علی گڑھ اور علامہ شبلی نعمانؔ

خورشید جمال قاسم
علامہ شبلی نعمانی ایک عبقری اورکثیرالجہات شخصیت کانام ہے۔ ان کی وفات پر ایک صدی پوری ہونے کو آئی مگر ان کی علمی فتوحات کی ندرت اورمعنویت میں آج تک کوئی فرق نہیں آیا، برصغیر کے مسلمانوں کی دینی، ملی اورسیاسی زندگی کے کم ہی گوشے ایسے ہوں گے جو کسی نہ کسی مرحلے میں ان کی توجہ کے مرکز نہ بنے ہوں۔ ڈاکٹرذاکر حسین کے الفاظ میں ’’مولاناشبلی کی گراں قدر ادبی خدمات نے بلاواسطہ ہندوستان اور بالواسطہ ساری دنیا کے تہذیبی سرمائے میں قابل قدراضافہ کیاہے۔‘‘ یہاں پر ان کے کرداروں کے صرف ایک پہلو (علی گڑھ تحریک اورعلامہ شبلی نعمانی) پر کچھ خامہ فرسائی کرنے کی کوشش کی جائے گی جس میں آج بھی پوری قوم کے لیے چشم کشائی کی تاثیر بدرجہ اتم موجود ہے۔
انگریز ہندوستان پر مسلط ہوچکا تھا اورہندوستانی، خصوصاً مسلمان ذلت ناک غلامی کے دور سے گزررہے تھے انگریزوں کی غلامی سے نکلنے کی کوشش تو بہت پہلے سے شروع ہوچکی تھی لیکن 1857میں ہندوستانیوں اور خصوصاً مسلمانوں نے میرٹھ میں ان کے خلاف ایک منظم اور بڑی جنگ چھیڑی جس کو شاطر سامراج نے ’’غدر‘‘ کانام دیا لیکن بعض اسباب کی وجہ سے یہ جنگ پورے طورپر کامیاب نہ ہوسکی، نتیجہ انگریزوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا، المناک سے المناک سزائیں دیں، قوم کی حالت اتنی دیگر گوں تھی کہ سرسید احمد خاں(جو بعد میں چل کر علی گڑھ تحریک کے بانی مبانی بنے) نے لکھا ہے ’’میں اس وقت ہرگز نہیں سمجھتاتھا کہ قوم پنپے گی اورعزت پائے گی اورجو حال اس وقت قوم کا تھا مجھ سے دیکھا نہیں جاتاتھا۔‘‘

طلبا میں عربی تحریر وتقریر کا ذوق پید اکرنے کے لیے ’’لجنۃ الادب‘‘ اور اردو تحریروتقریر کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے کے لیے ’’اخوان الصفا‘‘ کے نام سے انجمنیں تشکیل دیں طلبا کی ذہن سازی کے لیے ’’سیرۃ النبیؐ‘‘ کے جلسوں کی روایت قائم کی جو آج بھی جاری ہے اور جس کے گواہ ’’سالارمنزل‘‘ اور ’’اسٹریچی ہال‘‘ ہیں۔

اس طرح سے سرسید میدان کارزار میں کود پڑے اوراپنی مشہور تعلیمی تحریک ’’علی گڑھ تحریک‘‘ کی 1857میں داغ بیل ڈالدی اس تحریک کا مقصد مسلمانوں میں نئی تعلیم اور انگریزی تعلیم کو رائج کرکے ان کو تعلیمی سیاسی اورسماجی طورپر ایک باعزت مقام تک پہنچانا تھا، اس آواز کاعام طور سے استقبال کیاگیا۔ سرسیدنے اس کے تعارف اورفنڈ کے لیے دورے کئے مشرقی اترپردیش کے دوروں میں جناب حبیب اللہ صاحب (والد علامہ شبلی) سے ملاقات ہوئی اورتعلقات گہرے ہوئے چلے گئے جناب حبیب اللہ صاحب نے اپنے ایک لڑکے محمداسحاق کو تعلیم کے لیے علی گڑھ بھی بھیجا اور علی گڑھ کے سفروں کا سلسلہ شروع ہوا اسی سلسلے کاایک سفراکتوبر1881میں ہوا جس میں شبلی بھی ساتھ تھے اور یہی وہ تاریخی سفرہے جس میں دو عبقری شخصیتیں آپس میں ملیں یعنی شبلی اور سرسید، مولاناشبلی نے سرسید کی خدمت میں ایک عربی قصیدہ پیش کیا جس سے سرسید بہت متاثر ہوئے اور باقاعدہ ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ‘‘ 15اکتوبر1881کے شمارے میں شائع کرایا، سرسید نے پہلی ہی ملاقات میں ’’اس جوہرقابل‘‘ کو پہچان لیا تھا ٹھیک ڈیڑھ سال بعد ہی آپ کو اپنے پاس بلالیا اور کالج میں 1883میں عربی و فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے آپ کاتقرر ہوااس قربت سے دونوں بحرالعلوموں کو ایک دوسرے سے بے حد فائدہ پہنچا، علامہ شبلی نے سرسید کی شفقتوں، ان کے نادرکتب خانہ اور پروفیسر آرنلڈ کی صحبتوں سے خوب استفادہ کیا جس سے ان کا علمی معیار کافی بلند ہوا اورآئندہ کی خدمات کے لیے یہاں پر ایک مضبوط بنیاد فراہم ہوئی۔ تاہم یہ ایک مسلمہ حقیقت ثابتہ یہ ہے کہ جو کچھ لیا اسے ’’اضعافامتصاعفہ‘‘ کی شکل میں واپس بھی کیا جس نے یونیورسٹی کو چارچاند لگا دیے ان کی آخری وقت تک یہ کوشش رہی کہ کالج کیسے یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرلے اگر سرسید نے علامہ پر اعتماد کیا تو سچی بات یہ ہے کہ علامہ شبلی اس سے بڑھ کر نکلے۔ علامہ اس تعلیمی تحریک کو دیکھ رہے تھے کہ اس میں مسلمانوں کی تعلیمی ہی نہیں بلکہ سیاسی معاشی اورقومی بلکہ ہر طرح کی ترقی کاراز مضمر ہے لہٰذا کچھ اختلاف رکھتے ہوئے بھی دونوں بزرگوں میں مخلصانہ تعلقات رہے جس کی بنیاد پر کالج کو شہرت کے ساتھ ساتھ ہر پہلوے سے بے پناہ ترقی حاصل ہوئی، علامہ مفوضہ تدریسی خدمات کے علاوہ طلباء کی دینی واخلاقی تربیت اور کالج میں دینی ماحول قائم کرنے کی بھی بڑی فکر رکھا کرتے تھے، باقاعدہ ’’درس قرآن‘‘ کے حلقے قائم تھے، پابندی نماز کے لیے ’’لجنۃ الصلوٰۃ‘‘ قائم فرمایا تھا، اسلامی و دینی مضامین کو طلباء کے سامنے اتنے سہل اوردلچسپ انداز میں پیش فرماتے کہ ’’از دل خیزد، بردل ریزد‘‘ کا سماں ہوتا، ان مجسلوں میں طلباء بڑے اشتیاق، ذوق اور شوق کا مظاہرہ کرتے اورجوق درجوق شریک ہوکر اپنی دینی و علمی پیاس بجھاتے، مولانا محمدعلی جوہرکابیان ہے کہ ان کا قرآن پاک کا ستھرا ذوق اسی زمانے کی یادگار ہے، اسی طرح علامہ کا عربی و فارسی زبان و ادب کا درس بھی بڑا طاقتور اور مؤثرہوتاتھا علامہ کے کلاس اور علمی صحبتوں کا ہی یہ اثر تھا کہ مولانا ظفر علی خاں، مسعود علی محوی، خوشی محمد ناظر، سیدسجاد حیدر یلدرم جیسے مشاہیر معرض وجود میں آئے۔عظیم علمی و دیگر خدمات کے اعتراف میں جنوری1894میں حکومت ہند نے آپ کو شمس العلماء کے معزز خطاب سے نوازا جس پر ہدیۂ تبریک پیش کرنے کے لیے کالج میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبا اساتذہ اور تمام معززین شہر نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
طلبا میں عربی تحریر وتقریر کا ذوق پید اکرنے کے لیے ’’لجنۃ الادب‘‘ اور اردو تحریروتقریر کی صلاحیتوں کواجاگر کرنے کے لیے ’’اخوان الصفا‘‘ کے نام سے انجمنیں تشکیل دیں طلبا کی ذہن سازی کے لیے ’’سیرۃ النبیؐ‘‘ کے جلسوں کی روایت قائم کی جو آج بھی جاری ہے اور جس کے گواہ ’’سالارمنزل‘‘ اور ’’اسٹریچی ہال‘‘ ہیں۔ طلبا کی لیاقت اور ڈسپلن کا شوق اور ذوق علامہ پر اتنا غالب رہا کہ غیرممالک کے اسفار میں بھی ان چیزوں کو نہ بھولتے، اپنے یادگار سفرترکی و مصر (جس میں ترکی حکومت نے آپ کو اپنے اعلیٰ انعام ’’تمغۂ مجیدی‘‘ سے سرفرازکیا تھا) میں وہاں کے طلبا کے بورڈنگ نظام اور رہن سہن کا بغور مشاہدہ فرمایا اور اس کی پسندیدہ چیزوں کے بارے میں سرسید کو لکھا۔
’’یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی ہر کالج کا خاص لباس ہے اور کوٹ پر گریبان کے قریب ہر کالج کانام لکھا ہوتاہے یہ بات نہایت پسند ہوئی۔ ہمارے کالج میںیہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا سیدصاحب بغیر کسی پس و پیش کے کالج کاایک خاص لباس قراردیں تو بہت اچھا ہے۔ ’’بحوالہ مکاتیب شبلی13-12/1
سرسید نے علامہ کی اس بات کو قبول کیا جس کاتذکرہ ’’حیات جاوید‘‘ 247پر دیکھا جاسکتا ہے کالج کے نئے نئے ماحول اور نئے نئے علوم و فنون سے مرعوب ہوئے بغیر وہاں مشرقی روایت کی پابندی اور اسلامی علوم وفنون کی ترویج اور بطور خاص طلبا کی ذہن سازی اوران کے اندر نظام ڈسپلن کی پابندی دراصل مولانا کی بہت بڑی دوراندیشی اورانجام بینی پر بینی تھی، ایسا کرکے وہ دراصل طلبا کو ایک ایسی ہونہار ٹیم میں تبدیل کرنا چاہتے تھے جو افراط و تفریط سے بچتے ہوئے توسط وا عتدال کی راہ پر گامزن ہو، اس لئے کہ مولانا کے سامنے ملل و اقوام کی پوری تاریخ موجود تھی جس میں قوموں کے افراط و تفریط میں مبتلا ہوکر ان کے دردناک انجام کی داستانیں بیان کی گئی ہیں ہم یہاں پر یہ بات بغیر کسی پس و پیش کے کہہ سکتے ہیں کہ انگریزیت اور نئے علوم کو لے کر سرسید اور علی گڑھ کالج شعوری یا غیر شعوری طور پر جس انتہا پسندی کی طرف جارہے تھے علامہ نے بڑے اچھے انداز میں اس پر روک لگائی اوراعتدال و توسط کی راہ دکھاکر کالج کو صحیح اورکامیابی کی شاہراہ پر گامزن کیا، ان کے ذہن میں چوطرفہ ترقی کے خواب رقص کناں تھے وہ دین و دنیا میں سے کسی کو بھی ہاتھ سے دینا نہیں چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ ملت کو ایک ایسی کھیپ نصیب ہوجائے جو کسی بھی صلاحیت میں کسی سے بھی پیچھے نہ ہو اور قوم میں جاکر وقت کے تقاضے کے مطابق اپنا وقیع اور قاعدانہ کردار اداکرے۔کالج کے نصاب کو تیار کرنے میں بھی مولانا کا عمل دخل رہا چناں چہ سرسید کی فرمائش پر آپ نے سیرت رسول ؐ پر عربی میں ایک جامع و مانع کتاب ’’بد الاسلام‘‘ لکھی جو دینیات کے نصاب میں شامل ہوئی، کالج کے طلبا ہی کی خاطر آپ نے ’’انٹرمیڈیٹ کورس فارسی‘‘ کے نام سے ایک کورس تیار فرمایاتھا جس کاامتحان کالج کے طلبا الہ آباد یونیورسٹی سے دیا کرتے تھے۔
علی گڑھ میں ’’محمڈن اینگلواورینٹل کالج میگزین‘‘ کی ادارت بھی آپ ہی کی ذمہ لگائی گئی تھی جس کو آپ نے ایک معیاری رسالے کی شکل دے کر شہرت کے بام عروج تک پہنچایا اسی وقیع رسالے میں آپ کے بہت سے اہم اور مفید ترین مضامین شائع ہوئے جیسے ’’اسلامی حکومتیں اور شفاخانے‘‘ ’’حقوق الذمیین‘‘ سرسید اور اردو لٹریچر، علما کے فرائض ‘‘وغیرہ
آپ کی شعری صلاحیتوں سے بھی خوب فائدہ پہنچا، ملک و بیرون ملک کے اہم مہمانوں اور سربراہوں کی آمد پر آپ اکثر استقبالیہ اور موثر ترین نظمیں کہتے۔ بسااوقات سرسید خودفرمائش کرکے یہ خدمت انجام دلواتے فارسی مثنوی ’’صبح امید‘‘ فارسی ’’قصیدہ عہدیہ‘‘ اور اردو مسدس دراصل اسی دور کی یادگاریں ہیں جو ملت کے درد میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کالج کے لیے جب چندہ جمع کرنے کی مہم شروع ہوئی تو علامہ نے اس میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا اوراس کے لیے سرسید کے ساتھ باقاعدہ حیدرآباد کاسفر کیا اوراس سفر کے لیے خصوصی طورپر ایک طویل فارسی قصیدہ لکھا۔حقیقت یہ ہے کہ علامہ نے علی گڑھ کالج کو اپنے خون جگر سے سینچا اور جو کچھ بس میں تھا وہ کیا بھی اور جو کچھ جیب میں تھا اسے لٹایا بھی بالفاظ دیگر اپنے تمام تر علمی کمالات اور لیاقتوں کو کالج کے تعارف، اس کی خصوصیات کی وضاحت، بلکہ اس عظیم ادارے کی جانب اہل علم اور اصحاب فضل و کمال اوراہالیان خیر کو متوجہ کرنے کے لیے بخوبی استعمال فرمایاجس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔

Share Article

One thought on “علی گڑھ اور علامہ شبلی نعمانؔ

  • February 23, 2015 at 2:33 pm
    Permalink

    Assalam o Alaikum wa Rahmatullah e wa Barakatoho,
    Ezzat M,aab Muhtram Shaikh sahib! I am student of PhD Islamic Studies
    in Sargodha University.My topic for PhD thesis is ” PUNJAB MAEN ULOOM
    UL QURANWA TAFSEER UL QURAN PER GHAIR MATBOOA URDU MWAD” please guide
    me and send me the relavent material.I will pray for your success and
    forgiveness in this world and the world hereafter.
    Jzakallah o khaira
    hopful for your kindness.
    your sincerely and Islamic brother,
    Rafi ud Din
    Basti dewan wali street Zafar bloch old Chiniot road Jhang saddar.
    Email adress: drfi@ymail.com mob: 03336750546,03016998303

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *