ہالینڈ کے مسلمانوں میں حلال و حرام کی تمیز

عفاف اظہر
حلال و حرام کا فلسفہ بھی عجیب ہے جس پر پوری امت بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ کی مانند آنکھوں پر حلال و حرام کی یہ عینک چڑھائے اپنی مخصوص ڈگر پر رواں دواں ہے بطور خاص یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی تو پوری زندگی اسی فلسفے میں الجھی نظر آتی ہے۔  یہ بیچارے گورے آخر کہاں تک تعاون کریں کہ جتنا بھی کریں کم لگتا ہے۔ حلال فوڈ کی دوکانیں کم پڑ گئیں توتمام فوڈ مارکیٹس میں الگ سے حلال فوڈ کے سیکشن  ہی بنا ڈالے مگر ہمیں ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی اسکول جاتے معصوم بچوں کو حلال حرام کے ایسے طوق پہنا دِیے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔گزشتہ دنوں ایسے ہی اتفاق ہوا جب بچی  نے گھر اتے ہی دھاوا بول دیا کہ ہم جو فوڈ کھاتے ہیں وہ تو حلال ہے ہی نہیں میں کچھ حیران اور کچھ پریشان سی تھی کیوں بھئی کیا ہوا ؟ میری  کلاس میں پاکستانی لڑکی ہے اس نے کہا ہے کہ میں سہی مسلمان نہیں ہوں کیوں کہ میں میکڈونلڈ کھاتی اور اس کی طرح اپنے بال حجاب سے نہیں ڈھانپتی ہوں اس کے پاپا ماما نے کہا ہے کہ میکڈونلڈ حرام ہے وہ اب میرے ساتھ مل کر لنچ بھی نہیں کرتی ۔ میں نے کہا ،اچھا  تو  پھر کل آپ اپنی اس پاکستانی کلاس فیلو سے جا کر  پوچھنا کہ حلال اور حرام میں آخر فرق کیا ہے ؟
ابھی  چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ بچوں کے اسکول کی جانب سے دی گئی دعوت پر ایک  ٹیلینٹ شو میں شرکت کے بعدا سکول سے باہر آئی تو ایک پاکستانی خاتوں کو پریشان حال سڑک پر کھڑے دیکھا . میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ بھی اپنے میاں کے ساتھ بچوں کے پروگرام میں آئی تھی کہ واپسی پر گاڑی کا انجن جواب دے گیا ہے  . میں نے انکی پریشانی اور موسم کی تلخی کو مدنظر رکھتے ہوے فورا اپنی خدمات پیش کر دیں اور انھیں انکے گھر چھوڑ کر واپس مڑنے کو تھی کہ ان کے بیحد اصرار نے مجھے انکے ساتھ چائے پینے کی دعوت کو قبول کرنے  پر مجبور کر دیا ۔وعدے کے مطابق جب میں انکے  ٹاؤن ہاؤس پہنچی تو دروازے پر سونے کے زیورات سے لدی پھندی چند نوجوان خواتین نے میرا استقبال کیا ابھی  ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ بچوں اور بڑوں کا ایک ہجوم سا میرے ارد گرد لگ گیا . تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ حکومت کی جانب سے قلیل آمدنی والے شہریوں کی مدد کے لئے دیے جانے والے تین کمروں پر مشتمل اس ٹاؤ ن ہاؤس میں ساس سسر ، کے علاوہ پانچ عدد  دیور اور جیٹھ جن میں سے تین شادی شدہ  بھی تھے اور تین نندوں کے علاوہ آٹھ بچے رہائش پذیر تھے ۔
گھریلو خواتین نے مجھ سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے انتہائی جوش و خروش سے اپنے حالیہ پاکستانی دورے کی تفصیلات سے مجھے آگاہی دینے کا سلسلہ جاری کر دیا۔ باتوں ہی  باتوں میں میری معلومات میں اتنا تو اضافہ ہو ہی گیا تھا  کہ اس  گھر کے افراد کا پاکستان ہر سال جانا معمول ہے گھر کے تمام مرد حضرات ٹیکسی چلاتے ہیں اوربیشتر خواتین دیسی اسٹورز میں کیش پر کام کرتی ہیں اور بزرگ حضرات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں بھی اکثر افراد ویل فیئر کے مستقل مہمان ہیں ٹیکس بچانے اور قلیل آمدنی کی بنیاد پر حکومت سے مدد وصول کرنے کے لئے تمام تر ذریعہ آمدنی کیش پر منحصر ہے ۔یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہی تھا مگر میرا دماغ جھنجوڑ دینے والی حقیقت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ سے ٹائون ہاؤس نما  ڈربے میں رہنے والے اس خاندان نے ٹورانٹو کے ایک مہنگے ترین علاقے میں پانچ ملین ڈالرز کا ایک گھر خرید کر کرائے پر بھی چڑھا رکھا ہے ۔ میں ابھی  افسوس اور حیرانگی کے اسی سمندر میں غوطہ زن تھی کہ ایک بچی بھاگتے ہوے باہر سے آئی اور مجھے دیکھتے ہی اپنی ماں سے مخاطب ہو کر بولی ماما یہ انٹی تو میری  اسی کلاس فیلو کی ماما ہیں  جس  کے پاس بیٹھنے سے آپ نے مجھے روکا تھا جو حرام میکڈونلڈ کھاتی ہے اور حجاب سے اپنے  بال بھی نہیں ڈھانپتی . اورمزید ایک پل بھی وہاں  بیٹھا نہ گیا  اور ایک اذیتناک عالم میں وہاں سے اٹھ کر چل دی عجیب سے سوالات من میں سر اٹھا کر جہالت کی اس اندھی انتہا پر ماتم کناں تھے جو ہماری آنکھوں پر ڈالرز کی  پٹی باندھ کر  میکڈونلڈ کھانے کو تو   حرام مگر اس ڈھٹائی اور بے غیرتی  سے ٹیکس چوری کرنے کو حلال قراردے دیتی  ہے .
مذہب بھی آج ہمارے ہاتھ میں پکڑی ربڑ کی مانند ہے  جسے فقط اپنے ارد گرد لپیٹ کر خود تو دائرہ اسلام میں ہی رہتے ہیں اور دوسروں کو باہر نکلنے کی کوشش میں۔ورنہ حلال و حرام کا فلسفہ فقط اشیا خورد و نوش ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے پر لاگو ہوتا ہے انسان کی ہر قدرتی حس پر اور جسم کے ہر حصے پر وہ چاہے نظر کا غلط استعمال ہو یا زبان کا ، ہاتھ اور پاؤں ہوں یا پھر انسان کی غلط نیت۔ انسانی زندگی کا ہر ہر پہلو ہر ہر لمحہ ہر ہر سوچ اور خیالات  حلال و حرام کی ڈور سے بندھی ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *