انفارمیشن کمیشن اور بابو

دلیپ چیرین
سماجی کارکنوںکی مخالفت کے باوجود سبکدوش بابوؤںکو انفارمیشن کمشنر بنایا جاناجاریہے۔ذرائع کے مطابق، ہریانہ کے وزیراعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے کچھ دنوں قبل سبکدوش ہوئیں چیف سکریٹری اروشی راوت گلاٹی کو ریاست کا نفارمیشن کمیشنر  مقرر کیاہے۔ ہریانہ کے چیف انفارمیشنکمشنر نریش گلاٹی بھی سابق آئی اے ایس  آفیسر ہیں۔ انھوں نے چیف انفارمیشن کمشنر بننے کے لئے پچھلے سال سول سروس سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ اسے اتفاق ہی کہاجائے کہ وہ اروشی گلاٹی کے شوہر ہیں۔ حالانکہ اروشی گلاٹی چیف سکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوچکی ہیں، لیکن حکومت نے ابھی تک انکی جگہ کسی اور کو مقر ر نہیں کیا ہے۔ سنیئرٹیی کی بنیاد پر تو چیف فائننس کمیشنر راجکمارکو اروشیکا جانشین ہونا چاہئے، لیکن ایساکہا جارہا کہ پی کے چودھری بھی چیف سکریٹری کے عہدے کے اہم دعویداروں میں سے ایک ہیں۔ چودھری ابھی ڈیپوٹیشن پر ہیں۔
وزات ریلوے کے بابو
ممتابنرجی کو ناراض کرنے کے بعد دینش ترویدی کی وزارت ریلوے سے چھٹی دے دی گئی۔ انکی جگہ مکل رائے کو وزیر ریلوے بنایا گیا۔ مکل رائے کے وزیرریلوے  بننے کے بعدبابوؤںکے درمیان اس طرح کی قیاس آرایاں ہو رہی ہیں کہ کیاوہ اپنی وزارت میں کام کررہے عہدیداروں میں کچھ پھیر بدل کریں گے۔ جب ممتابنرجی وزیر ریلوے تھیں تو انھوں نے اپنے خاص بابوؤںکویہاں کام کرنے کے لئے بلایا تھا، لیکن جب وہ دہلی سے کولکتہ گئیں تو ان میں سے کئی بابوؤں کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ ان میں رتن مکھرجی، تپن رائے، جے کے ساہا اور گوتم سانیال کے ساتھ کچھ اور دوسرے آفیسر شامل تھے۔ بعدمیں تپن رائے اور رتن مکھرجی اپنے پرانے دفترمیں واپس آگئے تھے۔ اب جبکہ مکل رائے وزیر ریلوے بن گئے ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ ممتابنرجی کے خاص آفیسروں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیںیا پھر دوسرے آفیسرز کو، جنہیں وہ پسند کرتے ہیں۔
گجرات حکومت کی نئی پریشانی
وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور یوپی اے حکومت کے درمیان تکرار ہوتی رہتی ہے۔ ایک نیاتنازعہ اس وقت سامنے آیا ، جب گجرات کے سابق ڈی جی پی آر بی شری کمار نے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھا ، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ گجرات میں ڈی جی پی  کی تقرری  کے لئے  مداخلت کریں۔ گجرات میں پچھلے ستمبر سے ڈی جی پی کا عہدہ خالی پڑا ہے۔ ستمبر 2010میں ایس ایس کھنڈیلوال ڈی جی پی کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے، جس کے بعد ابھی تک مستقل طور پر کسی کو ڈی جی آئی نہیں مقرر کیا گیا ، اور اے ڈی جی پی  چترنجن سنگھ کو ڈی جی پی کی اضافی ذمہ داری دیگئی ہے۔ شری  کمارنے وزیر داخلہ سے اس با ت کی وضاحت طلب کی ہے کہ ڈی جی پی کے خالی عہدے کو ابھی تک کیوں نہیںبھرا گیا۔ اب وزیر داخلہ کو اسکاجواب دینا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *