کانگریس کی ہار کی ایک وجہ یہ بھی

عاقل زیاد
اتر پردیش میں کانگریس کی ناکامی اور ملک میں اس کی مسلسل گرتی ساکھ سے ملک کے سیکولر طبقہ میں حیرانی تو ہے، ساتھ ہی وہ اس انجام سے انجان بھی نہیںہے۔ آج کانگریس کے بڑے بڑے سورما اپنے سیاسی جلسوں میں گزشتہ انتخابات میںحاصل شدہ سیٹوں کے اعداد و شمار کی قلابازی سے اضافہ کی بات کرتے ہیں تو وہ محض اپنی شرمندگی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔مسلمانوں کو سیکولر چہرہ دکھانے والی کانگریس دہشت گردی کی سیاست میں ہمیشہ ہندوتوا کے ایجنڈے پر کام کرتی رہی۔ خیال رہے کہ ہر تازہ زخم پرانے زخموں کو بھی ہرا کردیتا ہے اور اس کی ٹیس نئے زخم کے مقابلے زیادہ اذیت ناک ثابت ہوتی ہے۔

شروع زمانے سے ہی کانگریس نے بھی مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کو قصائی کے کھونٹے سے بندھے بکرے کی طرح دیکھا۔ لہٰذا ہندوتوا کے حامل سیاستدانوں کی طرح وہ بھی اسے ’ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے‘ سمجھ کر اپنے خفیہ ایجنڈے کو انجام دیتی رہی۔ ظاہری طور پر سیکولر پسندی کا مظاہرہ اور اندر اندر مسلمانوں کی جڑ کاٹنے کی پالیسی کو مسلمان سب کچھ جانتے ہوئے بھی نظرانداز کرتے رہے، کیونکہ سیکولر پسندی کی روسے ان کے آگے کانگریس کے علاوہ قومی سطح پر کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ بابری مسجد کا انہدام اور گجرات فساد کے بعد آئے دن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر کانگریس کی پر اسرار خاموشی اس کا بین ثبوت ہے۔

احمد آباد اور بھاگلپور کو چھوڑ کر 80کی دہائی سے قبل یا اس کے بعد راجیو گاندھی کے دور اقتدار تک ہر ایک ٹائم فریم میں جھانک کر دیکھیں، تو مسلمانوں پر جب بھی برا وقت آیا ہے، کانگریس کا ہی زمانہ رہا ہے۔ فسادات کو فی زمانہ اوچھی اور گھنائونی سیاست سمجھا گیا اور اس پر ہزار طریقہ سے لعنت وملامت کی گئی۔ ایسے میں مسلمانوں کی ترقی اور اس کے بڑھتے وسائل کو محدود کرنے کے لیے ہندوستان میں دہشت گردی کو ایک نئے حربہ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ مغربی ذہانت کے زیر اثر نئے مسلم مخالف لائحہ عمل کو ہندوستان کی ہندو نواز تنظیموں نے جب ہاتھوں ہاتھ لیا تو کانگریس نے بھی اسے اپنے فرض منصبی کے موافق سمجھا۔ شروع زمانے سے ہی کانگریس نے بھی مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کو قصائی کے کھونٹے سے بندھے بکرے کی طرح دیکھا۔ لہٰذا ہندوتوا کے حامل سیاستدانوں کی طرح وہ بھی اسے ’ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے‘ سمجھ کر اپنے خفیہ ایجنڈے کو انجام دیتی رہی۔ ظاہری طور پر سیکولر پسندی کا مظاہرہ اور اندر اندر مسلمانوں کی جڑ کاٹنے کی پالیسی کو مسلمان سب کچھ جانتے ہوئے بھی نظرانداز کرتے رہے، کیونکہ سیکولر پسندی کی روسے ان کے آگے کانگریس کے علاوہ قومی سطح پر کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ بابری مسجد کا انہدام اور گجرات فساد کے بعد آئے دن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر کانگریس کی پر اسرار خاموشی اس کا بین ثبوت ہے۔
آنجہانی اندارا گاندھی کے دور اقتدار کو دیکھیں تو ملک میں فسادات برپا کرکے مسلمانوں کی جان ومال کے بدلے وزارت، عہدہ یا کسی ادارے کی منظوری سے انہیں اپنا غم غلط کرنے کی ترغیب دی جاتی رہی۔ ہاں، وہ دور جہالت اور غربت کا زمانہ تھا۔ آج نسبتاً تھوڑی بہتری آئی ہے اور جب مسلمانوں نے اپنے دم پر کفالت کی طرف قدم بڑھایا تو اسے دہشت گردی کی سیاست میں گھسیٹا جانے لگا۔ پہلے بھی مسلمان کے ووٹوں پر ہی مرکز میں حکومت کی بنیاد رکھی جاتی تھی اور آج بھی مسلمان ہی مرکزی اقتدار کے ضامن ہیں۔پہلے بھی اقتصادی اور معاشی سطح سے کمزور مسلمان کانگریس کو ہی اپنے دکھ درد کا نجات دہندہ سمجھتی تھی بلکہ آج بھی کانگریس کی طرف ہی اس کا دلی جھکائو ہے۔ مگر نہ تو وہ حالات رہے اور نہ ہی پرانی سوچ۔ ڈرا دھمکا کر سیاست کرنے والی علاقائی پارٹیوں سے حراساں مسلمان آخر کیوں کانگریس کے منکر ہوئے۔ملک کا ایک ذمہ دار مسلمان شہری جب ایسا کہتا ہے تو ظاہر ہے یہ بھی کانگریس سے اپنے دیرینہ تعلق کی بنا پر ہمدردی کا اظہارہے۔ہر سیاسی جماعت کے پاس اپنے اعداد وشمار ہوتے ہیں، ممکن ہے اس شرمناک شکست کے بعد بھی کانگریسی رہنما اپنے اعداد وشمار کے غیر فہم پیچ و خم سے بڑے بڑے دعوے کرتے ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یو پی میں کانگریس کے ہارنے کی سب سے بڑی وجہ دہشت گردی کی سیاست کے تحت بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آزادی سے لے کر اب تک ملک میں مسلمانوں نے جتنا کھویا ہے، اس کا تناسب کسی اور ہندوستانی سماج میں نہیں ملے گا۔ سب نے اپنی اپنی قربانیوں کے بدلے حصہ سے زیادہ پایا، لیکن مسلمانوں نے اپنے حصے کے لیے کبھی کسی غیرجمہوری طریقہ پر سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ہر دور اور ٹائم فریم کے اندر مسلمانوں نے دوسروں کو خوش ہوتا دیکھ کر خود بھی خوش ہونے کی کوشش کی ہے۔کسی خاص خطہ میں جب کبھی سیاسی ناانصافی حد سے تجاوز کر گئی تو مسلمانوں نے محض ایک صدائے احتجاج بلند کی اور ’آئے تو روزی، نہیںتو روزہ‘ کے فارمولے پر صبر کرلیا۔ آج رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ہو یا سچر کمیشن کی سفارش، مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب میں ان کے صبر وضبط کی وجہ سے پسماندگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔دوسری قوموں کی طرح اپنے مطالبات کے لیے انہوںنے کبھی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ اس کی ایک مثال ایسے بھی دی جاسکتی ہے کہ کسی شہر میں فسادات ہوئے اور مسلم نوجوانوں کواشتعال دلانے کے لیے ان کے گھروں تک چوڑیاں اور کنگن بھی بھجوائے گئے، لیکن انہوںنے خون کے گھونٹ پی کر بھی ضبط کیا۔ یقینا انہوں نے ہر برے وقت میں عدم تشدد کے فلسفے پر چل کر گاندھیائی نظریات کے حامل ہونے کا ثبوت دیا ہے، لیکن ہندوتوا کے ایجنڈے پر چلنے والی سیاسی جماعتوں نے اسے ان کی کمزوری سمجھی، جبکہ مسلمانوں نے عزت وآبرو اور اپنے مذہبی اقدار کے ساتھ زندگی گزارنے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے برعکس سیاسی جماعتوں نے، یہاں تک کہ ان کے سب سے قریبی کانگریس نے بھی ہر ایسے وقت میں ان کی دل آزاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج جب پانی سر سے اوپر آگیا اور ملک میں جہاں تہاں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ ملت کے ہونہار نوجوانوں کو بلا وجہ دہشت گردی میں گھسیٹنے کی مذموم حرکت کی جانے لگی، توان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ آخر کار انہوںنے خاموشی کو ترجیح دی اور انتخاب آتے ہی اپنی تمام ناراضگی کا بروقت اظہار کرکے گویا کانگریس کو اپنی اوقات دکھانے کی ٹھان لی۔
یوپی کے حالیہ انتخاب میں کانگریس کی سرگرمی اور انتخابی تشہیر سے مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ جبکہ کانگریس کو اپنے پرانے فراما برداروں پر ایمان کی حد تک اعتماد بھی قائم تھا۔ دن رات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سونیا، راہل اور پرینکا چھائے رہے۔ اکھلیش کمار یادو پر میڈیا کی کوئی خاص توجہ بھی نہیں تھی، لیکن انتخاب جب اپنے آخری مرحلے میں آیا تو ملک کی سفاک میڈیا کا دھیان اکھلیش یادو کی طرف گیا اور اس کے بعد تو پھر اکھلیش کمار ہی رہ گئے، راہل گاندھی کا نام ونشان بھی اسکرین سے مٹ گیا۔یہ سفاک اور مغرب زدہ میڈیا ہے جو مسلم ایشوز ہائی لائٹ کرنے میں اپنی پوری مہارت دکھاتا رہا ہے، لیکن ہندو دہشت گردی میں ملوث گنہگاروں پر پردہ ڈالنے کی ممکنات کی حد تک کوشش کرتا رہا۔ آج کانگریسی رہنما جب پارٹی میٹنگوں میں اپنی ہار کے اسباب پر نظر ڈالتے ہوںگے تو یقینا وہ اپنی کمزروریوں پر قابو پانے کی حکمت عملی پر غور کرنے میں اپنا وقت ضائع کررہے ہوںگے، جبکہ اس وقت انہیں اپنی پالیسی میں اصلاح لانے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔آج یوپی کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، آنے والے دنوں میں بہار ، بنگال اور ایسی ہی کئی ریاستیں ان کی پہنچ سے دور ہوجائیںگی۔ سورن مندر آپریشن جیسے گناہ کی تلافی میں ملک کی باگ ڈور سکھوں کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہاتھوں میں دے کر کانگریس اقلیت کی دوسری بڑی جماعت کی خوشنودی حاصل کرنے میں تو لگی ہے، لیکن ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ دہشت گردی کی سیاست میں بے قصور مسلمانوں کو گھیرے جانے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، توایسے میں آخر سیکولر پسندی کا ڈھونگ کیوں؟ ایک جذباتی قوم کی نمائندگی میں خلوص کا مظاہرہ ضروری ہے، ورنہ مایوس ہوتی ہوئی جماعت موقع ملتے ہی اپنا حساب چکتا کرلیتی ہے۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *