چین میں آ رہا ہے اسلامی تہذیب کا انقلاب

وسیم احمد
دنیا بھر میںاسلامی تہذیب میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔خاص طور پرنائن الیون کے بعد جب یوروپی ممالک میں کچھ شر پسند عناصر کی طرف سے اسلام کو بد نام کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں تب سے لوگوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کو جاننے کا شوق بڑھا ہے ۔اس کی مثال ہے چین، جہاں مسلم تہذیب کو قریب سے جاننے کے لئے نوجوان نہ صرف مساجد اور اسلامی اداروں میں کثرت سے جانے لگے ہیں بلکہ ایسے چینلوں کو کثرت سے دیکھتے ہیں جس میں اسلامی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔لوگوں میں بڑھتے اس رجحان کو دیکھ کر چین کی ایک نیوز ایجنسی’’ شینخوا‘‘ نے ’’Chinese space station ‘‘قائم کیا ہے۔چونکہ مذہب اسلام کی بنیادی کتابیں یعنی قرآن و حدیث عربی میں ہیں لہٰذا اس ایجنسی نے مستقل ایک عربی شعبہ قائم کیا ہے اور چینیوں کو عربی میںدلچسپی پیدا کرنے کے لئے اس چینل کے ذریعہ عربی زبان میں خبریں نشر کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ابتدا میں ایسا محسوس کیا جارہا تھا کہ ایجنسی کا یہ فیصلہ عارضی ثابت ہوگا اور کچھ دنوں میں ہی بند کرنا ہو گا مگر چین کے لوگوں کی عربی زبان اور اسلامی تہذیب و ثقافت میں بڑھتی دلچسپی کو دیکھ کر اب اس ایجنسی کو عربی سروسزمیں توسیع کرنی پڑ رہی ہے۔ایجنسی کا ماننا ہے کہ چین کے لوگ اسلامی تہذیب میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں لہٰذا عربی سروسز کو بڑھا ناوقت کا تقاضہ ہے۔
چین کی قوم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی تہذیبی روایت کوکسی بھی حالت میں ترک نہیں کرتی ہے،بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تہذیبی رنگ میں دوسروں کو بھی رنگ دے۔مگر اسلامی تہذیب میں ایسی کشش اور معنویت ہے کہ چین کے لوگ اس تہذیب کو سمجھنے اور عربی زبان کو سیکھنے پر مجبور ہیں۔چینی عوام کی اس رغبت کو دیکھتے ہوئے وہاںکی حکومت اسلامی ملکوں سے روابط بڑھا رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ اسلامی و عربی تہذیب کو سمجھنے ،پرکھنے اور اس کی شفافیت کو جاننے کا موقع ملے ۔چنانچہ عوامی ربط میں اضافہ کے لئے چینی سرکار نے ترکی کے ساتھ تعلیمی و ثقافتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ چین یہ چاہتا ہے کہ اب عربی و چینی نوجوان ایک دوسرے کے معاشرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی زبان کوسمجھ کر قریب ہوں۔اپنی تہذیب سے عربوں کو متعارف کرانے کے لئے چین کا ایک مشہور ادارہ ’’ کنفیوشش‘‘ خلیج کے کئی ملکوں میں عربی نوجوانوں کو چینی زبان سکھانے کے لئے عرب اور دیگر ملکوں میںبرانچیز کھول رہا ہے۔ تاکہ عربی و دیگر مذاہب کے نوجوان چینی تہذیب کو سمجھیں اور چینی نوجوانوں کو علاقائی (چینی زبان) زبان میں عربی تہذیب و ثقافت کے بارے میں بتائیں۔ اس وقت چین میں مسلمان کی بڑی آبادی ہے۔ سی آئی اے ورلڈ فیس بک کے ایک سروے کے مطابق چین میںمسلم آبادی کل آبادی کی 1-2 فیصد ہے۔امریکہ قومی ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے مطابق وہاں مسلمانوں کی تعداد 1.5 ہے جبکہ حالیہ مردم شماری میں مسلمانوں کی آبادی 20 ملین بتائی جاتی ہے۔چینی حکومت نے جو مردم شماری کرائی ہے اس میں مسلمانوں کی کل تعداد 21667000 بتائی گئی ہے اور وہاں نئی و پرانی تقریبا ً 35 ہزار مسجدیں ہیں۔نوجوان قرآن پڑھنا نہ صرف سیکھتے ہیں بلکہ قرآن کی خطاطی میں بھی ان کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ابھی حال ہی میں عربی کیلی گرافی کا جوعالمی مقابلہ ہوا ہے اس میں چین کا ایک نوجوان Chen Kun نے امتیازی نمبر حاصل کیے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اب چینی نوجوانوںمیں اسلامی مذہبی کتابوں کو پڑھنے کا شوق تیزی سے بڑھ رہاہے۔ یہ نوجوان وہاں کی مسجدوں میں پابندی سے جاتے ہیں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو سیکھتے ہیں۔ چینل نے سب سے پہلے انگریزی سائٹ کھولی تھی ۔ اس وقت اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عوام کی طرف سے عربی سائٹ کھولنے کے لئے اتنے مطالبے ہوں گے ۔بڑھتے مطالبے کو دیکھ کر ایجنسی نے محسوس کیا کہ اس زبان اور اسلامی تہذیب کو جاننے و سمجھنے کا شوق لوگوں میں بہت زیادہ ہے چنانچہ دیگر زبانوں سے پہلے عربی سائٹ کھولی ۔چینی نوجوانوں میں عربی و اسلامی ثقافت کے تئیں بڑھتی رغبت کی وجہ سے ہی کئی اداروں نے عربی فن خطاطی ، عربی زبان سکھانے کا اہتمام اور عربی کو مقامی زبان میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔یہ ادارے طالب علموں کو نہ صرف فصیح زبان سکھاتے ہیں بلکہ خلیج میں بولی جانے والی مقامی زبان کی بھی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ طلباء اسلامی زبان کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں اور اس کے طرزِ زندگی سے واقف ہوسکیں۔ ایجنسی نے اپنے ایک پروگرام میں بتایا ہے کہ بچوں کو ایسے عربی مفردات خاص طور پر سکھائے جاتے ہیں جو کثرت کے ساتھ دوسری زبانوں میں استعمال ہورہے ہیں ،خاص طور پر اردو، ترکی، ایرانی، برتگالی، اسپینی اور یونانی زبانوں میں استعمال ہونے والے مفردات کے بارے میں انہیں بتایا جاتاہے۔ چینل نہ صرف عربی میں پروگرام پیش کرتا ہے بلکہ وہ لوگوں کو عربی سیکھنے کے لئے ایسے اداروں کے بارے میں بھی بتاتا ہے، جن اداروں کو لوگ عام طور پر نہیں جانتے ہیں ۔خاص طور پر جو ادارے عرب ممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں،ایسے اداروں کے بارے میں رہنمائی کی جاتی ہے ۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ چین کے نوجوان اگر ان ممالک میں رہتے ہیں تو وہ ان اداروں میں جاکر عربی سیکھ سکیں اور ان کی تہذیب کو سمجھ سکیں۔ اس چینل میں عربی زبان اور اسلامی تہذیب کے تعلق سے مضامین اور مقالے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔چینل کا عربی و اسلامی تہذیبی روایت کو اہتمام کے ساتھ پیش کرنے سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ چین کے لوگ اسلامی تہذیب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
چین میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہے ۔ ان میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جن کا رہن سہن خالص عربی طرز معاشرت پرہے ۔ظاہر ہے ان کا یہ طرز دوسرے چینیوں کو متاثر کررہا ہے ۔ چینیوں کے اس انداز زندگی کو دیکھ کر حکومت نے عربی زبان و ادب اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو ملک میں مزید مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔تاکہ جو لوگ عربی ثقافت کو جاننا چاہیں وہ آسانی کے ساتھ جان سکتے ہیں۔
2011میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اکتوبر میں ایک منصوبہ بنایا تھا کہ تہذیب و ثقافت کو پوری دنیا میں باہمی تبادلے کے لئے وسیع پیمانے پر کام کیا جائے، تاکہ دیگر مذاہب کی تہذیب و ثقافت سے استفادہ کیا جاسکے۔ چنانچہ مشہور عربی اسکالر ’’وانگ یو یونگ‘‘جو ’شنگائی یونیورسٹی‘ میں عربی کے استاد ہیں، کے مطابق ۔اس قرار داد نے نہ صرف حکومت کو بلکہ عوام کو ایک سنہرہ موقع دیا ہے کہ وہ باہمی تہذیب کا تبادلہ کریں اور اپنی تہذیب سے دوسروں کو آشنا کرائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ عالم عرب چین کے ساتھ اپنے روابط بڑھائے اور اسلامی تہذیب کو چینی عوام تک پہنچانے کے لئے تاریخی قدم اٹھائے۔ان کا کہنا ہے کہ مذہب اسلام نے جو تہذیب دنیا کو دی ہے یہ ایک عالمی تہذیب ہے، جو ہر سماج اور معاشرے کے مزاج سے میل کھاتی ہے لہٰذا خلیجی ممالک کو اس موقع کو غنیمت جان کر اپنی صنعتی ، ثقافتی،معاشرتی اور معیشتی روایت کو ان تک پہنچانی چاہئے‘‘۔ اس سلسلے میںچین کی متعدد این جی اوز مسلسل کوششیں کرہی ہیں اور دونوں ملک کے عوام کو ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھنے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔خاص طور پر چین کی کئی کوآپریشن فورم نے اس طرف مثبت قدم اٹھایا ہے۔ترجمہ کا کام ، تہذیبی و ثقافتی تبادلے، تقریری مشق میں بڑے پیمانے پرکام ہورہے ہیں ۔ مگر چین کے عوام اب بھی مطمئن نہیں ہیں ۔وہ یہ چاہتے ہیںکہ اس میدان میں مزید توسیع ہو اور عرب و چین کے تہذیبی تبادلے کے کام میں تیزی آئے۔ اس لئے موقع بموقع فنکشنوں اور ادبی تقریبوں میں اسلامی اسکالروں کو مدعو کیا جارہا ہے اور اسکولوں میں عربی اساتذہ کی بحالی کی جا رہی ہے۔خاص طور پر جو اسکول مسلم علاقوں میں ہیں، وہاں پرائیویٹ اسکولوں میں خاص طور پر عربی اساتذہ کو بحال کیا جاتا ہے تاکہ بچے عربی علم و ہنر اور اسلامی تہذیب سے آشنا ہوسکیں
چینی عوام جس طرح سے عربی و اسلامی تہذیبی روایت کو سمجھنے کے لئے کوشش کررہے ہیں، اسے دیکھ کر ایسا لگنے لگا ہے کہ جس طرح سے چین دنیا میں اقتصادی میدان میں منفرد مقام رکھتا ہے، اسی طرح تہذیبی میدان میں بھی ایک نیا انقلاب ایک نئی روایت اور نئی شناخت کے ساتھ دنیا میں خود کو متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دراصل چین کا یہ مزاج رہا ہے کہ ہر وہ چیز جس میں اسے نفع نظر آئے، اپنا لیتا ہے۔ چاہے وہ صنعتی میدان ہو یا معاشی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس نے امریکہ جیسے سپر پاور ملک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب اسے احسا س ہونے لگا ہے کہ اگر اسلامی تہذیب اس کے معاشرے میں شامل ہوجائے تو اقتصادیات کی طرح تہذیب و ثقافت میں بھی وہ دنیا کا منفرد ملک بن سکتا ہے ۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *