انسانیت کے علمبردار حضرت شاہ محمد آفاق دہلویؒ

بزرگان دین کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ ان کے اقوال و اعمال تحریر کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی طرح اللہ کی بندگی کریں اور انسانی تخلیق کا جو مقصد ہے جس کو اللہ نے اپنے پاک کلام میں یوں کہا ہے کہ ’’ ہم نے انسان و جنات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے زندگی کے ہر پل کو وقف کردیں۔ ایسے بزرگان دین جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی اصلاح اور رب کی عبادت و ریاضت میں گزار دی، حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی  کی ذات  گرامی بھی شامل ہے جن کی زندگی کو اپنا کر ہم نہ صرف انسانیت کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں بلکہ خود اپنے لئے آخرت  میں ایک  بڑا توشہ تیار کرسکتے ہیں۔ حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی کا نام محمد آفاق ہے ۔ ان کی پیدائش 1160 ھ میں ہوئی۔بچپن سے ہی آپ کی سوچ عام بچوں سے الگ تھلگ تھی۔ دنیا سے بے رغبتی اور انسانی ہمدردی کا عنصر آپ کے مزاج پر غالب تھا۔آپ اپنی ریاضت میں جِلا پیدا کرنے کے لئے  خواجہ ضیاء اللہ نقشبندی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے اور ریاضات و مجاہدات کے درجۂ کمال کو پہنچے۔
ایک مرتبہ آپ افغانستان تشریف لے گئے۔ وہاں کے لوگ آپ کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ عام تو عام، خواص یہاں تک کہ افغانستان کا بادشاہ ’زماں شاہ‘ بھی آپ کا مرید ہوگیا۔آپ کی بزرگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت شاہ غلام علی اپنے کچھ مریدوں کو تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپ کی خدمت میں بھیجا کرتے تھے۔ ان طلباء کی تعلیم اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی ،جب تک کہ وہ آپ کی خدمت میں حاضری نہیں دیتے اور آپ سے فیضیات نہیں ہوتے ۔جب آپ ان کو مکمل کہہ دیتے تو ان کی تعلیم مکمل سمجھی جاتی۔آپ افغانستان میں عرصہ تک دین کا چراغ روشن کرنے کے بعد واپس دہلی آئے اور یہاں رشد و ہدایت کی شمع جلائے رکھا۔ ابھی کچھ سال ہی یہاں گزارا تھا کہ داعی اجل نے آپ کو پکارا اور آپ  1251 ہجری میں جوارِ رحمت میں چلے گئے۔ آپ کو دہلی میںدفنایا گیا ۔آپ کی موت نے اہل دہلی اور مریدین کو بڑا صدمہ پہنچایا ۔خاص طور پر آپ کے خلفاء حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی اور حضرت مولانا نصیر الدین کو آپ کی وفات کا گہراصدمہ پہنچا مگر موت کی حقیقت کے سامنے سب کو سرجھکانا ہی پڑتا ہے۔
حضرت آفاق دہلوی  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صاحب جذب بزرگ تھے۔ہمہ وقت مستغرق رہتے تھے۔ فقر، توکل، قناعت، زہد و ورع، عبادت، ریاضات و مجاہدات اورتقویٰ میں آپ کا رتبہ بہت بلند تھا۔آپ کی ذات گرامی  اسلامی شان کا نمونہ تھی اور صاحب کرامات بزرگ تھے۔آپ کی ایک نظر کرم  سے ایسا آدمی جو شعرو شاعری کے ابجد سے ناواقف تھا ایک بہترین شاعر بن گیا۔ حافظ اشرف صاحب شاعر نہ تھے ۔ ایک روز آپ نے اپنی ٹوپی ان کے سر پر رکھ دی۔ اسی روز سے وہ ایک اچھے شاعر ہوگئے۔ضرورت مندوں کی ضرورتیں منٹوں میں پوری کردیتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دہلی سے اپنی والدہ کو پانچ روپے بھیجنا چاہتے تھے۔ آپ نے ان سے روپے  لے لیااور فرمایا کہ بھیج دیے جائیں گے۔اس کے بعد آپ نے حضرت مولانا سے فرمایاکہ ان کے روپے ان کی والدہ کے پاس پہنچ گئے ۔حضرت مولانا سوچ میں پڑگئے کہ روپے کس طرح بھیجے گئے جبکہ اس زمانے میں نہ تو اسپیڈ پوسٹ کا انتظام تھا اور نہ ہی  الکٹرانک کا کوئی  بندوست ۔ ہرکارہ کے ذریعہ خطوط یا پیسے بھیجے جاتے تھے۔لیکن انہیں اس بات کا یقین بھی تھا کہ حضرت نے جب کہہ دیا ہے کہ پیسے بھیجے جاچکے  ہیں تو یقینی طور پر پیسے میری ماں کو مل گئے ہوں گے لیکن یہ سوال ان کے ذہن میں باقی رہا کہ آخر انہوں نے اتنے کم وقت میں پیسے بھیجے تو کیسے؟کچھ دنوں کے بعد جب حضرت مولانا صاحب والدہ سے ملنے گئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ اسی رات کو حضرت شاہ  آفاق صاحب ؒ نے دروازے پر پکار کر وہ روپے آپ کی والدہ کو دیے اور ان کے بیٹے کی خیرت سے ان کو مطلع فرمایا۔ حضرت شاہ آفاق دہلوی کا ماننا تھا کہ انسان کو دنیا کے پیچھے اتنا نہیں بھاگنا چاہئے جس سے خدا کی عبادت میں خلل پڑے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا اتنی ہی ملتی ہے جتنی مقدر کی گئی ہے ۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہم سب عزیز و اقربا ، دوست و آشنا کو چاہتے ہیں کہ کچھ بن جائیں ،لیکن ہمارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ،ہوتا وہی ہے جس کو خدا چاہتا ہے ،وہ جب کچھ کرنا چاہتا ہے یا کسی کو بنانا چاہتا ہے تو فرماتا ہے ’’ کن‘‘ اور وہ ہوجاتاہے۔اگر انسان میں صلاحیت ہو تو تھوڑی محنت سے  بہت کچھ پا سکتا ہے  البتہ جس میں صلاحیت نہ ہو وہ بنجر زمین کی طرح ہے جس میں جتنے بیج بوئے جائیں فصل پیدا نہیں ہوسکتی۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے ’’ ایک توجہ میں سب مقامات طے ہوسکتے ہیں، لیکن مرید میں استعداد ہونی چاہئے‘‘ ۔ مذہب کی اصل کسوٹی قرآن و حدیث ہے۔ جو اقوال قرآن و حدیث کے مطابق ہوں وہ حق ہیں اور جو ان کے خلاف ہوں ،چاہے کہنے والا کوئی بھی ہو وہ غلط ہے چنانچہ آپ کا قول مشہور ہے  ’’ غوث ہو یا قطب جو خلافِ شرع کرے کچھ بھی نہیں‘‘۔مطلب یہی تھا کہ قرآن و حدیث کے خلاف کہنے والا کوئی بھی وہ ،وہ باتیں مردود ہیں۔حضرت شاہ آفاق ؒ کا یہ قول ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو تعویذ گنڈے کرنے والوں کی باتوں میں آکر بسا اوقات غیر شرعی کام کرنے لگتے ہیں۔ عمل وہی مقبول ہے جو شریعت کے مطابق ہو۔اگر عمل اسلام کے خلاف ہو تو کہنے والا کوئی بھی ہو قبول نہیں کیا جاسکتا۔     g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *