کہیں یہ ایران کے خلاف سازش تو نہیں

راجیو کمار
دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کی ایک گاڑی پر بم سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایک اسرائیلی ڈپلومیٹ کے ساتھ چار دیگر لوگ زخمی ہوگئے۔ اسی طرح جارجیا میں بھی ایک حادثے کی سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ وہاں بھی اسرائیلی سفارت خانے کے پاس ایک گاڑی میں دھماکہ خیز مادہ پکڑا گیا۔ ظاہر ہے یہ دھماکہ خیز مادہ اگر نہیں پکڑا جاتا تو دھماکہ ہونا طے تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے شہریوں اور مختلف ممالک میں ان کے سفارت خانوں پر حملہ کرنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ ایران اور حزب اللہ کے لوگ ہیں۔اسی طرح کا ایک حادثہ تھائی لینڈ میں بھی ہوا۔موقعِ حادثہ سے ایران کا شناختی کارڈ بھی ملا ہے جس سے اس حادثے میں کسی ایرانی کے شامل ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ایک دو دنوں کے اندر ہوئے ان حادثوں سے ایک ساتھ کئی سوال پیدا ہورہے ہیں۔حالانکہ جب تک جانچ کی رپورٹ نہیں آجاتی ہے اور جانچ ایجنسیاں ان حادثوں کے ذمہ دار لوگوں اور بم دھماکے کے حقائق کا پتہ نہیں لگا لیتی ہیں، کچھ بھی صاف طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن ان حادثوں اور موجودہ صورت حال نے جو سوال کھڑے کئے ہیں اس کا جواب تلاش کرنا پڑے گا۔
سب سے پہلا سوال اٹھتا ہے کہ جب دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کی کار میں دھماکہ ہوا اور جارجیا میں اسرائیلی سفارت خانے کے پاس دھماکہ خیز مادہ ملا تو اسرائیل نے جانچ کے بعد آئی رپورٹ کا انتظار کیے بنا یہ کیوں کہہ دیا کہ اس میں ایران یا حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔ اس نے القاعدہ یا ہندوستان میں فعال کسی دیگر دہشت گرد تنظیم کا نام کیوں نہیں لیا۔ اس کی ایک وجہ ہے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی۔ حزب ا للہ لبنان کی تنظیم ہے جو اپنے ملک کے ایک حصے کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانے کے لئے جنگ کر رہی ہے۔ اسرائیل کے قریبی معاون ہونے کے سبب امریکہ سے بھی اس کی دشمنی ہے۔ اس کے سابق چیف عماد مغنی کا قتل ایک بم دھماکے میں ہوا تھا اور حزب ا للہ کا ماننا ہے کہ مغنی کے قتل میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ حزب ا للہ نے پہلے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب ا للہ نے اپنے سابق چیف کا بدلہ لینے کے لئے ہی ا سرائیلی سفارت خانے کے آفیسر پر حملہ کیا ہے نیز وہ بتانا چاہتا ہے کہ ابھی اپنے سابق چیف کے قتل کو وہ بھولا نہیں ہے۔ اسرائیل کی ایسی ہی دشمنی حماس سے بھی ہے ،جسے وہ دہشت گرد تنظیم مانتا ہے۔ حالانکہ حماس کی کارکردگی فلسطین کی حد تک ہی سمٹی ہوئی ہے اور الیکشن بھی جیت چکا ہے لیکن اسرائیل نے حماس کا نام نہیں لیا۔ اس نے حزب اللہ اور ایران کا ہی نام لیا۔ اس کا ایک سبب یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی کچھ دنوں پہلے حزب اللہ اور ایران کے بیچ کے رشتے کا خلاصہ ہوا ہے۔ حزب اللہ چیف حسن نصرا للہ نے بھی قبول کیا ہے کہ اس کی پارٹی کو ایران سے مالی و سیاسی تعاون ملتا ہے۔ یہ بات اس نے اس وجہ سے بتائی کہ اس پر نشیلی اشیاء کی اسمگلنگ اور رقم وصولی کا الزام لگ رہا تھا۔ابھی ایران پر ویسے بھی کئی الزام لگ رہے ہیں ۔ اسرائیل، امریکہ اور یوروپی یونین نے ایران پر ایٹمی بم بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے ایٹمی منصوبے کو روکنے کے لئے اس پر اقتصادی پابندی بھی لگائی گئی ہے۔ یہی نہیں امریکہ میں ہونے والیصدارتی الیکشن کے ایک امیدوار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ صدر بننے کے بعد وہ ایران پر حملہ کرے گا۔ امریکہ کی طرف سے یہ بھی بیان آرہا ہے کہ نومبر تک ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ ، فرانس جیسے پوروپین ممالک بھی ایران پر حملہ کرنے کے حق میں ہیں۔ لیکن ابھی چین اور روس کی حمایت ان ملکوں کو نہیں مل رہی ہے۔ ہندوستان نے بھی ایران سے تیل خریدنے پر لگائی گئی پابندی کی حمایت نہیں کی ہے اور ایران سے تیل درآمد کرتے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعہ لگائی گئی پابندیوں کو مانے گا ،کسی دیگر تنظیموں کے ذریعہ لگائی گئی پابندیوں سے اسے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ایسے میں امکان اس بات کا ہے کہ کہیں ان حادثوں کا تار ایران کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش سے تو جڑا ہوا نہیں ہے۔کہیں ایران پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ اسرائیل اور کچھ یوروپین ملک یہ ثابت کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں کہ ایران عالمی امن کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے امکانات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ امریکہ اس سے پہلے بھی ایسا کر چکا ہے۔ عراق پر حملہ کرنے کے لئے بھی امریکہ نے ایسا ہی الزام صدام حسین پر لگایا تھا،لیکن ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل پایا ہے کہ صدام حسین کا تعلق دہشت گردتنظیموں کے ساتھ تھا اوروہ ایٹمی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسی ہی کوشش ایران کے لئے بھی کی جا رہی ہو اور ان حادثوں کے ساتھ ایران کو جوڑ کر ایران کے خلاف سازش کی جا رہی ہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایران نے اسرائیلی افسروں کو ٹارگٹ کیا ہے ، تو اس کے پیچھے کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ہی ایران کے ایک ایٹمی سائنس داں مصطفیٰ احمدی روشن کو قتل کردیا گیا تھا۔ ایران میں ایٹمی سائنس داں کے قتل کا یہ پہلا حادثہ نہیں تھا۔گزشتہ دو برسوں میں ایران کے تین دیگر ایٹمی سائنس دانوں مسعود علی محمد، ماجد شہریاری اور رضایی نژاد کا قتل ہو چکا ہے اور ایک سائنس داں عباسی دوانی حملہ کے شکار ہونے کے بعد بچ گئے۔ ایران نے صاف طور پر الزام لگایا ہے کہ اس کے سائنس دانوں کے قتل میں امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ ایران نے اس وقت کہا تھا کہ اس قتل کے لئے ذمہ دار ملکوں کو وہ انہیں کے طریقے سے جواب دے گا۔ایرانی سائنس داں کے قتل میں جس اسٹکی بم کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح کے بم کا استعمال دہلی کے دھماکے میں بھی کیا گیا ہے۔ ہندوستانی جانچ ایجنسیوں کا بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے بم کا استعمال پہلے نہیں کیا گیا ہے ۔ ایسے بم باہر سے منگوائے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس دھماکے میں ایران کا ہاتھ ہو۔ جب تک دھماکے کی گتھی نہیں سلجھ جاتی، صاف طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے ، لیکن اگر ایران کا ہاتھ ہے، اور اس نے اپنے سائنس دانوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے ایسا کیاہے تو اسے اچھا نہیں کہا جاسکتا۔ اسرائیل اور ایران دونوں کو اس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اس سے ایک ایسے سلسلے کی شروعات ہوجائے گی جس کو روک پانا شاید ممکن نہ ہو۔ ہندوستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہوئے اس دھماکے کا کہیں غلططریقیسے استعمال نہ ہو، اس بات کا دھیان رکھا جانا بھی بہت ضروری ہے۔ ابھی راز پر سے پردہ اٹھنا باقی ہے،لیکن اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں ہوئے اس دھماکے کو ایران پر حملہ کرنے کی بنیاد نہیں بننے دینا چاہئے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *