ہم اپنی بات پر قائم ہیں

سنتوش بھارتیہ
کوئلے کی کہانی کوئلے کی طرح ہی کالی ہوتی جارہی ہے۔ جب چوتھی دنیا نے 25اپریل 1-مئی 2011کے شمارے میں26لاکھ کروڑ روپے کے مہاگھوٹالہ کے عنوان سے کہانی چھاپی ، توہمیں لگا کہ ہم نے اپنا ایک فرض پورا کیا،کیونکہ عوام کے نمائندوں،حکومت بنانے والے نمائندوں نے ہندوستان کے لوگوں کی گاڑھی کمائی کاپیسہ کچھ لوگوں کی جیبوں میں ڈال دیا اور اس میں سے کچھ پیسہ ان کی جیب میں بھی گیا۔ہمیں لگا کہ ہندوستان کی یہ کہانی لوک سبھا کے اراکین کی آنکھیں کھولنے میں مدد کرے گی۔ لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ کہانی بھی اس طرح کی بہت ساری کہانیوں کی طرح لوک سبھا کے اراکین کی آنکھیں نہیں کھول سکتی۔ہم نے صحافت کے اصول کو تھوڑی دیر کے لئے کنارے رکھ دیا، کیونکہ صحافت کے اصول یہ نہیں کہتے کہ آپ اسٹوری شائع کریں اور اس کے بعد یہ امید کریں کہ اس کے اوپر لوک سبھا میں بحث ہوگی۔لیکن ہمیں لگاکہ یہ ملک کا ایسا معاملہ ہے جسے لوگوں کے سامنے آنا چاہئے۔جب ہمارے کئی ساتھیوں نے کہا کہ ہم کچھ سینئر اراکین پارلیمنٹ کو اور بڑی پارٹیوں کو اس اسٹوری کی کاپی دے دیں ، تومیں ان کو منع نہیں کر پایا۔ وہ گئے اور بھارتیہ جنتاپارٹی ، سی پی آئی ، سی پی ایم اور کچھ چھوٹی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کو کاپیاں دیں، لیکن اس کہانی سے ان نیتاؤں کی آنکھ نہیں کھلی، اس کے بعد ہم نے یہ اخبار چھ سو اراکین پارلیمنٹ کے گھر ڈلوایا۔ تب بھی ان اراکین کی آنکھ نہیں کھلی۔انھیں لگا کہ یہ اسٹوری ایسی نہیں ہے جسکو اٹھایا جاسکے۔حالانکہ اس اسٹوری میں تفصیل کے ساتھ کس طریقے سے 26لاکھ روپے کی لوٹ ہوئی اسے سرکاری اعدادوشمار کے سہارے اور سرکاری کاغذات کے ذریعہ عام کیا۔ ہماری انویسٹی گیشن نے ہمیںبتایاکہ ہمارے اعداد وشمار صحیح ہیں،اسی لئے ہم نے یہ اسٹوریتمام اراکین پارلیمنٹ کو بھیجی۔ اگر ہم غلط ہوتے توجن کمپنیوں کے نام ہم نے پہلے صفحے پر چھاپے تھے وہ کمپنیاںہمیں عدالت میں اب تک کھڑا کرچکی ہوتیں۔
ہمارے پاس فون آئے، لیکن وہ فون ہمیں ورغلانے، ہمیں خریدنے یاہمیں دھمکانے کے لئے تھے۔ ہم نے مانا کہ جب ہم صحافت کے اس پاک پیشے میںہیں تویہ اس کی قیمت ہے اور اس قیمت کو ہمیںدیناچاہئے، اس لئے ہم گھبرائے نہیں۔
لیکن جب 22مارچ کی صبح دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا نے یہ خبر چھاپی کہ ساڑھے10لاکھ کروڑ کاکوئلہ گھوٹالہ ہوا ہے اور سی اے جی اس طرح کی رپورٹ دینے والی ہے، تواس کو دکھانے کے لئے لوک سبھااور راجیہ سبھامیں ہنگامہ ہوا۔ ایک بار راجیہ سبھاکی کارروائی ملتوی بھی ہوئی ،لیکن کوئی ممبر پارلیمنٹ اس سوال پر سنجیدہ نہیں تھااور ایک پراسرار ڈیولپمنٹ یہ ہوا کہ وزیراعظم کے دفتر کے نئے میڈیا صلاح کار نے وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے فون کرکے سی اے جی کی رپورٹ کے متعلق تفتیش کی تو سی اے جی نے کہاکہ ہمیں بہت دکھ ہے کہ ہمارے یہاں سے یہ خبر لیک ہوئی،لیکن ہم نے کو ئی رپورٹ فائنلی بنائی نہیں ہے ، ابھی شروعاتی دور میں ہے۔ چٹھی کا یہ انداز بتاتاہے کہ رپورٹ لکھی جارہی ہے اور سی اے جی کیلکولیشن کررہی ہے جس میں ایک کیلکولیشن ساڑھے دس لاکھ کروڑ کا ہے، لیکن وزیراعظم کے دفتر نے تمام میڈیا چینلوں کو یہ بتادیا کہ رپورٹ ابھی آئی نہیں ہے اور جب رپورٹ نہیں آئی توصفائی کیوں دی جائے۔ ساتھ ہی اس نے یہ کہہ دیا کہ ساڑھے دس لاکھ کروڑ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ وزیراعظم کادفتر اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔ اسے یہی سب کرنا چاہئے۔ لیکن ہم آپکو بتائیں کہ سی اے جی کے کیلکولیشن کرنے کا طریقہ بھی ہمیں سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم نے چوتھی دنیا کی اسٹوری میں سرکاری اعداد وشمار رکھے، جو 26لاکھ کروڑ ہوتے ہیں۔ سی اے جی نے اس خط میں ایک چیز اور لکھی کہ اس نے اس رپورٹ کا پہلاڈرافٹ کول منسٹری کودیکھنے کے لئے بھیجا۔وزیر کوئلہ نے 22تاریخ کو کہا، انہیں کچھ نہیں معلوم کہ اس میں کیا ہورہا ہے۔ سی اے جی کہہ رہی ہے کہ اس نے کوئلہ منسٹری کو ڈرافٹ بھیجا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ڈرافٹ سی اے جی کے دفترسے نہیں، وزارت کوئلہ سے لیک ہوا ہے اور ٹائمس آف انڈیا کے نامہ نگار کو جب یہ ڈرافٹ ملا تو اس نے صحافی کافرض نبھاتے ہوئے اسے چھاپ دیا۔
ہم قانونی دلیل لے سکتے ہیں، اخلاقی دلیل لے سکتے ہیں،لیکن ملک کی ایک دلیل،جوہم بھول رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی سڑاند کو دیکھتے ہیں اور اس سڑاند کو باہر نہ لائیں، تو ہم صحافت کیوں کریں۔ ٹائمس آف انڈیا نے شاید اس رپورٹ کو جو کول منسٹری میں گئی اور کول منسٹری کو جتنا معلوم تھا، اسے لے کر چھاپ دیا۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ جب یہ رپورٹ آئے گی تو 26لاکھ کروڑ کے گھوٹالے سے زیادہ کی فیگر بتائے گی، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ سی اے جی ایک ایساادارہہے جوسارے پہلوؤں کو بڑی باریکی سے دیکھتاہے، لیکن ہو سکتاہے کہ سی اے جی بھی سرکاری انفلوینس میں آجائے۔ پچھلے دنوں ہم نے دیکھاکہ ہمارے کئی آئینی ادارے سرکار کے ذریعہ دی گئی دلیلوں سے کافی جلدی اتفاق کرتے نظر آئے۔ کچھ نے تو فیصلہ دینے میں بھی بازیگری کی اور ملک کے لوگوں کو یہ ساری چیزیں بہت خراب لگیں۔آئینی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ دونوں فریقین کی بات سن کر اپنافیصلہ دیں۔کوئی آئینی ادارہ اگر فیصلہ نہیں دیتایا چیزوں کو توڑ تا مروڑتا ہے یا گول مول کرتاہے تو ہندوستان کے آئین کی توہین کرتاہے، جو اسے آئینی ادارے کاروپ دیتاہے۔ ہوسکتاہے کہ حکومت ہندکی دلیلوں سے سی اے جی تھوڑ ی بہت متفق نظرآئے ، لیکن حکومت کے دلائل اتنے کھوکھلے اور تھوتھے ہیںکہ ہمیں یقین نہیںہوتا کہ سی اے جی اس سے متفق ہوگی۔ ہم اپنی اسٹوری پر قائم ہیں۔ ہم اپنے میڈیا کے ساتھیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ ایک دن تو بہت جوش میں رہے اور اپنی اسٹوری چلائی ۔ جب سی اے جی کی چٹھی کا ادھورا حصہ آپکے پاس آیا، آپ کو بہانہ مل گیا اور آپ نے پوری اسٹوری کو وائنڈاپ کردیا۔ دوسری بات جس کا افسوس ہوتاہے ، وہ ہے ملک کی اپوزیشن پارٹیاں ۔ انھوں نے اس رپورٹ کے اوپر نہ تو نو مہینے پہلے ہنگامہ مچایا نہ اب۔ مدلل طریقے سے توہنگامہ بالکل نہیں مچایا، ایک خانہ پری ہوئی ہے۔
کیا ہم یہ مان لیں کہ26لاکھ کروڑ کی لوٹ میں شامل کمپنیوں نے ہماری اپوزیشن پارٹیوں کی ضمیر پر قبضہ کرلیا ہے، کیا ان سے چناو لڑنے کے لئے کچھ وعدے کئے گئے ہیں؟ ہم بڑے دکھ سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ دکھ اس لئے ، کیوںکہ ہمیں بھروسہ نہیں ہوتا کہ ہندوستان کے آئین کا حلف لے کرپالیمنٹ جانے والے لوگ ، اپوزیشن اور اقتدار میں بیٹھنے والے لوگ اس کاحصہ بن سکتے ہیں۔ لیکن حصہ تو بنے ہی، کیونکہ واقعات یہی بتاتے ہیں، ان کی خاموشی یہی بتاتی ہے، جانچ نہ ہونے دینے کی حکمت عملی یہی بتاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب کوئی اتنابڑا معاملہ آئے اور کو ئی ذمہ دار فریق الزام لگائے تو بھلے ہی اس میں کوئی دم حکومت کو نظر آئے یا نہیں، لیکن حکومت کا فرض ہے کہ اس کی جانچ کرائے اور لوگوں کے سامنے اپنی شبیہ صاف کرے۔ حکومت کے اوپر الزامات کتنی لگتے ہیں، ذمہ دار لوگوں کے، ممبر پارلیمنٹ کے، اخباروں کے الزامات کم لگتے ہیں۔جب الزامات لگتے ہیں تو اس کافیصلہ یا ان کی صفائی کا کام ملک کے لوگوں کے سامنے ہونا چاہئے۔ ایک کاغذپر اگر پانچ منٹ میں26لاکھ کروڑ کو عدد میں لکھ سکتے ہیں تو میںتسلیم کرلوں گا کہ آپ ریاضی داںہیںاور بدعنوانی کو روک سکتے ہیں۔ اگر آپ پانچ منٹ میں 26لاکھ کروڑ کو عدد میں نہیں لکھ پائے تو مان لیجئے کہ آپ بدعنوانی روک نہیں سکتے، بلکہ بدعنوانی آپ کے اوپر حکومت کرے گی۔ ہم اس ملک کے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی سنے یا نہ سنے، ہم آپ کے حق میں وہ ساری چیزیں رکھتے رہیں گے، جنہیں رکھنا ہندوستان میں جمہوریت قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیںکہ ہم نہ لالچ میں آئیں گے ، نہ دھمکی میں آئیں گے اور نہ اپنے فرائض کی اندیکھی کریںگے۔ اس لئے ، کیونکہ ہندوستان کے لئے آپ سب سے اوپر ہیں اور آپ کے لئے ہماری جمہوریت سب سے اوپر ہے۔g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *