اسکولوں سے جواب طلب کریں

 حق اطلاعات کے قانون کو نافذ ہوئے چھ سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان چھ سالوں میںاس قانون نے عام آدمی کو پچھلے ساٹھ سال کی مجبوری سے چھٹکارا دلا دیاہے۔اس قانون نے عام آدمی کو اہل اقتدار سے سوال پوچھنے کی طاقت دی ہے، اور ہمارے نظام میں لگے بہت پرانے زنگ کو چھڑانے میں مدد کی ہے۔اس کی وجہ سے عام آدمی اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہواہے۔چوتھی دنیا کے اس کالم میں ہم لگاتار مختلف موضوعات سے متعلق آر ٹی آئی کی درخواست کا فارم شائع کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہم آپ کو ایسی مثالیں بھی دے رہے ہیں جہاں پرائیویٹ (پبلک)اسکولوں میںبھی فری شب کوٹے کے تحت غریب طالب علموں کو داخلے ملے ہیں۔یہ حق اطلاعات کے قانون کا ہی کمال ہے کہ دہلی کی ایک دوبارہ آباد کی گئی بستی سندر نگر کارہنے والا موہن اب ارواچن پبلک اسکول میں پڑھتاہے۔ آر ٹی آئی کی بدولت ہی موہن کا داخلہ اس اسکول میں فری شپ کے کوٹے کے تحت ہوسکا۔ دہلی میں اس طرح کی کئی مثالیں ہیں۔ کلیان پوری کی رہنے والی سنیتا نے آر ٹی آئی کے قانون کا استعمال کرکے اپنے اسکول کی سبھی طالبات کو وظیفہ دلوایا۔ سنیتانے آر ٹی آئی کے تحت وظیفہ نہ ملنے کی وجہ دریافت کی، دو دنوںکے بعد ہی متعلقہ افسر اسکول میں جانچ کے سلسلے میں آئے اور سنیتا نے بڑی بیباکی سے پرنسپل کی شکایت کی۔کچھ دنوںکے بعد ہی اسکول نے سبھی طالبات کو وظیفہ دے دیا۔اسی طرح ہریانہ کے سونی پت ضلع کے سیلار پور مہتا گاؤں کی ساٹھ سالہ سمترا دیوی نے آر ٹی آئی کی مدد سے نہ صرف انتظامیہ کی لاپروائی کو اجاگر کیا، بلکہ غریب اسکولی لڑکیوں کے لئے سائیکل کی تقسیم کی سرکاری اسکیم کا اور سب کے لئے تعلیم کی مہم کے تحت ملنے والے اسکول یونیفارم کا فائدہ طلباء اورطالبات کو دلوایا۔

اسکول میں وظیفہ کی تقسیم
خدمت میں
جناب پبلک انفارمیشن آفیسر
(شعبہ کا نام)
(شعبہ کا پتہ)
موضوع : حق اطلاعات ایکٹ 2005کے تحت درخواست
عالی جناب،
برائے مہربانی…………اسکول میںوظیفہ کی تقسیم سے متعلق مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کریں:
( 1 ) مندرجہ بالا اسکول کے درجہ ……..میں میری بیٹی/بیٹا………پڑھتا/پڑھتی ہے۔ آپ کے ریکارڈ کے مطابق کیا وہ اس سال وظیفہ حاصل کرنے کا/کی حق دار ہے؟ اگر ہاں، تو اسے کتنی رقم ملنی چاہئے؟ ( 2 ) کیا آپ کے آفس کے ریکارڈ کے مطابق اسے اس سال کا وظیفہ دیا جا چکاہے؟ اگر ہاں تومتعلقہ دستاویزوں/رجسٹروںکے اس حصہ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کریں جہاں اسے وظیفہ دئے جانے کی تفصیل دی گئی ہے۔ ( 3 )اگر اسے وظیفہ نہیںدیا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟متعلقہ دستاویزوںکی تصدیق شدہ کاپی فراہم کریں۔ ( 4 )مندرجہ بالا اسکول میں کل کتنے طلباء اور طالبات کووظیفہ دیا جاتاہے؟ہرایک طالب علم کانام ، والد کانام اور درجہ کی جانکاری فراہم کریں۔ ( 5 )سال……..میں کل کتنے طلباء اور طالبات کووظیفہ دیا گیا؟     ( 6 )طلباء اور طالبات کو کس بنیاد پر وظیفہ دیا جاتاہے؟وظیفہ دئے جانے کے کیا ضابطے اور قوانین ہیں؟ اس سلسلے میںسرکاری احکام اور قوانین سے متعلق دستاویزوںکی تصدیق شدہ کاپی فراہم کریں۔ ( 7 )حکومت نے مختلف درجات کے طلباء اور طالبات کے لئے وظیفہ کی کتنی رقم مختص کی ہے؟ ( 8 )اگر کسی طالب علم کواب تک وظیفہ کی رقم نہیں دی گئی تو اس کی کیا وجہ ہے؟ایسے سبھی طالب علموں کی فہرست فراہم کریںجنہیں ابھی تک وظیفہ نہیں دیا گیاہے۔ اس فہرست میں مندرجہ ذیل جانکاری ضرور دیں:
(الف ) طالب علم کا نام    (ب) والد کانام        (ج)وظیفہ نہیں دیے جانے کی وجہ
( 9 )وظیفہ نہ دئے جانے کے لئے ذمہ دارا فسروں کے نام اور انکے عہدے کانا م بتائیں۔اپناکام محکمہ کے ضابطے اور قانون کے مطابق نہ کرنے والے ان اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟ یہ کارروائی کب تک کی جائے گی؟
میں درخواست کی فیس کی شکل میں10روپیہ الگ سے جمع کر رہا/رہی ہوں۔    یا      میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے یہ فیس مجھے معاف ہے۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر……. ہے۔ اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے/آفس سے متعلق نہیںہو ، توحق اطلاعات ایکٹ2005کی دفعہ6   (3)کےمطابق میری درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کردیں۔ساتھ ہی اس ایکٹ کے تحت اطلاع فراہم کر تے وقت اول اپیلٹ افسر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔
مخلص        نام:        پتہ:        فون نمبر:        منسلک دستاویز:

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *