وقت کے ساتھ بدلتے مسلم چہرے

اتر پردیش کی سیاست میں تمام مسلم چہرے مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ چہرے سبھی پارٹیوں میں موجود ہیں۔ کہیں یہ شو پیس کی طرح ہیں تو کئی جگہ ان کے کندھوں پر ووٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی پارٹی ایسی نہیں ہے، جو مسلم چہروں کو آگے کرکے اقلیتوں کو لبھانے کے لئے دانہ نہ ڈال رہی ہو۔یہ اور بات ہے کہ سیاسی پارٹیاں جتنی ہوشیار ہوگئی ہیں، اس سے کم ہوشیار مسلم ووٹرس بھی نہیں ہیں۔اسی لئے وہ سن تو سب کی رہے ہیں، لیکن کسی سے وعدہ نہیں کررہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ انہیں ووٹ بینک کی طرح استعمال کرکے لیڈروں نے دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہے۔ لیڈروں کی موقع پرستی کے سبب ہی مسلم طبقہ آج بھی سماج کے ساتھ گھل مل نہیں پایا ہے۔ سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک اور بیرون ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔زیادہ تر معاملوں میں دیکھا یہی جاتا ہے کہ دہشت گرد باہر سے آتے ہیں اور ملک کے سیدھے سادے نوجوانوں کو بہلا پھسلا اور گمراہ کر کے انہیں اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ان باتوں کی اندیکھی کرکے جھوٹی ہمدردی دکھاتی ہیں،جیسا کہ ریزرویشن کے نام پر ورغلا کر کیا جارہا ہے۔
جہاں تک بات ہے متعدد سیاسی پارٹیوں میں مسلم لیڈروں یا چہروں کی۔تقریباً دو درجن ایسے نام ابھر کر سامنے آتے ہیں ، جو اپنی قوم کو کسی کسی نہ کسی پارٹی میں لبھانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سلمان خورشید، اعظم خاں ، رشید مسعود ، ڈاکٹر ایوب، شفیق الرحمن برق، نسیم الدین صدیقی، کرکٹر سے لیڈر بنے اظہر الدین ، راشد علوی، احمد حسن، عمار رضوی، ظفر علی نقوی، حاجی یعقوب قریشی، مختار ایوب نقوی، سلیم شیروانی اور امیر رشید (علماء کونسل) وغیرہ خاص طور پر شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں، جو کھل کر کسی ایک پارٹی کے حق میں ہوا بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ وہیںدوسری طرف امام بخاری جیسے مذہبی پیشوا اور ظفر یاب جیلانی جیسے  دانشوروں کی بھی کمی نہیں ہے۔جو پردے کے پیچھے سے کسی نہ کسی پارٹی کی سپورٹ کر رہے ہیں۔
ان تمام مسلم چہروں کے درمیان کئی نام ایسے بھی ہیں، جن کا کبھی سیاست میں سکہ چلتا تھا، لیکن اس انتخاب میں وہ کہیں نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ ان میں سابق مرکزی وزیر اور تیز طرار لیڈر عارف محمد خان ، کبھی سنجے گاندھی کے قریبی رہے اکبر احمد ڈمپی، امرائو جان جیسی فلم  بنا کرکے سرخیوں میں آنے والے مظفر علی (جو لکھنؤ سے نہ صرف پارلیمانی چنائو لڑے، بلکہ کئی بار انتخاب کے اشتہاری مہم میں بھی دیکھے گئے)فلم ایکٹر یس شبانہ اعظمی، راجا محمودآباد ،محمد عامر محمد خاں، بستی کے ملک محمد کمال یوسف اور محسنہ قدوائی جیسے نام شامل ہیں۔مذکورہ سبھی لیڈر بھلے ہی آج کی موقع پرست سیاست میں اپنے آپ کو فٹ نہ سمجھ رہے ہوں، لیکن ان کے من کا غبار ٹھنڈ ا نہیں دکھتا ہے۔ایسا ہی کچھ پچھلے دنوں عارف کی باتوں میں دیکھنے کو ملا۔ عارف ویسے تو کئی برسوں سے بی جے پی میں ہیں، لیکن وہ پارٹی کے لئے ووٹ مانگنے کہیں نہیں جاتے۔اس کی وجہ بھی وہ کوئی خاص نہیں بتاتے۔ اپنی اسٹائل سے سیاست کرنے والے عارف صاحب کا کبھی سکہ چلتا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں سیکولر تھے تو سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ جیسے لیڈروں کے قریبی ۔اٹل جی سے متاثر عارف محمد خان نے کبھی  پارٹی پالٹکس نہیں کی۔یہی وجہ تھی کہ انہیں سیاست اور مسلم سماج میں وہ مقام نہیں ملا ،جس کے وہ حقدار تھے۔
عارف کے بارے میں ایک واقعہ کافی چرچا میں رہا تھا۔ بات اس وقت کی ہے، جب ریاست میں لمبے عرصے کے بعد رام نریش یادو کی قیادت میں سرکار بنی تھی اور عارف محمد خان اور مختار انیس ڈپٹی منسٹر بن کر اس میں شامل تھے۔ اس وقت لکھنؤ میں شیعہ ،سنی فساد سے ماحول بگڑ گیا۔ ڈپٹی منسٹر کی حیثیت سے عارف اور مختار کو فساد  سے متاثرہ علاقوں میں بھیجا گیا۔وہاں دونوں میں جھگڑے جیسے حالات پیدا ہوگئے۔عارف کو لگتا تھا کہ سنیوںپرظلم ہوا ہے،جبکہ مختار انیس شیعائوں پر ظلم کی بات کہہ رہے تھے۔ عارف سنی برادری سے تعلق رکھتے تھے، انہیں لگا کہ سنیوں پر ظلم ہوا ہے،لیکن وہ اپنا موقف مضبوطی سے نہیں رکھ پارہے تھے۔اس کے لئے خود کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہوں نے اسمبلی  میں ہی اپنا استعفیٰ دے دیا۔ لمبے وقت تک سیاست میں رہنے کے بعد بھی وہ وہاں کبھی مطمئن نہیں دکھے۔انہوں نے سیاست میں اپنے آپ کو  فٹ نہ دیکھ کر سارا دھیان تصنیف میں لگانا شروع کردیا۔ ان کی تحریریں مختلف اخباروں میں اکثر دکھائی دیتی ہیں، وہیں ان کی پہلی کتاب ’ٹیکس ان کنٹیکس‘ 2001 میں بیسٹ سیلر رہی۔ عارف محمد خان پچھلے دنوں علی گڑھ میں دکھائی دیے۔وہ ایک فیملی پروگرام میں حصہ لینے آئے تھے۔ بھلے ہی وہ آج کل سیاست سے دور ہوں،لیکن ان کے چہرے پر مسلمانوں کے نام پر ہو رہی ووٹ بینک کی سیاست کا معاملہ صاف دیکھا جارہا ہے۔پچھڑے مسلمانوں کو ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی وزیر برائے قانون سلمان خورشید کے بیان سے ناراض عارف نے دو ٹوک کہا کہ ان کا بیان بے معنی اور مسلمانوں کو بہلانے والا ہے۔70 فیصد پچھڑے مسلمانوں کو پہلے سے ہی ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ مسلمانوں کو اگر ریزرویشن ملا ہے تو منڈل کمیشن کی وجہ سے۔ کاکا کالیلکر یا منڈل کمیشن کے آگے کوئی مسلم لیڈر اپنی قوم کے لئے ریزرویشن مانگنے نہیں گیا تھا۔انہوں نے خورشید سے سوال کیا کہ جب 27 فیصد میں مسلمانوں کو ریزرویشن مل رہا ہے تو پھر اب وہ کسے ریزرویشن دینے کی بات کر رہے ہیں۔
اگر بات اتر پردیش کی سیاست میں کئی مسلم  سیاسی خاندان کے گمنامی میں جانے کی کریں تو اس کی بنیادی وجہ مسلم لیڈروں کے ذریعہ خاندانی روایت کو بڑھاوا نہ دینا ہے۔ ہندو لیڈروں کے برعکس مسلم لیڈر اپنے بچوں کو سیاست میں لانے کے بجائے دیگر لائنوں میں بھیجنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لئے مسلم  سیاسی گھرانے  وقت کے ساتھ حاشیہ پر چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے چہرے اور نئے گھرانے لے لیتے ہیں۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *