کیا اب بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلیں گی؟

محفوظ الرحمٰن
اسرائیلی سفارت خانہ پر ہوئے بم دھماکے کے الزام میں دلی کے مشہور صحافی اور دور درشن سے بیس سال سے وابستہ محمد احمد کاظمی کو گرفتار کیا گیا ۔اس سے قبل ممبئی میں صحافی دانش ریاض کو لوکل ٹرین بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بعد میں کوئی ثبوت نہ ملنے پر ضمانت پر رہا کیا گیا۔حج کمیٹی کے امام غلامیحییٰ ،ڈاکٹر سلمان فارسی ،ڈاکٹر فروغ مخدومی ،ڈاکٹر متین ،ڈاکٹر تنویر انصاری ،دوروپے لیکر استری کرنے والا معمولی انسان مجاہد لانڈری والا ،اردو کاتب بلال،پبلشر نجیب بقالی ،رامپور میں فوجی ٹھکانے پر حملے کے الزام میں سائیکل کا پنکچر بنانے والے معمولی مسلمان کو گرفتار کیا گیا ۔

پورے ملک میں حالات ایسے بنادئے گئے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیاں کسی کو کبھی بھی گرفتار کر سکتی ہیں ۔تفتیش کے نام پر ہراساں اور بے قصور لوگوں لوگوں کو گرفتار کرکے ٹارچر کرکے جیلوں میں ٹھونس سکتی ہیں ۔ وہ ایسے ایسے الزامات اور دفعات لگادیتی ہیں کہ بعد میں ثبوت نہ ملنے پر عدالت سے بری بھی ہو جائے تو اس بے قصور کی زندگی کے کئی سال برباد اور اس کے گھر والوں کا مستقبل برباد ہوجائے۔گویا پورا بھارت پولس اسٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور اگر کوئی پوچھے بھی تو وزیر اعظم زیادہ سے زیادہ افسوس کا اظہار کرکے دامن بچالیتے ہیں ۔

اسی طرح انجینئر خواجہ یونس کو لاک اپ میں اور عشرت جہاں کو اغواء کر عصمت دری کرنے کے بعد گجرات کی سرحد پر قتل کر ڈالا گیا ۔غور سے ان واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حکومت تفتیشی اداروں کے ذریعے بے قصور مسلمانوں کو گرفتار اور ہلاک کرکے اور میڈیا کے ذریعے مشتہر کرکے ساری دنیا کو یہ ثابت کر نا چاہتی ہے کہ مسلمانوں کی ایک قوم ایسی ہے کہ اس کا پیش امام ،ڈاکٹر ،انجیئنر،صحافی،پبلشر ،مزدور اور کالج کے طلباء تک ہر کوئی دہشت گرد ہے۔یعنی پوری قوم ہی دہشت گرد ہے ۔ممبرا ،میرا روڈ ،اورنگ آباد،اعظم گڑھ ،جامعہ نگر،دربھنگہ،حیدرآبادکے مسلم محلے ،کرناٹک کا بھٹکل ،گجرات کا جوہا پورااور کالو پور جیسے سبھی مسلم اکثریتی علاقے دہشت گردی کے اڈے ہیں ۔گجرات میں تو روتے بلکتے ،زخموں سے کراہتے مسلمانوں کے ریلیف کیمپ کو بھی مودی نے دہشت گردوں کا اڈہ کہا دیا ۔پھر ان کا طریق کار دیکھئے کہ ممبئی ٹرین بم دھماکے کی تفتیش کے دوران گرفتار شدگان سے سوالات کئے گئے کہ ان کے گھر میں اردو کتابیں کیوں ہیں اور وہ اردو اخبار کیوں پڑھتے ہیں آخر اس میں ایسا کیا چھپتا ہے ؟گرفتاریوں کے فرضی ہونے کے لئے سب سے بڑا ثبوت تو یہی ہے کہ لوکل ٹرین بم دھماکوں میں گوونڈی سے گرفتار محمد علی شیخ تو گوونڈی پولس کا خاص مخبر تھا اور جس کا روزانہ پولس اسٹیشن میں برسوں سے آنا جانا تھا ۔بلی کے بکروں میں اسے بھی شامل کرلیا گیا ۔
پورے ملک میں حالات ایسے بنادئے گئے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیاں کسی کو کبھی بھی گرفتار کر سکتی ہیں ۔تفتیش کے نام پر ہراساں اور بے قصور لوگوں لوگوں کو گرفتار کرکے ٹارچر کرکے جیلوں میں ٹھونس سکتی ہیں ۔ وہ ایسے ایسے الزامات اور دفعات لگادیتی ہیں کہ بعد میں ثبوت نہ ملنے پر عدالت سے بری بھی ہو جائے تو اس بے قصور کی زندگی کے کئی سال برباد اور اس کے گھر والوں کا مستقبل برباد ہوجائے۔گویا پورا بھارت پولس اسٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور اگر کوئی پوچھے بھی تو وزیر اعظم زیادہ سے زیادہ افسوس کا اظہار کرکے دامن بچالیتے ہیں ۔دوسری طرف ہم اس حکومتی دہشت گردی کے خلاف اپنے سیاسی لیڈروں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ،مگر مسلمانوں کے ووٹوں سے اپنی سیاسی دکان چمکانے والے اور انتخابی جلسوں میں ان کے لئے سولی پر چڑھ جانے کا منافقانہ دعویٰ کرنے والے گرفتار شدگان کے گھر والوں کی بھی خبر نہیں لیتے ۔امداد تو بہت دور کی بات ہے زبانی ہمدردی کے بھی روادار نہیں ہوتے ۔ابھی حال ہی میں بہار کے دربھنگہ میں ہونے والی گرفتاریوں کی فریاد لیکر جب وہاں کے مسلمانوں کا ایک وفد ایم پی اور مرکزی وزیر داخلہ برائے مملکت رہ چکے ڈاکٹر شکیل احمد کے پاس گیا تو الٹا انہوں نے وفد سے ہی سوال کیا کہ آپ کے پاس آخر ان کی بے گناہی کا کیا ثبوت ہے ۔انہوں نے وفد کے سامنے ہی اس معاملے میں کسی بھی طرح کا تعاون کرنے سے یہ کہکر منع کردیا کہ اس وقت ملک کے حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ اگر وہ کچھ کرتے ہیں تو ان پر ملک مخالف اور غدار ہونے کا الزام لگ سکتا ہے۔(قومی تنظیم،پٹنہ یکم مارچ صفحہ5)اسی طرح 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین بم بلاسٹ میں گرفتار ایک مسلم نوجوان کے گھر والے جب ایک مسلم ایم ایل اے سے ملنے گئے تو اس نے انہیں معمولی سا دلاسہ تو دور رہا بلکہ آئندہ ان سے اپنے آفس  میں کبھی نہ آنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات اگر میڈیا میں آئے گی اور میری پارٹی کے اندر اور باہر کے مخالفین نے اسے موضوع بنالیا تو میرا سیاسی کریئر ہی ختم ہوجائے گا ۔جب قوم کی رہنمائی کا دعویٰ کرنے والے ہی قوم کے تئیں ایسا رویہ رکھیں گے تو بھلا دشمن انہیں کیوں نہ لقمہ تر سمجھیں گے؟پولس اور تفتیشی ایجنسیاں بے قصور مسلمانوں کو گرفتار کررہی ہیں ،میڈیا اپنی طرف سے الگ الگ کہانیاںگھڑ گھڑ کر انہیں بدنام اور انکے گھر والوں کا باہر نکلنا مشکل کر رہا ہے۔ان کا کمانے والا گرفتار ہو گیا اور اوپر سے قوم کے رہنماء اور لیڈر اپنے دروازے ان کے لئے بند کر رہے ہیں تو بھلا بتائیے کہ وہ کہاں جائیں کیا کریں ،اپنے اور پرائے میں کیا فرق رہ گیا ۔
یہاں میں پورے ملک میں مسلک بازی کرنے والے علماء اور تنظیموں اور عام مسلمانوں کے لئے بطور عبرت یہ بھی تحریر کردوں کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مولانا غلامیحییٰ (دیوبندی)ڈاکٹر سلمان فارسی (اہل حدیث)اور ضمیر شیخ (بریلوی)مسلک کے ہیں اور اس کے ستر سالہ ضعیف والد ممبئی سینٹرل کی فٹ پاتھ پر چابی بناکر کسی طرح خاندان کی کفالت کر رہے ہیں اور ابھی حال ہی میں گرفتار صحافی محمد احمد کاظمی (شیعہ )ہیں ۔کیا اب بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلیں گی بقیہ مسلمانوں کو گرفتار کرنے کے لئے لشکر طیبہ کا بہانہ تھا تو اب شیعہ مسلمانوں کو اسرائیل کا دشمن ہونے اور ایران کا ایجنٹ بتاکر گرفتار کرنے کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے۔یہاں میں نے جان بو جھکر حکومتی دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے مختلف مسالک کو ظاہر کیا ہے۔وجہ ہے کہ اس بد نصیب قوم میں ایسے میر جعفروں اور میر صادقوں کی کمی نہیں جنہوں نے گرفتار شدگان سے ہمدردی کرنے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کے بجائے مرادآباد سے لیکر ممبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ تک یہ بیہودگی پھیلائی کہ دہشت گردی میں فلاں فلاں مسلک کے ہی لوگ ملوث ہیں ،ہم تو اس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جو صلح کل پر یقین رکھتے ہیں ۔ ساراکھیل مسلمانوں کو خوف نفسیات اور یاسیت میں مبتلا کرنے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے اور ترقی کی بجائے انہیں اسی میں  الجھائے رکھنے کے لئے کھیلا جارہا ہے۔جس میں حکومت بھی برابر کی شریک ہے ۔حکومت کو یہ کہہ کر بری کردینا کہ یہ سب اینٹی مسلم بیوروکریسی کا کھیل ہے صحیح نہیں ہے کچھ معاملے میں تو ایسا کہہ سکتے ہیں لیکن اس طرح تسلسل سے ہونے والی ظلم و زیادتی بغیر حکومت کی سر پرستی کے ہو ہی نہیں سکتی ۔کاظمی کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو میڈیا کی اپنی کسمپرسی کے باوجود حق گوئی و بے باکی حکومت کو بری طرح کھٹک رہی ہے ۔اس آواز کو وہ اگر خاموش نہیں کر سکتی تو نیست و نابود ہی کر ڈالا جائے یہی کچھ اس جمہوری حکومت کا منصوبہ ہے۔اگر گجرات میں ایک عورت تیستا سیتلواد مودی جیسے سفاک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے تو کیا ساری مسلم تنظیمیں متحد ہوکر عملی اقدام نہیں کر سکتیں ۔کیا ہمارے رہنمائوں کے اندر ایک عورت جتنا بھی حوصلہ و ہمت بھی نہیں ہے؟ وکلاء کا پلیٹ فارم بنایا جائے اور بے قصور گرفتار کرنے یا انکائونٹر میں مسلم نوجوانوں کا قتل کرنے والے پولس وتفتیشی ایجنسی کے افسر ان کو جیلوں تک پہنچاکر انہیں انکے مجرمانہ اقدام کی قرار واقعی سزا دلائیں ۔سیاسی پارٹیوں کو اپنا مسلم انتخابی منشور دیں اور صاف کہہ دیں اگر وہ بے قصور مسلمانوں کی گرفتاریاں بند ہونے اور تحفظ کے ساتھ ہی ترقی کا وعدہ کرتی ہیں تو ہی انہیں ہم سے ووٹ مانگنے کا حق ہوگا ۔ورنہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ سیاستدانوں کے آگے نہیں جھکیں گے اور نہ ہی انکے جھوٹے جھانسے میں آئیں گے ۔بلکہ انہیں متحد ہو کر اپنی سیاسی طاقت دکھائیں جیسا کہ آپ نے اتر پردیش میں کیااور مطالبات ماننے کے لئے مجبور کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *