سی بی آئی کے شکنجے میں ولاس رائو اور شنڈے

روبی ارون
سی بی آئی کے وکیل کے سدھاکر اور اعجاز خان نے آدرش گھوٹالے کی پچھلی سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ کو بتایا کہ جانچ کے دوران اس معاملے میں دو اور لوگوں کے شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ لہٰذا وہ اس گھوٹالے کے 14 ملزمین کی فہرست میں ان دو لوگوں کا نام جوڑنا چاہتی ہے۔ حالانکہ سی بی آئی نے ان دونوں ملزمین کے ناموں کا خلاصہ نہیں کیا ہے، مگر ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ملزمین مہاراشٹر کے یہی قدآور لیڈر ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ آدرش گھوٹالے میں وِلاس راؤ دیش مکھ اور سوشیل کمار شنڈے سے سی بی آئی پہلے بھی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے میں سی بی آئی کی نظر کانگریس کے دو مرکزی وزراء پر جا کر ٹک گئی ہے۔ اس گھوٹالے کا جنّ کانگریس کے اوپر سوار ہو چکا ہے۔ سب سے زیادہ بحث کا موضوع بننے والے اس گھوٹالے میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان کے پھنسنے کے بعد سی بی آئی نے وِلاس راؤ دیش مکھ اور سوشیل کمار شنڈے کو ملزم بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

اتنا ہی نہیں، سی بی آئی نے اس گھوٹالے میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ رہ چکے دیش مکھ اور مرکزی وزیر سوشیل کمار شنڈے کا بیان گواہ کے طور پر درج بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی بی آئی کے ذریعے دو دیگر ملزمین کے ناموں کا خلاصہ نہ کرنے کے بعد بھی سیاسی گلیارے میں ان دونوں کے ناموں کا چرچہ زوروں پر ہے۔ آدرش گھوٹالہ معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے بے حد کڑے تیور اپنا رکھے ہیں۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو اس گھوٹالے کی تفتیش جلد از جلد پوری کرنے کے حکم دیے ہیں۔ یہاں تک کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ (ای ڈی) کو بھی بامبے ہائی کورٹ کے کڑے رخ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا، یہ جانچ ایجنسیاں دو ماہ کے اندر ہی عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دینا چاہتی ہیں۔ سی بی آئی نے اس گھوٹالے کے سلسلے میں آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی میں آٹھ بے نامی فلیٹ مالکوں کا ذکر بھی بامبے ہائی کورٹ میں کیا ہے۔ اس گھوٹالے کی جانچ کر رہی، بامبے ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس جے اے پاٹل کی صدارت والی دو رکنی کمیٹی نے آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے میں بیان درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ سی بی آئی کے حوالے سے جو اطلاعات حاصل ہو رہی ہیں، ان کے مطابق گواہوں کے بیان بے حد چونکانے والے ہوں گے اور کچھ دیگر اہم راز بھی فاش ہوں گے۔
اس جانچ کمیٹی نے بریگیڈیئر دیپک سکسینہ کا بیان درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے مرکزی وزیر توانائی سوشیل کمار شنڈے کو بھی آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے میں بیان دینے کے لیے طلب کیا ہے۔ جانچ کمیٹی نے کچھ نوکرشاہوں کو بھی حاضر ہونے کے احکام صادر کیے ہیں۔ سی بی آئی نے اس گھوٹالے میں جن لوگوں کے نام ایف آئی آر درج کیے ہیں، ان میں آدرش سوسائٹی کے جنرل سکریٹری آرسی ٹھاکر، محکمہ شہری ترقی کے سابق چیف سکریٹری رامانند تیواری، کانگریسی لیڈر اور سابق ایم ایل سی کنہیا لال گڈوانی، ممبئی کے سابق ڈی ایم پردیپ ویاس اور محکمہ شہری ترقی کے سابق اَنڈر سکریٹری پی وی دیش مکھ کا نام خاص طور پر شامل ہے۔ سوشیل کمار شنڈے 18 جنوری، 2003 سے 19 اکتوبر، 2004 تک مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ رہے۔ الزام ہے کہ اسی دوران آدرش سوسائٹی کی فائل نے رفتار پکڑی تھی۔ شنڈے کی بطور وزیر اعلیٰ مدتِ کار کے دوران اشوک چوان صوبہ کے وزیر مالیات تھے۔ انہوں نے ہی آدرش سوسائٹی میں 40 فیصد عام لوگوں کو بھی فلیٹ دیے جانے کی سفارش کی تھی، جسے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے سوشیل کمار شنڈے نے قبول کیا تھا۔ حالانکہ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالہ کا ٹھیکرا مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے ایک دوسرے سابق وزیر اعلیٰ وِلاس راؤ دیش مکھ کے سر پھوڑا ہے۔ اشوک چوان کا الزام ہے کہ اس متنازع اراضی کی منظوری ولاس راؤ دیش مکھ نے ہی دی تھی اور اس میں ان کا کوئی رول نہیں تھا۔
آدرش تنازع کی وجہ سے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے پچھلے سال ہٹنے والے اشوک چوان نے جانچ کمیٹی کو ایک حلف نامہ بھی سونپا ہے۔ حلف نامہ میں چوان نے کہا ہے کہ کولابا علاقے میں مسلح افواج میں کام کرنے والوں کے لیے بنائی گئی اس سوسائٹی میں غیر فوجیوں کو بھی شامل کرنے کے لیے انہوں نے کوئی سفارش نہیں کی تھی۔ چوان 1999-2003 کے دوران وزیر مالیات تھے، جب اس سوسائٹی کو اراضی دی گئی تھی اور وِلاس راؤ دیش مکھ اس وقت وزیر اعلیٰ تھے۔ چوان نے اپنے حلف نامہ میں صاف طور پر اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پُنے، ممبئی اور میونسپل کارپوریشنز میں 25 لاکھ سے زیادہ کی قیمت والی راضی کی تقسیم کے لیے براہِ راست وزیر اعلیٰ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ولاس راؤ نے ہی یہ فیصلہ لیا تھا۔
چوان کے حلف نامہ پر دیش مکھ یہ کہہ کر صفائی دے رہے ہیں کہ اب یہ فیصلہ جیوڈیشل کمیشن کو کرنا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ سب کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ دیش مکھ نے یہ کہتے ہوئے اشوک چوان پر الزام لگایا تھا کہ اُس وقت کے وزیر مالیات چوان نے ہی ہاؤسنگ سوسائٹی سے اپنے ضوابط میں تبدیلی کرکے اس میں غیر فوجیوں کو بھی شامل کرنے کو کہا تھا۔ لیکن ولاس راؤ دیش مکھ نے اس گھوٹالے کی جانچ کر رہی کمیٹی کے سامنے جو حلف نامہ پیش کیا ہے، اس میں اراضی کی تقسیم کے لیے وزارتِ مالیات اور ممبئی کے کلکٹر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تو محض اس تجویز پر کارروائی کی، جسے آدرش سوسائٹی کے لیے اراضی کی تقسیم کے سلسلے میں انہیں بھیجا گیا تھا۔ ابھی تک جو بیان درج ہوئے ہیں، ان میں سب سے چونکانے والا بیان بریگیڈیئر دیپک سکسینہ نے دیا ہے۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا ہے کہ آرمی سے متعلق پراپرٹی کے رجسٹرار کا ریکارڈ ڈیفنس اسٹیٹ آفس (ڈی ای او) اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس ریکارڈ کو رکھنے میں کہاں اور کیا گڑبڑیاں ہوئی ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہ یہ رجسٹر کس تاریخ سے مینٹین ہونا شروع ہوا ہے؟
بریگیڈیئر دیپک سکسینہ نے جانچ کمیٹی کو بتایا ہے کہ جس زمین پر آدرش سوسائٹی کھڑی ہے، اس کا کوئی بھی اندراج رجسٹر میں نہیں ہے، جب کہ ڈیولپمنٹ پلان اور دیگر دستاویزوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ زمین آرمی کی ہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ممبئی میونسپل کونسل انتخاب اور اتر پردیش اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں بری طرح شکست کھاچکی کانگریس ابھی سانس بھی نہیں لے پائی ہے کہ اب آدرش ہاؤسنگ گھوٹالے کی شکل میں مہاراشٹر میں بھی کانگریس کے برے دنوں کی شروعات ہو گئی۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *