مدھیہ پردیش: غیر قانونی کان کنی اور سیاست کا اٹوٹ گٹھ جوڑ

اروند ورما
مدھیہ پردیش میں گزشتہ کچھ دنوں سے بر سر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے اندر ونی اور باہری سیاست سے جڑا ڈرامہ اچانک کافی تیز ہوگیا ہے۔بی جے پی کے اقتدار میں رہتے ہوئے کٹنی اور جبل پور ضلعوں کے قرب و جوار میں زیر زمین بوک سائڈ، ماربل، آئرن اور دیگر مختلف بیش قیمتی معدنی املاک کی بڑے پیمانے پر غیر قانونی کھدائی چل رہی ہے۔ ساتھ ہی اس کام میں جرائم، اقتدار اور سیاست سے جڑے عناصر کا کردار بھی بڑھتا جارہا ہے۔ ان سب کی ملی بھگت اور حکومت و انتظامیہ کے کئی محکموں کی شہہ کی وجہ سے ہزاروں کروڑں روپے کی کالی کمائی کی جارہی ہے۔ این ڈی اے کنوینر شرد یادو کے ذریعہ جبل پور دورے کے دوران لگائے گئے الزامات کی لیپا پوتی سے شیو راج سرکار ابھی جیسے تیسے نمٹ رہی تھی کہ چمبل میں آئی پی ایس آفیسر نریندر کمار کی ایسے ہی غیر قانونی کھدائی کو روکنے پر ہوئی موت نے اسے ایک بار پھر فضیحت اور بچائو کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔

اسپیکر ایشور روہانی کا بڑھتاسیاسی قد غیر قانونی کھدائی معاملوں سے گھر کر لگاتار کمزور ہوتا شیو راج سرکار کے وزیر داخلہ اوما شنکر گپتا اورخود وزیر اعلیٰ کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ دوبارہ اسپیکر بنائے جانے میں دیر تک آنا کانی کرتے رہے روہانی کی نظریں وزارت داخلہ پر ٹکی تھیں۔ روہانی  کے حامی انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر دیکھنے کی خواہش گاہے بگاہے کھلے عام ظاہر کرتے رہے ہیں ۔ یہ بات بھی حالیہ اسمبلی سیشن میں بحث کا موضوع بن چکی ہے۔

ان مشکل صورت حال اور دیگر کئی مورچوں پر خود کو بچائو اور 2013 کے اسمبلی الیکشن میں جیت کی ہیٹ ریک بنانے کے لئے بی جے پی نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ صاف ستھرا چہرہ لے کر عوام کے درمیان جانے کے ارادے سے ریاستی سرکار نے گزشتہ دنوں جبل پور کے باپ بیٹے رزاق اور سرتاج کی نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کا کھیل کھیلا پھر بھی لگتا نہیں ہے کہ سرکار کا یہ پانسہ اپنی جگہ صحیح پڑا ہے، کیونکہ اس کھیل نے جہاں ایک طرف بابو رام پرانج پے، جئے شری بنرجی اور پنڈت اونکار تیواری جیسے لیڈروں کے انتقال کے بعد جبل پور کٹنی سمیت پورے مہاکوشل آنچل میں بی جے پی کے سب سے قد آور لیڈر کی شکل میں اپنی پہچان بنا چکے اسمبلی اسپیکر ایشور داس روہانی کو کئی بڑے الزاموں کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے، وہیں دوسری طرف بی جے پی کے اندر سے اس کے لئے جبل پور ضلع کے انچارج وزیر اوما شنکر گپتا کے ساتھ ان کی سیاسی حکمت عملی کو ذمہ دار بتائے جانے کے تعلق سے خبروں نے پارٹی کی اندرونی گٹ بازی پر بھی انگلی اٹھا دی ہے۔ صوبائی کانگریس صدر کانتی لال بھوریہ، گرفتار شدہ رزاق کی اسپیکر روہانی سے نزدیکیوں کے علاوہ جبل پور کٹنی میں چل رہے اس کے کئی کارو بار میں حصہ داری کے الزام لگا رہے ہیں۔ اپنی صفائی میں روہانی الزام ثابت ہونے کی پوزیشن میں خود کو پھانسی پر چڑھا دینے کی بات کہہ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ گپتا ، روہانی کے بچائو میں آکر، رزاق کو تحفظ دینے میں کانگریسی لیڈروں کا کردار سامنے لانے اور یہ پیغام دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ بی جے پی روہانی کے ساتھ ہے۔ ان علاقوں میں تیزی سے اپنے ہاتھ پیر پھیلانے اور تسلط قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش میں لگے کچھ اخباروں اور دیگر میڈیائوں کی کاروباری ہوڑ کی وجہ سے اس معاملے سے جڑی خبروں کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ کٹنی میں رزاق سے جڑے بتائے جا رہے جبل پور ماربل اور اسی ضلع کے جُجاول، کھڈرا نیماس وغیرہ گائووں میں موجود ماربل کانوں میں انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کے آرڈر کے تحت مائنرل،انوائرنمنٹ،لیبر ،الیکٹری سیٹی ،فوریسٹ اور پولیس محکمے وغیرہ کے یونائٹیڈ ٹیم کے ذریعہ چھاپے ماری کے بعد مذکورہ کانوں کو بند کرانے کے سلسلے میں کارروائی کے اشتہار نے پورے معاملے پر ڈھیر سارے شکوک اور سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
قابل ذکر یہ ہے کہ اسپیکر ایشور داس اور روہانی کا بڑھتا سیاسی قد غیر قانونی کھدائی معاملوں سے گھر کر لگاتار کمزور ہوتا شیوراج سرکار کے وزیر داخلہ اوما شنکر گپتا اورخود وزیر اعلیٰ کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔دوبارہ اسپیکر بنائے جانے کے سلسلے میں دیر تک آنا کانی کرتے رہے روہانی کی نظریں وزارت داخلہ پر ٹکی تھیں۔ روہانی کے حامی انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر دیکھنے کی خواہش گاہے بگاہے کھلے عام ظاہر کرتے رہے ہیں۔ یہ بات حالیہ اسمبلی سیشن میں بحث کا موضوع بن چکی ہے کہ وزیر داخلہ گپتا جس آرگنائزیشن کے سربراہ ہیں، اس کی ضلعی نشستوں میں انتظامیہ کے لاہ و لشکر کے ساتھ لگاتار موجود ہوکر اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کررہے ہیں اور وہاں خود مستقبل کے وزیر اعلی ٰ کے طور پر متعارف کیے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بات اسمبلی میں اٹھی تو وزیر داخلہ اپنے پر قابو نہیں رکھ سکے۔یہ کسی سے بھی چھپا نہیں ہے کہ پولیس آفیسر نریندر کمار کے ساتھ ہوئی واردات کولے کروزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان سے کہیں زیادہ فضیحت وزیر داخلہ کی ہوئی ہے۔ لہٰذا بعید نہیں ہے کہ اپنی گرتی ساکھ سنبھالنے کے ساتھ ساتھ غیر متنازع اور سنجیدہ لیڈر کی شکل میں پہچانے جانے والے روہانی کو چیلنج بنتا دیکھ کر ان سے نمٹنے کے لئے رزاق و سرتاج کی گرفتاری ہوئی ہو۔ ورنہ رزاق سے روہانی کی نزدیکیاں نہ تو نئی ہیں اور نہ ہی بی جے پی، کانگریس یا دیگر پارٹی یا کمیونٹی اس سے انجان ہے۔عرصے سے ملتوی ان گرفتاریوں کا اس خاص وقت میں عمل میں آنا اور رزاق و روہانی تعلقات کا تیزی سے ابھرنا اگر خود میں بہت کچھ نہیں کہتا ،پھر بھی اس سلسلے میں بہت سارے قیاس لگائے جانے کے لئے بھرپور مواد فراہم کراتا ہے۔جبل پور ضلع دفتر میں رزاق اور اس کے قریبیوں کے جانے مانے کارو باری ٹھکانوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے کٹنی ضلع کے بہوری بند تحصیل کے تحت سلیمن آباد علاقے میں قائم اس کے پلانٹ جبل پور ماربل اور جُجاول، کھڈرا اور نیماس کی کھدائی پر آناً فاناً چھاپے ماری کر کے انہیں فوری بند کیا جانا اور رزاق کو کان مافیا مشتہر کرتے ہوئے جو پراسرار کارروائیاں تیزی سے ہورہی ہیں، وہ کہیں نہ کہیں یہی بتاتی ہیں کہ غیر قانونی کانکنی کے لئے بد نام ہوتی شیوراج سرکار الزاموں کے گھیرے سے نکلنے کے لئے رزاق معاملے کو کچھ زیادہ اچھالنے اور ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہوری بند تحصیل کے گائوں میں رزاق کی کانوں پر جن بدعنوانیوں کی وجہ سے ضلع انتظامیہ نے پابندی لگا دی ہے، کم و بیش وہی صورت حال اس تحصیل کی درجنوں ماربل کانوں میں ہیں اور برسوں سے ملتی شکایتوں پر کہیں کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ نیماس گرام کے کھسرا نمبر 220 کا معاملہ تو اپنے آپ میں تاریخی ہو چکا ہے کہ یہاں گزرے سالوں میں ’لینڈ ریکارڈ ہیڈ کوارٹر‘ گوالیر اور انڈین مائنرل بیورو سمیت سبھی متعلقہ محکموں کے درجن بھر افسروں کے کئی گروپ متعدد دَورَوں اور کئی کئی دنوں کی کوششوں کے بعد بھی صحیح پیمائش نہیں کر سکے۔یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے جو اس سلسلے میں آرڈر بھی جاری کر چکا ہے۔ ایسے میں نیماس سمیت قرب و جوار کے دیگر گائووں میں صرف رزاق کی کھدائی اچانک کس جادوئی کرشمے سے محض دو چار دنوں میں ناپ لی گئی، یہ کسی کی بھی سمجھ سے باہر ہے۔ رزاق معاملہ ایک طرف توغیر قانونی کھدائی کو تحفظ دینے کے الزاموں سے گھری شیو راج سرکار کو اپنے بچائو ، صفائی کا موقع دینے میں کام آرہا ہے ، وہیں دوسری طرف روہانی جیسے ابھرتے چیلنج کو راستے سے ہٹانے کے لئے بھی ۔ یہ بات الگ ہے کہ ایشور داس روہانی صرف اس وجہ سے پوری طرح پاک صاف ثابت نہیں ہو سکتے۔ ان کے تمام نامی ،بے نامی کاروباری تعلق جبل پور سے لے کر کٹنی تک اندیشوں اور سوالوں کے گھیرے میںہے۔ ہوسکتا ہے کہ رزاق کے ساتھ ان کے کاروباری شریک کانگریسی صدر کانتی لال بھوریہ کے الزام کی جانچ پڑتال ہونے پر کہیں نہ کہیں کوئی راز ہاتھ لگ جائے۔ اسی طرح رزاق اور سیمی جیسے ممنوعہ ادارے سے تعلق رکھنے، اسے مدد پہنچانے کے ملزم اور گزشتہ کئی برسوں سے فرار چل رہے سرتاج کو بھی محض ان اسباب سے کوئی کلین چٹ نہیں مل سکتی ۔ سارے معاملوں میں وہ کس حد تک گناہ گار یا بے گناہ ہے اور کس حد تک بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے، اس کا پتہ تو جانچ پڑتا ل کے بعد چلے گا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *