ہندوستانی فوج کو بدنام کرنے کی سازش کا پردہ فاش

سنتوش بھارتیہ
گزشتہ 4 اپریل کو انڈین ایکسپریس کے صفحہ اوّل پر پورے صفحہ کی ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس کے ذریعے پورے ملک کو بتایا گیا کہ 16 جنوری کو ہندوستان کی فوج نے بغاوت کرنے کی تیاری کر لی تھی۔ اس رپورٹ سے لگا کہ ہندوستانی فوج ملک میں جمہوری نظام کو ختم کرکے فوجی تانا شاہی لانا چاہتی ہے۔ اس رپورٹ نے پورے ملک میں نہ صرف ہلچل پیدا کی، بلکہ فوج کو لے کر شک و شبہ کا ماحول بھی پیدا کر دیا۔ سبھی ٹی وی چینلوں پر یہ خبر چلنے لگی، لیکن تین گھنٹے گزرتے گزرتے یہ صاف ہوگیا کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے، بکواس ہے اور کسی خاص ناپاک ارادے سے چھاپی گئی ہے اور اس کو شائع کرانے کے پیچھے ایک بڑا گینگ ہے، جو ہندوستان میں جمہوریت کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں سے سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کون سا گینگ ہے، جو ہندوستان میں جمہوریت کو پسند نہیں کرتا اور یہ رپورٹ اسی وقت، یعنی 4 اپریل کو ہی کیوں چھاپی گئی ہے؟ یہ ویسا ہی سوال ہے جو اِن عظیم صحافیوں اور میڈیا کے لوگوں نے پوچھا تھا کہ جنرل وی کے سنگھ نے اسی وقت اپنا مشہور انٹرویو آپ کے اخبار ’چوتھی دنیا‘ کو کیوں دیا؟ ہم اس بات کا بھی جواب دیں گے کہ یہ انٹرویو اسی وقت کیوں آیا اور یہ خلاصہ اسی وقت کیوں ہوا۔ لیکن اِس بات کو بھی جانیں گے اور کھولیں گے کہ 4 اپریل کو ہی کیوں ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایسی رپورٹ شائع کی، جو یہ کہتی ہے کہ ملک میں فوج اپنا راج قائم کرنا چاہتی تھی۔ حالانکہ اس پوری رپورٹ کو پڑھنے کے بعد لگتا ہے کہ یہ رپورٹ نہیں، یہ اپنے آپ میں سازش کا ایک پلندہ ہے، جس کو پڑھتے ہی لگتا ہے کہ کوئی گروپ ہے، کچھ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رشتے اس اخبار کے رپورٹر یا ایڈیٹر کے ساتھ بھنائے ہیں یا پھر رشتوں کے علاوہ جو چیز چھاپنے کے کام آتی ہے اور جس کا الزام ہمارے بہت سارے ساتھیوں پر لگتا ہے، اس کا کھلا استعمال اس اخبار کے اوپر کیا گیا ہے۔ اب آپ کو سناتے ہیں اِس رپورٹ کے پیچھے کی اصلی کہانی۔
20 مارچ کو میرے پاس ایک رپورٹ آئی کہ ہندوستانی فوج ملک میں فوجی انقلاب لانا چاہتی ہے۔ جو حضرت میرے پاس یہ خبر لے کر آئے، ان سے میں نے پوچھا کہ اس خبر کا سورس، یعنی ذریعہ کیا ہے۔ اور جب انہوں نے مجھے سورس بتایا تو میری سمجھ میں آ گیا کہ یہ ملک کے خلاف بہت سوچی سمجھی سازش ہے اور اس سازش میں فوج کی شبیہ جان بوجھ کر خراب کرنے کی پلاننگ ہے۔ میں نے اسی وقت اپنے کچھ دوستوں سے بات کی۔ مجھے پتہ چلا کہ یہ اسٹوری کئی اخباروں اور کچھ ٹیلی ویژن چینلوں کو رابطہ کرکے پہلے ہی دی جا چکی ہے، لیکن سب نے منع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اسٹوری کو نہیں چھاپیں گے، کیوں کہ یہ بے بنیاد اسٹوری ہے۔ لوگوں کو اس طرح کی اسٹوری چھاپنے کے لیے کئی قسم کی لالچ بھی دی گئی۔ سب نے منع کردیا کہ نہ تو ہم اس اسٹوری کو ٹیلی ویژن پر دکھائیں گے، نہ چھاپیں گے، کیوں کہ یہ واہیات اسٹوری ہے اور یہ ملک کی فوج کی شبیہ خراب کرنے والی خطرناک اسٹوری ہے۔ میں نے فوج کے اپنے ذرائع سے بات کی۔ انہوں نے بھی یہ کہا کہ یہ ’بُل شِٹ‘ ہے۔ لیکن وہاں سے مجھے یہ خبر معلوم ہوئی کہ ’انڈین ایکسپریس‘ اس خبر کو چھاپنے والا ہے۔ مجھے لگا کہ میرا صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے شہری ہونے کا بھی ایک فریضہ ہے اور میں نے سوچا کہ ’انڈین ایکسپریس‘ کو مجھے بتانا چاہیے کہ یہ خبر اگر وہ چھاپتے ہیں تو وہ شاید ملک کے مفاد کے خلاف کام کریں گے۔ میں نے اس اعتماد کی بنیاد پر یہ سوچا، کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ شیکھر گپتا اب تک، یعنی اِس رپورٹ کے شائع ہونے تک جو انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی، ایک جفاکش، ایماندار اور بہادر صحافی مانے جاتے تھے۔ میری شیکھر گپتا سے پہلی ملاقات ’رویوار‘ میں رہتے ہوئے اُس وقت کے ایڈیٹر سریندر پرتاپ سنگھ کے ساتھ ہوئی تھی، اور سریندر پرتاپ سنگھ نے ہی میرا تعارف شیکھر گپتا سے کرایا تھا۔ شیکھر گپتا کو تب سے میں سینئر، اپنے سے زیادہ سمجھدار، اپنے سے زیادہ جانکار اور اپنے سے زیادہ بہادر صحافی مانتا تھا۔ مجھے لگا کہ مجھے بلا جھجک شیکھر گپتا سے کہنا چاہیے کہ آپ کے اخبار میں اِس رپورٹ کو چھپوانے کی سازش ہو رہی ہے، آپ اس کے اوپر تھوڑا دھیان دیجئے۔ یہ صحافت سے بڑی چیز ہے، کسی قسم کی غیر ذمہ دارانہ صحافت سے بڑی چیز ہے۔ آپ ساری دنیا کے سامنے فوج کو بدنام کردیں، پھر معافی مانگنے سے کام نہیں چلتا۔
میں شیکھر گپتا کے پاس گیا اور میں نے شیکھر گپتا سے بغیر کوئی تمہید باندھے پوچھا کہ ایسا سننے میں آیا ہے کہ ایک اسٹوری بازار میں گھوم رہی ہے کہ فوج اقتدار کے اوپر قابض ہونا چاہتی ہے اور یہ اسٹوری کچھ مشکوک عناصر، جو ملک کے خلاف قدم اٹھا رہے ہیں، وہ لوگ آپ کے اخبار میں چھپوانا چاہتے ہیں، اور انہوں نے اس کے لیے آپ کے صحافی کو تیار کر لیا ہے۔ شیکھر گپتا نے مجھے کہا کہ نہیں، ابھی ایک جنرل یہاں بیٹھے تھے، وہ بھی یہی بات کہہ رہے تھے۔ ان کو میں نے اُس صحافی کے پاس بھیج دیا ہے۔ میں نے شیکھر سے نہیں پوچھا کہ کون جنرل تھے، کیوں کہ مجھے شک ہوا کہ کہیں فوج کا ہی تو کوئی آدمی فوج کے خلاف خبر نہیں دے رہا ہے۔ لیکن شیکھر گپتا نے کہا کہ وہ جو آپ کہہ رہے ہیں، وہ بھی یہی کہنے آئے تھے کہ یہ خبر جو بازار میں چل رہی ہے، جو غلط ہے، کوئی چھاپ نہیں رہا ہے، ہم چھاپنے جا رہے ہیں، لیکن ہم اس میں احتیاط برتیں گے اور ہم اس کو نہیں چھاپیں گے۔ جب مجھے شیکھر گپتا نے یہ یقین دلایا تو مجھے لگا کہ شیکھر گپتا ابھی بھی اسی صحافت کی نمائندگی کرتے ہیں، جس صحافت سے سماج دشمن عناصر ڈرا کرتے تھے۔ دو دن بعد شیکھر گپتا اور میں، ملک کے ایک سینئر آدمی کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے شیکھر گپتا نے کئی سوال پوچھے، جن سوالوں کے جواب اَن آفیشیلی اُس آدمی نے بہت صاف دیے اور تبھی شیکھر گپتا نے پوچھا کہ کیا فوج کا کوئی موومنٹ 16 جنوری کو ہوا تھا۔ اس نے کہا، ہاں ہوا تھا۔ پھر اُس آدمی نے کہا، جس طرح سے بازار میں خبر بنی ہوئی ہے، اس طرح سے نہیں ہوا تھا۔ اس آدمی نے پوری کہانی شیکھر گپتا کو بتائی کہ اس کے پیچھے کیا اسباب تھے۔ وجہ یہ تھی کہ کہرے میں اگر ملک کی راجدھانی کے اوپر کوئی حملہ ہو، کسی طرح کا، تو ہم راجدھانی کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اس کے پیچھے ڈر دہشت گردوں کا یا ویسٹیڈ انٹریسٹ کا تھا جو ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ جس طرح سے لوگ ابھی کچھ سال پہلے پارلیمنٹ میں گھس گئے اور ہمارے کئی بہادر سپاہیوں کی موت ہوئی۔ مان لیجئے گھسنے والے زیادہ ہوتے اور وہ پارلیمنٹ کے اندر چلے جاتے۔ سارے منسٹرس، پرائم منسٹر، ایم پی وہاں تھے۔ ان کو مارنے لگتے تو سوائے فوج کے کوئی چارہ نہیں تھا، جو وہاں پر موو کرتی۔ دوسری چیز، دہلی میں ہی وزیر اعظم ہیں، صدرِ جمہوریہ ہیں۔ یہ سازش ہوسکتی ہے کسی کی۔ فوج اپنے آپ کو اس طرح کی سچویشن کا سامنا کرنے کے لیے ٹائم ٹو ٹائم، اچانک ایکسرسائز کرتی رہتی ہے۔ اور یہ فوج کا دھرم ہے، اور فوج کا فرض ہے۔ فوج کو سب سے زیادہ دقت اس وقت پیش آتی ہے، جب سردی کا موسم ہوتا ہے، جب کہرا ہوتا ہے۔ اس وقت ایئرفورس کا کوئی سپورٹ فوج کو نہیں مل پاتا۔ اور یہ ٹکڑیاں، جو اسٹرائیکر ٹکڑیاں ہوتی ہیں، یہ ٹکڑیاں دہلی سے تھوڑی دور  رکھی جاتی ہیں۔ لیکن ہمیشہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس وقت گرمی ہو، جاڑا ہو، برسات ہو اور کہرا ہو، باقی ایکسرسائز تو ہو چکی تھی، لیکن یہ کہرے والی ایکسرسائز نہیں ہوئی تھی۔ جب ماہرین نے یہ بتایا کہ اُس دن بہت کہرا رہے گا، دھند رہے گی، تو یہ ایکسرسائز اس دن طے کی گئی کہ اس وقت ٹروپس کو دہلی آنے میں کتنا وقت لگتا ہے، کسی بھی ناگہانی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے۔ ٹکڑیاں آگرہ سے اور حسار سے دہلی کی طرف چلیں۔ یہ ٹکڑیاں دو گھنٹے کے نوٹس پر موو کر سکتی ہیں۔ ان ٹکڑیوں کی ٹریننگ ایسی ہوتی ہے کہ انہیں تیار ہونے میں کوئی وقت نہیں لگتا، یہ ہمیشہ تیار رہتی ہیں۔ پر میکسیمم ان کے لیے دو گھنٹے کا ٹائم ہوتا ہے کہ سب کچھ تیار کرکے یہ دو گھنٹے کے اندر اُس ٹربل ایریا کی طرف موو کر جائیں، اگر سرکار یا ملک کی ساکھ کے اوپر کوئی حملہ کرتا ہے۔ شیکھر گپتا کو اُن صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اس ایکسرسائز میں ہمیں کئی مائنس پوائنٹ نظر آئے، مثلاً ٹکڑی کہیں ہے، ہتھیار کہیں ہے۔ یہ پتہ چلا کہ آپ کہاں سے کہاں آ سکتے ہیں، آپ کو یہ سپورٹ مل سکتا ہے یا نہیں مل سکتا ہے۔ یہ کافی محنت کش ایکسرسائز ہوئی اور ہم کو پتہ چل گیا کہ ہم کو اپنی کن کن خامیوں کو دور کرنا ہے۔ اور ان دونوں ٹروپس کو جو ٹاسک دیے گئے تھے، جیسے ہی وہ ٹاسک ختم ہوئے، اُن ٹروپس کو کہہ دیا گیا کہ، ناؤ گو بیک۔ ان کو ایک رات رکنے کے لیے کہا گیا، اس کے بعد ان کو جانے کے لیے کہہ دیا گیا۔
یہ آرمی کی ایکسرسائز تھی۔ لیکن وہ لوگ، جو فوج کی ساکھ ختم کرنا چاہتے تھے اور فوج کی ساکھ ختم کرنے میں میڈیا کو اپنا ہتھیار بنانا چاہتے تھے، انہوں نے اسے دہلی پر قبضہ کرنے کی سازش کے روپ میں مشتہر کرنا شروع کردیا۔ کسی اخبار اور ٹیلی ویژن نے اس کے اوپر بھروسہ نہیں کیا۔ صرف انڈین ایکسپریس نے اس کے اوپر بھروسہ کیا۔ اس کے اسباب ہم بھی تلاش کر سکتے ہیں، لیکن اس کے اسباب کو ایمانداری سے سرکار کو تلاش کرنا چاہیے۔
اب آپ کو ایک اور راز سے روبرو کراتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے نامہ نگار نے کئی سینئر اہل کاروں سے بات کرنے کی کوشش کی اور یہ چاہا کہ کوئی ان سے یہ کہہ دے کہ ہمیں تو ایسا نہیں پتہ، لیکن ہو بھی سکتا ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے، اسٹوری کنفرمیشن کی شکل میں شائع کر دی جائے۔ اس سلسلے میں یہ نامہ نگار نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے دفتر تک گیا۔ انہوں نے انٹرویو دینے سے منع کر دیا، ٹائم دینے سے منع کردیا۔ اسٹوری اس کے بعد بھی رکھی رہی۔ اور شک تب ہوتا ہے، جب سب سے بڑے اہل کاروں میں سے ایک سے شیکھر گپتا نے یہ بات چیت کر لی اور انہوں نے اس کی سچائی شیکھر گپتا کو بتا دی، تب یہ اسٹوری 4 اپریل کو کیوں شائع ہوئی۔ یہ سچائی 22 مارچ کو دوپہر کے کھانے کے وقت شیکھر گپتا کو اُس اہل کار نے بتائی، جہاں وہ تھے اور میں تھا۔ اور جس پر شیکھر گپتا نے تو ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا تھا یا ایسا کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا کہ انہیں اس کی بات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ میں یہاں سوال اٹھاتا ہوں کہ آپ چھوٹے موٹے لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط ہے۔ آپ کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ لیکن آپ جب سب سے بڑے اہل کار، چاہے وزیر اعظم ہوں، وزیر دفاع ہوں یا ڈیفنس سکریٹری ہوں یا آرمی چیف ہوں، جب ان سے پوچھ لیتے ہیں کوئی بات اور وہ کہہ دیتے ہیں کہ نہیں آپ کے پاس جو خبر آئی ہے وہ بالکل غلط ہے، تب پھر آپ اس خبر کو صحیح بناکر شائع کرتے ہیں تو یہ ماننا چاہیے کہ کوئی بہت بڑی طاقت ہے جو اِن چاروں سے بڑی ہے اور آپ سے کام کرا رہی ہے۔ وہ ہتھیاروں کی لابی ہے؟ امریکہ ہے؟ وہ انڈر ورلڈ ہے؟ کیا ہے؟ اس کا جواب ہم شیکھر گپتا سے سرعام مانگنا چاہتے ہیں، کیوں کہ انہوں نے اس ملک میں عدم اعتماد کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا ہے۔
اب سوال ٹائمنگ کا۔ دو چیزوں کی ٹائمنگ کے اوپر سوال اٹھے ہیں۔ ایک، جنرل وی کے سنگھ نے بدعنوانی کی بات کہتے ہوئے کیوں 23 تاریخ کا انتخاب کیا؟ کیوں کہ وہ میرا ہی انٹرویو تھا اور ’ہندو‘ اخبار کا انٹرویو تھا، جس نے ملک کے سامنے جنرل وی کے سنگھ کی اس بات کو رکھا کہ بدعنوانی ہے اور انہیں 14 کروڑ روپے کی رشوت پیش کی گئی ہے۔ میرے انٹرویو کا چرچہ اس لیے ہوا، کیوں کہ میں نے ٹیلی ویژن کے اوپر ان کا انٹرویو لیا تھا، جہاں پر جنرل وی کے سنگھ صاف صاف کہتے ہوئے دکھائی دیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے اس بدعنوانی کے جیسی بہت ساری باتیں اس انٹرویو میں کہیں، جو اتنی ہی اہم ہیں، لیکن ہماری میڈیا نے صرف رشوت والی بات کو اٹھایا، باقی باتوں کو نہیں اٹھایا۔ وہ انٹرویو ہماری ویب سائٹ www.chauthiduniya.com پر موجود ہے، جو چاہیں اسے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صحافت کی تاریخ کا ایک اچھا انٹرویو ہے، اس لیے نہیں کہ اسے میں نے لیا ہے، بلکہ اس انٹرویو نے ملک کے سامنے کئی سارے خلاصے کیے ہیں۔ اب تک جو لوگ آرمی چیف سے انٹرویو لیتے رہے، ان میں سے زیادہ لوگ وہ صحافی ہیں، جو ڈیفنس کو کور کرتے ہیں۔ اور یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ڈیفنس کے 70-75 فیصد صحافی کسی نہ کسی لابی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور وہ سوال بھی ایسے ہی پوچھتے ہیں، تاکہ ان کی لابی کو فائدہ ہو۔ کسی نے اب تک جنرل وی کے سنگھ سے فوج میں بدعنوانی، اسلحوں کی خرید میں بدعنوانی جیسا سوال پوچھا ہی نہیں۔ اور پوچھا بھی، تو اس طرح سے پوچھا جس کے پوچھنے کا کوئی مطلب ہی نہیں تھا، اس لیے جنرل وی کے سنگھ نے جواب نہیں دیا۔ آپ جب وہ انٹرویو پھر سے دیکھیں گے تو یہ پتہ چلے گا کہ بلا جھجک کس طرح ایگریسو ڈھنگ سے میں نے سیدھا سوال پوچھا اور جنرل وی کے سنگھ نے اس کا سیدھا جواب دیا۔ سوال ہی ایسا تھا کہ اس میں ٹال مٹول کی گنجائش نہیں تھی، اس لیے جنرل وی کے سنگھ کو جواب دینا پڑا۔ اس لیے جو لوگ ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہیں، ان کی کم عقلی پر مجھے ہنسی آتی ہے۔ اگر آپ صحیح سوال نہیں پوچھیں گے تو سامنے والا آپ کو جواب کیسے دے گا۔
اب دوسری ٹائمنگ کا سوال، شیکھر گپتا کی اسٹوری کا۔ شیکھر گپتا نے کیوں 4 اپریل کو اس اسٹوری کو چھاپا؟ اس سے پہلے ایک بڑا خلاصہ ملک میں ہوا۔ اور خلاصہ تھا، فوجی سربراہ کے ذریعے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کے لیک ہونے کا۔ جس خط میں جنرل وی کے سنگھ نے وزیر اعظم کو یہ لکھا تھا کہ فوج کی آج یہ حالت خراب ہو گئی ہے، ہمیں اس کے اوپر فوراً دھیان دینا چاہیے۔ اس خط کو لے کر صحافیوں نے اور خاص کر ٹی وی اور پرنٹ میڈیا نے ایک شور مچا دیا کہ جنرل وی کے سنگھ ملک سے غداری کا کام کر رہے ہیں اور انہوں نے اس خط کو خود لیک کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں جنرل وی کے سنگھ کو ملک کا غدار کہا گیا۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ رام کرپال یادو کی زبان کچھ زیادہ چل گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل وی کے سنگھ ’دیش دروہی‘ ہیں، انہیں نکال دینا چاہیے۔ جتنے پرانے وزیر دفاع تھے، کھڑے ہوگئے۔ شیوانند تیواری کھڑے ہوگئے۔ جنرل کو پھانسی دینے کی مانگ کرنے لگے۔ شرد یادو کھڑے ہوگئے۔ یہ سارے وہ لوگ ہیں، جن کے دماغ کے اوپر ملک بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن پہلی بار انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دماغ ہے ہی نہیں۔ اور میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ یہ بے شرمی کے ساتھ چپ رہے۔ جب 2 اپریل کو آئی بی نے یہ اعلان کردیا کہ جنرل وی کے سنگھ کا اس خلاصے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس خبر کو ٹیلی ویژن چینلوں نے دبایا، اس خبر کو اخباروں نے دبایا۔ 3 تاریخ کو آئی بی نے فارمل لیٹر فوج کو بھیج دیا کہ آرمی ہیڈ کوارٹر سے کوئی خط لیک نہیں ہوا ہے، ہم نے پوری جانچ کر لی ہے۔ شرد یادو، لالو یادو، شیوانند تیواری، رام کرپال یادو کی زبان کو لقوہ مار گیا۔ ان کو معافی مانگنی چاہیے تھی کہ انہوں نے کیوں اتنی غیر ذمہ دارانہ بات پارلیمنٹ کا ممبر ہوتے ہوئے کہی۔ اور تب اروِند کجریوال جیسا آدمی کہتا ہے کہ وہاں غیر ذمہ دار لوگ ہیں، تو کیا غلط کہتا ہے۔ یہیں سے اس اسٹوری کی ٹائمنگ طے ہوتی ہے۔ اب اگر خط لیک ہوا تو صرف دو جگہ سے لیک ہو سکتا ہے، جس کو خط لکھا گیا اور جس کو خط کی کاپی بھیجی گئی۔ خط وزیر اعظم کو لکھا گیا، کاپی (سی سی) وزیر دفاع کو بھیجی گئی۔ اگر آرمی چیف کے دفتر سے یہ خط لیک نہیں ہوا تو پھر جانچ وزیر اعظم کے دفتر اور وزیر دفاع کے دفتر کی طرف جاتی ہے۔ سازش کرنے والوں کو جب یہ لگا کہ اب میڈیا کا دھیان اس خط کے لیک کرنے والے ملک کے غداروں پر جائے گا، تب انہوں نے یہ چال چل دی۔ اس کے علاوہ سازش کرنے والوں کو ایک اور فکر لاحق تھی۔ کچھ لوگ، جس میں فوج کے ریٹائرڈ آفیسر اور کچھ ریٹائرڈ جنرل سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس پی آئی ایل میں اگلے آرمی چیف، لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ پر کئی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ سازش کرنے والوں کو لگا کہ اگر سپریم کورٹ اس پی آئی ایل کو تسلیم کرلیتا ہے، تو بہت گڑبڑ ہو جائے گی۔ اس لیے اس پی آئی ایل سے میڈیا اور ملک کے عوام کا دھیان ہٹانا ضروری تھا۔ یہ دن کے اجالے کی طرح صاف ہے کہ ملک کی توجہ ان سوالوں سے ہٹانے کے لیے انڈین ایکسپریس میں اُس خبر کو شائع کروایا گیا، جس خبر کو 22 مارچ کو ملک کے سب سے سینئر اہل کاروں میں سے ایک نے شیکھر گپتا سے ذاتی طور پر خارج کر دیا تھا۔ پھر کیوں شیکھر گپتا نے اس میں اپنا نام جوڑا۔ یہی سوال شیکھر گپتا سے میں اُن سے جونیئر ہونے کے ناطے، لیکن ان کی عزت کرنے والا صحافی ہونے کے ناطے اور سریندر پرتاپ سنگھ کے ذریعے ملوائے جانے کی لبرٹی لیتے ہوئے، پوچھنا چاہتا ہوںکہ 22 تاریخ سے لے کر جب آپ کو پتہ چل گیا اور 2 اپریل کو جب آئی بی کا خلاصہ آگیا، تو کیوں آپ نے یہ اسٹوری کی۔ اس اسٹوری کو کسی اخبار نے نہیں کیا۔ اگر شیکھر گپتا چاہیں گے تو میں پانچ ایسے صحافیوں کا نام بتا دوں گا، جن کے پاس یہ اسٹوری گئی تھی۔ اس کہانی کے پیچھے کی کہانی کے دو حصے اور بھی ہیں۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ شیکھر گپتا صاحب نے ایسا کیوں کیا۔ کہتے ہیں کہ دوستی لوگوں سے کیا کیا کروا دیتی ہے۔ کرن چودھری کانگریس کی بڑی لیڈر ہیں اور ہریانہ حکومت میں وزیر بھی ہیں ۔ ان کی بیٹی شروتی چودھری ہے، جورکن پارلیمنٹ ہے۔ کرن چودھری  شیکھر گپتا کی بہت اچھی دوست ہیں اور تیجندر سنگھ کی فرسٹ کزن، یعنی اپنے چچازاد بھائی ہیں۔ یہ تیجندر سنگھ وہیں ہیں، جن کا آدرش سوسائٹی میں فلیٹ ہے، جس کے خلاف جنرل وی کے سنگھ نے کارروائی کی تھی۔ یہ وہی تیجندر سنگھ ہیں، جنہوں نے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے اپنے انٹرویو میں جنرل وی کے سنگھ پر الزام عائد کیا تھا کہ آپ نے خوامخواہ آدرش معاملہ میں کارروائی کر کے فوج کے کئی پرانے سربراہان، جیسے جنرل دیپک کپور اور فوج کے کئی افسران کی عزت خراب کی۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ آدرش سوسائٹی میں تیجندر سنگھ کا فلیٹ ہے۔ رشوت دینے کا معاملہ جب گرمایا تو تیجندر سنگھ جنرل وی کے سنگھ اور چار دیگر افسران کے خلاف کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ لے کر گئے کہ ’’میں نے تو انہیں رشوت کی پیش کش ہی نہیں کی‘‘۔ لیکن تیجندر سنگھ نے وزیر دفاع کے خلاف مقدمہ نہیں کیا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس انٹرویو میں جنرل وی کے سنگھ نے کسی کا نام نہیں لیا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس شخص نے رشوت دینے کی کوشش کی۔ تیجندر سنگھ کا نام راجیہ سبھا میں پہلی بار وزیر دفاع نے لیا۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ آخر تیجندر سنگھ کو ایسی کیا آگ لگ گئی تھی یا ان کو مرچی لگ گئی تھی کہ انھوں نے اپنے کو خود دلال مان لیا کہ انہی کے خلاف الزام لگا تھا۔
اب کہانی کا دوسرا حصہ۔ وہ کون سی طاقت ہے جو وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کو لیک کر کے ہندوستانی فوج کو شرمسار کرنا چاہتی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ نے وزیر اعظم کو یہ پہلا خط نہیں لکھا تھا۔ یہ ساتواں اورآٹھواں خط تھا۔ جنرل وی کے سنگھ مسلسل وزیر اعظم سے کہہ رہے تھے کہ ملک میں فوج کی یہ حالت خراب ہے، اسے ٹھیک کیجئے ۔ اور یہ حالت دو سالوں میں نہیں ہوئی، یہ گزشتہ پندرہ سالوں میں ہوئی۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے، میری تفتیش بتاتی ہے کہ نرسمہا رائو سے لے کر دیوگوڑا تک اور اٹل بہاری واجپئی سے لے کر موجودہ منموہن سنگھ تک بہت سارے ایسے لوگ اس میں ملوث رہے ہیں، جن کی وجہ سے فوج کی یہ حالت ہوئی ہے۔ ہر سال ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کا بجٹ فوج کے لیے ہوتا ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے یہ بجٹ مسلسل ہر سال خرچ کیا گیا۔ فوج کی یہ حالت کیوں ہے ، برجیش مشرا نے کہا کہ جنرل کو وقت سے پہلے برطرف کر دینا چاہیے۔ ضرور برطرف کر دینا چاہیے، لیکن برجیش مشرا کو تو چوراہے پر کھڑا کر کے سرعام مقدمہ چلانا چاہیے کہ آپ تو ڈی پی مشرا کے بیٹے ہو، وہ تو بڑے محب وطن تھے، ملک کی یہ حالت آپ کے وقت میں تھی، آپ نے عوام کو کیوں نہیں بتایا۔ آپ نے یہ خطرناک حقیقت ملک سے کیوں چھپاکر رکھی اور فوج کی حالت ٹھیک کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا۔ کتنے لاکھ کروڑ روپے میں ایمان بکا تھا این ڈی اے سرکار کا۔ محب وطن بنتے ہیں، لیکن آپ لوگوں کو ملک کی حالت نہیں بتاتے ہیں۔ آپ اقوام متحدہ میں اتنے دن رہے۔ آپ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے دوران ملک کے قومی سلامتی مشیر تھے۔ آپ سب سے بڑے نوکر شاہ تھے۔ آپ کو یہ ضرور نظر آیا ہوگا اور یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ہندوستانی فوج کی کتنی خراب حالت ہے۔ آپ نے نہیں بتایا، یہ شک پیدا کرتا ہے کہ آپ نے کروڑوں لاکھ روپے کی رشوت لی، نہیں تو آپ اس کی وجہ بتایئے کہ کون سی ایسی وجوہات تھیں جن کی بناپر آپ نے ملک کے سامنے اس حقیقت کو نہیں رکھا اور کیا وجہ ہے کہ ہندوستانی فوج کی اس حالت کے انکشاف پر آپ نے ہندوستانی فوج کے سربراہ کو وقت سے پہلے ہی ریٹائر کرنے کا آپ نے مطالبہ کیا۔ شاید اس لیے جتنے بھی پرانے وزرائے دفاع ہیں، فوجی سربراہان ہیں، سب تلملا گئے کہ کہیں یہ ملک 1992کے بعد سے اب تک کے تمام سلامتی سودوں کی تفتیش کا مطالبہ نہ کردے اور ہر سال ایک لاکھ کروڑ روپے ہتھیاروں کے اوپر خرچ ہوئے، وہ کس کی جیب میں گئے۔ اگر ہندوستانی فوج کے ہتھیاروں کی یہ حالت ہے تو ایک طرف چین ہے تو دوسری طرف پاکستان ہے۔ اس بنیادی سوال کو کوئی نہیں اٹھا رہا۔اس لیے، کیونکہ اس بنیادی سوال میں جتنے نام میں نے لیے ہیں، ان میں زیادہ تر اس گڑبڑی کے حصہ دار ہیں۔ اس گڑبڑی کا انجام یہ ہوا کہ اب چین ہندوستان کو دھمکی دے رہا ہے کہ ساؤتھ چائنا سی میں تیل ڈھونڈنے کا کام بند کرے، نہیں تو برا انجام ہوگا۔ برجیش مشرا جیسے لوگ اگر ملک کو گمراہ کرنے میں لگے رہیں گے تو وہ دن دور نہیں جب بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان جیسے ملک بھی ہندوستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں گے۔
اب تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے جس نے اس لیٹر کو لیک کرایا۔ جس نے بھی لیک کرایا، اس نے دو کام کیے۔ پہلا کام، اس نے دشمنوں کو یہ بتا دیا کہ ہندوستانی فوج ہندوستان کے بدعنوان سیاست دانوں کی وجہ سے کتنی کمزور ہو گئی ہے، جس میں فوج کے پچھلے بدعنوان جنرل بھی شامل ہیں۔ کسی کا آدرش میں فلیٹ ہے، کسی نے کہیں زمین قبضہ کر لیا ہے، کسی نے دوسرے ملک میں گھر خریدلیا ہے اور ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل، جس کی تنخواہ کچھ ہزار روپے ہے، وہ اس وقت مرسیڈیز ای- کلاس میں گھومتا ہے، جس کی قیمت 65لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ اور حکومت کی آنکھیں بند ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی کیسے جی رہا ہے، چاہے وہ جیسے بدعنوانی کرے۔ پھر وہ ٹیلی ویژن پر آتا ہے اور صحافیوں کو کھلاتا پلاتا ہے، صحافی اس کی اسٹوری دکھاتا ہے اور اسے گلیمرائز کرتا ہے۔ یہ ہے ہمارا میڈیا۔ جس اسٹوری کے بارے میں میں آپ کو بتا رہا ہوں، ایک ایک چیز کا ثبوت میرے پاس ہے۔ اس لیفٹیننٹ جنرل کا نام میرے پاس ہے، جو ای-کلاس مرسیڈیز میں گھوم ر ہا ہے، ریٹائر ہونے کے بعد۔ اس نے دوسرا فائدہ ہتھیاروں کے سوداگروں کا کیا۔ اب ساری دنیا کی ہتھیار فیکٹریوں نے اس خط کے لیک ہوتے ہی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور ملک میں زیادہ رشوت پیش کی جانے لگی ہے ۔ جیسے ہی جنرل وی کے سنگھ ریٹائر ہو کر اپنے گھر جائیں گے، آگے آنے والے کئی جنرل، بدعنوان نوکر شاہ اور بدعنوان سیاست داں مل کر اس ملک میں دلالی کی نئی داستان لکھیں گے۔ اگر یہ نہیں ہوتا ہے تو دنیا کا یہ سب سے حیر ت انگیز کارنامہ ہوگا۔
یہ ہے اس ملک کی اندرونی حالت، جس میں بدعنوانی، دلالی، ٹریچری، ملک سے غداری سب شامل ہے۔ اب وزیر اعظم کے دفتر اور وزیر دفاع کے دفتر کے لیے کوئی جانچ کی مانگ نہیں کر رہا کہ خط کیسے لیک ہوا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ آئی بی کو برائب کر لیں گے اور آئی بی کوئی نہ کوئی گول مول جواب دے دے گی اور جنرل وی کے سنگھ کو برخاست کر دیا جائے گا۔ لیکن اب سب خاموش ہیں اور بات آگے نہ بڑھے، اس کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور ہمارا عظیم سپریم کورٹ، جس سے انصاف مانگنے جاتے ہیں اور وہ انصاف نہیں دیتا، وہ کہتا ہے کہ آپس میں فیصلہ کر لو۔ اس نے جنرل وی سنگھ بنام سرکار کے تاریخ پیدائش تنازع پر یہی کہا کہ ہم کچھ نہیں کہیں گے، آپ آپس میں ہی فیصلہ کر لیجئے۔ لیکن فیصلہ کرنے کی اس رائے پر حکومت خاموش ہے اور جنرل وی کے سنگھ کو وقت سے آٹھ ماہ قبل پری میچیور ریٹائرمنٹ دے رہی ہے۔سرکاری کاغذوں میں 1951 ہی درج ہے۔ سرکار قانوناً ابھی 1950 کر نہیں سکتی، کیونکہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکا ہے کہ تاریخ پیدائش ہائی اسکول سرٹیفکٹ کے مطابق ہوگی۔ ہائی اسکول کا سرٹیفکٹ 1951 بتا رہا ہے۔ اس لیے سرکار اپنے حکم سے اسے 1950کر نہیں سکتی، لیکن وہ چاہتی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ ریٹائر ہو جائیں۔ ابھی سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ جنرلس نے ، جن میں بحریہ، فضائیہ، بری فوج کے اور نوکر شای کے سینئر افسر شامل ہیں، انھوں نے ایک پی آئی ایل داخل کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پی آئی ایل میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ سپریم کورٹ اس بار سبھی سوالوں پر اپنی واضح رائے دے گا، اس میں جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش بھی شامل ہے۔ میں اس رپورٹ کو پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں اور میں شیکھر گپتا سے اس رپورٹ کو لکھنے کے لیے کوئی معافی نہیں مانگوں گا۔ میں شیکھر گپتا کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی ایک تصویر تھی جو میں نے 1982سے بنا رکھی تھی۔ آپ کو میں دیکھتا تھا، آپ کو میں ایڈمائر کرتا تھا۔ ویسے ہی ایڈمائر کرتا تھا جیسے میں شری سریندر پرتاپ سنگھ کو ہمیشہ کرتا رہا تھا۔ آپ ان کے دوست تھے اور وہ آپ کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن آپ نے اپنی تصویر ایک سیکنڈ میں توڑ دی اور انڈین ایکسپریس کی تصویر تو آپ نے کروڑوں ہندوستانیوں کے دل سے توڑ دی۔ اور یہ پتہ چلا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے، چاہے وہ انڈین ایکسپریس ہی کیوں نہ ہو، اس کی بھی ایک قیمت ہے۔g
انڈیا ٹوڈے کا سچ
اس سازش کا ایک اور اہم حصہ۔ انڈیا ٹوڈے نے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف کور اسٹوری شائع کی۔ اور انڈیا ٹوڈے گروپ کا روزنامہ ، میل ٹوڈے، جس کے پہلے بھارت بھوشن ایڈیٹر تھے، اور اب انھوں نے شاید اس لیے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ ان سے وہ کرنے کو کہا جا رہا ہوگا جو وہ نہیں کرنا چاہتے تھے، جو غلط تھا۔ اس گروپ نے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ جس بات چیت کو ہم نے شائع کیا اس میں اُنّیتھن کا نام ہے۔ یہ انیتھن ، سندیپ انیتھن ہیں جو انڈیا ٹوڈے میں جنرل کے خلاف کور اسٹوری کر تے رہے ہیں۔ سندیپ انیتھن کے خلاف ایک ایف آئی آر ہوئی ہے، کیونکہ انھوں نے صحافی رہتے ہوئے ایک فراڈ کیا اور ایک غلط سرٹیفکٹ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا، پُنے کے آرمی اسپتال سے بنوایا ۔ اس میں جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 1949 بتائی گئی ہے۔ اس کہانی کے پیچھے کی کہانی کچھ اور ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے پاس ایک بڑی اسٹوری بی جے پی کے صدر نتن گڈکری کے خلاف آئی۔ یہ اسٹوری نتن گڈکری کے کریئر کو برباد کر سکتی تھی۔ انڈیا ٹوڈے یہ اسٹوری نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انڈیا ٹوڈے نتن گڈکری کو بچانا چاہتا تھا۔ اس لیے انڈیاٹوڈے میں فیصلہ لینے والے لوگوں نے طے کیا کہ ابھی جنرل وی کے سنگھ ایک ایسے بکرے ہیں، جنہیں آسانی سے کاٹا جا سکتا ہے، جن کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ اس لیے گڈکری کی جگہ جنرل وی کے سنگھ کا سوال اٹھائو۔ اس لیے وہ اسٹوری کی گئی۔ اور جب اسٹوری ہو گئی تب انیتھن سے جنرل تیجندر سنگھ نے ریٹائر ہونے کے بعد رابطہ کر لیا اور وہاں سے ہر ایک نے اپنے اپنے مفادکے مطابق کام کرنا شروع کر دیا۔ سندیپ انیتھن صاحب پہلے جس آرگنائزیشن میں تھے، شاید نیوز ایکس میں تھے، وہاں سے وہ کیوں ہٹائے گئے، اس بارے میں نیوز ایکس والے کئی کہانیاں بتاتے ہیں۔ شاید جس وجہ سے وہ وہاںسے نکالے گئے ، اسی وجہ سے وہ انڈیا ٹوڈے میں رکھ لیے گئے۔
تیجندر سنگھ کون ہے
وزارت داخلہ یا وزیر اعظم کے دفتر کے تحت آنے والی سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے خریداری کرنے میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے وزیر دفاع اے کے انٹونی سے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے رشوت دینے کی پیش کش کی تھی۔ یہ بات فوج کو سامان فروخت کرنے والے لوگوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیجندر سنگھ ریٹائرڈ میجر ہڈا اور ان کے بیٹے کے ساتھ مل کر یہ کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جانکاری ہے کہ ان دونوں کی پہچان وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بیٹے کارتک چدمبرم سے بھی ہے۔ میجر ہڈا کا بیٹا کئی کمپنیوں کی چیزیں پروموٹ کرتا ہے، جن میں کچھ غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ہڈا کا تعلق ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہے۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیجندر سنگھ ایک سابق آرمی چیف کے کافی قریب رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آئندہ کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ بہت اچھے ہیں۔ اس کی چھان بین کی جانی چاہیے، لیکن یہ تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ دونوں کے تعلقات کے سبب مستقبل میں فوج کے لیے ہونے والی خریداری متاثر ہوگی۔ غور طلب ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے ہتھیار مافیائوں کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ حکومت نے جنرل وی کے سنگھ کے جانشیں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کو اس بات پر بھی صفائی دینے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کا کائونٹر انسرجنسی آپریشن کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے، جس کے سبب اگلا آرمی چیف انہیں ہی بنایا جانا چاہیے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ، ہڈا اور دوسرے لوگوں پر سیکورٹی ایجنسیوں کے سامانوں کی خرید کے لیے کیے جانے والے فیصلے متاثر کرنے کے الزامات لگائے جانے کے باوجود سی بی آئی نے اس کی جانچ کرنے میں اپنی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ ان ایجنسیوں میں رائ، این ٹی آر او اور ایوی ایشن ریسرچ سروِس شامل ہیں۔ ان ایجنسیوں کے لیے کی جا رہی خرید شک کے گھیرے میں ہے، لیکن پھر بھی اس کی جانچ نہیں کی جا رہی ہے۔ اسے کیا کہا جاسکتا ہے۔ جب تک جانچ نہیں ہوتی ہے، تب تک کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے، لیکن یہ بھی صاف ہے کہ جانچ کی کمی کے سبب ابھی بھی کارتک چدمبرم پر شک کیا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کارتک پر لگائے جارہے الزام غلط ہوں۔ کاروبار اور سیاست میں ان کی کامیابی کے سبب حسد سے کچھ لوگ ایسا الزام لگا رہے ہوں، لیکن اس کا پتہ جانچ کے بعد لگے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکار کی ایک اہم سیکورٹی ایجنسی نے ہڈا اور تیجندر سنگھ کے معاملے کی جانچ سی بی آئی اور آئی بی دونوں سے کرانے کو کہا ہے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کیوں کہ دونوں کے اوپر کچھ طاقتور لوگوں کا ہاتھ ہے۔ جنرل سنگھ نے جب اس کے خلاف آواز اٹھائی تو یہ لوگ ان کے خلاف ہوگئے اور انہیں بھلا برا کہنے لگے۔ حالانکہ وزیر دفاع نے جنرل وی کے سنگھ کی مخالفت نہیں کی، لیکن لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو آرمی چیف کے لیے سب سے قابل دعویدار انہوں نے بھی بتایا۔ کہا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کے آرمی چیف بننے کے بعد جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے شروع کرائی گئی جانچ آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔ اب تو یکم جون، 2012 کا انتظار ہے، جب لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو آرمی چیف بنایا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بکرم سنگھ اپنے اوپر لگائے جا رہے ان الزامات کو غلط ثابت کرتے ہیں، مافیاؤں کے خلاف کارروائی کرنے والی جماعت میں شامل ہوتے ہیں یا پھر اپنے اوپر لگائے جا رہے الزامات کو صحیح ثابت کر دیتے ہیں۔

جو لکھا نہیں گیا
شیکھر گپتا صاحب کے انڈین ایکسپریس کی اس پوری کہانی کے دو حصے اور ہیں۔ پہلا حصہ، جب وزیر اعظم کولکاتہ گئے تھے تب وہاں رات میں ان کے ساتھ اس پوری کہانی کے بانی سابق فوجی سربراہ اور اب گورنر، جنرل جے جے سنگھ رات کا کھانا کھانے کے لیے خصوصی طور پر اڑکر کولکاتہ آئے تھے اور اس ڈِنر میں، جو وزیر اعظم صاحب کی بہن کے گھر وہا تھا، اس میں لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ، جو ایسٹرن کمانڈ کے ہیڈ ہیں اور کولکاتہ ان کا ہیڈ کوارٹر تھا، وہ بھی اس ڈِنر میں شامل تھے۔ اس ڈِنر کا ریکارڈ کولکاتہ پولس کے پاس ہے، کیونکہ جنرل جے جے سنگھ اور لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کا موومنٹ پولس نے ریکارڈ کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ ہندوستان کے ہونے والے فوجی سربراہ ہیں۔ انہیں اس ڈِنر میں جانے سے شاید بچنا چاہیے تھا، کیونکہ اس وقت ہندوستانی فوج میں کافی ہلچل مچی ہوئی تھی اور ایک دوسرے پر شکوک و شبہات بڑھ رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو احتیاط برتنے کی ضرورت اس لیے تھی، کیونکہ وہاں وزیراعظم منموہن سنگھ موجود تھے۔ اس سے ان افواہوں کو بھی تقویت ملتی ہے کہ منموہن سنگھ جنرل بکرم سنگھ کو فوجی سربراہ بنوانا چاہتے ہیں اور جس کے لیے انھوں نے حکومت کی ساکھ دائو پر لگا دی ہے۔ فوج کے بڑے افسران کا سیاسی افسران سے غیر رسمی طریقہ سے ملنے جلنے کو عوامی جمہوریت میں ویسے بھی ٹھیک نہیں مانا جاتا ہے۔ اس سے افواہوں کا بازار گرم ہوتا ہے۔

….

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “ہندوستانی فوج کو بدنام کرنے کی سازش کا پردہ فاش

  • April 30, 2012 at 8:27 pm
    Permalink

    یہ بہت ہی لاجواب پاپڑ ہے اسکے مزمیں بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں اور اسمیں چھپنے والے مراسلے نہایت ثالث ہوتے ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *