فلسطینیوں کا خون رنگ لائے گا

وسیم احمد
مسلسل چار دنوں تک فلسطین کے بے گناہوں پر اسرائیل کا ظلم جاری رہا۔ درجنوں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی فلسطین کے بے گناہوں کے بہتے خون کو دیکھتی رہی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عربوںنے بالکل چپکی سادھ لی ۔نہ تو فلسطین کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور نہ ہی اسرائیل کی بربریت کے خلاف  کوئی عملی اقدام کیا۔آخر اس چپکی کے پیچھے کیا رازہے۔ کیا یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ کیا  یہ خاموشی کسی سونامی کا پیغام ہے جس کے پہلے سمندر کی لہریں تھم جاتی ہیں اور آتی ہے تو بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد کردیتی ہیںیا یہ خاموشی فلسطینی صدر محمود عباس (ابومازن) کی پالیسیوں سے ناراضگی کا اثر ہے۔وجہ جو بھی ہو لیکن خون بے گناہوں کا بہا۔شروع کے چار دنوں میںبڑی طاقتیں بھی تماشائی بنی رہیں اور جب پانی سر سے اونچا ہوگیا ،اسرائیلی کی بربریت انتہا کو پہنچ گئی تو ان طاقتوں میں تھوڑی حرکتپیداہوئی اور نگراں کمیٹی جس میں امریکہ،یوروپی یونین ، اقوام متحدہ اور روس شامل ہے نے اپنی زبان کھولی۔انہیں اب جاکر احساس ہوا کہ فلسطین میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ غلط ہورہا ہے۔چار دنوں تک فلسطین پر توجہ نہ دینے کا جو عذرِ لنگ بیان کیا گیا  وہ بھی مضحکہ خیز ہے۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں شام میں ہورہے کشت و خون پر مرکوز تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے فلسطین کی طرف دھیان نہیں دیا۔ کتنا عجیب ہے کہ جب کبھی اسرائیل کا معمولی نقصان ہوتا ہے تو کمیٹی کا دھیان کہیں اور نہیں ہوتا مگر جب فلسطینیوں کا  ناحق خون بہایا جاتا رہا تو اس وقت  اس کا دھیان کسی اور طرف تھا ۔خیر ! اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون  نے کم سے کم اتنا اعتراف تو کیا کہ فلسطینیوں پر ظلم ہوا ہے اور ہورہا ہے۔اگر ان مظالم کو نہیں روکا گیا تو اسرائیل و فلسطین کے مابین جنگ چھِڑ سکتی ہے۔
جہاں تک بات ہے عربوں کے خاموش رہنے کی تو اس کی وجہ محمود عباس( ابو مازن) بھی ہوسکتے ہیں۔ دراصل جب ابو مازن  نے فلسطین میں اپنی نئی پارٹی الحماس بنائی تھی تو اس وقت عرب یہ سمجھ رہے تھے کہ الحماس  یاسر عرفات کی پارٹی الفتح کو کمزور کرنے کے لئے اسرائیل کے شہہ پر بنائی گئی ہے۔اس سوچ کو عربوں میں بڑی تقویت ملی کیونکہ الحماس کے منظر عام پر آنے کے بعد فلسطین کے عوام دو حصوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک طبقہ فلسطین کی مقبوضہ زمین’ جس پر اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کرلیا تھا اور یہودی بستیاں بسا لی تھی‘ کو چھوڑکر معاہدہ کرنا  چاہتا تھا اور وہ یعنی اینٹی ’الفتح‘ اسی منشور پر اپنی سیاست کررہا تھا۔ اس طبقہ کو الحماس کی حمایت حاصل تھی جبکہ دوسرا طبقہ اپنی زمین کو کسی بھی قیمت پر اسرائیلکے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اسرائیل نے اس کی زمین کو جبراً لے کر آبادی بسا لی ہے لہٰذا اسرائیل تمام ایسی زمینوں کو خالی کرکے مالکان کو واپس کرے ۔مرحوم یاسر عرفات اسی نقطہ نظر پر پوری زندگی اسرائیل سے نبرد آزما رہے اور ان کے انتقال کے بعد ان کی اس ذمہ داری کو ان کے اخلاف (بعد میں آنے والوں نے) سنبھالا۔مرحوم کے اس نظریے کی حمایت پورا عرب کر رہا تھا مگر جب الحماس معرض وجود میں آیا اور ابو مازن نے اسرائیل کے تئیں نرمی دکھائی تو عربوں کو ایسا لگا کہ ان کی طویل جد و جہد کو ناکام کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے جس کے کلید ابو مازن ہیں۔ اس کے علاوہ جب ابو مازن نے گولڈ اسٹون رپورٹ کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کی مخالفت کی تھی تو عرب ان سے مزید بد گمان ہوگئے۔گولڈ اسٹون رپورٹ 2008-09  کے درمیان فلسطین کے ساحلی شہر غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں تھی۔اس رپورٹ کو انسانی حقوق کے سربراہ جسٹس گولڈ اسٹون  نے تیار کیا تھا ۔ اس میں 22 روزہ  جنگ میں اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیا گیا تھا اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی تھی کہ اسرائیل کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔اگر اس رپورٹ پر بحث ہوتی تو اسرائیل کے کئی قد آور لیڈروں پر جنگی مجرم  ہونے کا مقدمہ چلایا جاسکتا تھا مگر ابو مازن نے اس کو سلامتی کونسل میں پیش نہ کیے جانے کی حمایت کی تھی۔ظاہر ہے اس سوچ نے عربوں کو بہت نالاں کیا۔اس کے بعد وہ کسی بھی ایسے معاملے میں اپنی زبان بند رکھنے لگے، جس سے ابو مازن کا رشتہ ہو، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سیاسی بازیگروں کی وجہ سے عوام کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خاموشی اختیار کرلی جائے تو کیا اسے انسانی تقاضوں کے خلاف نہیں کہا جائے گا؟اگرچہ سیاسی نکات کے ماہرین اس پہلو کو بعید از امکان نہیں سمجھ رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اس سوچ کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ عربوں کو فلسطین کے ساتھ ایک خاص لگائو رہا ہے اور وہ محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے غز ہ میں بے گناہوں کے قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ انہیں بے سہارا چھوڑ سکتے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے وقت میں جب فلسطین پر اسرائیل انسانیت سوزی کے تمام ہتھکنڈے اپنا رہا ہے انہوں نے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟۔ممکن ہے اس کے پیچھے عربوں کی اپنی شکستہ حالی ہو۔اس وقت عرب میں جو سیاسی اتھل پتھل ہورہی ہے اس کی وجہ سے وہ خود اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔شام کی صورت حال نے انہیں مزید الجھا دیا ہے۔ان کی اس صوت حال کو اسرائیل اچھی طرح سمجھ رہا ہے اور اسی کا فائدہ اٹھا کر وہ غزہ کی زمین تنگ کرتا جارہا ہے۔مگر اس سچائی سے شاید اسرائیل انجان ہے کہ جب انسان ہر طرف سے مجبور ہوجاتا ہے تو سر پر کفن باندھ لیتا ہے۔ اور یہی ہورہا ہے فلسطین میں ۔جب انہوں نے دیکھا کہ عربوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے، بڑی طاقتیں انہیں نظر انداز کررہی ہیں ، اقوام متحدہ کی طرف سے انہیں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے تو اسرائیل کا جواب دینے کے لئے وہ خودسامنے آگئے ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ہتھیار نہیں ہیں مگر عزم ہے ، ہمت ہے اور اسی عزم وہمت نے اسرائیل کو دہلا کر رکھ دیاہے۔
فلسطینی اب اپنے شہیدوں کا انتقام لے رہے ہیں ۔غزہ کی پٹی پر وحشیانہ یلغار کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے بڑی تعداد میں یہودی کالونیوں پر راکٹ سے حملے شروع کردیے ہیں جس کے نتیجے میں یہودی بستیاں لرز اٹھی  ۔اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں القدس  بریگیڈ اور ناصر صلاح الدین بریگیڈ کے علاوہ کئی دیگر تنظیموں نے بھی راکٹ سے حملے کیے، جن سے یہودی آبادی کاروں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔کہا جاتا ہے کہ جب اسرائیلی فوج نے فلسطین پر جارحیت شروع کی،  تو فلسطین کے لوگ اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لئے عالمی برادری کی طرف  دیکھ رہے تھے ،مگر  دنیا نے اس جارحیت پر خاموشی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے خود ہی دفاعی جنگ شروع کی۔ القدس بریگیڈ کے جانثاروں نے دشمن کی تنصیبات پر سو  سے زائد راکٹ  سے حملے کیے ، جس کے نتیجے  میں اسرائیلی مکانات اور اسکولوں سمیت فوجی چھائونیوں کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری طرف الحماس نے فلسطینیوں کے اس حملے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے فلسطینی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تمام تر وسائل کا استعمال کریں۔ظاہر ہے اگر فلسطین خود دفاع کی پوزیشن میں نہیں آتا ، تو اس کا مطلب ہواکہ اسرائیل جس نے غزہ پر معاشی ناکہ بندی کر رکھی ہے ،وہاں بھوک کی وجہ سے بچوں ،عورتوں کی اموات ہوتیں اور بیماروں کے لئے دوائیاں ملنا مشکل ہو جاتا ۔ظاہر ہے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی جس کا خمیازہ خود فلسطینیوں کو بھگتنا پڑتا،لہٰذا اس سنگین صورت حال سے بچنے کے لئے  الحماس نے مصر سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی مدد کرے تاکہ معاشی  ناکہ بندی کی وجہ سے مسائل سے  پریشان ہو رہے لوگوں کے مسائل سلجھائے جاسکیں  اور دوسری طرف اسرائیل کو انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی بربریت کو نہیں روکا تو جوابی کارروائی مزید سخت ہوسکتی ہے۔فلسطین کے اس عزم کو دیکھ کر اب  عالم عرب سمیت یوروپی ممالک کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور امریکہ سمیت اقوام متحدہ نے یہ بیان دیا ہے کہ فلسطین میں جوکچھ بھی کیا جارہا ہے وہ غلط ہے۔ عالم اسلام کے نمائندوں، اسلامی تعاون تنظیم نے  اسرائیل کی مذمت کی ہے اور او آئی سی نے انتباہ دیا ہے کہ اسرائیل کا یہ عمل نا قابل برداشت ہے۔  فلسطینیوں کے تیور  دیکھ کر پانچویں دن عالمی برادری نے اسرائیل پر دبائو بنانا شروع کیا کہ وہ فلسطینیوں پر فضائی حملے بند کرے۔ عالمی برادری کے دبائو میں آکر گرچہ اسرائیل نے حملے بند کردیے مگر وہ بار بار یہ دھمکی دے رہا ہے کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ نظریے کو ترک نہیں کرے گا۔اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہماری فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو فلسطین پر حملہ کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ وزیر برائے داخلی امن اسحق اھرنوس نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’جنگ بندی معاہدہ ایک غلطی ہے اور فلسطین پر تابڑ توڑ حملے نہ کرنا اس سے بڑی غلطی۔ ہمیں چاہئے کہ فلسطین پر تابڑ توڑ حملے کرکے الحماس کو بالکل ہی ختم کردیا جائے ‘‘۔اسرائیل کی طرف سے ان بیانوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنگ بندی محض ایک دکھاوا ہے ۔سچائی تو یہ ہے کہ وہ غزہ کو تباہ کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ ان چار دنوں میں اسرائیل نے مجموعی طور پر  37 فضائی حملے کیے اور فوجی ٹھکانوں کے علاوہ  رہائشی مقامات کو بھی تباہ کیا۔اسرائیل کے اس تیور کو دیکھ کر ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ اکوالیٹی کے رکن محمد برکہ کی بات سچ لگتی ہے کہ اسرائیل حالات کو بگاڑ کر امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کررہا ہے۔اسرائیل کے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے ہندوستانی نمائندہ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ’’ فلسطین میں امن کا قیام ضروری ہے اور فلسطینیوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ حاشیے پر نہیں ہیں۔ جب تک فلسطین میں امن قائم نہیں ہوتا ،اس وقت تک مغربی ایشیا میں امن کا تصور نہیں کیا جاسکتا‘‘۔مگراسرائیلیرہنمائوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور آئے بھی تو کیسے کہ ان کا وجود ہی فلسطینیوں کی مقبوضہ زمین پر قائم ہے۔    g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *