چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پستے سری لنکا کے مسلمان

عزیز اے مبارکی
سری لنکا میں 25 سالوں تک چلنے والی خانہ جنگی کے دوران پوری توجہ وہاں کے اکثریتی طبقہ ،سنہلیوں اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت، تملوں پر ہی مرکوز رہی، جب کہ سری لنکا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 9 فیصد ہے جو خود کو ایک علیحدہ نسلی گروہ تصور کرتے ہیں، لیکن انہیں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سری لنکا کے مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ملک میں پائیدار امن کو بحال نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس کے لیے خانہ جنگی کے دوران مسلمانوں کے ذریعے نبھائے گئے رول کو سمجھنا اور ان کی سیاسی تمناؤں کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ سری لنکا کے مسلمان صدیوں سے ملک کی دو آبائی برادریوں، یعنی سنہلیوں اور تملوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے مد نظر زندگی گزارتے آئے ہیں اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے قریبی سماجی و اقتصادی روابط رہے ہیں۔ مسلم اور تمل بچے سالوں سے ایک ہی اسکول میں پڑھتے آئے ہیں، لیکن ثقافتی سرگرمیوں اور کھیلوں میں ان کے کردار الگ الگ رہے ہیں۔ تاہم، سری لنکا میں جب نسلی بحران نے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی اور تمل نوجوانوں نے ہتھیار اٹھالیے اور اس طرح ایل ٹی ٹی ای (لبریشن آف تمل ٹائیگرس فار ایلم) کی تشکیل ہوئی، تو اسّی کی دہائی میں مشرقی سری لنکا میں مسلمانوں اور تملوں کے درمیان بھی مفادات کی لڑائی شروع ہوگئی۔ ابتدائی ایام میں یہ تصادم زیادہ شدید نہیں تھا اور سیاسی سطح پر قابو پایا جاسکتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ 1990 کے آتے آتے اس نے اُس وقت زور پکڑ لیا، جب تمل ٹائیگرس نے مسلمان شہریوں پر حملہ کرنا شروع کردیا اور بٹّی کلوا کی ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ حالانکہ اس واقعہ سے پہلے، روایتی طور پر تمل اور مسلم باہم شیر و شکر ہوکر سماجی زندگی گزار رہے تھے اور بڑے پیمانے پر ایک دوسری برادری کا ہاتھ بھی بٹایا کرتے تھے۔ سری لنکا میں مسلمان تاجر، ٹیلر اور لوہا بیچنے کے پیشہ میں مشغول تھے، مزدوری کیا کرتے تھے اور دانشور بھی تھے۔ جافنہ میں بھی مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی اور اس قصبہ کے ایک چھوٹے حصہ پر ان کا قبضہ تھا۔ جافنہ کی تاریخی یونیورسٹی میں بھی مسلمانوں نے ایک اہم رول ادا کیا۔ لیکن ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں جب مختلف اضلاع کی ترقی کا سلسلہ شروع ہوا، تو مسلمانوں کا زبردست اقتصادی نقصان ہوا اور انہیں نظر انداز کیا جانے لگا۔ لہٰذا، مسلم نوجوان سرکاری اندیکھی کی وجہ سے عسکریت پسند تمل آئڈیولوجی کے جھانسے میں آگئے، اور اس طرح ایل ٹی ٹی ای کے ملٹری وِنگ میں شمولیت اختیار کرنی شروع کردی۔ مسلمانوں کے متعدد گاؤں اور قصبوں میں ایل ٹی ٹی ای نے اپنے برانچ آفس کھولنے شروع کردیے اور اس طرح مسلمانوں کے کچھ مخصوص طبقوں میں اسے مقبولیت حاصل ہونے لگی۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک اس لیے نہیں چل سکا، کیوں کہ اپریل 1985 میں سری لنکا کے اندر مسلمانوں اور تملوں کے درمیان زبردست فرقہ وارانہ فساد شروع ہوگئے۔ اس کی شروعات شمالی سری لنکا کے منّار قصبہ سے ہوئی، جہاں پر تمل ٹائیگرس نے ایک مسجد کے اندر نماز ادا کررہے تین مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 1985 کے ان فسادات کے بعد تملوں نے مسلمانوں کے تئیں اپنی پالیسی پوری طرح تبدیل کردی اور ملک کے شمال مشرقی حصہ کے پولونّا رُوا اور مشرقی صوبوںکے ایراوُر کے معصوم مسلمانوں پر مظالم ڈھانے شروع کردیے۔ ہزاروں مسلم مردوں، عورتوں اور بچوں کو ان کے گھروں، کھیتوں اور بازاروں میں ہلاک کردیا گیا۔ جافنہ کے تمام مسلمانوں کو بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے نکال کر بے گھر کر دیا گیا۔ سری لنکا کے یہ مسلمان اب بھی مختلف کیمپوں میں پناہ گزینوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور انہیں اپنے آبائی گھروں کو واپس لوٹنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایل ٹی ٹی اے نے تمل اکثریت والے اضلاع میں مسلمانوں کا مکمل طور پر صفایا کرنے کا پلان بنا لیا تھا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اُن کے لیے اب کوئی ہمدردی باقی نہ رہی اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بنتے چلے گئے۔
حد تو تب گئی، جب 23اکتوبر، 1990 کو مسلمانوں کو آخری وارننگ دی گئی کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر اپنے تمام گھر بار اور مال و دولت چھوڑ کر ’تمل لینڈ‘ خالی کردیں۔ ایل ٹی ٹی ای کے بندوق بردار کیڈر مسلمانوں کے ایک ایک گاؤں میں چکر لگانے لگے اور انہوں نے ضلع کی سطح پر موجود اپنے لیڈروں کے ذریعے لکھے گئے خط مسلمانوں کے تمام مسلم ٹرسٹی، امام اور مذہبی رہنماؤں کو بانٹنے شروع کردیے اور ان سے کہا کہ وہ لاؤڈ اسپیکر پر اس خط کو پڑھ کر سنائیں۔ اس خط میں لکھا گیا تھا کہ مسلمان 48 گھنٹے کے اندر اپنے گھر خالی کردیں اور اپنے سامان جیسے گاڑیاں، ریڈیو، سلائی مشینیں، واٹر پمپ وغیرہ گاؤں کے کسی مخصوص اسکول میں ایل ٹی ٹی ای کیڈرس کے حوالے کردیں۔ اس خط کے ذریعے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ یہ حکم ایل ٹی ٹی ای کے اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، جس کی نافرمانی کرنے والے کو موت کی سزا دی جائے گی۔ 48 گھنٹے کی مدت پوری ہونے کے بعد ایل ٹی ٹی ای کیڈرس نے گاؤں کے ہر گھر میں جاکر مسلمانوں کو ان کے گھروں سے دھکے مار کر باہر نکالنا شروع کردیا، گاؤں سے باہر جانے والے کسی ایک مقام پر تمام مسلم مردوں، عورتوں اور بچوں کی تلاشی لی جانے لگی، عورتوں کے گلے سے بھاری زیورات کو نکالنے کے لیے لوہا کاٹنے ولا اوزار استعمال کیا گیا، اور ہر خاندان کو صرف 200 روپے (اس وقت کے 5 امریکی ڈالر) اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی۔ بعض جگہوں پر تو مسلمانوں کو اپنا کپڑا بدلنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مسلمانوں کے تمام اثاثوں پر ایل ٹی ٹی ای کا قبضہ ہوگیا۔
شمالی صوبہ (مُلّئی تیوو اور کِلی نوچی) کے مسلمانوں کا بھی ایسا ہی حشر ہوا۔ مجموعی طور پر 95 ہزار مسلم مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے گھر کر دیا گیا۔ مسلمانوں کے ساتھ سری لنکا میں اتنی بڑی ناانصافی ہوئی، لیکن خانہ جنگی کی داستان میں اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ یکے بعد دیگر سری لنکا کے اندر بننے والی حکومتوں نے بھی مسلمانوں کی اس حالت زار کا کوئی نوٹس نہیں لیا، اور مسلمان یونہی در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ کیمپوں کے اندر تعلیم، صحت اور صاف صفائی کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان مسلمانوں کو متعدد مسائل سے دوچار ہونا پڑا، ان کی زندگی سرکاری یا خیراتی تنظیموں کے رحم و کرم پر گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتی رہی۔
2002 کا جنگ بندی معاہدہ بھی بہت سے مسلمانوں کے لیے بد اطمینانی کا سبب ہوا۔ امن مذاکرات میں انہیں کوئی فیصلہ کن نمائندگی نہیں ملی۔ انہیں یہ خطرہ لاحق تھا کہ اس معاہدہ کے تحت ایل ٹی ٹی کو شمالی اور مشرقی علاقوں میں جو بے مہار کنٹرول عطا کیا گیا، اس سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں اور ایل ٹی ٹی ای کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہوا، لیکن مسلمانوں پر حملے اب بھی ہوتے رہے۔ 2006 کے وسط میں تملوں کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران بھی مشرقی خطوں کے مسلمان دو پاٹوں کے درمیان پستے رہے۔ درجنوں مسلمان مار دیے گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ یہاں پر قابل ذکر ہے کہ سری لنکا کے مسلمانوں نے سیاسی مقام حاصل کرنے کے لیے کبھی مسلح بغاوت کا سہارا نہیں لیا، بلکہ کچھ نے تو سلامتی دستوں میں رہتے ہوئے کام کیا، البتہ شروع میں کچھ مسلمان ایل ٹی ٹی ای کا حصہ ضرور بن گئے تھے۔ مسلمانوں کی ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ آپسی اختلافات کو پرامن بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے دور کیا جائے، لیکن اس بات کی گارنٹی دینے والا کوئی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ہمیشہ عدم تشدد کا برتاؤ کیا جائے گا، جب کہ مشرقی خطہ میں مسلم نوجوانوں کے درمیان زبردست غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔ بعض علاقوں میں مسلم مسلح گروپ ضرور موجود ہیں، لیکن وہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں، جس سے کہ ملک کی سلامتی کو کوئی بڑا خطرہ درپیش ہو۔ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے اپنے سیاسی مفادات کو پورا کرنے کے مقصد سے نام نہاد اسلامی دہشت گردی کے ابھرنے کی تشویش ہمیشہ ظاہر کی گئی۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر مسلمانوں کو اپنی جان و مال کا کوئی خطرہ نظر آئے گا تو وہاں پر فرقہ وارانہ تصادم شروع ہوسکتے ہیں۔
سری لنکا کے مسلمانوں پر صرف تمل ٹائیگرس کی طرف سے ہی مظالم نہیں ڈھائے گئے، بلکہ سنہلی برادری نے بھی وہاں کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ 1915 کا نسلی تصادم سری لنکا کی تاریخ کا سب سے بڑا فساد تھا، جب اُس وقت کے ملک کے سب سے مشہور بودھ مذہبی رہنما، اناگاریکا دھرم پالا نے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقریریں کرنی شروع کردیں، مسلمانوں کو ’ اجنبی‘ اور ’غیر ملکی‘ کا خطاب دیا گیا اور یہاں تک زہر اگلا کہ مسلمانوں کو عرب رسید کردینا چاہیے۔ دھرم پالا کی موت کو کافی عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کی گونج سری لنکا میں اب بھی سنائی دیتی ہے جب سنہلی اور مسلمانوں میں کوئی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ سنہلیوں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کی ایک بڑی وجہ تجارت و کاروبار میں مسلمانوں کا غلبہ ہونا بھی ہے اور زیادہ تر فسادات کی وجہ اقتصادی ہی رہی ہے۔
1980 کے عشرے سے لے کر مئی 2009 کے درمیان وقفے وقفے پر جنگ بندی تو ہوئی، لیکن یہ خانہ جنگی پورے ملک میں پھیل گئی اور اکثیر ایسا ہوا کہ حکومت اور ایل ٹی ٹی ای کی باہمی لڑائی میں نہتے شہری مارے گئے۔ ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ ملک کے شمالی اور مشرقی خطوں میں ہزاروں تملوں (جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے) کی گم شدگی کے پیچھے سری لنکا کی فوج ہی ذمہ دار تھی۔ خانہ جنگی کے آخری سال میں ہونے والے جنگی جرائم کے دوران تقریباً 40 ہزار تمل شہری ہلاک کردیے گئے۔ تاہم، یہ بڑی راحت اور سکون کی بات ہے کہ جنوبی ایشیا کے سب سے خطرناک دہشت گرد گروہ، ایل ٹی ٹی ای کا اب سری لنکا سے خاتمہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی جان گئی۔ اس دہشت گرد تنظیم نے ہزاروں تمل مسلمانوں اور سنہلیوں کا قتل عام کیا، خود کش بمباری کروائی اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، خاص کر کولمبو اور سری لنکا کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں تمل بولنے والے مسلمانوں کے گاؤوں پر مظالم ڈھائے۔ ایل ٹی ٹی ای کے ذریعے انجام دیے گئے چند بڑے دہشت گردانہ واقعات کچھ یوں ہیں : 1985 میں انورادھاپور کے سری مہا بھودیا پر حملہ جس میں سو سے زائد بودھ عقیدت مند مارے گئے، 1996 میں کولمبو کے سنٹرل بینک پر بموں سے بھرے ٹرک سے حملہ جس میں 70 لوگوں کی جانیں گئیں، 1998 میں کانڈی میں ٹوتھ کے بودھ مندر پر بمباری، اور 2008 میں کولمبو فورٹ ریلوے اسٹیشن پر خود کش بم حملہ۔ تمل ٹائیگرس نے بہت سے سیاسی لیڈروں کو بھی ہلاک کیا، جن میں سے چند کے نام ہیں : سری لنکا کے نائب وزیر دفاع رنجن وجے رتنے کا 1991 میں قتل، 1993 میں صدر رانا سنگھے پریم داسا کا قتل اور 2005 میں وزیر خارجہ لکشمن کادرگامر کا قتل۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایل ٹی ٹی ای ایک بری تنظیم تھی، جس کی قیادت نے اپنے مفادات کی خاطر سنہلیوں اور تمل سیاسی مخالفین کا بے دریغ قتل کیا۔ لیکن سری لنکا کے اندر اور ملک سے باہر رہنے والے بہت سے تملوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ ایل ٹی ٹی ای کی وہ واحد گروپ تھا جس نے ان کے حق کی لڑائی لڑی اور حکومت کے سامنے ان کے مطالبات رکھے، جب کہ اکثریتی سنہلی طبقہ نے ہمیشہ تملوں کو نشانہ بنایا۔ ایل ٹی ٹی ای اور تمل شہریوں کے درمیان 30 سالوں تک قائم رہنے والے پیچیدہ رشتے کا فیصلہ حکومت کے ’’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘‘ کے فارمولہ سے نہیں کیا جاسکتا، خاص کر ایسی بربریت بھری اور ذلت آمیز فتح کے بعد۔سری لنکا کے اندر قانون کی بالادستی قائم کرنے اور امن و امان کو بحال کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کی تینوں بڑی برادریوں، یعنی سنہلیوں، تملوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا قائم کی جائے، سیاسی عمل میں انہیں مناسب حصہ داری دی جائے اور ان کے باہمی اعتماد کو بحال کیا جائے۔ اس میں کئی سال لگیں گے، لیکن یہ کام جتنا جلد شروع ہو جائے، ملک کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *