربمیں ان واقعات کو دیکھنے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ان دو متصادم تہذیبوں میں مکالمہ کے کی کمی ہے اور اس کمی کو مسلم اسپین کا ماڈل پورا کرسکتاہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *