انیمیا کی شکار خواتین

فردوس خان
ملک میں صحت کے معاملے میں خواتین کی حالت بے حد خراب ہے۔ حالت یہ ہے کہ ہر سال تقریباً ایک لاکھ خواتین انیمیا کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔جبکہ اس وقت پورے  ملک میں 83 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ، ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 42فیصد بچے اوسط سے کم وزن کے ہیں اور 69.5 فیصد بچوں میں خون کی کمی کی شکایت پائی جارہی ہے۔ جبکہ 15 سے 49  سال کی 35.6 فیصد عورتیں عام طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ان میں 55 فیصد خواتین کوخون میں کمی کی شکایت ہے۔ ایک دیگر رپورٹ کے مطابق ، ملک میں 60 فیصد لوگوں میں خون کی کمی ہے، جن میں 40 فیصد عورتیں شامل ہیں۔ مرکزی وزارتِ صحت اور نیوٹریشن فائونڈیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں چھ سال تک کی عمر کے تقریباً آدھے بچے انیمیا سے متاثر ہیں۔
انیمیا سے متأثر بچوں کی تعداد کے معاملے میں ہندوستان  چھٹے  نمبر پر ہے۔ ہندوستان سے پہلے کونگو، بینن، گھانا، سینیگل اور مالے کا نمبر آتا ہے۔ ایک دیگر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں 56 فیصد نوعمر  بچے خون کی کمی کے شکار ہیں۔ دی اسٹیٹ آف ولڈرس چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق ، دنیا بھر میں 10 سے 19 سال کے نوعمروں کی کل تعداد تقریباً ایک ارب دو کروڑ  ہے، جن میں 20 فیصد ہندوستان کے نوعمربچے شامل ہیں۔ہندوستان میں نوعمربچوں کی تعداد 24 کروڑ تین  لاکھ ہے، جن میں تقریباً 56 فیصد لڑکیاں انیمیا کی زد میں ہیں۔
انیمیا صرف ہندوستان یا ایشیا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔عالمی  معیار کے مطابق ، جسم میں 12 گرام ہیموگلوبن ہونا چاہئے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں عورتوں  میں 10 گرام ہیموگلوبن ہونا ضروری ہے، جبکہ  مڈل کلاس تک کی عورتوں میں یہ مقدار نہیں پائی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ  کے مطابق ، دنیا کی 43 فیصد خواتین اور 70 فیصد حاملہ عورتیں آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ترقی یافتہ ملکوں کی حالت تو پھر بھی ٹھیک ہے، لیکن ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں تو حالت بہت خراب ہے۔ یہاں 60 سے 70 فیصد حاملہ عورتیں انیمیا سے متاثر ہیں۔ وسط ہند اور مغربی ریاستوں کو دیکھا جائے تو سلم بستیوں کی 90 فیصد خواتین انیمیا کی لپیٹ  میں ہیں۔
ماہرین صحت  کے مطابق، خون کی کمی کا بنیادی سبب جسم میں آئرن کی کمی کا ہونا ہے۔ آئرن خون میں  ہیموگلوبن پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔یہی ہیموگلوبن خون میں آکسیجن کا کیریئر ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے خون کا رنگ لال ہوتا ہے۔ ہیموگلوبن کم ہونے سے جسم کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی اور جسم گلوکوز اور موٹاپہ پیدا کرتا ہے اور انرجی نہیں  بنا پاتا۔ خون کی کمی والا شخص لگاتار کام  نہیں کر پاتا ۔ تھوڑا سا کام کرکے اسے تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔انیمیا کی ایک بنیادی وجہ غذا کا صحیح نہ ہونا بھی ہے۔ دیگر اسباب میں خون کا بہنا اور ملیریا وغیرہ شامل ہیں۔ ماں بننے والی 30 فیصد عورتوں کو انیمیا ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ گردے کا مرض، ہڈی کی بیماری، تپدق اور کینسر وغیرہ کی وجہ سے بھی جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے۔
خون کی کمی عورتوں اور لڑکیوں میں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ ان میں ماہواری کے دوران جسم سے کافی خون نکل جاتا ہے۔ جنین ( پیٹ میں بچہ) بھی عورت کے جسم سے خون کھینچ لیتا ہے۔ بچوں کو دود ھ پلانے والی عورتوں میں خون کی کمی دیکھی جاتی ہے۔ اس کی بھرپائی کے لئے انہیں مقوی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انہیں مقوی  غذا نہ دی گئی تو یہ مسائل بڑھتے جاتے ہیں اور پھر بیماری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔حمل اور ڈلیوری کے وقت خون کی کمی سے عورت کی موت تک ہوجاتی ہے۔ آجکل لڑکیاں دبلی ہونے کے چکر میں بھی مقوی غذا سے دور بھاگتی ہیں  اور لگاتار بھوکے رہنے سے ان میں خون کی کمی ہو جاتی ہے۔نیشنل نیوٹریشن مونیٹرنگ بیورو کے مطابق ،13  سے 15 سال کی لڑکیوں کو 1620 کیلوری والا کھانا ملتا ہے، جبکہ انہیں 2050 کیلوری کی ضرورت ہوتی ہے۔
انیمیا سے نمٹنے کے لئے نمک میں آئرن  ملانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں میں انیمیا کے معاملے کم، بلکہ عورتوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن نے نمک میں آئرن ملانے کی سفارش کی ہے۔ ادارہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ششی کرن کا کہنا ہے کہ انیمیا سے متاثر لوگوں کا نارمل ڈیولپمنٹ رک جاتا ہے اور یاد داشت میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بات کو ٹھیک سے یاد نہیں رکھ پاتے۔ انیمیا کو دور کرنے کے لئے آئرن، فالک ایسڈ، بی 12،وٹامن سی اور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک آئرن کا سوال ہے تو عمر کے حساب سے ہی اس کی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے بچے میں وزن کے حساب سے 46 مائکرو گرام  یومیہ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ایک تین سال کی عمر میں 9 ملی گرام  اور چار سے چھ سال کے لئے 13 ملی گرام  یومیہ لازمی ہے۔ حالانکہ ایک کلو نمک میں ایک گرام آئرن ملایا جاسکتا ہے۔
قومی خاندانی صحت سروے کے مطابق ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار اور اڑیسہ کی 79  فیصد عورتوں میں خون کی کمی ہے۔ جھارکھنڈ میں ہر روز آٹھ حاملہ عورتیں خون کی کمی کی وجہ سے موت کا لقمہ بن جاتی ہیں۔ریاست کی 68.4 فیصد عورتیں خون کی کمی کا شکار ہیں۔ پچھڑی ذات کی عورتوں میں یہ اوسط 85 فیصد ہے۔ اسی طرح راجستھان کے سیکر میں ہر تیسرے دن ایک مرا ہوا بچہ پیدا ہورہا ہے۔ نگر پریشد کے اعدا دو شمار کے مطابق ، پچھلے تین سالوں  میں 374  بچے ماں کے پیٹ میں ہی دم توڑ چکے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ تعداد لگاتار بڑھتی جا ر ہی ہے۔ سیکر میں محض 30 فیصد عورتوں میں  ہی 10 گرام ہیموگلوبین ہے، جبکہ 50 فیصد عورتوں میں سات سے نو گرام اور 20 فیصد عورتوں  میں دو سے چھ گرام تک ہی ہیموگلوبن پایا گیا ہے۔ جھارکھنڈ میں چھ سے 9  ماہ کے 70 فیصد بچے اور 15 سے49 سال کی 70 فیصد عورتیں انیمیا سے متاثر ہیں۔ ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی کم و بیش یہی حالت ہے۔
انیمیا کو لے کر لوگ بیدار نہیں ہیں۔ وہ ماتنے ہیں کہ یہ ایک معمولی ہیلتھ پرابلم ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔انیمیا  متاثرہ عورتوں  کے بچے مرے ہوئے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں ڈلیوری کے دوران عورت کی جان بھی جا سکتی ہے۔  اطباء کا کہنا ہے کہ انیمیا سے بچائو کے لئے عورتوں کو کم سے کم 90 دن تک فالک ایسڈ اور آئرن کی گولیاں لینی چاہئیں۔ اس کے علاوہ آئرن سے بھرپور ٹماٹر، گاجر ، مولی ، پتہ گوبھی، چقندر، لال ساگ، ہری پتہ دار سبزیاں ، پھل، مونگ ، تل، سویابین، باجرہ، دودھ اور گوشت کو کھانے میں شامل کرنا چاہئے۔ اگر سبزی آئرن کی کڑاہی میں بنائی جائے تو اور بھی اچھا ہو۔ ساتھ ہی انیمیا سے متاثر لوگوں کو کھانے کے فوراً بعد چائے یا کافی وغیرہ نہیں لینا چاہئے، کیونکہ ایسا کرنے سے آئرن ابزرو نہیں ہوپاتا۔قابل غور یہ بھی ہے کہ شہروں میں مقوی غذا  کا فقدان  اور فاسٹ فوڈ  کے اختیار کرنے کی وجہ سے انیمیا کے معاملے سامنے آتے ہیں، جبکہ گرامین علاقوں میں بچوں کو مقوی غذا تک نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔ سرکار کے ذریعہ شروع کی گئی مڈ ڈے میل اور مقوی غذائوں میں دھاندلیوں کے سبب بچوں کو مقوی غذا  نہیں مل پارہی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری منصوبوں کے تحت بچوں اور حاملہ عورتوں کو آئرن کی گولیاں دی جاتی ہیں، لیکن بچے گولیاں نہیں کھا پاتے، اس لئے ان کے لئے کوئی متبادل انتظام کیا جانا چاہئے۔
عورتوں میں خون کی کمی کا ایک بڑا سبب سماجی بھی ہے۔گھریلو کام کاج کی ساری ذمہ داری عورتوں پر ہی ہوتی ہے۔ ایسے میں عورتیں گھر کے ممبر وں پر دھیان دیتی ہیں، لیکن اپنے معاملے میں لاپرواہی برتتی ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی بھید بھائو بھی عورتوں میں خون کی کمی کا سبب بن جاتا ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لڑکوں کے کھانے پینے پر تو خوب دھیان دیا جاتا ہے ، لیکن لڑکیوں کو نظر انداز کیا جاتاہے۔بچپن سے ہی لڑکیوں کو نظر انداز کرنے کی یہ روایت بعد میں ان کی عادت میں شامل ہوجاتی ہے اور عورتیں مان لیتی ہیں کہ مقوی غذا کی ضرورت لڑکوں  اور مردوں کو ہی ہوتی ہے۔ایسے میںچاہ کر بھی وہ خود پر دھیان نہیں دے  پاتیں۔
بہر حال ، انیمیا کی روک تھام کے لئے بیداری کی بے حد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی سرکاری منصوبوں کو بھی ایمانداری سے لاگو کیے جانے کی ضرورت ہے، تبھی ان کا فائدہ ضرورتمند لوگوں تک پہنچ پائے گا۔     g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *