۔۔۔اور اس طرح کانگریس ہار گئی

سنتوش بھارتیہ
دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی کو پھانسی کی سزا سنانے کی تیاری ہو چکی ہے۔ کانگریس اعلیٰ کمان ان دونوں کی سیاسی زندگی پر ایک لمبا فل اسٹاپ لگانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ بس اس کا باقاعدہ اعلان ہونا باقی ہے۔

کانگریس مستقبل کی عبارت لکھنے جا رہی ہے۔ مستقبل کی عبارت میں 2012 اور 2013 میں ہونے والے ہماچل، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر کے انتخابات میں اپنے لیے ہار کا فیصلہ خود لکھا جانے والا ہے۔ اس کے بعد 2014 میں آنے والا لوک سبھا انتخاب الگ مستقبل لے کر آئے گا، ایسا نہیں ماننا چاہیے۔ اس لیے ہم نے کھوج بین کی، جانچ پڑتال کی، تاکہ ہمیں سچائی کا پتہ چل سکے اور جن اسباب کو کانگریس تلاش کرنا نہیں چاہتی یا تلاش نہیں کر پا رہی ہے، ان اسباب کو ہم تلاش کریں اور کانگریس کے لوگوں کے سامنے رکھیں، کیوں کہ کانگریس کا مرنا ملک میں جمہوریت کے مرنے کی ایک شروعات ہو گئی ہے۔ ملک میں کانگریس کا مضبوط رہنا جمہوریت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے، جتنا جمہوریت کے حق میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا مضبوط رہنا، بائیں بازو کی پارٹیوں کا مضبوط رہنا اور سماجوادی پارٹیوں کا مضبوط رہنا۔ یہ دونوں فریق اور باقی چھوٹے چھوٹے فریق اپنے اصول اس ملک کے سو کروڑ سے زیادہ لوگوں کے سامنے رکھیں اور سو کروڑ لوگ جمہوریت کے اس خوبصورت باغیچہ میںسبھی پھولوں کو کھلائیں، یہ بہت ضروری ہے۔

اتر پردیش کے زیادہ تر کانگریسی کارکن کہہ رہے ہیں کہ پہلے دگ وجے سنگھ نے کانگریس کی تنظیم چوپٹ کی اور غلط پی سی سی ممبر بنائے گئے۔ ضلع اور بلاک کی سطح پر کانگریس کا صدر انہیں بنایا گیا ہے جو تنظیم چلانے کی حیثیت نہیں رکھتے، اور بعد میں اسمبلی انتخاب کے لیے ٹکٹ کی تقسیم میں دوسری پارٹیوں سے آئے لوگوں کو کانگریس کا امیدوار بنا دیا۔ راہل گاندھی کی انتخابی مہم اسی لیے بالکل کام نہیں آئی۔ گزشتہ اسمبلی کے 22 ایم ایل ایز میں سے صرف آٹھ ہی جیت کر آ سکے۔ جو 20 نئے لوگ جیتے، وہ کیسے جیتے یہ بعد میں بتائیں گے، لیکن رائے بریلی، امیٹھی اور سلطانپور میں کانگریس پوری طرح سے ہار گئی۔ کانگریس کے اندر جو کہا جا رہا ہے کہ اس پوری صورتِ حال کی ذمہ داری دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی کی ہے، اور شاید ایک چھوٹی کمیٹی بنائی جائے اور ان دونوں کے خلاف فیصلہ لے لیا جائے۔ کانگریس کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کی کمیوں کو جاننا چاہیے، لیکن کانگریس واحد ایسی پارٹی ہے جس کے نقصان کی تلافی ہونی مشکل دکھائی دے رہی ہے، کیوں کہ وہاں ابھی بھی ذہنیت عوام کی خواہشوں اور تمناؤں اور اس کے خوابوں کو سمجھنے کی نہیں بن پائی ہے۔ کانگریس ابھی بھی عوام کی پریشانیاں نہیں جاننا چاہتی، بلکہ سوچتی ہے کہ جیسے چاہے گی ویسے عوام کو بھرما لے گی۔ اس لیے شاید وہ نہ تو عوام کو سمجھ پا رہی ہے اور نہ ہی اپنے کارکنوں کے من کو۔ سب سے پہلے سونیا گاندھی کے 7 مارچ کو دیے گئے بیان کو دیکھیں۔ سونیا گاندھی نے اتر پردیش میں کانگریس کی ہار کا سبب ٹکٹ کی غلط تقسیم اور مہنگائی کو بتایا۔ وہیں راہل گاندھی نے کہا کہ قیادت نہیں لیڈر ذمہ دار ہیں۔ ان دونوں کے بیانوں میں بھی ہار کی پوری ذمہ داری دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی پر تھوپنے کا اشارہ نظر آتا ہے۔
کانگریس کے ذریعے لیا جانے والا فیصلہ اور کانگریس کے اندر پھیلائی جا رہی باتیں ویسی ہی ہیں کہ کوئی جان بوجھ کر خود کو ادھ مرا کرے اور پھر زہر بھی کھالے اور کہے کہ ہم نے دوا کھائی ہے۔ اس پوری کہانی میں کانگریس مستقبل کی عبارت لکھنے جا رہی ہے۔ مستقبل کی عبارت میں 2012 اور 2013 میں ہونے والے ہماچل، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر کے انتخابات میں اپنے لیے ہار کا فیصلہ خود لکھا جانے والا ہے۔ اس کے بعد 2014 میں آنے والا لوک سبھا انتخاب الگ مستقبل لے کر آئے گا، ایسا نہیں ماننا چاہیے۔ اس لیے ہم نے کھوج بین کی، جانچ پڑتال کی، تاکہ ہمیں سچائی کا پتہ چل سکے اور جن اسباب کو کانگریس تلاش کرنا نہیں چاہتی یا تلاش نہیں کر پا رہی ہے، ان اسباب کو ہم تلاش کریں اور کانگریس کے لوگوں کے سامنے رکھیں، کیوں کہ کانگریس کا مرنا ملک میں جمہوریت کے مرنے کی ایک اور شروعات ہے ۔ ملک میں کانگریس کا مضبوط رہنا جمہوریت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے، جتنا جمہوریت کے حق میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا مضبوط رہنا، بائیں بازو کی پارٹیوں کا مضبوط رہنا اور سماجوادی پارٹیوں کا مضبوط رہنا۔ یہ دونوں فریق اور باقی چھوٹے چھوٹے فریق اپنے اصول اس ملک کے سو کروڑ سے زیادہ لوگوں کے سامنے رکھیں اور سو کروڑ لوگ جمہوریت کے اس خوبصورت باغیچہ میںسبھی پھولوں کو کھلائیں، یہ بہت ضروری ہے۔ آپ کے سامنے ہم انوکھی کہانی جو سچ میں پیش آئی اور جسے کانگریس کے لیڈروں نے پیش کی، اسے رکھ رہے ہیں۔ بہار کے انتخاب ہو چکے تھے اور کانگریس دو سو کروڑ روپے خرچ کرنے اور راہل کی زبردست انتخابی مہم کے باوجود پوری طرح انتخاب ہار گئی۔ تبھی لگا تھا کہ کانگریس اتر پردیش میں اُس ہار سے سبق لے گی اور یہاں پر وہ غلطیاں نہیں دہرائے گی، جو اس نے بہار میں دہرائی۔ لوک سبھاکے انتخاب میں اتر پردیش میں کانگریس کے 21 ایم پی جیتے اور اس جیت نے یہ مغالطہ پیدا کیا کہ اتر پردیش میں کانگریس ریوائیو ہو رہی ہے۔ اتر پردیش کے کانگریسی کارکنوں میں جوش اپنے عروج پر تھا۔ اسی وقت راہل گاندھی نے بھی بیان دیا کہ کانگریس کے لیے ممبر بنانے کی مہم شروع کی جائے گی اور جو اپنے یہاں سب سے زیادہ ممبر بنائیں گے، انہیں ہی صوبائی کانگریس کمیٹی کا رکن بنایا جائے گا اور انہی لوگوں کے بیچ میں سے صوبائی کمیٹی کے لوگ، ضلع صدر اور بلاک صدر منتخب کیے جائیں گے۔ کانگریسی کارکنوں نے جی جان لگا کر ممبرشپ کی مہم چلائی۔ اپنے پیسے سے گھومے اور واقعی میں اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کی رکنیت کافی اونچی سطح پر پہنچ گئی۔ کارکنوں میں سے کسی نے چار ہزار، کسی نے پانچ ہزار، کسی نے دس ہزار، کسی نے بیس ہزار اور کسی نے پچاس ہزار ممبر، اور خالص ممبر بنائے۔ گاؤں گاؤں، محلے محلے گئے اور کانگریس کا بہت دنوں کے بعد لوگوں سے رشتہ جڑے، اس کی کوشش کی۔ لوگوں کو یہ اندازہ تھا کہ اب جو تنظیم بنے گی اس میں ان کارکنوں کو، جنہوں نے ممبرشپ مہم کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا ہے اور پوری طرح جی جان لگا ئی ہے، ضرور جگہ ملے گی۔ لوگ انتظار کر رہے تھے کہ اچانک پی سی سی کے اراکین کی فہرست سامنے آ گئی۔ پی سی سی کے ممبران کی فہرست آتے ہی کانگریس کے کارکنوں کو لگا کہ جیسے انہیں دھوکہ دیا گیا ہو۔
ہوا یہ کہ پورے ملک میں کانگریس کی تنظیم بنانے کے اہم ذمہ دار آسکر فرنانڈیز تھے۔ انہوں نے اتر پردیش میں پون گھٹوار، جے ڈی سیلم، کانگ، سورج اور نرملا ساونت کو ذمہ داری سونپی۔ سورج جی راجستھان کے ہیں، نرملا ساونت مہاراشٹر کی ہیں، کانگ سردار جی ہیں، جی ڈی سیلم اور پون گھٹوار ایم پی ہیں۔ ان پانچوں نے مل کر ریاست میں پی سی سی کے ممبران کی فہرست تیار کی۔ ان سب میں بھی فہرست بنانے میںسب سے زیادہ ذمہ داری جی ڈی سیلم صاحب اور پون گھٹوار نے نبھائی۔ انہوں نے جو لسٹ آسکر فرنانڈیز کو دے دی، اس پر انہوں نے دستخط کر دیے۔ اس دوران بھی صوبہ میں دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی ضلعوں ضلعوں میں گھوم رہے تھے، لیکن ان سے اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں لی گئی۔ کانگریس کے سینئر کارکنوں نے بتایا کہ پی سی سی کے ممبر بنانے میں بڑا کرپشن ہوا۔ اسی لیے جن لوگوں نے ممبرشپ مہم چلائی انہیں کوئی جگہ نہیں ملی، بلکہ جن کے پاس بڑی گاڑیاں تھیں، جنہوں نے ان کے رہنے پر ہوٹلوں میں پیسے خرچ کیے، گفٹ دیا، جنہوں نے ان کو کچھ اور بھی دیا، وہ لوگ پی سی سی کے ممبر بن گئے، اور اس کے بعد دہلی میں بیٹھ کر ضلع کانگریس کے صدر اور بلاک کانگریس کے صدر بنائے گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دہلی سے جب ضلع کانگریس کے صدر اور بلاک کانگریس کے صدر کی فہرست لکھنؤ دفتر میں بھیجی گئی، جس میں نام اور فون نمبر تھے، تو لکھنؤ کے دفتر کو ان لوگوں سے رابطہ کرنے میں پسینہ آ گیا، کیوں کہ نہ تو ان میں سے بہت سارے نام میچ کر رہے تھے اور نہ ہی ان کے فون نمبر کہیں موجود تھے۔ یہ تنظیم جس طرح سے بنی، وہیں سے کانگریس نے اپنی ہار کی پیشن گوئی خود لکھنی شروع کردی۔ پی سی سی اور بلاک صدر کی تنظیم بننے کے بعد یہ تنظیم دگ وجے سنگھ کو سونپ دی گئی۔ دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی سے کہا گیا کہ اب وہ انتخاب کی تیاری کریں۔ یہ لوگ جہاں بھی گئے، کارکنوں نے ان کی زبردست مخالفت کی۔ ان لوگوں کی پریشانی یہ تھی کہ دونوں نہ تو کانگریس قیادت کی تنقید کر سکتے تھے اور نہ جو ہوا ہے، اس سے انکار کر سکتے تھے۔ ان لوگوں نے نئے امیدیں بندھانی شروع کردیں کہ جو کام کرے گا اور اچھا کام کرے گا، اسے ہی ٹکٹ دیں گے اور کانگریس کے لوگوں کو ہی ٹکٹ دیا جائے گا۔ اتفاق سے اسی وقت راہل گاندھی کا دوسرا بیان آ گیا۔ راہل گاندھی کا پہلا بیان ممبرشپ مہم کو لے کر تھا کہ تنظیم بناؤ اور تنظیم میں سے لوگ چنے جائیں گے۔ تنظیم بنوا دی پون گھٹوار، جی ڈی سیلم اور کانگ کی کمیٹی نے آسکر فرنانڈیز سے۔ یہ تنظیم بدعنوانی کی بنیاد پر بنی۔ اب راہل گاندھی کا دوسرا بیان آیا کہ ٹکٹ اسی کو دیا جائے گا جو صاف ستھری شبیہ کا ہوگا۔ اتر پردیش میں کانگریسی کارکنوں میں ایک بار پھر امید جاگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کارکنوں نے ایک بار پھر کانگریس کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔
ٹکٹ بٹوارے کا وقت آیا، کیوں کہ انتخاب کی تاریخوں کا اعلان ہونے والا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا۔ اچانک اتر پردیش میں کانگریس کا ٹکٹ بانٹنے میں راہل گاندھی کا گھر اور آفس سب سے اہم ہو گیا۔ وہاں پر راہل گاندھی کا دوست کہیں، ان کے سکریٹری کہیں، ان کے سیاسی صلاح کار کہیں،یا پھر ان کے منیجر کہیں، کنشک سنگھ کی قیادت میں ایک گروپ کی تشکیل ہوئی۔ اس گروپ میں پہلا نام موہن پرکاش، دوسرا نام سلیم شیروانی، تیسرا نام راج ببر، چوتھا نام بینی پرساد ورما، پانچواں نام سلمان خورشید، چھٹا نام شری پرکاش جیسوال اور ساتواں نام رشید مسعود کا جڑا۔ ان ساتوں لوگوں نے مل کر پورے اتر پردیش کی سیٹوں کا بٹوارہ کیا۔ ان ساتوں لوگوں نے مل کر کانگریسی کارکنوں کو نمبر دو پر رکھا اور جو اِن کی سمجھ سے جیت سکتے تھے، انہیں انہوں نے نمبر ایک پر رکھا۔ دوسری پارٹیوں کے ہارے ہوئے امیدوارو ںکے نام رکھے اور یہ دلیل دی کہ اگر الیکشن نہیں جیتے تو کانگریسی کارکنوں کو ٹکٹ دینے سے کیا فائدہ۔ اس لیے ٹکٹ اسے دو جو انتخاب جیت سکے اور اس کے لیے اس ٹیم نے پیغام بھیجنے شروع کیے۔ سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور دوسری پارٹیوں سے جڑے ہوئے لوگوں کو پیغام جاتے تھے کہ راہل گاندھی آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ راہل گاندھی سے ملنے آتے تھے، چائے راہل گاندھی پلاتے تھے اور جس آدمی کی چائے کی پیالی میں راہل گاندھی اپنے ہاتھ سے چینی ملا دیں، اسے مانا جاتا تھا کہ اس کا ٹکٹ فائنل ہو گیا، اور جس کی چائے کی پیالی میں راہل گاندھی چینی نہیں ملاتے تھے، مانا جاتا تھا کہ اس آدمی کو راہل گاندھی نے ایپروو نہیں کیا ہے۔ جس کی پیالی میں راہل گاندھی کے ہاتھوں چینی مل گئی، اسے کہہ دیا جاتا تھا کہ آپ کا ٹکٹ پکا ہے، جائیے آپ انتخاب کی تیاری کیجئے۔ جن لوگوں نے دوسال اپنے علاقے میں کام کیا، پیسہ خرچ کیا، کانگریس کے لیے ماحول تیار کیا، جو کانگریس کے وفادار تھے، ان کا ٹکٹ اس ٹیم نے کاٹ دیا۔ اس ٹیم نے اس لیے ٹکٹ کاٹ دیا، کیوں کہ اس ٹیم میں موہن پرکاش کا کوئی کانگریسی تعارف نہیں ہے۔ یہ سماجوادی پارٹی سے آئے ہیں، سمجھدار ہیں، تحریک چلانے والے ہیں، بنارس ہندو یونیورسٹی کے لیڈر رہے ہیں۔ راج ببر سماجوادی پارٹی سے آئے ہیں، بینی پرساد ورما سماجوادی پارٹی سے آئے ہیں، رشید مسعود سماجوادی پارٹی سے آئے ہیں۔ اس لیے اس ٹیم نے کنشک کو اور راہل گاندھی کو یہ سمجھا دیا کہ انہی کو ٹکٹ دو جو جیت سکتے ہیں۔ ایک باہری کانگریس تیار ہو گئی۔ کانگریس میں دو حصے ہو گئے، ایک باہری کانگریس اور ایک اندرونی کانگریس۔ لگا جیسے سنڈیکیٹ کا زمانہ لوٹ آیا ہے۔ پھر جو باہری کانگریسی تھے، اس باہری کانگریس کے خلاف اصلی کانگریس کی جنگ شروع ہو گئی۔ ٹکٹ دیے گئے۔ ان ٹکٹوں کی مخالفت اپوزیشن کے امیدواروں نے اتنے کارگر ڈھنگ سے نہیں کی، جتنی مخالفت کانگریس کے اندر کے لوگوں نے، جو خود کو اصلی کانگریسی مانتے تھے، انہوں نے کی۔ اسی لیے راہل گاندھی جہاں جہاں گئے، وہاں زیادہ تر جگہوں پر ان کی مخالفت کرنے والے، انہیں کالا جھنڈا دکھانے والے اپوزیشن کے لوگ نہیں، بلکہ کانگریس کے ہی لوگ تھے۔ اور تب دگ وجے سنگھ کو کارکنوں کو فون کرنا پڑا کہ جو بھی ہوگیا ہونے دیجئے، سرکار بنے گی، ہم لوگ سرکار میں آئیں گے، ملی جلی سرکار بنے گی اور آپ کا ایڈجسٹمنٹ ہوگا۔
ورکرس نے ان سے بات کرنے سے منع کردیا۔ ورکر کانگریس کے انتخاب میں لگا ہی نہیں، بلکہ لگا مخالفت کرنے کے لیے۔ اب ٹکٹ کیسے بانٹے جائیں؟ کنشک کے دفتر سے ایک شیٹ جاتی تھی، جس شیٹ میں یہ ہدایت ہوتی تھی کہ ان لوگوں کا ٹکٹ کلیئر کر دیا جائے۔ اور میری جانکاری یہ بتا رہی ہے کہ کنشک سنگھ، دگ وجے سنگھ کو ڈکٹیٹ کرتے تھے، ڈکٹیٹ ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ ڈکٹیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بے عزت بھی کرتے تھے۔ دگ وجے سنگھ کو لسٹ بھیج دی جاتی تھی کہ وہ اس کے اوپر دستخط کریں اور اسے اسکریننگ کمیٹی کو بھیج دیں، اور کہا یہ جاتا تھا کہ راہل گاندھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ کنشک جس لسٹ کو بھیجتے تھے، اس لسٹ کو فائنل کرنے والوں میں موہن پرکاش، سلیم شیروانی، راج ببر، بینی پرساد ورما، سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال اور رشید مسعود ہوتے تھے۔ پورے اتر پردیش میں جس طرح سے ٹکٹوں کے بٹوارے ہوئے، اس نے پوری کانگریس پارٹی میں اندر ہی اندر بھونچال پیدا کر دیا اور ہمیں یہ دکھائی دے رہا تھا کہ کانگریس کسی بھی قیمت پر 30 سے زیادہ سیٹیں نہیں جیتنے والی، لیکن کنشک سنگھ اور ان کی ٹیم نے سوچا کہ میڈیا کو پیسے بانٹ کر اور لوگوں کو بیوقوف بناکر انتخاب جیتا جا سکتا ہے۔ اخلاقی طور پر کہیں تو راہل گاندھی اور ان کی ٹیم نے کانگریس پارٹی کے تمام سیاسی دماغوں کو اس انتخاب سے الگ رکھا۔ احمد پٹیل، جناردن دویدی، موتی لال ووہرا جنہوں نے ابھی تک کانگریس کی تنظیم کو چلایا، ان کی ہمت نہیں پڑی کہ کوئی بھی بات یہ اتر پردیش کے بارے میں راہل گاندھی سے کہہ سکیں۔ ایک پروگرام کے دوران میں اس کا گواہ ہوں، میں وہاں موجود تھا۔ ایک بڑے صحافی نے جناردن دویدی سے کہا کہ جناردن دویدی جی اتر پردیش کے بارے میں کنٹراڈِکشن ہے، ان کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ جناردن دویدی نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے بارے میں میں ایک لفظ بھی بات نہیں کروں گا۔ یہ کیسا ڈر تھا جناردن دویدی کے من میں۔ دراصل، یہ ڈر کنشک سنگھ اور ان کی نئی ٹیم نے پیدا کیا تھا۔ ٹکٹوں کے لیے جو شیٹ آتی تھی کنشک سنگھ کے دفتر سے، اس کے بارے میں نہ دگ وجے سنگھ کو، نہ پرویز ہاشمی کو، بھکت چرن داس اور نہ مدھوسودن مستری کو پتہ ہوتا تھا۔ بھکت چرن داس اور مدھو سودن مستری اسکریننگ کمیٹی کے ممبر ہوتے تھے موہن پرکاش کے ساتھ۔ صرف موہن پرکاش کو پتہ ہوتا تھا، ان دونوں کو نہیں پتہ ہوتا تھا اور اُس لسٹ پر ہاں کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ دراصل، اسکریننگ کمیٹی کا جنازہ خود موہن پرکاش نے نکال دیا تھا، کیوں کہ وہ اسکریننگ کرتے تھے کنشک سنگھ کے ساتھ بیٹھ کر۔ بینی پرساد ورما، راج ببر، شری پرکاش جیسوال اور سلیم شیروانی کے ساتھ بیٹھ کر۔  سات لوگوں کا جُنٹا چلتا تھا، اس جنٹے نے تو تب حد کردی جب بزرگ لیڈر رضوی کو بے عزت کیا اور سب سے اخیر میں ان کا ٹکٹ کلیئر کیا۔ اسی لیے جب انتخاب ہوگئے تو رشید مسعود کے دلائے سات ٹکٹوں میں سے صرف ایک جیتا، بینی پرساد ورما کے یہاں بھی ایک جیتا، آر پی این سنگھ کے یہاں دو جیتے۔ جتن پرساد، سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال، راج ببر کے علاقے میں ایک بھی نہیں جیتا۔
راہل گاندھی کا پروگرام کہاں بنے گا، وہ کہاں اتریں گے، اس کا فیصلہ کنشک سنگھ کرتے تھے۔ کس کو کتنا پیسہ جانا ہے، اس کا فیصلہ کنشک سنگھ کرتے تھے۔ میڈیا میں کس کو کتنا پیسہ جانا ہے اور کس میڈیا سے کیا کہلوانا ہے، راج ببر طے کرتے تھے۔ اور کیمپین کا مینجمنٹ شری پرکاش جیسوال کے ہاتھ میں تھا۔ اس ٹیم کو یہ پتہ بھی نہیں چلا کہ جن میڈیا کے لوگوں کو انہوں نے پیسے دیے، وہ ان کی میٹنگ تو دکھا رہے ہیں، یہ ٹیلی ویژن کے اوپر راہل گاندھی کا چہرہ دکھاکر خوش ہوتے تھے۔ یہ صرف اتنی درخواست کرتے تھے میڈیا کے لوگوں سے کہ ریلی کی بھیڑ نہ دکھائی جائے، کیو ںکہ بھیڑ ہوتی نہیں تھی۔ میڈیا والوں نے جم کر پیسہ لیا، آفیشیلی پیسہ لیا میڈیا نے، او رپیسہ اس شرط پر لیا کہ ٹھیک ہے ہم چہرہ دکھائیں گے، بھیڑ نہیں دکھائیں گے۔ کنشک سنگھ جو راہل گاندھی کے آنکھ، کان اور ناک ہیں، انہوں نے یہ سوچا کہ بھیڑ نہیں دکھائیں گے، بلکہ راہل گاندھی کے تیور دکھائیں گے تو لوگ راہل گاندھی کو ووٹ دے دیں گے۔ شاید یہ غیر سیاسی سوچ کا اثر تھا، جس نے کانگریس کو اتر پردیش میں اُس جگہ پہنچا دیا جہاں سے اگلے سال ہونے والا یا اِس سال ہونے والا اسمبلی انتخاب کانگریس جیت سکے گی، لگتا نہیں ہے۔ ان ریاستوں کے کارکنوں کی ہمت اتر پردیش کانگریس کے نتائج نے توڑ دی۔ حد تو تب ہوگئی جب راج ببر نے فیروز آباد میں ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی پر اپنے آدمی کو نامزد کروایا، لڑکر کروایا اور وہ انتخاب سے پہلے ہی سماجوادی پارٹی میں چلا گیا۔
لوک سبھا انتخاب کے بعد اتر پردیش میں ایم پی اور ایم ایل اے نے کہا کہ صوبہ میں قیادت کی تبدیلی ہونی چاہیے۔ ریتا بہوگنا کی جگہ کسی اور کو صدر بنایا جانا چاہیے، لیکن کانگریس ہائی کمان نے نہیں مانا۔ دراصل، ریتا جی کا کسی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا، نہ ہی وہ تنظیم کو مضبوط کر پا رہی تھیں۔ لیکن کانگریس اعلیٰ کمان نے اسے نہیں مانا۔ مقامی لیڈروں کا استعمال چاہے وہ سنجے سنگھ رہے ہوں یا پرمود تیواری رہے ہوں، ان کا استعمال کانگریس نے نہیں کیا۔ سلمان خورشید اور بینی پرساد کے بیانوں نے لوگوں کو کانگریس سے دماغی طور پر دور کردیا۔ ان کو لگا کہ مرکز کے ذمہ دار وزیر جس طرح سے بیان بازی کر رہے ہیں، اسے اس صوبہ میں غیر ذمہ داری کا بیان مانا گیا۔ مسلمانوں کو لگا کہ انہیں لالی پاپ دیا جا رہا ہے، اور وہیں جو مل رہا تھا 27 فیصد میں اب اس سے کم ہی ملے گا۔ اور دوسروں کو لگا کہ یہ تو صرف مسلم ریزرویشن کی بات کر رہے ہیں اور سماج میں باقی لوگوں کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ جو بیک ورڈ نہیں ہیں، مسلمان نہیں ہیں، لیکن اسی صوبہ میں رہتے ہیں اور ووٹر ہیں، ان کی بات نہیں کر رہے ہیں، اس لیے وہ ان سے دور چلے گئے۔ کانگریس نے بیک ورڈ کارڈ کھیلا اور کانگریس نے یہ نہیں سمجھا کہ بیک ورڈ کا اکیلا سمبل ملائم سنگھ ہیں۔ بینی پرساد ورما کو انہوں نے سمبل بنانے کی کوشش کی، لیکن بینی پرساد ورما سمبل نہیں بن سکتے، اس لیے نہیں بن سکتے، کیوں کہ بینی پرساد ورما بیک ورڈ کی تمام ذاتوں کے درمیان میں ایک ذات ہے، وہ بھی اکیلے لیڈر نہیں ہیں۔ اپنا دل سونے لال پٹیل جس کے لیڈر تھے، جن کا اب انتقال ہو گیا ہے، اب ان کی بیٹی اور ان کی بیوی اُس سماج میں گھومتی ہیں جس سماج سے بینی پرساد ورما آتے ہیں، وہ اس کے زیادہ حصہ دار ہیں۔ نتیجہ دکھائی پڑا کہ بیک ورڈ کو ٹکٹ دینا کانگریس کے لیے مہنگا پڑ گیا۔ پچھلے الیکشن میں کانگریس کی ناک کے نیچے سے بی جے پی سے نکل کر بی ایس پی میں چلا گیا۔ اور مزہ اس بات کا کہ اس بار بی ایس پی سے نکل کر بی جے پی میں چلا گیا۔ کانگریس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کانگریس وہیں کی وہیں کھڑی رہی اور اپنے پرانے ووٹ بینک کو اپنے پاس لانے کے لیے کانگریس کچھ نہیں کر پائی۔ دراصل، کانگریس کے پاس کوئی سوچ آئی ہی نہیں۔ انا کی تحریک نے کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کو متاثر کیا۔ انا کی بدعنوانی مخالف تحریک جس کا مذاق تمام سیاسی پارٹیوں نے اڑایا، ایک طرف اس نے کانگریس کا ووٹ کم کیا اور دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کا ووٹ کم کیا۔ یہ ووٹ متبادل کی تلاش میں، چونکہ تیسرا متبادل صرف اور صرف سماجوادی پارٹی تھی، اس کے پاس چلا گیا۔ کانگریس نے اپنے اندر کوئی دلت لیڈر نہیں پیدا کیا، کوئی بیک ورڈ لیڈر پیدا نہیں کیا، بلکہ باہر سے آئے بینی پرساد ورما کو اس نے بیک ورڈ چہرہ بنا لیا۔ بٹلہ ہاؤس گولی کانڈ کا جس طرح دگ وجے سنگھ فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، باقی بیان بازیوں کے بیچ میں وہ طریقہ دگ وجے سنگھ کے لیے بھاری پڑ گیا۔ دگ وجے سنگھ کو جہاں مسلمانوں کی روزی روٹی کے سوال کو ایڈریس کرنا چاہیے تھا، وہاں انہوں نے بھی وہی غلطی کی اور مسلمانوں کے جذباتی سوال کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے من میں یہ سوال اٹھا کہ اگر سونیا گاندھی روئیں، جیسا کہ سلمان خورشید نے سب کو بتایا کہ ان کے سامنے سونیا گاندھی روئیں کہ تم وزیر قانون اور دگ وجے سنگھ جنرل سکریٹری۔ آپ بٹلہ ہاؤس کانڈ کی مذمت کرتے ہیں، جو لڑکے بند ہیں آپ انہیں باہر کیوں نہیں چھڑواتے ہیں۔ آپ کی سرکار ہے، آپ کی پولس نے کیس کیا ہے، آپ ان کو واپس کیوں نہیں چھڑواتے ہو۔ یہ سارے بیان کانگریس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے قصے بھی سننے کو ملے کہ جن لوگوں کے ٹکٹ بدلے، انہوں نے آکر کہا کہ ہم نے پیسے دیے اور ہم ٹکٹ لے کر چلے آئے۔ سب سے زیادہ الزام ریتا بہو گنا جوشی پر لگے اور اس کے بعد کئی لیڈروں پر الزام لگے، جنہوں نے پیسے لیے اور لوگوں کو ٹکٹ دلوائے۔ ان الزامات کے بارے میں کسی کے پاس ثبوت نہیں ہے، صرف کانگریسی کارکنوں کی باتیں ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پیسے لے کر ٹکٹ دیے گئے، بلکہ کچھ کانگریسی لیڈروں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ 30 فیصد سیٹیں اتر پردیش میں کانگریس کی پیسے لے کر دی گئیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں الیکشن میں کم ووٹ ملے ہیں، جن کی ضمانت ضبط ہوئی ہے۔ کچھ یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں، جس پر مجھے کوئی یقین نہیں ہے، کہ کنشک سنگھ نے 50-50 لاکھ روپے لے کر آخری وقت میں کچھ ٹکٹ بدلے ہیں۔
اس انتخاب میں جو سب سے اہم آدمی نظر آیا کانگریس کی طرف سے، وہ نہ تو سونیا گاندھی تھیں اور نہ راہل گاندھی تھے، وہ کنشک سنگھ تھے اور یہیں پر کنشک سنگھ، احمد پٹیل اور جناردن دویدی جیسے لوگوں کو ان لوگوں کی شخصیت کو سمجھنا چاہیے۔ جناردن دویدی یا احمد پٹیل سیاست کی نبض جانتے ہیں، یہ لوگوں کی طاقت جانتے ہیں، لوگوں کی کمزوری جانتے ہیں، کون یہاں پر کانگریسی لیڈر ہے اسے جانتے ہیں۔ صرف یہ دونوں لوگ کانگریس کو ہی نہیں جانتے، بلکہ اپوزیشن کو بھی جانتے ہیں۔ سالوں سال انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کو ہینڈل کیا ہے، دوسرے لفظوں میں کہیں تو ڈیل کیا ہے۔ انتخاب کا اتنا اہم موقع اور اِن دونوں لیڈروں کو موتی لال ووہرا سمیت کنارے بیٹھا دینا سب سے بڑی غلطی تھی اور کنشک سنگھ جیسے آدمی کو، جس کے پاس سیاست جیسا کوئی تجربہ نہیں تھا، اس آدمی کے ہاتھ میں ساری چیزیں سونپ دینا، کانگریس نے اپنے لیے خودکشی کا سامان خود اکٹھا کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کنشک سنگھ یہ سارے فیصلے خود کر رہے تھے یا سارے فیصلے راہل گاندھی کی خواہش کے مطابق کر رہے تھے۔ راہل گاندھی کو شاید لگتا تھا کہ اتر پردیش میں عوام ان کا چہرہ دیکھ کر ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور پھر ملک میں ایک جھٹکے سے سالوں سال سیاست میں اپنی زندگی گزار چکے، کانگریس کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کر چکے سارے لوگوں کو ایک ساتھ کنارے کر دیں گے۔ جواب کانگریس کے لوگ دے سکتے ہیں۔ لیکن اس انتخاب میں جو سب سے تکلیف دہ بات ہوئی، وہ یہ کہ پرینکا گاندھی کا طلسم ٹوٹ گیا۔ میں تکلیف دہ اس لیے کہوں گا، کیوں کہ کانگریس کے بیچ میں جو ایک قطبی ستارہ تھا، لوگوں کو لگتا تھا کہ پرینکا گاندھی آئیں گی اور انہیں جادو کی چھڑی سے اقتدار میں لے جائیں گی۔ لیکن پرینکا گاندھی اس انتخاب میں جس طرح ناکام ہوئیں، اس کی مثال دوسری نہیں ملے گی۔ جب وہ رائے بریلی گئیں تو عورت نے پوچھا کہ اب تین سال بعد آئی ہو اور اب تین سال بعد آؤگی۔ پرینکا گاندھی کا چہرہ سفید ہو گیا۔ پرینکا گاندھی پورا جلسہ نہیں کر پائیں۔ ملک میں پرینکا گاندھی نام کا جادو ختم ہو گیا۔ یہیں پر سونیا گاندھی کے اُس بیان کی بات کریں گے جو بیان انہوں نے 7 مارچ کو دیا۔ غلط ٹکٹ بٹوارہ، یہ غلط ٹکٹ بٹوارہ کس نے کیا؟ مجھے میری تفتیش بتاتی ہے کہ ٹکٹ کا یہ غلط بٹوارہ راہل گاندھی نے کیا۔ راہل گاندھی کے ہاں کرنے کے بعد کنشک سنگھ اپنے چھ لوگوں کے ساتھ وہ فہرست اسکریننگ کمیٹی کو بھجواتے تھے، جس کے اوپر اسکریننگ کمیٹی صرف واہ واہ کرتی تھی۔ اتنا ہی نہیں، رائے بریلی، امیٹھی اور سلطانپور میں جو 100 فیصد کانگریس ہار گئی، اس کا ذمہ کس کے سر ہے؟ اگر ٹکٹ کا غلط بٹوارہ ہوا ہے تو امیٹھی اور رائے بریلی میں کس نے ٹکٹ بانٹے؟ وہ ٹکٹ اگر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے نہیں بانٹے تو کس نے بانٹے؟ ہاں! ایک آدمی ہے، اس کا نام ہے کشوری شرما۔ وہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے نمائندے ہیں، جو وہا ں پر تبھی جاتے ہیں جب سونیا گاندھی یا راہل گاندھی کو اپنے انتخابی حلقے میں جانا پڑتا ہے، جن کے کہنے کا مطلب سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا کہا ہوتا ہے۔ جب سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے یہاں سیٹیں ہاری جاسکتی ہیں، کانگریس ہار سکتی ہے تو ٹکٹ کے غلط بٹوارے کی وجہ سے کانگریس ہاری، اس کا ذمہ کانگریس کی صدر لیں گی یا رائے بریلی کا ایم پی لے گا یا امیٹھی کا ایم پی لے گا، جو ملک کا ہونے والا وزیر اعظم ہے۔ سونیا گاندھی کا یہ کہنا کہ مہنگائی ایک وجہ تھی۔ یہ بھی غریبوں کی تکلیف کا ایک مذاق ہے۔ سونیا گاندھی کو کوئی یہ نہیں بتا پایا کہ مہنگائی اور کرپشن کتنا بڑا ملک میں سوال بن گیا ہے۔ راہل گاندھی کے برتاؤ سے سارے کانگریسی لیڈر آشنا ہیں۔ بڑے سے بڑا لیڈر راہل گاندھی کے پاس جاتا تھا اور راہل گاندھی ایک ہی بات کہتے تھے، کنشک ایک ہی بات سن لو، کنشک نوٹ اِٹ۔ کنشک سن لیتے تھے اور کنشک نوٹ کرتے تھے اور وہ وہاں سے گدگد یا پٹا ہوا لیڈر لوٹ جاتا تھا۔ سیاسی برتاؤ، مہارت اور سیاسی طور طریقے کی کمی راہل گاندھی اور کانگریس کے لیے اتر پردیش میں ہار کا سبب بن گئی۔ اور یہی سیاسی مہارت کی کمی مایاوتی کے لیے بھی ہار کا سبب بن گئی۔ مایاوتی نے جرائم پر قابو کیا، لیکن مایاوتی سیاسی مہارت کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں کہ وہ سرو جن کی لیڈر ہیں۔ یہ سرو جن کو بے عزت کرنے والی لیڈر کی شکل میں لوگوں کے سامنے آگئیں۔ مایاوتی سے مایاوتی کے ورکرس ان پانچ سالوں میں مل ہی نہیں پائے۔ کو آر ڈی نیٹرس ملتے تھے، جنہوں نے ریاست میں بدعنوانی کی منظم شکل نکھار دی۔ مایاوتی کا برتاؤ ان کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس اگر سنجے جوشی اتر پردیش میں نہیں ہوتے تو وہ تین سیٹوں کی جگہ اور تیس سیٹیں کم پاتی۔ چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اترپردیش میں اپنے سوالوں کو، اپنے لیڈروں کو، اپنی آڈیولوجی کو سامنے رکھ ہی نہیں پائی۔ کمیونل ہے، کمیونل نہیں ہے، رام مندر ہے، رام مندر نہیں ہے، مسلمان ہے، مسلمان نہیں ہے، ریزرویشن ہے، ریزرویشن نہیں ہے، اسی پس و پیش میں الجھ گئی۔ ہر پارٹی کے لیے سوچنے کا وقت ہے۔ لیکن ساری پارٹیوں میں مجھے لگتا ہے کہ تنہا بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جو اِس ہار سے سبق لے گی اور اس ہار کو اپنی تنظیم کو نکھارنے کی شاید وجہ بنائے گی۔ کانگریس کوئی سبق لیتی نظر نہیں آتی اور بہوجن سماج پارٹی تو سبق لے گی ہی کیا۔
آخر میںکانگریس کا آخری کارنامہ، بٹلہ ہاؤس کانڈ میں کانگریس کو گالی دینے والے راشٹریہ سہارا اُردو کے ایڈیٹر رہے عزیز برنی کے ذریعے لکھی گئی کتاب۔ الیکشن 2012 میں عزیز برنی کے ذریعے لکھی گئی کتاب کو کانگریس اتر پردیش کے انتخاب میں بانٹتی نظر آئی۔ کانگریس کو لگا کہ اگر وہ عزیز برنی کی کتاب بانٹے گی تو اس سے مسلمانوں کا ووٹ مل جائے گا۔ اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ جو آپ کا مخالف رہا ہے، اگر آپ اس کی کوئی بانٹتے ہیں تو لوگ بنا پڑھے یہ مان لیں گے کہ وہ آپ کے حق میں لکھا ہوا بیان ہے۔ عزیز برنی صاحب نے بھی اس کتاب کو برنی پبلی کیشن ہاؤس کے تحت ہندی اور اردو میں چھپوایا ہے۔ کانگریس نے اس کی لاکھوں کاپیاں خریدی ہیں۔ عزیز برنی صاحب نے، جو کانگریس کو بٹلہ ہاؤس کانڈ میں لگاتار گالیاں دینے والوں میں رہے ہیں، انہوں نے کیوں اس کی اتنی کاپیاں چھپوائیں اور کیوں کانگریس کو دیں۔ کانگریس کھلے عام کہتی ہے کہ اس کی لاکھوں کاپیاں خریدیں اور لوگوں میں بانٹیں۔ اس کے پیچھے کیا ہے، یہ تو عزیز برنی صاحب جانیں اور کانگریس جانے، پر اس کا فائدہ کانگریس کو بالکل نہیں ہوا، بلکہ اس کا نقصان کانگریس کو ہوااور یہ بھی شاید راہل گاندھی اور کنشک نے کیا، کیوں کہ اس کتاب کے تیس لفظ نام کے پہلے مضمون میں، جسے عزیز برنی صاحب نے لکھا ہے کہ 11 نومبر 2011 میں 11 بجے یعنی گیارہ، گیارہ کو گیارہ بجے ان کی راہل گاندھی سے بارہ تغلق لین ، نئی دہلی پر ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی جب میں اپنی فیملی کے ساتھ خواجہ کی درگاہ پر اجمیر جا رہا تھا۔ اور انہوں نے دوسرے پیرے میں لکھا ہے کہ ایک یادگار ملاقات تھی اور کئی لحاظ سے اہم تھی۔ بالکل صحیح انہوں نے لکھا، کیوں کہ اسی ملاقات میں شاید اس کتاب کی لاکھوں کاپیاں خریدنے کا فیصلہ ہوا ہوگا۔ کانگریس 2014 کے لیے اپنے کو تیار کر پائی یا نہیں، یہ لاکھ ٹکے کا سوال ہے اور اس کا جواب اب سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو کم، کانگریس ورکرس کو زیادہ دینا ہے، کیوں کہ کہیں کانگریسی کارکن پہلی بار قیادت کے خلاف آواز اٹھانا شروع کردیں۔   g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “۔۔۔اور اس طرح کانگریس ہار گئی

  • April 4, 2012 at 1:14 pm
    Permalink

    ماشاء الله آپکا اخبار بہت اکچھا ہے. اور سنتوش جی تو ایک مایا ناز صحافی ہیں. ان کی قلم میں اتنی طاقت ہے ہے کی وو مرکز میں بیٹھی کانگریسی حکومت کی چولیں ہلا سکتے ہیں.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *