ہندوستانی کرکٹ کا سرمایہ وراٹ کوہلی

سلمان علی
ٹیم انڈیا بھلے ہی ایشیا کپ کی دوڑ سے باہر ہو گئی ۔ بھلے ہی کھلاڑیوں کو یہ بات بار  بار ستائے کہ ان کی بہتر کارکردگی کے باوجود وہ ایشیا کپ کا فائنل نہ کھیل سکے۔لیکن اس ٹورنمنٹ لیکن اس ٹورنامنٹ اس نے اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف جیت حاصل کی اور اس تاریخی فتح کے سب سے بڑے ہیرو  بن کر ابھرے وراٹ کوہلی۔جی ہاں 18اگست 2008کو جب سری لنکا کے خلاف وراٹ نے اپنے ون ڈے کریئر کی شروعات کی تھی تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگاکہ یہ نوجوان کھلاڑی آنے والے سالوں میں کرکٹ کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا، نئے ریکارڈ بنائے گا۔عام طور پر دوسرے کھلاڑیوں کی طرح جب ویراٹ کوہلی پہلی بار سری لنکا کے خلاف میدان پر اترے تھے تو وہ محض12رن بنا کر آئوٹ ہو گئے تھے لیکن اس کے بعد انھوں نے سری لنکا کے خلاف 6میچ کھیلے جس میں انھوں نے ایک نصف سنچری لگائی اور اس کے بعد2009میںآئی سی سی چمپئن ٹرافی کا ایک میچ انھوں نے پاکستان کے خلاف کھیلا ۔لیکن اس میں کچھ خاص نہیں کر پائے۔لیکن اس کے بعد سری لنکا ٹیم جب ہندوستانی دورہ پر ون ڈے سیریز کھیلنے کے لئے آتی ہے تو اس میں وراٹ کوہلی کا بلا اپنی خاموشی توڑتا ہے اور خوب کہرام مچاتا ہے۔ اس وقت وہ محض19سال کے تھے۔
یہ وراٹ کوہلی کے شاندار کرکٹ کا ہی اثر ہے جو دنیا بھر میں موجود ہندوستانی کرکٹ مداح انہیں مبارکباد دے رہے ہیں۔ ہندوستانی مداحوں کی زبان پر اس وقت اگر کسی کا نام ہے تو وہ ہے وراٹ کوہلی۔ہو بھی کیوں نہ ۔ کوئی ایک میچ میں اچھا کھیلے تو اتفاق ہو سکتا ہے دوسرے میں کھیلے تو اتفاق ہو سکتا ہے لیکن چار پاریوں میں3سنچریاں لگا کر وراٹ کوہلی نے بتادیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے ۔ابھی تو یہ شروعات ہے۔ وراٹ کی صلاحیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے کرکٹ کریئر کے اعداد و شمار دنیا کے کسی نوجوان کرکٹر سے میل نہیں کھاتے۔ اورا س صف میں وہ سرفہرست ہیں۔وہ اب تک85ون ڈے کھیل چکے ہیں جس میںانھوں نے قریب 51کی اوسط سے3590رن  بنائے ہیں۔ اسی طرح اگر ان کے فرسٹ اور لسٹ اے کیٹگری کے کریئر کو دیکھا جائے تو وہ اس سے بھی شاندار ہے۔وراٹ کوہلی نے اب تک فرسٹ کلاس کرکٹ کے 68میچوں میں 59پاریاں کھیلی ہیں۔جس میںانھوں نے 50.42کی اوسط سے 2622رن بنائے ہیں۔جس میں ان کی 8سنچری اور 11نصف سنچری بھی شامل ہیں۔ اسی طرح انھوں نے اب تک لسٹ اے 116مقابلوں میں 112اننگز کھیلی ہیں جس میں ان کے 4941رن ہیں ۔ ساتھ ہی 15سنچری اور 28نصف سنچری بھی شامل ہیں۔
آج اگر وہ دنیائے کرکٹ میں اس مقام تک پہنچے ہیں تو یہ ان ہی کرکٹ کے تئیں لگن ،محنت اور جوش کا ہی نتیجہ ہے۔ان کی زندگی سے جڑا ایک اہم واقعہ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ 2006کی بات ہے۔دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر کرناٹک کے کے خلاف رنجی ٹرافی کا میچ اہم موڑ پر تھا۔ لیکن میچ کی ہی صبح دہلی کے ہی ایک کھلاڑی کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اب اس کھلاڑی کی ٹیم کو بھی اتنی ہی ضرورت جتنی کہ اس کے پریوار کو ۔ لیکن اس مشکل ترین وقت میںا س کھلاڑی نے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان پرآیا اور 90رن کی اہم پاری بھی کھیلی اور پھر اپنے والد کی تدفین میں بھی شامل ہوا۔ یہ تھا اس کھلاڑی کی کرکٹ کے تئیں دیوانگی اور جذبہ۔ اس کھلاڑی کا نام وراٹ کوہلی ہی تھا۔
وراٹ کوہلی نے ورلڈ کپ کے بعد سے اپنی کارکردگی اور اعتماد کو کتنی مضبوطی دی ہے اس  کا نظارہ آج میدان پر ان کے شارٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔یہ ان کی بہترین کارکردگی کا ہی نتیجہ ہے کہ بورڈ نے انہیں سوغات میں ٹیم انڈیا کی نائب کپتانی سونپ دی ۔آج وراٹ نوجوانوں کے لئے ایک مثال بن رہے ہیں۔ بات انگلینڈ دورہ کی ہو یا آسٹریلیاکی ۔ غیر ملکی دورے پر وہ ایسے واحد کھلاڑی تھے، جنھوں نے مخالف ٹیموں کی بائونسی گیندوں کا بے خوف ہو کر سامنا کیا اور بلے سے کرارا جواب دیا۔ انگلینڈ میں جب ہر ہندوستانی کھلاڑی تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہے تھے تو ویراٹ کوہلی نے محاذ سنبھالا تھا اور پوری سیریز میں ٹیم انڈیا کی طرف واحد سینکڑا لگایا تھا۔ اسی طرح آسٹریلیا میں بھی وراٹ نے ٹیم کی طرف واحد سینکڑا لگا کر ٹیم کی لاج بچائی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی ان کی عمر محض23سال ہے اور جس طرح سے وہ کرکٹ کھیل رہے ہیں اس سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کھلاڑی کا مستقبل کتنا تابناک ہوگا۔وہ دن بدن تجربہ کار ہوتے جا رہے ہیں۔آئے دن نئی نئی بلندیوں کی چھو رہے ہیں۔
ہوبارٹ میں کھیلی گئی وراٹ کوہلی کی سری لنکا کے خلاف وہ پاری کرکٹ مداح ابھی بھولے بھی نہیں تھے کہ وراٹ کوہلی نے ایک اور یادگار پاری کھیل کر اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور وہ بھی اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وراٹ کوہلی کا بلا ہمیشہ ہی سرلنکا کے خلاف خوب چلتا ہے۔ ابھی تک لگائی گئیںان کی 11سنچریوں میں سے 6سنچریاں سری لنکا کے خلاف ہیں۔قابل غور ہے کہ2008میں جب ہندوستانی سینئر کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو آسٹریلیا  میں ہی ہرایا تھا ۔اسی دن وراٹ کوہلی کی قیادت میں ہندوستانی انڈر 19ٹیم نے ورلڈ کپ کا خطاب اپنے نام کیا تھا۔
کچھ بھی ہو وراٹ کوہلی دن بدن ایک بھروسہ مند کرکٹر بنتے جا رہے ہیں اور اپنے سینئرس کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔نوجوان اس کرکٹ کی وراثت سنبھالنے کو تیار ہیں۔ہندوستانی کرکٹ کا مستقبل محفوظ ہے اور ہم نوجوانوں میں اتنی قوت اور صلاحیت ہے کہ ہم ٹیم کو آگے لے جا سکیں۔اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ ٹیم انڈیا کے مستقبل کے کپتان ہوں گے!      g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *