لاجواب اداکارہ اور کامیاب سیاستداں جیہ پردہ

آندھرا پردیش میں واقع راج منڈری کے ایک متوسط خاندان میں جیہ پردہ کی پیدائش ہوئی۔ ان کا نام للتا رانی رکھا گیا۔ ان کے والد کرشنا ایک تیلگو فلم فائنانسر تھے۔ ان کی والدہ نیلوانی نے انہیں کم عمر میں ہی رقص اور موسیقی کی تعلیم کے لئے اسکول بھیج دیا تھا۔ جب وہ 14سال کی تھیں، تب انھوں نے اپنے اسکول کی سالانہ تقریب میں رقص پیش کیا۔ اس تقریب کے ناظرین میں ایک فلم ڈائریکٹر بھی موجود تھے، جنھوں نے جیہ پردہ سے تیلگو فلم ’’بھومی کوسم ‘‘ میں تین منٹ کے لئے رقص پیش کرنے کی تجویز پیش کی۔جیہ پردہ یہ سن کر کچھ ہچکچائیں اور اپنے اہل خانہ سے مشورہ لینے لگیں،اہل خانہ نے ان کے اس مشورہ کی ستائش کی ۔ انہیں فلم میں اپنے کام کے لئے صرف 10روپے دئے گئے، جب فلم کا یہ تین منٹ کا حصہ تیلگو فلم صنعت کی اہم ہستیوں کو دکھایا گیا تو ان کے سامنے تجاویز کا سیلاب آ گیا۔ بڑے بڑے فلمسازوں نے ان کے سامنے اعلیٰ درجہ کی فلموں میں مختلف کرداروں کی پیشکش کی، جنہیں انھوں نے تسلیم کر لیا۔ 1976میں جیہ ہٹ فلموں کی تکڑی کے ساتھ، راتوں رات ایک بڑی اسٹار بن کر ابھریں۔ کے بال چندر کی انتولنی اسٹوری ، جس میں ان کے ڈرامائی ہنر کو سمیٹا گیا۔ کے وشوناتھ کی ’’سری سری موا‘‘جس میں انھوں نے شاندار رقاصہ کے طور پر ایک گونگی لڑکی کا کردار ادا کیا اور سیتا کے کردار میں بڑے بجٹ والی فلم ’’ سیتا کلیانم‘‘ جس نے ان کی اداکارانہ صلاحیت کی تصدیق کی۔1977میں انھوں نے اڈوی رامڈو میں ادا کاری کی، جس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دئے اورمستقل طور پر انہیں اسٹار کا درجہ دیا۔ جیہ پردہ اور معاون اداکار این ٹی راما رائو پر فلمایا گیا گانا ’’آرے سکوبوئی پارے سکوننانو‘‘ زبردست ہٹ ہوا۔ انھوں نے تیلگو فلموں سے باہر نکل کر تمل ، ملیالم اور کنڑ زبان کی فلموں میں بھی قسمت آزمائی اور ان سبھی زبانوں کی فلموں میں وہ کامیاب رہیں۔ کے وشوناتھ نے فلم ’’سری سری  موا‘‘(1976)کاریمیک ہندی میں’’ سرگم‘‘ نام سے بنا کر 1979میں جیہ پردہ کو بالی ووڈ سے متعارف کرایا ۔ فلم زبردست ہٹ ہوئی اور وہ راتوں رات یہاں بھی اسٹار بن گئیں۔ وہ بطور بہترین اداکارہ پہلی بار فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد کی گئیں لیکن اپنی کامیاب کو بھنا نہیں سکیں، کیونکہ وہ ہندی نہیں بول سکتی تھیں۔ اس کے تین سال بعد ہدایت کار کے وشوناتھ نے 1982کی ہٹ فلم ’’کام چور‘‘کے ذریعہ انہیں ہندی فلموں میں دوبارہ واپسی کرائی ، جہاں پہلی بار وہ فراٹے دار ہندی بولتی نظر آئیں۔ اس طرح وہ ہندی فلموں میں کام کرنے کی اہل بنیں اور پرکاش مہرا کی فلم ’’شرابی‘‘ میں امیتابھ بچن کی معشوقہ کے طور پر اور کے وشوناتھ کی 1985کی فلم ’’سنجوگ‘‘ میں اپنے ڈبل رول جیسے چیلنج بھرے کردار وںکے لئے انہیں دوبارفلم فیئر کے لئے نامزد کیا گیا۔ اپنے بالی ووڈ کے فلمی سفر کے ساتھ ، انھوں نے جنوب میں کے وشوناتھ کی تیلگو فلم ’’ساگر سنگم‘‘ جیسی قابل ستائش فلموں میں کام کرنا جاری رکھا۔ ان کے مداحوں میں نہ صر ف عام لوگ شامل ہیں بلکہ عظیم ہندوستانی ہدایت کار ستیہ جیت رے بھی شامل تھے، جنھوں نے کہا کہ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت خواتین میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے بنگالی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے، لیکن کبھی ستیہ جیت کے لئے کام نہیں کیا۔ حالانکہ انھوں نے کہا تھا کہ رے کی حسرت ان کے ساتھ فلم بنانے کی تھی،لیکن ان کی بیماری اور انتقال کے بعد یہ ممکن نہیں ہو پایا۔ جیہ پردہ نے نہ صرف امیتابھ بچن اور جتیندر کے ساتھ کامیاب جوڑی بنائی، بلکہ ان کی حریف سری دیوی کے ساتھ بھی انھوں نے تقریباً ایک درجن فلموں میں اداکاری کی ہے۔ تیلگو فلم ’’دیوتا‘‘ میں بھی انھوں نے دو بہنوں کا کردار ادا کیا ، جو ایک دوسرے کے لئے بڑی قربانی دیتی ہیں۔ 1984کی ہٹ فلم ’’تحفہ‘‘ اسی کی ریمیک ہے۔ ان فلموں نے جیہ پردہ کو روایتی اور قدامت پسند طبقہ کے شائقین کا چہیتا بنا دیا۔ یہ ایک ایسی شبیہ تھی، جو اس وقت اچھی طرح سے کام آئی، جب انھوں نے ایک سیاستداں کے طور پر اپنا کریئر شروع کیا۔ 2002میں انھوں نے فلم ’’آدھار‘‘ میں ایک مہمان کردارکے ذریعہ مراٹھی فلمی صنعت میں قدم رکھا۔ اب تک انھوں نے سات زبانوں کی فلموں میں کام کیا ہے اور اپنے 30سالہ لمبے فلمی کریئر کے دوران 300فلموں کو مکمل کیا ہے۔ 2004میں انھوں نے با اثر کردار ادا کرنے شروع کئے۔ وہ چنئی میں جیہ پردہ تھیٹر کی مالکن بھی ہیں۔1986میں انھوں نے فلمساز سری کانت ناہٹا سے شادی کی، جو پہلے سے ہی چندرا کے ساتھ شادی شدہ تھے، چندراکے ساتھ ان کے 3بچے بھی ہیں۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس شادی نے کافی تنازعات کو جنم دیا، خاص کر اس لئے کہ ناہٹا نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی اور ان کے ساتھ ، جیہ پردہ سے شادی کرنے کے بعد بھی بچے پیدا کئے۔ جیہ پردہ اور سری کانت کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ جیہ پردہ اور ان کے شوہر کی پہلی بیوی دونوں پیار محبت سے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے راضی ہیں۔ جیہ پردہ کو 1994 میں ان کے سابق ساتھی اداکار این ٹی راما رائو نے تیلگو دیشم پارٹی میں شامل کیا۔ بعد میں انھوں نے راما رائو سے ناطہ توڑ لیا اور پارٹی کے چندر بابو نائیڈو والے گروپ میں شامل ہو گئیں۔1996میں انہیں آندھرا پردیش کی نمائندگی کرنے کے لئے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا گیا ۔ پارٹی سربراہ چندر بابو نائیڈو کے ساتھ اختلافات کے سبب، انھوں نے ٹی ڈی پی کو چھوڑ دیا اور سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئیں اور 2004کے پارلیمانی الیکشن کے دوران رامپور پارلیمانی حلقہ سے انتخاب لڑ کر ممبر پارلیمنٹ بنیں۔ انہیں لوک سبھا الیکشن کی اتنخابی مہم کے دوران رامپور سوار علاقہ کی خواتین کو بندی تقسیم کے ذریعہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کے ذڑیعہ ایک نوٹس جاری بھی کیا گیا۔اس  کے علاوہ 11مئی 2009کو جیہ پردہ نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان نے ان کی فحش تصویریں تقسیم کی ہیں۔ وہ دوبارہ 30ہزار سے زائد ووٹوں سے جیتیں۔ فی الحال وہ رامپور سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں انہیں جتنی شہرت حاصل ہے، اتنی ہی جیہ نے اپنے فلمی کریئر میں بھی حاصل کی ہے۔ ان کے نام کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نامزدگیاں درج ہیں ان میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ(سائوتھ) 2007، بہترین اداکارہ  ’’سرگرم‘‘ (1979)، بہترین اداکاری شرابی (1984)، بہترین اداکارہ ’’سنجوگ‘‘(1985)، انتولینی اسٹوری کے لئے نندی بہترین اداکارہ ایوارڈ، کلا سرسوتی ایوارڈ، کنیر ساوتری ایوارڈ ، راجیو گاندھی ایوارڈ، نرگس دت گولڈ میڈل، شکنتلا کلا رتنم ایوارڈ، اتم کمار ایوارڈ اور دیگر شامل ہیں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *