اے سی ڈی سی بل: سی بی آئی تفتیش کی تلوار

سروج سنگھ
پٹنہ ہائی کورٹ کے بعد بہار میں اے سی- ڈی سی بل میں67ہزار کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ اب ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ میں گونج رہا ہے۔ عام زبان میں سمجھیں تو یہ معاملہ اخراجات کے لئے سرکاری خزانہ سے نکالی گئی رقم کا حساب نہ دینے کا ہے۔اسے لے کر حکومت پر گھوٹالہ کا شک کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ حکومت نے بڑے پیمانہ پر گھوٹالہ کیا ہے۔اس معاملہ میں وکیل اروند شرما نے سپریم کورٹ میں ایک  درخواست (ایس ایل پی)970/2012دی تھی۔ گزشتہ 16مارچ کو اس درخواست پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے بہار حکومت اور ہندوستان کے سی اے جی کو نوٹس جاری کر کے چار ہفتہ میں جواب طلب کیا ہے۔ ایڈوانس کنٹیزنٹ یعنی اے سی بل اور ڈٹیلڈ کنٹیزنٹ یعنی ڈی سی بل کا معاملہ پہلے پٹنہ ہائی کورٹ میں بھی گونج چکا ہے۔

گزشتہ 16مارچ کو اس درخواست پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے بہار حکومت اور ہندوستان کے سی اے جی کو نوٹس جاری کر کے چار ہفتہ میں جواب طلب کیا ہے۔ ایڈوانس کنٹیزنٹ یعنی اے سی بل اور ڈٹیلڈ کنٹیزنٹ یعنی ڈی سی بل کا معاملہ پہلے پٹنہ ہائی کورٹ میں بھی گونج چکا ہے۔ اروند کمار شرما نے ہی درخواست 1710/2010دائر کر کے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مڈڈے مل ، اندرا رہائشی اور منریگا سمیت کئی اسکیموں میں اعلیٰ پیمانہ پر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، پیسوں کا بیجا استعمال اور غبن ہوا ہے۔عام اخراجات کے لئے بھی اے سی بل سے موٹی رقم خزانہ سے نکالی گئی ہے۔

اروند کمار شرما نے ہی درخواست 1710/2010دائر کر کے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مڈڈے مل ، اندرا رہائشی اور منریگا سمیت کئی اسکیموں میں اعلیٰ پیمانہ پر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، پیسوں کا بیجا استعمال اور غبن ہوا ہے۔عام اخراجات کے لئے بھی اے سی بل سے موٹی رقم خزانہ سے نکالی گئی ہے۔2002-03سے لے کر 2007-08تک 11ہزار 412کروڑ روپے کا ڈی سی بل بہار ٹریزری کورٹ میں322/2کے تحت جمع نہیں کیاگیا ہے۔اس لئے اس گھوٹالہ کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے اور متعلقہ رقم کی وصولی کرائی جائے۔ 15جولائی ، 2010کو ہائی کورٹ نے پایا کہ یہ ملک میں ایک نایاب مفاد عامہ کی پٹیشن ہے۔حکومت نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی، جس سے غریبوں کے مفاد کے پیسوں کا غبن نہ ہو۔ حکومت کو اس کی تفتیش خود سی بی آئی سے کرانے کی کارروائی کرنی چاہئے، لیکن وہ اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ کورٹ نے 26جولائی، 2010کو سی بی آئی کے ڈائریکٹر اور جوائنٹ ڈائریکٹر کو حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی، لیکن بعد میں ریاستی حکومت کی دوبارہ درخواست کی سماعت کے بعد کورٹ نے حکم دیا کہ پبلک اکائونٹ کمیٹی اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے، اس لئے سی بی آئی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بحث کے دوران اروند کمار شرما کے وکیل دینو کمار نے کورٹ کو بتایا کہ چارا گھوٹالہ میں بھی حکومت نے یہ دلیل دی تھی کہ معاملہ جب پی اے سی کے پاس ہے تو سی بی آئی تفتیش نہیں ہوگی، لیکن ہائی کورٹ نے سی بی آئی تفتیش کی ہدایت دی تھی۔ اڑیسہ میں بھی منریگا سے متعلق سی اے جی کی رپورٹ پر ہی تفتیش ہو رہی ہے، لیکن ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اس کے بعد اروند شرما نے سپریم کورٹ میں پورے معاملہ کو رکھا۔ درخواست دہندہ نے بنیادی طور پر کورٹ سے درخواست کی کہ سی اے جی کی رپورٹ میں بے ضابطگی کی بات آئی ہے۔ ہائی کورٹ نے پہلے جانچ کا حکم دیا تھا، اس لئے اس معاملہ کی سبی آئی جانچ کرائی جائے۔ اروند شرما کے دو وکیل مکل روہتگی اور دینو کمار نے اس اے سی ڈی سی سے وابستہ تمام حقائق سے کورٹ کو مطلع کیا۔روہتگی نے کورٹ کو بتایا کہ پی اے سی کو معاملہ کی Criminalityدیکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سی اے جی نے بہار کے چیف سکریٹری کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ ریاستی حکومت نے گیارہ ہزار کروڑ روپے کے جو وائوچر سونپے ہیں، ان میں صرف 38کروڑ کے وائوچر صحیح ہیں۔ اس لئے سرکاری خزانہ کی یہ بہت بڑی بے ضابطگی ہے۔ اصل وائوچر ڈی سی بل کے ساتھ نہیں ہیں۔ بحث کے بعد جسٹس ڈی کے جین اور جسٹس اے آر دوے کی بینچ نے بہار حکومت اور CAGسے جواب طلب کیا ہے، جس کے لئے اسے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔
ایڈوکیٹ دینو کمار نے بتایا کہ اے سی ڈی سی بل میں سی بی آئی کی تفتیش ہی تمام بے ضابطگیوں کو سامنے لا سکتی ہے۔ جتنے بڑے پیمانہ پر پیسوں کی لوٹ ہوئی ہے، اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ گھوٹالہ کی رقم مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ پی اے سی کی تفتیش کے ساتھ سی بی آئی کی تفتیش بھی کئی معاملوں میں ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھی کئی معاملوں میں ایسی ہدایات دی ہیں۔ اس لئے ہم سپریم کورٹ سے اے سی ڈی سی معاملہ کی سی بی آئی تفتیش کے لئے درخواست کر رہے ہیں۔ درخواست دہندہ نے بتایا کہ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ کو چینلج کیا ، جس پر کورٹ نے غبن کی رقم دیکھتے ہوئے بہار حکومت اور CAGکو نوٹس بھیجا۔

اپنوں نے کھولا ونے سنگھ کاراز!
ایک طرف تونتیش کمار بدعنوانی سے لڑنے کا دعویٰ کررہے ہیں، لیکن دوسری طرف انہی کیپارٹی کے خزانچی ونے کمار سنہا کی فیکٹری پر انکم ٹیکس کے چھاپے میں آٹے کی بوری سے چار کروڑ چھ لاکھ روپے برآمد کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ کاروبار میں لگائے گئے روپے سے متعلق کئی دستاویز بھی انکم ٹیکس کے عملے کے ہاتھ لگتے ہیں۔ قول و فعل کا یہ تضاد’’ سوشاسن ‘‘کو شک کے گھیرے میں لا کھڑا کرتاہے۔اس سے پہلے جنتادل (یونائٹیڈ ) کے ترجمان راجیو رنجن کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس کا چھا پہ پڑ چکاہے، جسکی وجہ سے انھیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ رنجن بھی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔انکم ٹیکس کے اہلکار سنہا کے گھر سے برآمد ہوئے پیسوں اور کاغذات کا گہرائی سے جانچ کررہے ہیں۔ پوری جانچ کے بعد ہی برآمدگی کیصحیح اعداد وشمار سامنے آئیںگے۔لیکن انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ذارئع بتاتے ہیں کہ  اس چھاپے میںتقریباً 12کروڑ روپے کے اثاثے کا پتہ لگایا گیا ہے جس کا حساب نہیں دیا گیا تھا۔لیکن صحیح تصویر معاملے کی پوری جانچ کے بعد سامنے آئے گی۔اگر سیاسی ذرائع کی باتوں پر بھروسہ کریں تو کسی اپنے نے ہی ونے سنہا کا راز کھول دیا۔ آٹے کی بوری میں پیسے رکھے ہیں اتنی صحیح جانکاری انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ تک کیسے پہنچی ۔اس بات پر لوگ طرح کی قیاس آرائی کررہے ہیں۔مانا یہ جا رہا ہے کہ کچھ لوگوں کے سیاسی  مفاد ات ونے سنہا کے مفادات سے ٹکرانے لگے تھے۔ انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ پورا کھڑاگ رچا گیا ۔ لیکن جے ڈی (یو) کے لوگ ٹھیک یوم بہار کے موقع پران چھاپو ں کا راز سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں لگتاہے کہ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے دہلی میں بیٹھے کچھ نیتا اس طر ح کی گری ہوئی حر کت کر رہے ہیں۔  آٹے کی بوری میں ملے چار کروڑ چھ لاکھ روپے کا معاملہ سیاسی رنگ لیتا جارہا ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی کا الزام ہے کہ یہ پیسہ نیتش کمار کا ہو سکتاہے، کیونکہ ونے سنہا نتیش کے کافی قریبی ہیں اور جے ڈی (یو) سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایل جے پی کے چیف جنرل سکریٹری راگھو ندر کشواہا اور ترجمان للن چندر ونشی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ رہائش گاہ میں آنے سے قبل نتیش کمار ونے سنہاکے مکان میں رہتے تھے۔اس لئے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہئے۔آر جے ڈی ممبر پارلیمنٹ رام کرپال یادو کا ماننا ہے کہ یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے اور پور ے معاملے کی منصفانہ جانچ ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ونے سنہا کے مکان میں رہتے ہوئے نتیش کمار نے کئی چناو لڑاہے۔ سا بق ایم ایل سی پی کے سنہا  کے مطابق اس معاملے میں نتیش کما ر پوری طرح قصور وار ہیں، ونے سنہاکو تو صر ف قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ میںنے توبدعنوانی کے معاملے میں  ہی نتیش سے دوری  بنائی تھی، اب ساری باتیں عوام کے سامنے آرہی ہیں۔ اس پورے معاملے میں سی بی آئی  جانچ ہونی چاہئے۔ دراصل، یہ پورا مسئلہ تب سامنے آیا ،جب ٹیکس چوری کے معاملے میں انکم ٹیکس تحقیقاتی بیورو کی ٹیم نے پوجا فوڈ پروڈکٹ ، دگھا ،کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ ٹیم نے کمپنی  کے مالکوں کے سیتا سدن ، راجا پور پل اور اتری شری کرشن پوری واقع رہائش گاہوں پر چھاپہ ماری کرکے کروڑوں روپے کی دھاندلی اجاگر کی۔ ونے کمار سنہا ، اویناش کمار اور راجیش کمار سنگھ کے ذریعہ چلائے جارہے پوجا فوڈ پروڈکٹ میں چھاپہ ماری کے دوران انکم ٹیکس اہلکار اس وقت حیران رہ گئے تھے جب آٹے کی بوری سے چار کروڑ چھ لاکھ روپے برآمد ہوئے ۔انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ راجدھانی پٹنہ میں یہ اب تک کی سب سے بڑی ضبطی ہے۔ڈپارٹمنٹ کے حکام نے کمپنی کے کھاتوں اور کاغذات کی جانچ کی۔ اس ضمن میں انھیں ٹیکس سے متعلق بڑی دھاندلی کے ساتھ ساتھ کمپنی مالکوں کے ذریعہ حالیہ دنوں میں جمع کئے گئے بڑے اثاثے کا پتہ چلا ہے۔ کمپنی کے تینوں پارٹنر پٹنہ میں 50سے زیادہ فلیٹوںکے مالک ہیں۔ انھوں نے کئی پلاٹ ڈیولپرس کو بھی دے رکھے ہیں۔ یہ چھاپہ ماری انکم ٹیکس تحقیقاتی بیورو کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر منیش کمار اور سوربھ رائے کی نگرانی میں کی گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *