اب کانگریس کے سبق لینے کا وقت ہے

سنتوش بھارتیہ
کانگریس کو سبق لینا چاہیے، لیکن کانگریس سبق لے گی، اس میں شک ہے۔ شک اس لیے ہے، کیوں کہ اتر پردیش میں شکست فاش کے بعد بھی اتراکھنڈ میں کانگریس نے سیاسی کم فہمی کا ثبوت دیا۔

 اتر پردیش کے انتخاب میں کانگریس یہ بھول گئی کہ حقیقی زندگی اور سنیما کی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ راہل گاندھی جتنا زیادہ اینگری ینگ مین کا پوسٹر لے رہے تھے، ووٹر ان سے اتنا ہی دور جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ایک اور وجہ ہے۔ وجہ یہ کہ راہل گاندھی نے اتر پردیش میں کسی بھی ریلی میں یہ نہیں کہا کہ کانگریس اگر اقتدار میں آئے گی تو وہ کرے گی کیا، لوگوں کو کیا دے گی، لوگوں کے کن مسائل کو دور کرے گی، اس کی ترجیحات کیا ہیں۔ اس کی جگہ راہل گاندھی یہ بولتے رہے کہ میں نے بندیل کھنڈ کے لیے پیسہ دیا، میں نے بنکروں کے قرض کو معاف کیا، میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔ انہوں نے کانگریس کا بھی نام نہیں لیا۔ نتیجتاً راہل گاندھی کو لے کر پورے صوبہ میں ایک عدم اعتماد کا ماحول بن گیا۔

اتراکھنڈ کی سیاست میں ہریش راوت اہم نام ہے۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کو زندہ رکھنے میں ہریش راوت کی بڑی قربانی رہی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو اکثریت ملی، لیکن جب وزیر اعلیٰ بنانے کا وقت آیا تو نارائن دت تیواری کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اور اس دفعہ کانگریس نے دو غلطیاں کیں۔ پہلی غلطی آئندہ کے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیے بغیر انتخاب لڑا اور جو الیکشن کانگریس کی جھولی میں تھا، اسے کانگریس نے خود ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پالے میں پٹک دیا۔ کانگریس کے لیڈروں کی آپسی رنجش نے بھوون چندر کھنڈوری جی کو کانگریس کے خلاف ماحول بنانے کا موقع فراہم کر دیا اور انہوں نے حاشیہ پر پڑی بی جے پی کو برابر کی ٹکر پر لاکر کھڑا کر دیا۔ کھنڈوری جی اپنا الیکشن ضرور نہیں جیت پائے، لیکن انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اتراکھنڈ میں دوبارہ زندہ کردیا۔ کانگریس صرف ایک سیٹ بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ جیت پائی۔ جب وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان ایم ایل ایز کے گروپ میں ہونا تھا، تو غلام نبی آزاد نے ایک تجویز رکھی کہ جیسا کانگریس ہائی کمان چاہے، یعنی سونیا گاندھی چاہیں، اسے ایم ایل اے قبول کر لے گا۔ سونیا گاندھی کے یہاں غلام نبی آزاد نے ایک ساتھ وجے بہوگنا اور ہریش راوت کو بلا لیا۔ اس سے قبل کانگریس ہائی کمان نے یہ اعلان بھی کیا کہ کانگریس پارٹی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اتراکھنڈ میں کوئی ایم پی وزیر اعلیٰ نہیں بنے گا۔ ممبرانِ اسمبلی کے درمیان تین نام چلے –  ہرک سنگھ راوت، یشپال آریہ اور اندرا ہردیش۔ اچانک دہلی سے اعلان ہوا کہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ وجے بہوگنا ہوں گے۔ غلام نبی آزاد نے سب سے کہنا شروع کیا کہ خود ہریش راوت نے وجے بہوگنا کا نام تجویز کیا اور کہا کہ انہیں وزیر اعلیٰ بنا دو۔ اگر غلام نبی آزاد کی سطح کا آدمی جھوٹ بولے تو کیا کہا جائے۔ ہریش راوت نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ اس کے پیچھے کی کہانی بہت ہی مزیدار ہے۔ ایک بڑا صنعتی گھرانا ہے جو انشورنس یعنی بیمہ میں بھی بڑا کام کرتا ہے۔ اس نے اتراکھنڈ میں وجے بہوگنا کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے پانچ سو کروڑ روپے کا داؤ لگایا اور اس نے ان سب لوگوں کو، جو قیادت کا فیصلہ کرتے ہیں اُن سب لوگوں کے یہاں، جس کا جتنا حصہ ہوتا ہے اُتنا پہنچایا۔ جو لوگ کانگریس کو جانتے ہیں اور جو اندرونی خبر رکھتے ہیں، انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ سودا اس لیے ہواوجے بہوگنا کو بنانے کا، کیوں کہ اتراکھنڈ میں دس ہزار میگاواٹ کا ایک بڑا پاور پروجیکٹ ایک گروپ لگانا چاہتا ہے، اور سودا یہی ہوا کہ وجے بہوگنا اسے پاور پروجیکٹ سینکشن (منظور) کریں گے اور وہ اس کے بدلے میں وجے بہوگنا کو کسی بھی طرح سے وزیر اعلیٰ بنوائے گا، ورنہ یہ کیسے ہوتا کہ وجے بہوگنا ابھی وزیر اعلیٰ بنے بھی نہیں، اکثریت بھی انہوں نے ثابت نہیں کی اور ان کا بیان آگیا کہ اتراکھنڈ میں بجلی ان کی اولین ترجیح ہے۔ بڑے بجلی کے کارخانے اتراکھنڈ میں لگنے چاہئیں۔ ہم اُس بزنس ہاؤس کا نام کھول سکتے ہیں، اگر ہم سے کانگریس کے فیصلے لینے والے لوگ پوچھیں یا ہم سے خود وجے بہوگنا پوچھیں، کیوں کہ اس سے پتہ چل جائے گا کہ پاور پروجیکٹ سینکشن کرنے میں ترجیح دی جاتی ہے یا نہیں۔ ہمارا کہنا ہے کہ اس گروپ کو ترجیح دی جائے گی۔ ہریش راوت کو وزیر اعلیٰ نہ بنانے کا اثر کانگریس کو آئندہ لوک سبھا انتخاب میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ممبرانِ اسمبلی کی بڑی تعداد وجے بہو گنا کے خلاف ہے۔ موٹے طور پر مانا جا رہا ہے کہ 17 سے 21 ایم ایل اے وجے بہو گنا کے خلاف ہیں۔ کانگریس کا فیصلہ لینے کا یہ کیسا عمل ہے، جس میں 21 ایم ایل اے کسی آدمی کے خلاف ہوں اور اسے ہی وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے۔ اس سے پہلے اتر پردیش میں کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا، خاص کر ان کارکنوں کو جنہوں نے پارٹی بنانے میں اپنا جی جان لگا دیا، جن لوگوں کا کانگریس میں نسل در نسل عقیدہ تھا، کانگریس سے وفاداری تھی۔ ان سارے لوگوں کو کانگریس نے پہلے قدم کے طور پر درکنار کر دیا اور دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو اپنا امیدوار بنایا۔ تنظیم میں بھی ایسے لوگوں کو کانگریس نے اہم مقامات پر رکھا، جنہوں نے تنظیم بنانے میں کوئی رول پلے نہیں کیا تھا۔ نتیجہ کے طور پر کانگریس پارٹی کا ایک بہت بڑا حصہ کانگریس کے ہی خلاف کام کرنے لگا۔
بہار میں کانگریس نے راہل گاندھی کی قیادت میں ہر سیٹ کا سروے کرایا، امیدوار چھانٹے، پہلے نوجوانوں کو ٹکٹ دینے کا یقین دلایا جس کی وجہ سے نوجوان وہاں جوش میں آئے اور اس کے بعد جب ٹکٹوں کا بٹوارہ ہوا، اس میں نوجوانوں کی کوئی حصہ داری نہیں تھی۔ ٹکٹ انہیں دیے گئے جو نوجوان کے نام پر بزرگ تھے۔ نتیجہ کے طور پر 200 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور کانگریس کے ہاتھ میں سیٹیں نہیں آئیں۔ دوسری طرف اتر پردیش میں ہر سیٹ کا سروے ہوا۔ کون امیدوار جیت سکتا ہے پارٹی کا، اس کی لسٹ بنی۔ اخیر میں جب ٹکٹ بانٹنے کا وقت آیا تو دوسری پارٹیوں سے امیدوار تلاش کیے گئے۔ حکمت عملی کانگریس نے یہ بنائی کہ جو امیدوار جیت سکتا ہو اور جسے انتخاب میں دس پندرہ ہزار ووٹ ملے ہوں، اسے اپنا امیدوار بنا لو۔ کانگریس بھول گئی کہ دوسری پارٹی میں جس امیدوار کو دس پندرہ ہزار ووٹ ملے تھے، وہ ووٹ اُس پارٹی کے تھے اُس آدمی کے نہیں تھے۔ اسی لیے جب وہ کانگریس میں انتخاب لڑنے کے لیے آیا تو اسے ووٹ ملے تین ہزار، پانچ ہزار، سات ہزار یا آٹھ ہزار۔ دراصل، کانگریس میں یہ سیاسی کم فہمی کی مثال تھی۔ جو نئی ٹیم کانگریس کی حکمت عملی تیار کر رہی تھی، اس نے تین نئے بڑی شخصیت بنانے والے ماہرین کو بلایا اور ان کے ساتھ بات چیت کرکے طے کیا کہ راہل گاندھی کا پوسٹر کس طرح کا الیکشن میں ہو۔ اُس میٹنگ میں طے ہوا کہ جس طرح دیوار فلم میں امیتابھ بچن اینگری ینگ مین کے طور پر سامنے آئے اور پورے ملک کے لوگوں نے ان کی فلم کو ہٹ کردیا، اسی طریقے سے اگر راہل گاندھی اینگری ینگ مین کی طرح دکھائی دیں گے، تو نوجوان ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا، کیوں کہ نوجوان مانے گا کہ ان کے مسائل کو ختم کرنے والا ایک فینٹم سامنے آ گیا ہے، اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ فلم اور حقیقی زندگی کا یہی فرق ہوتا ہے۔ راہل گاندھی کے اس پوسٹر کو نہ وہاں موجود بھیڑ نے پسند کیا اور نہ انہوں نے، جنہوں نے ٹیلی ویژن دیکھ کر راہل گاندھی کو لے کر رائے بنائی۔ اتر پردیش کے انتخاب میں کانگریس یہ بھول گئی کہ حقیقی زندگی اور سنیما کی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ راہل گاندھی جتنا زیادہ اینگری ینگ مین کا پوسٹر لے رہے تھے، ووٹر ان سے اتنا ہی دور جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ایک اور وجہ ہے۔ وجہ یہ کہ راہل گاندھی نے اتر پردیش میں کسی بھی ریلی میں یہ نہیں کہا کہ کانگریس اگر اقتدار میں آئے گی تو وہ کرے گی کیا، لوگوں کو کیا دے گی، لوگوں کے کن مسائل کو دور کرے گی، اس کی ترجیحات کیا ہیں۔ اس کی جگہ راہل گاندھی یہ بولتے رہے کہ میں نے بندیل کھنڈ کے لیے پیسہ دیا، میں نے بنکروں کے قرض کو معاف کیا، میں نے یہ کیا اور وہ کیا۔ انہوں نے کانگریس کا بھی نام نہیں لیا۔ نتیجتاً راہل گاندھی کو لے کر پورے صوبہ میں ایک عدم اعتماد کا ماحول بن گیا۔ راہل گاندھی کے سپہ سالاروں کی حکمت عملی نے کانگریس کو جتنا محدود کیا، اس سے زیادہ محدود کچھ وزیروں کے بیانوں نے کیا۔ یہ ساری باتیں آج بھی کانگریس سمجھ نہیں پائی۔ کانگریس کے ٹکٹ بٹوارہ میں ایک اور سچائی ہمیں معلوم ہوئی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے کنشک سنگھ کے ذریعے بھیجی گئی لسٹ میں جن بارہ لوگوں کے نام کاٹ کر نئے نام لکھے، اتفاق سے وہ بارہ کے بارہ نام اتر پردیش اسمبلی کا انتخاب جیت گئے۔ اگر ان میں سے چار بھی الیکشن ہار جاتے تو اب تک دگ وجے سنگھ کی گردن سیاسی طور سے کٹ چکی ہوتی۔ اب کانگریس کو لوک سبھا انتخابات کے لیے جہاں خود کو دوبارہ منظم کرنا چاہیے، وہاں کانگریس اپنی پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو سزا دینے کا من بنا رہی ہے۔ کانگریسی لیڈروں کا یہ ماننا ہے کہ سنجے سنگھ، بینو پانڈے، کمل کشور کمانڈر، بینی پرساد ورما، پی ایل پنیا، سلیم شیروانی اور راج ببر بہت دنوں تک کانگریس کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ جب میں نے کانگریس کے ایک سینئر لیڈر سے سوال پوچھا کہ اگر وہ نہیں رہیں گے تو کہاں جائیں گے، تو مجھے بتایا گیا کہ سنجے سنگھ، سلیم شیروانی، راج ببر اور پی ایل پنیا سماجوادی پارٹی میں واپس جا سکتے ہیں۔ راج ببر کے نام پر ان کا کہنا تھا کہ راج ببر کہیں گے کہ میری تو امر سنگھ سے لڑائی تھی، ملائم سنگھ سے تو کبھی نہیں تھی اور امر سنگھ سے ویسی ہی لڑائی تھی جیسی اعظم خان کی لڑائی تھی، لہٰذا میں اپنی پرانی پارٹی میں واپس جانا چاہتا ہوں، اور ملائم سنگھ انہیں پارٹی میں واپس بھی لے سکتے ہیں۔ بینی پرساد ورما بہوجن سماج پارٹی میں جا سکتے ہیں۔ اس طرح کے قیاس لگانے کا مطلب کمزور فوج کو اور کمزور کرنا ہے۔ اور یہ قیاس کانگریس کے ذمہ دار لوگ لگا رہے ہیں، اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے اتر پردیش کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اگر میں کہوں کہ اتر پردیش کے انتخاب میں کانگریس نے منیجریل اِن اِفی شی اینسی کا بھرپور نظارہ دکھایا تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ کس کینڈیڈیٹ کو کتنا پیسہ دیا جانا ہے، اس کا فیصلہ راہل گاندھی کے دوست ، ان کے آنکھ،ناک، کان کنشک سنگھ نے کیا۔ اے، بی، سی، ڈی چار لسٹ بنائی اور کس کو کہاں کتنا پیسہ جانا ہے، اس کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی ….انہوں نے یہ بھی فیصلہ کیا، جس میں میڈیا چیئرمین کی رائے بھی شامل تھی، کہ کس میڈیا، اخبار اور ٹیلی ویژن کو کتنا پیسہ دیا جانا ہے۔ شرط ایک ہی تھی کہ راہل گاندھی کا صرف چہرہ دکھانا ہے، بھیڑ نہیں دکھانی ہے۔ اس لیے پورے الیکشن کے دوران کسی بھی ریلی میں، راہل گاندھی کے جلسے میں کتنی بھیڑ آئی، اس کا نظارہ کسی ٹیلی ویژن چینل نے دکھایا ہی نہیں اور نہ کسی اخبار نے شائع کیا۔
جتنی کانگریس نے سبق نہ لینے کی قسم کھائی ہے، اتنی ہی سبق نہ لینے کی قسم سرکار نے بھی کھائی ہے۔چودہ مارچ کی شام سے، یا کہیں کہ دیر شام سے ایک خبر چلنی شروع ہوگئی کہ ملک کے وزیر ریل نے استعفیٰ دے دیا اور پورا میڈیا 15 مارچ کی صبح 10 بجے تک اِس خبر کو چلاتا رہا کہ وزیر ریل نے استعفیٰ دے دیا، نئے وزیر ریل مکل رائے بنیں گے، وزیر اعظم نے استعفیٰ قبول کر لیا، یہ بھی چینل پر چلا۔ اور حد تو تب ہوگئی جب 15 مارچ کے اخباروں میں بھی یہ خبر شائع ہوگئی کہ وزیر ریل نے استعفیٰ دے دیا۔ اچانک 15 مارچ کو صبح سوا دس بجے یہ خبر آئی کہ، دنیش ترویدی نے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ دنیش ترویدی نے جب یہ کہا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا، تو چینلوں پر یہ چلنے لگا کہ استعفیٰ پر سسپنس، ابھی انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا، وہ وہاں جاکر وزیر ریل کے ناطے جواب دیں گے۔ یہیں پر لگتا ہے کہ سرکار نے کوئی سبق نہیں لیا۔ ہر چینل استعفیٰ دکھا رہا تھا، لیکن وزیر اعظم کے دفتر اور حکومت ہند کے پبلک رلیشن آفیسر اور پریس انفارمیشن بیورو، دونوں نے اس خبر کو مسترد نہیں کیا۔ سو کروڑ لوگوں کو وزیر اعظم کے دفتر اور ملک کے پریس انفارمیشن بیورو نے رات 9 بجے سے صبح 10 بجے تک بھرم میں رکھا اور طرح طرح کی افواہوں کو چلنے دیا۔ اتنی بڑی چوک حکومت ہند کے وزیر اعظم کا دفتر کرے، بھروسہ نہیں ہوتا، لیکن ایسا ہوا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں میڈیا صلاح کار کی شکل میں ہندی کے صحافی پنکج چودھری پہنچ گئے ہیں۔ پنکج چودھری کس کام میں مصروف تھے، یہ تو وہ جانیں، لیکن انہوں نے بھی اپنا فریضہ ادا نہیں کیا۔ انہوں نے بھی جان بوجھ کر اس افواہ کو پھیلنے دیا۔ وہ چاہتے تو ہر چینل کو فون کرکے کہتے کہ نہیں یہ خبر غلط ہے، دنیش ترویدی نے استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ان کا استعفیٰ وزیر اعظم نے قبول کیا۔ وہ وزیر اعظم کے میڈیا صلاح کار ہیں، لیکن وزیر اعظم نے استعفیٰ قبول کر لیا، یہ خبر این ڈی ٹی وی پر چلی، جہاں وہ پہلے کام کرتے تھے، لیکن انہوں نے اس کی مذمت نہیں کی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس حکومت کو غیر ذمہ دار لوگ چلا رہے ہیں، چاہے وہ افسر ہوں یا سرکار کے وزیر ہوں۔ دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ ملک ٹوئٹر پر چل رہا ہے۔ وزیر اعظم کے علاوہ ہر وزیر ٹوئٹر کے اوپر کوئی نہ کوئی بیان دے رہا ہے۔ اپوزیشن میں سشما سوراج ہوں، لال کرشن اڈوانی ہوں، ارون جیٹلی ہوں، سب ٹوئٹر پر بیان دے رہے ہیں، کوئی بھی اخبار یا چینل پر بیان نہیں دے رہا۔ مزے کی چیز یہ ہے کہ اس کمی کو اپنی غلطی ماننے کو بھی کوئی تیار نہیں ہے۔ پندرہ تاریخ کی صبح حکومت ہند کے ایک مرکزی وزیر، جے رام رمیش نے کئی سارے لوگوں کو ایک ایس ایم ایس کیا، جس میں انہوں نے لکھا ’’ٹو ہارورڈ وَن آکسفورڈ میڈ یو پی اے آک ورڈ اینڈ کانگریس بیک ورڈ‘‘۔ جے رام رمیش اگر لوگوں کو یہ میسج دیتے ہیں اور جے رام رمیش یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میسج آؤٹ نہیں ہوگا، تو یہ بھی جے رام رمیش کے عقل کی کمی ہوگی۔ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ سرکار غیر ذمہ داری سے چل رہی ہے۔
تیسری طرف سب سے بڑی پارٹی کے ناطے کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یو پی اے کو ٹھیک سے چلائے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے گٹھ بندھن کو بھی ٹھیک سے نہ چلانے کا عہد کر رکھا ہے۔ یو پی اے کی کوئی کوآر ڈی نیشن کمیٹی نہیں ہے۔ یو پی اے میں لیڈر تبھی ملتے ہیں جب یا تو سونیا گاندھی کھانے پر بلائیں یا منموہن سنگھ کھانے پر بلائیں۔ اور اس میں بھی صرف کھانا ہوتا ہے، باتیں نہیں ہوتیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ ہر پارٹی کے ایک لیڈر کو لے کر ایک کوآر ڈی نیشن کمیٹی ہوتی اور یہ کمیٹی اٹھنے والے سوالوں کو، اور وہ سوال جو یو پی اے کو پریشان کر سکتے ہیں، اس کے حل کے لیے رائے بناتی۔ لیکن ایسا کانگریس نہیں کر رہی۔ اتنا ہی نہیں، اس کا رابطہ نہ ممتا بنرجی سے ہے، نہ اس کا رابطہ ملائم سنگھ یادو سے ہے، نہ اس کا رابطہ مایاوتی سے ہے اور نہ کروناندھی سے ہے۔ ان چاروں میں سے دو، یو پی اے کے باقاعدہ حلیف ہیں اور دو یو پی اے کو حمایت دے رہے ہیں، لیکن کانگریس کسی سے کوئی بات نہیں کر رہی ہے۔ نتیجہ کے طور پر بازیگری کرنے کی اسے ضرورت پڑنے لگی۔ جب اسے ڈر لگا کہ ممتا بنرجی اسے پریشان کریں گی اور اس کو ایوان میں ووٹ میں ساتھ نہیں دیں گی، تو فوراً انہوں نے ملائم سنگھ یادو سے حمایت مانگ لی۔ پورے ملک میں گٹھ بندھن کی بنیاد اور گٹھ بندھن کے نتائج تار تار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اندرونی رسہ کشی اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ نہ صرف پارٹی، بلکہ پارٹی کے سارے لیڈر نہ صرف کانگریس، بلکہ سرکار کے سارے وزیر اور یو پی اے، جو ایک بڑا محاذ ہے اور ملک میں سرکار چلا رہا ہے، اس سارے میکانزم کے پیچھے نہ کوئی وژن ہے، نہ کوئی مسائل کا حل نکالنے کی میکانزم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر چیز اپنے آپ چل رہی ہے۔ نہ یہ فکرمندی ہے کہ کوئی مسئلہ پیدا ہوگا تو ہم کیا کریں گے، نہ یہ فکرلاحق ہے کہ ملک میں اگر باہری خطرہ دکھائی پڑے تو کیا کریں گے۔ اپوزیشن کے پاس نہ لیڈر ہے، نہ اپوزیشن کے پاس سمجھ ہے، نہ اپوزیشن کانگریس کو، اقتدار کو اس کی خامیاں دکھا پانے میں پہل کر رہا ہے۔ جمہوریت کے دونوں اجزائ، یعنی حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف تقریباً ناکارہ سے دکھائی دے رہے ہیں۔
آخر میں ایک کہاوت یاد آتی ہے –  جیسا راجا ویسی پرجا۔ جب راجا ایسے ہیں، حزبِ اقتدار ایسا ہے، حزبِ مخالف ایسا ہے تو میڈیا کیسا ہے۔ میڈیا نے بھی دنیش ترویدی کے استعفیٰ کی خبر کو دنیش ترویدی سے کنفرم کیے بغیر چلا دیا۔ جو لوگ دنیش ترویدی کے ساتھ روز چائے پیتے تھے، انہوں نے بھی دنیش ترویدی سے نہیں پوچھا کہ آپ نے استعفیٰ دیا ہے کہ نہیں دیا، اور تقریباً 12 گھنٹے سے زیادہ یہ پورا ملک اس بھرم میں رہا کہ وزیر ریل نے استعفیٰ دے دیا۔ جب اس خبر کو دوبارہ چلایا کہ دنیش ترویدی نے استعفیٰ نہیں دیا ہے، تو اس غلطی کے لیے بھی کسی نے عوام سے معافی نہیں مانگی کہ ہم نے آپ کو غلط جانکاری 12 گھنٹے تک دی۔ شاید معافی مانگنے کی ضرورت اب ہے نہیں، کیوں کہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری لینا ہی نہیں چاہتا۔ ہر ایک کو لگتا ہے کہ وہ جو کہے گا، جو کرے گا لوگ اس کے اوپر سوال نہیں اٹھائیں گے، پر یہ بھول گئے کہ اتر پردیش کے انتخاب میں ان کی ہر پریڈکشن کو وہاں کے عوام نے غلط ثابت کر دیا۔ اور یہ بھی بھول گئے کہ لوگ اب میڈیا کے بڑے صحافیوں کو جوکر کی طرح ٹریٹ کرنے لگے ہیں۔ اپنی تفریح کی خاطر وہ ٹیلی ویژن کھولتے ہیں، لیکن اس پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یہ صورتِ حال ملک اور ملک کی جمہوریت کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ پھر بھی یہ امید کرنی چاہیے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ، یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی، اپوزیشن کے لیڈر لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج اور نئے لیڈر کے طور پر ابھرے نتیش کمار اور ملائم سنگھ یادو ملک میں جمہوریت کے لیے پیدا ہونے والے مسائل پر، جمہوری برتاؤ کی پریشانیوں پر جلد ہی بیٹھ کر غور و فکر کریں گے۔ اگر یہ غورو فکر نہیں کریں گے، تو پھر لوگوں کے من میں بن رہی اور ٹوٹ رہی امید کو نئے سرے سے سنوارنے کا موقع بھی سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں سے چھوٹ جائے گا۔g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *