کیا ہم موجودہ عدالتی نظام کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

انیس احمد
ہماری سیاسی جماعتیں سول سوسائٹی کی تنظیموںکے ساتھ بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کررہی ہیں۔ بدعنوانی سے نمٹنے کے لئے وہ جن  اقدام کی سفارش کررہی ہیں ان میںسخت قوانین وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط لوک پال کی تقرری بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ان اقدام سے اگربدعنوانی ختم نہیں ہوگی تو کم از کم اتنا تو ہوگا ہی کہ اس میں کچھ کمی آئے۔ اس ضمن میںجس  کو چیز لوک پا ل اور سخت قانون کے حمایتی  بھول رہے ہیں وہ یہہے کہ ہما را  انتطامی نظام اتنا موثر نہیں ہے کہ وہ سخت قانون کو نا فذ کرسکے، اور ساتھ میںہمارے عدالتی نظام میں بھی کئی سطح پر اپیل کی گنجائش ہے۔ مقدموں پر جتنی جلدی فیصلہ آنا چاہئے اتنی جلد ی فیصلے نہیں آتے۔ اگر کسی شخص کے اوپر کو ئی الزام عاید ہوتابھی ہے تو اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ضمانت ضرور مل جاتی ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں ہماری پولس فورس ، جس پر قانون کا نظام نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے  لئے بدنام ہے۔ جہاںتک ہماری عدلیہ کا تعلق ہے، یہاں اتنی سست رفتاری سے کام ہوتاہے کہمقدمے بغیر فیصلے کے سالوں سال چلتے رہتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں یہ انداز ہ لگانا مشکل نہیںہے کہ بدعنوانی کے خلاف وضع کئے گئے قوانین کا کیا حشرہوگا ۔ اگرنئے قوانین کا نفاذ ناقص بنیا د وں پر ہوگا تو  موجودہ صورت حال کا بدلنا مشکل ہوگا۔ عدلیہ کی مجرموں کو سزادینے میں ناکامی قانون کو غیر موثر بناتی ہے۔ بہت سارے معاملات میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ عدالت کسی شخص کو کسی مقدمے میں قصور وار پاتی ہے اور اسے سزا سناتی ہے، لیکن یہ سزا اس شخص کی طبعی زندگی ختم ہوجانے کے بعد آتی ہے۔
عدالتی کارروائی کو مکمل ہونے میںاتنا وقت لگ جاتا ہے کہ ملزم اپنی گناہوں کیسزا  پاپاتے ہیں۔زیادہ تر ملزمین کو یا تو سزا نہیں مل پاتی یا وہ اپنی عمر کے زیادہ حصے کوضمانت پر رہا ہوکرآزادانہ طورپر گزار دیتے ہیں۔ہندوستانی عدلیہ وقتاًفوقتاً اپنی فعالیت دکھاتی ہے لیکن ان میں زیادہ تر ہائی پروفائیل معاملے ہوتے ہیں۔عدلیہ نے بھی نہ تو عدالتی کارروائی میں تیزی لانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کئے ہیںاور نہ ہی ایک کے بعد ایک اپیل کی گنجائش کو ہی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تحقیقاتی ادارے بھی زیادہ تر معاملوں میں بہت لمبا وقت لیتے ہیں اور چارج شیٹ داخل کرنے میں اچھا خاصہ وقت لگ جاتا ہے۔ اگر ایسی صور ت میں ہم روزانہ ایک نئے گھوٹالے کی کہانی سنتے ہیں تو اس میں حیرانی کی کو ئی بات نہیں ہے۔
مختلف لاء کمیشنوں نے اپیلوں کی تعداد میں کمی کرنے کی سفارش کی ہے لیکن اس سمت میں بھی کوئی مناسب اقدام نہیں کئے گئے ہیں۔ملک کی تقریباً تمام عدالتوں میں زیر سماعت مقدموں کی بھرمار ہے۔ ان مقدموں کے فیصلوں کے متعلق کیا کہاجاسکتا ہے جبکہ ان کی ابتدائی سنوائی میں ہی سالوں لگ جائیں گے ۔حیرانی کی با ت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی ملک کی مختلف عدالتوں کیبقایا معاملوں کو نمٹانے کے لئے مناسب اقدام نہیں کئے ہیںاور اس پر طرہ یہ کہ ملک میںججوں کی بے شمار اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ملک کے اخباروں میں تحقیقاتی عمل  کی کوتاہی کے قصے اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔سب سے پہلے تو کسی کے خلاف کارروائی میں حکومت کی جانب سے منظوری ملنے میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں کے نتائج ایک ہی معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں جسکی وجہ سے معاملے کی تہ تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ برسراقتدار سیاسی جماعت ان تحقیقاتی اداروںکا غلط استعمال کرتی ہے۔ اب ایسے میں کوئی انصاف کی امید کس سے کرے۔
ہندوستانی عدالتی نظام دنیا کے سب سے اچھے عدالتی نظاموں میں سے ایک ہے۔لیکن یہ اچھائی عدالتی کارروائی کی سست رفتاری اور طوالت کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ ایک قدیم مقولہ کہ ’’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘۔ہمیںاس مقام پر جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے ایک فعال اور تیز رفتار عدالتی عمل کی ،جس کے ذریعہ بقایا مقدموںپرجلد از جلد سنوائی ہوسکے۔ یہ فعالیت فوجداری معاملوں میںاور بھی ضروری ہے کیونکہ اگر کوئی مجرم ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے تو سماج کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتاہے۔ ان اقد ام کو کرنے کے بعد ہی ہم بدعنوانی سے پاک سماج  کی تعمیر کرسکتے ہیں جہا ں ہر شخص  بغیر کسی خوف کے زندگی گزار سکے۔بیش  لوک پال کی تقرری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جوش کے ساتھ ہوش ضروری
سمیع احمد قریشی
سو سچ ہے کہ جوش میں ہوش کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ جب ہماری مسلمانوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں موجود ہوں تو یہ آواز بھی زیادہ ہوجاتی ہے کہ اُسے قائم رکھیں۔ آج جہاں چند سالوں سے مسلم قوم، پورے ملک ہی میں نہیں بین الاقوامی سطح پر تعلیمی میدان میں آگے جارہی ہے، جو آج کے دور میں انتہائی ضروری ہے۔ مسلمانوں کو تعلیمی سماجی ترقی کی جانب سے ہٹانے کے لیے، اک منظم سازش کے تحت ، تخریبی، غیر ضروری باتوں کی جانب اُلجھا کر اُن کا قیمتی وقت، روپیہ پیسہ برباد کرنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔ اُس کے باوجود یہ مسلمان ترقی کی جانب گامزن رہے گا۔ پھونکوں سے چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ مسلمانوں کی تعمیر و ترقی روکنے کے لیے، جہاں ہمارے ملک عزیز میں، اُسے بے قصور، بے گناہ ہونے کے باوجود بلا وجہ گرفتار کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب اُس کی شریعت کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ نعوذباللہ قرآن پاک اور ہمارے پیارے نبیؐ پر رکیک حملے ہورہے ہیں۔ نیز غیر ضروری باتوں پر اُکساکر سڑکوں پر اُتارنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ پولس کی لاٹھی و گولی کا شکار بنیں، گرفتار ہوں، جیل جائیں، پھر عدالتوں میں تو پھر اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ابھی ابھی حال ہی میں ہم نے سبرامنیم سوامی کی مذہبی دِل آزاری پر صبر سے کام لیا۔ ہم نے قانونی کارروائیوں پر دھیان دیا۔ جس کا نتیجہ یقینی طور پر ملا۔ ملعون سلمان رشدی  کی جے پور آمد پر، پورے ہندوستان میں صبرآمیز، جمہوری طریقہ سے احتجاجات کیے۔ اُسی کا نتیجہ تھا کہ وہ ملعون رشدی ہندوستان نہ آسکا۔ ہم نے اس ملک میں گزشتہ  چند سالوں سے دیکھا ہے کہ ہمارے پرامن احتجاجی جلوسوں پر پولس نے کس بربریت کا مظاہرہ کیا۔ جب ہمارے صوبہ کا وزیر داخلہ یہ کہے کہ پتھر کا جواب گولی ہے تو اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ پولس کیسی ہوگی۔ جب رات ہے ایسی متوالی تو صبح کا عالم کیا ہوگا۔ کسی دل آزار چاہے و ہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی حرکت، اس پر جمہوری طریقہ سے پرامن احتجاج  عوام کا دستوری حق ہے۔  اس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا۔ مگر ہم میں بھی کالی بھیڑیں ہیں جن کے باعث پوری مسلم قوم کی رسوائی ہوسکتی ہے۔ یہ ’کالی بھیڑیں‘ کہیں ہمارے جلوس میں اسامہ بن لادن کی تصویریں اُٹھائی ہوئی ہوتی ہیں تو کہیں ’ہم سے جو ٹکرائے گا مٹی میں مل جائے گا‘ کے علاوہ مسلکی وغیر مسلکی دل  آزار نعرے لگاتے ہیں۔ قاعدے و قانون کو بالائے طاق رکھ کر، بلاضرورت جلوس و جلسے کرتے ہیں۔ پھر ہماری پریشانیاں بڑھتی ہیں۔جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں۔ مالیگائوں و ممبئی کے مسلمانوں کو مسلمانوں کے جلوسوں کے ساتھ، پولس کی بربریت کا اندازہ بخوبی ہوگا۔ مضمون ہٰذا لکھنے کا مقصد ہرگز مسلمانوں کو ڈرانا یا خوف دلانا ہرگز نہیں ہے۔ ہم نے تو بے قصوروں، بے گناہوں چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان سب کے حق میں لڑائی لڑی ہے، لڑرہے ہیں۔ کسی کا خوف و ڈر نہیں۔ ہم صاف ایمان ہیں۔ صرف خدا سے ڈرتے ہیں۔ ہم نے اُن ماں باپ کو دیکھا ہے جن کی اولادیں جلوس میں گئیں اور پھر واپس نہ آئیں۔ ہم نے اُن تاریخ ساز جلوس کو دیکھا ہے جو انتہائی پرامن رہے۔ شرکاء جلوس کے لحاظ سے تاریخی بن گئے۔ جیسے 1969میں مسجد اقصیٰ کے معاملہ میں مسلمانان ممبئی کا تاریخی جلوس جس کا کریڈٹ قائدین مسلم اور علمائے دین کو ہی دیا جائے گا۔ جنہوں نے انتہائی عمدہ و معیاری قیادت کی بناء پر تاریخی پرامن شاندار جلوس نکالا جو ممبئی ہی نہیں دُنیا کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
آج مسلمانوں میں قوم کا نام لینے والے لیڈروں کی کمی نہیں۔ اس کا فیصلہ جلد بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کون صدق دِل سے لیڈر ہے۔ احتجاج کس طرح معیاری بنے، جانتے نہیں۔ جوش میں ہوش کیا ہوتا ہے جاننے سے دور ہیں۔ ان کے لیے جذبات بھڑکاکر، مسلمانوں کو سڑکوں پر اُتارنا آتا ہے۔ مگر کنٹرول کرنا نہیں آتا۔ عام مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ جلوس کے نام پر بھی خوبصورت ’’سیاست‘‘ ہوتی ہے اور آخر جمعہ کا دن ہی جلوس کے لیے کیوں؟ اس پر بھی سوچنا سمجھنا ضروری ہے۔ صرف نام نہاد شہرت کے لیے ایک کے بعد ایک موضوع کو صرف نام نہاد سستی شہرت کے لیے تلاش کرتے رہنا یہ سراسر عقلی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ جو نام نہاد لیڈران، آئے دن کرتے آئے ہیں، کاش کہ وہ ہوش کے ناخُن لیں۔ دراصل مسائل کے تدارک کے لیے لمبی جدوجہد کرنی ہوتی ہے۔ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ آج بھی ممبئی اور پورے ملک میں سنجیدہ دانشوران قوم و علماء کرام کی کمی نہیں جو انتہائی سنجیدگی و متانت کے ساتھ ، انتہائی جانفشانی سے قوم ملک و ملت کے لیے کارخیر کررہے ہیں۔ وہ بھی متواتر سالہا سال سے۔ الغرض مختصر یہ کہ جائز مطالبات کے لیے، جمہوریت نے پرامن تحریک کا حق دیا ہے۔ مگر اس حق کے نام پر مسلمانوں میں گھسی کالی بھیڑیں، پولس میں گھسی کالی بھیڑیں، ہم مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ خونی کھلواڑ نہ کریں۔ اس کا سدباب ضروری ہے۔    g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *