بجٹ 2012:ملک پر اقتصادی بحران کا سایہ

ڈاکٹر منیش کمار
لوک سبھا انتخاب سے پہلے کا یہ شاید آخری بجٹ ہے، جسے پرنب مکھرجی پیش کر رہے ہیں۔ فی الحال، کانگریس کے سامنے کوئی انتخاب نہیں ہے، اس لیے لوک سبھا بجٹ پیش کرنے کا دباؤ وزیر خزانہ پر نہیں ہے۔

سرکار چلانے کا یہ عجیب و غریب طریقہ ہے۔ پہلے ایک مسئلہ پیدا کرو، اسے پال پوس کر بڑا کرو اور اسے بڑھنے دو۔ پھر میڈیا کے ذریعے اس کے خطرے کے بارے میں لوگوں کو بتاؤ، فکرمندی ظاہر کرو۔ پھر ہاتھ کھڑے کردو کہ اس سے نمٹنے کے لیے سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ قانون بدلنا ہوگا۔ ایسی حکمت عملی کا فائدہ یہ ہوجاتا ہے کہ سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔ عوام مخالف اور غریب مخالف پالیسیوں اور قانونوں کو نافذ کرنے میں سرکار ہمیشہ اسی حکمت عملی کا استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح سیاسی پارٹی اور سیاسی اہل کار ملک کے عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی نظر میں حکومت کی پالیسی جائز اور صحیح لگنے لگتی ہے۔ 16 مارچ کو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی بجٹ پیش کریں گے۔ یہ بجٹ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔ بجٹ کی صورت و شکل پر حالیہ دنوں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے گھر پر ایک میٹنگ ہوئی۔ دو گھنٹے کے بعد میڈیا کو صرف اتنا بتایا گیا کہ عوام کے مفاد کو ذہن میں رکھ کر بجٹ تیار کیا جائے گا۔ لیکن اس میٹنگ کے بعد جتنے بھی لیڈر گھر سے باہر نکل رہے تھے، ان کے چہرے سے پتہ چل رہا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کسی نے میڈیا سے بات نہیں کی۔

اس لیے سرکار من چاہا کام کرے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس بجٹ پر وزیر اعظم منموہن سنگھ، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، ساتھ ہی لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن کے حامی ماہرین اقتصادیات کی چھاپ ہوگی۔ یہی بجٹ کانگریس پارٹی کی اقتصادی پالیسی کا آئینہ ہوگا۔ اس سے پتہ چلے گا کہ جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کی اقتصادی پالیسیوں اور موجودہ کانگریس کی اقتصادی پالیسی میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔ یہ سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ منموہن سنگھ کی سرکار جب سے دہلی کے تخت پر قابض ہوئی ہے، تب سے غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور وَن واسیوں کے ساتھ صرف فریب کیا گیا ہے، اور سارے فائدے صنعت کاروں اور کارپوریٹ گھرانوں کو مہیا کرائے گئے ہیں۔ جتنی بھی اسکیمیں بنتی ہیں، ان کا فائدہ صرف چند لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ سرکار کی یہ عادت بن گئی ہے کہ اس کے پاس غریبوں کی سبسڈی کے لیے پیسے نہیں رہتے، لیکن بڑے بڑے صنعتی گھرانوں کو اربوں کھربوں کا فائدہ پہنچانے کے لیے وہ بے قرار رہتی ہے۔
مرکزی حکومت کا یہ بجٹ ایسے وقت میں آ رہا ہے، جب سرکار کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہو گیا اور سرکار نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ بیان دیے گئے۔ یہ کہا گیا کہ ہمارے پاس مہنگائی کو قابو میں کرنے کے لیے کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہے۔ عوام میں ایک طرف ناراضگی ہے تو دوسری طرف ملک کے مزدور احتجاج کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ہوئے ملک گیر بند میں کانگریس اور بی جے پی کی مزدور یونینوں نے بھی حصہ لیا۔ سرکار چلانے والوں کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے کارکن اور تنظیم کے لوگ بھی سرکار کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس بجٹ میں ایک سنگین اقتصادی بحران پوشیدہ ہے۔ ملکی اقتصادیات کی رفتار لگاتار گھٹتی جا رہی ہے۔ سرکار کی پالیسیاں ایک کے بعد ایک کرکے فیل ہو رہی ہیں۔ مرکزی حکومت نے فروری 2011 میں بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسی پالیسیوں پر کام کر رہی ہے، جس سے ملک کی اقتصادی حالت کافی بہتر ہو جائے گی۔ سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ 2011-12 میں 9 فیصد کی شرحِ ترقی کو حاصل کر لے گی۔ کچھ دن گزرنے کے بعد ہی سرکار کی سمجھ میں یہ آگیا کہ 9 فیصد کی شرحِ ترقی ممکن نہیں ہے، لہٰذا اُس نے اس ہدف کو گھٹا کر 8.4 فیصد کر دیا۔ آج ملک کی اقتصادی حالت کا حال یہ ہے کہ سرکار نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ ملک کی جی ڈی پی کی شرحِ ترقی 2011-12 میں 8.4 فیصد سے گھٹ کر 6.9 فیصد رہ جائے گی۔ یہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم ہے۔ سرکار کے مطابق اس کی وجہ غذائی اجناس کی پیداوار اور کان کنی میں ہونے والی گراوٹ ہے۔ یو پی اے کے دوسرے دور کے پہلے دو سال میں شرحِ ترقی8.4 فیصد تھی۔ سرکار کا جو بھی اندازہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ 6.9 فیصد کی شرحِ ترقی کو حاصل کرپانا بھی مشکل ہوگا، کیوں کہ تیسرے سہ ماہی اعداد و شمار آ چکے ہیں اور اس کے مطابق جی ڈی پی کی شرحِ ترقی 6.1 فیصد ہے۔ سرکار کے مطابق، تمام شعبوں میں گراوٹ کا ماحول ہے۔ پیداوار کی حالت ایک سال میں کافی نیچے پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ برس یہ 7.6 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی تھی، جو اس سال گھٹ کر محض 3.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ زراعت کا بھی حال بہت برا ہے۔ پچھلے سال زراعت میں شرحِ ترقی 7 فیصد تھی، جو 2011-12 میں 2.5 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔ کان کنی کی حالت خستہ ہو گئی ہے۔ 2010-11 میں کان کنی کی شرحِ ترقی 5 فیصد تھی، لیکن 2011-12 میں یہ -2.2 فیصد پر پہنچ گئی۔ تعمیرات کی حالت بھی خستہ ہے۔ اس کی شرحِ ترقی 4.8 فیصد ہے، جب کہ پچھلے سال یہ 8 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی حالت یہاں تک کیسے پہنچی۔ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ کیا صرف اعداد و شمار جاری کرکے سرکار کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ سرکار ایسی پالیسیوں کو کیوں نافذ کرتی ہے، جس کا اثر الٹا ہوتا ہے۔ ایک مشکل حالت سے باہر نکلنے کے لیے حکومت فیصلے لیتی ہے، اور جب اس کا اثر دکھائی دینے لگتا ہے تو مشکل اور بھی بڑھنے لگتی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسے اقتصادی ماہرین نہیں ہیں، جو خستہ حال اقتصادی نظام کو درست کر سکیں۔ کساد بازاری کے دور میں جب پوری دنیا کی اقتصادیات ڈوب رہی تھی، تب ہندوستان پر اس کا اثر نہیں پڑا۔ جب بی جے پی کی سرکار نے نیوکلیئر ٹیسٹ کیا اور ملک پر پابندیاں لگیں، تب بھی ہندوستان پر اس کا اثر نہیں پڑا۔ جب بھی اسٹاک ایکسچینج میں بھونچال آتا ہے تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ملک کے اقتصادی نظام کی بنیاد مضبوط ہے۔ ویسے بھی ملک میں کوئی بحران نہیں پیدا ہوا۔ خشک سالی بھی نہیں آئی۔ کوئی ایسا واقعہ بھی رونما نہیں ہوا، جس کی وجہ سے اقتصادی نظام پٹری سے نیچے اتر جائے۔ پھر لگاتار تین سالوں سے ہمارا اقتصادی نظام کیوں زوال پذیر ہے۔ ایسے میں سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔
سرکار ہندوستان کو پوری طرح سے ایک آزاد بازار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسا ماحول تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے، جہاں وہ یہ کہہ سکے کہ سخت فیصلے کے بغیر اقتصادی نظام کو پٹری پر لانا ناممکن ہوگا۔ وزیر خزانہ رہتے ہوئے منموہن سنگھ نے جب 1991 میں لبرلائزیشن کی پالیسی اپنائی، تب بھی ایسا ہی ماحول تھا، جیسا کہ آج ہے۔ سالانہ شرحِ ترقی اسّی کی دہائی میں 3.5 فیصد رہی۔ سرکاری کمپنیوں کا لگاتار نقصان ہو رہا تھا۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں ترقی نہیں ہوئی اور لائسنس راج نے صنعتوں کو بڑھنے کا موقع نہیں دیا، ساتھ ہی سارا اقتصادی نظام بدعنوانی کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا۔ راجیو گاندھی کے دورِ حکومت سے ہی ملک کے اقتصادی نظام کی حالت خراب ہونے لگی تھی، لیکن اس کا کوئی حل نہیں ڈھونڈا گیا۔ سرکار چلانے والے وزیروں سے لے کر تمام اقتصادی ماہرین کو یہ معلوم تھا کہ اگر اس کا علاج نہیں ڈھونڈا گیا تو ملک کا اقتصادی نظام چوپٹ ہو جائے گا۔ اس کے باوجود وزارتِ خزانہ میں بیٹھے لوگ اسے ٹالتے رہے۔ جان بوجھ کر اقتصادی نظام کو برباد ہونے دیا گیا۔ ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ ملک کو سونا گروی رکھنے کی ضرورت پڑ گئی۔ اس وقت منموہن سنگھ سرکار کے اقتصادی معاملوں کے صلاح کار تھے۔ حالانکہ اس پر جم کر سیاست ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نوبت کسی ایک سرکار کی وجہ سے نہیں آئی، بلکہ یہ 1991 سے پہلے کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکار چلانے والے مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے اسے ٹالتے رہے۔ اگر 80 کی دہائی میں سرکاری کمپنیوں کی حالت بہتر کر دی گئی ہوتی، اسے چلانے والوں کی ذمہ داری طے کی گئی ہوتی تو شاید آج اسے بیچنے کی نوبت نہیں آتی۔ ملک کی پرائیویٹ کمپنیوں اور سرمایہ کو بڑھاوا دینے کے لیے پالیسیاں بنتیں تو آج ہمیں غیر ملکی سرمایہ پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ آج سرکار جو بہترین سڑکیں بنا رہی ہے، ہوائی اڈے بنا رہی ہے، یہ کام 80 کی دہائی میں بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن سرکار نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1991 میں سرکار کی غلطیاں ہی سرکار کی دلیل بن گئی، اس کی ناکامی ہی اس کی دلیل بن گئی۔ نہ کسی کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی، نہ نظام میں کوئی تبدیلی کی گئی، نہ کوئی کوشش ہوئی، بلکہ سرکار نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ نیو لبرل ازم کو اپنانا ہی واحد راستہ بتاکر لبرلائزیشن کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس طرح منموہن سنگھ نے ملک کی اقتصادی پالیسی اور اس کی تھیوری کو ہی بدل دیا۔ ہندوستان میں سرکاری اسکیموں کے ذریعے سماجی ترقی اور برابری حاصل کرنے کا مقصد چھوڑ دیا گیا۔ 1991 میں ایسی پالیسیوں کی بنیاد بھی رکھی گئی، جن کا اثر ہر طرف نظر آ رہا ہے۔ امیر پہلے سے زیادہ امیر اور غریب پہلے سے زیادہ غریب بن گئے۔
اب بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔ آج کسی کے من میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار دھیمی ہے۔ میڈیا میں، اخباروں میں یہ لکھا جا رہا ہے کہ اقتصادی نظام کی تصویر خراب اور تشویش ناک ہے۔ تشویش ناک اس لیے، کیوں کہ مستقبل قریب میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ اب اس کی دلیل یہ دی جائے گی کہ اقتصادی نظام کی حالت خراب اس لیے ہے، کیوں کہ سرمایہ کاری کی شرح میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے۔ ترقی کی دھیمی رفتار کے لیے عالمی پیمانے پر بڑھتی غیر یقینی کی صورتِ حال اور سست باہری مانگ کو ذمہ دار بتایا جائے گا۔ لیکن اس پر سوال کون اٹھائے گا کہ یہ تو پچھلے تین سالوں سے چل رہا ہے، پھر سرکار نے کیا کیا۔ اقتصادی معاملوں کے کئی جانکار یہ وارننگ کئی دنوں سے دے رہے ہیں کہ سرکار کی سستی اور ریزرو بینک کی کوتاہی ترقی کو روک رہی ہے۔ سرکار اعداد و شمار کو درست  رکھنے کے لیے وقت وقت پر قدم اٹھاتی رہی ہے۔ ایک مثال ہے کوئلے کی۔ کان کنی کے شعبے میں لگاتار گراوٹ آ رہی ہے۔ کئی مہینوں سے اخباروں میں کوئلے کو لے کر بہت ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ ملک میں بجلی کی کمی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاور پلانٹ کے لیے کول انڈیا کو کوئلہ درآمد کرنے کے لیے کہا۔ سنٹرل الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق سال 2012-13 میں 70 ملین ٹن کوئلہ درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف صنعتی دنیا سرکار پر یہ دباؤ بنا رہی ہے کہ کوئلہ کی درآمد پر لگنے والی کسٹم ڈیوٹی پر 5 فیصد کی چھوٹ دی جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں کوئلے کی کمی ہو گئی ہے۔ چوتھی دنیا کی تحقیقات کے مطابق، یو پی اے سرکار کے دوران کوئلے کی کانیں صرف 100 روپے فی ٹن کی مائن رائلٹی کے عوض میں بانٹ دی گئیں۔ ایسا تب کیا گیا، جب کوئلے کی بازاری قیمت 1800 سے 2000 روپے فی ٹن کے اوپر تھی۔ پارلیمنٹ میں اس بات کو لے کر کچھ ممبران نے ہنگامہ بھی کیا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ 1993 سے 2003 تک 40 بلاک بانٹے گئے تھے، جن میں اب تک صرف 24 نے پروڈکشن شروع کیا ہے۔ تو باقی 16 کمپنیوں کے لائسنس ردّ کیوں نہیں کیے گئے؟ 2004 میں چار بلاک بانٹے گئے تھے، جن میں آج تک پروڈکشن شروع نہیں ہو پایا۔ 2005 میں 22 بلاک تقسیم کیے گئے، جن میں آج تک صرف 2 بلاکوں میں ہی پروڈکشن شروع ہو پایا ہے۔ اسی طرح 2006 میں 52، 2007 میں 51، 2008 میں 22، 2009 میں 16 اور 2010 میں ایک بلاک کی تقسیم ہوئی، لیکن 18 جنوری 2011 تک کی رپورٹ کے مطابق، کوئی بھی بلاک پروڈکشن شروع کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ 1993 سے لے کر 2010 تک 208 کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، جو کہ 49.07 بلین ٹن کوئلہ تھا۔ ان میں سے 113 بلاک پرائیویٹ سیکٹر میں 184 نجی کمپنیوں کو دیے گئے، جو کہ 21.69 بلین ٹن کوئلہ تھا۔ اگر بازاری قیمت پر اس کا اندازہ لگایا جائے تو 2500 روپے فی ٹن کے حساب سے اس کوئلے کی قیمت 53,82,830.50 کروڑ روپے نکلتی ہے۔ اگر اس میں سے 1250 روپے فی ٹن کاٹ دیا جائے، یہ مان کر کہ 850 روپے پیداوار کی قیمت ہے اور 400 روپے منافع، تو بھی ملک کو تقریباً 26 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کا خسارہ ہوا۔ آج تک کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ اور شاید دنیا کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہونے کا اعزاز بھی اسے ہی ملے گا۔ شیبو سورین کے جیل جانے کے بعد جب وزیر اعظم بھی وزیر کوئلہ رہے، تو ان کے نیچے سب سے زیادہ کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، یعنی 63 بلاک بانٹ دیے گئے۔ ان چار سالوں میں تقریباً 175 بلاک آناً فاناً میں سرمایہ کاروں اور دلالوں کو مفت میں دے دیے گئے۔ تقریباً 21.69 بلین ٹن کوئلے کی پیداواری صلاحیت والی کانیں پرائیویٹ سیکٹر کے دلالوں اور سرمایہ کاروں کو مفت دے دی گئیں۔ ملک میں کوئلے کی کانوں کی لوٹ ہو رہی ہے، کمپنیاں انہیں تقسیم کراکر خاموش بیٹھ گئی ہیں اور سرکار کہہ رہی ہے کہ ملک میں کوئلے کی کمی ہے۔ سرکار کوئلے کی کمی کا ناٹک کیوں کر رہی ہے۔ سرکار کوئلے کی کمی کا جھانسہ دے کر غیر ملکی کمپنیوں اور ملک کے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے، تاکہ کم قیمت پر غیر ملکوں سے کوئلہ بھی خریدا جا سکے، پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ بھی پہنچ سکے اور سرکاری اعداد و شمار بھی درست رہیں۔ جو حال کوئلے کا ہے، وہی حال دوسری معدنیات اور صنعتوں کا ہے۔ اگر جانچ ہو تو سرکار کی کوتاہی اور بدعنوانی کی وجہ سے ہر شعبہ میں ملک کے خستہ ہوتے اقتصادی نظام کی حقیقت کا پتہ چلے گا۔
سرکار کو ملک کے غریب، مزدور اور کسانوں سے زیادہ فکر صنعت کاروں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری پالیسیوں کا سیدھا فائدہ چنندہ صنعت کاروں کو ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں جتنے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوا ہے، ان میں صنعت کاروں اور سرکاری اہل کاروں کی ملی بھگت شامل ہے۔ سرکار ملک میں ایسا ماحول تیار کر چکی ہے، جس سے یہ دلیل دے سکے کہ لبرلائزیشن اور پرائیویٹائزیشن میں تیزی لائے بغیر اقتصادیات کو پٹری پر نہیں لایا جا سکتا ہے۔ سرکار اب ہر شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ تعلیم سے لے کر خردہ بازارتک غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا جائے گا۔ لبرلائزیشن کے 20 سالوں میں ملک کافی مشکل دور سے گزرا ہے۔ نکسلیوں کا اثر 60 ضلعوں سے بڑھ کر 260 سے زیادہ ضلعوں تک پھیل چکا ہے۔ کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ حال ہی میں ہونے والا ملک گیر بند یہ بتاتا ہے کہ مزدور بھی اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ متوسط طبقے کی ناراضگی ان سے بھی زیادہ ہے۔ نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ ملک میں بدعنوانی کو لے کر لوگ تحریک چلا رہے ہیں۔ نظام میں تبدیلی کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔ جو جہاں ہے، وہیں سرکاری مشینری سے ناراض ہے۔ ایسے میں اگر بجٹ میں عام لوگوں کے لیے راحت نہیں ملتی ہے، تو لوگوں کا غصہ بھڑک سکتا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کو اگر زراعت، صنعت، رٹیل مارکیٹ، تعلیم وغیرہ جیسے شعبوں میں داخل ہونے کی چھوٹ دی جاتی ہے تو یہ مان لینا چاہیے کہ ملک کی جمہوریت پر بحران کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *