کیا یدیورپا نئی سیکولر پارٹی بنانے جا رہے ہیں

قیصر رزاق
سابق  وزیر اعلیٰ یدیورپا کرناٹک میں دوبارہ اپنا عہدہ حاصل کرتے ہوئے، اقتدار کی باگ ڈور کو ایک بار پھر اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے انتہائی بے چین و مضطرب نظر آرہے ہیں۔ یدیو رپا کی ضد اور ہٹ دھرمی سے ریاستی بی جے پی یونٹ میں کہرام مچا ہوا ہے اور پارٹی سراسیمگی کا شکار نظر آتی ہے۔ یدیورپا دوبارہ اقتدار کے حصول کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلیٰ کمان اور سنگھ پریوار سے صف آرا ہوتے ہوئے، بغاوت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ فی الفور پورے احترام و عزت کے ساتھ عہدہ بحالی کی اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں، اور اس بات کے لیے بھی کوشاں ہیں کہ ان پر لگے ہوئے رشوت ستانی کے داغ جلد از جلد دھل جائیں۔ ایسا ہونا نہ صرف مشکل نظر آتا ہے بلکہ یہ ناممکن بھی لگتا ہے۔ پارٹی کے قائدین نے وضاحت کردی ہے کہ اس موڑ پر جہاں یدیورپا کھڑے ہیں، ایک داغدار شخصیت کو اہم عہدہ سے سرفراز نہیں کیا جاسکتا۔

 29 جنوری کو ہُبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک یونٹ کے ارکانِ عاملہ کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی، جس میں قومی سطح کے قائدین بھی شریک ہوں گے۔ اس میٹنگ کے ذریعہ یہ پیغام عام جائے گا کہ یدیو رپا کی بحالی ناممکن ہے، مزید برآں یدیو رپا کو یہ کڑوا سچ قبول کرنا پڑے گا کہ وزیر اعلیٰ سدا نند گوڑا اور پارٹی کے ریاستی صدر ایشورپا اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ اس کے بعد ہائی کمان کا خیال ہے کہ پارٹی میں موجود سراسیمگی اور بے چینی از خود ختم ہو جائے گی اور سدانند گوڑا کی حکومت سکون کے ساتھ مئی 2013 تک کام کرتی رہے گی۔

اتر پردیش میں داغی بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کرکے پہلے ہی پارٹی اپنا دامن جلا چکی ہے اور پارٹی ڈسپلن پر کئی سوالیہ نشان لگے ہیں۔ بی جے پی کی اعلیٰ کمان کا خیال ہے کہ پانچ ریاستوں میں انتخابات مکمل ہوجانے کے بعد ہی مارچ میں یدیورپا کے مسئلے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ اس اثنا میں یدیورپا کے خلاف رشوت ستانی کے مقدمات میں ایک یا دو کے فیصلے آجانے کی توقع ہے۔ فیصلوں میں اگر انہیں رشوت ستانی کے الزامات سے بری کر دیا جاتا ہے، تو یدیو رپا کے لیے پارٹی میں کوئی اہم رول دیا جاسکتا ہے۔ ہائی کمان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 29 جنوری کو ہُبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک یونٹ کے ارکانِ عاملہ کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی، جس میں قومی سطح کے قائدین بھی شریک ہوں گے۔ اس میٹنگ کے ذریعہ یہ پیغام عام جائے گا کہ یدیو رپا کی بحالی ناممکن ہے، مزید برآں یدیو رپا کو یہ کڑوا سچ قبول کرنا پڑے گا کہ وزیر اعلیٰ سدا نند گوڑا اور پارٹی کے ریاستی صدر ایشورپا اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ اس کے بعد ہائی کمان کا خیال ہے کہ پارٹی میں موجود سراسیمگی اور بے چینی از خود ختم ہو جائے گی اور سدانند گوڑا کی حکومت سکون کے ساتھ مئی 2013 تک کام کرتی رہے گی۔
سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا ادھر ہائی کمان اور سنگھ پریوار کو ڈرانے، دھمکانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پارٹی کو یہ الٹی میٹم بھی دیتے ہیں کہ سنکرانتی کے بعد کوئی فیصلہ نہ لیا گیا تو پارٹی میں پیدا ہونے والے بحران کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ کبھی مثال کے طور پر ایشورپا کے خلاف سنگین الزام لگا دیتے ہیں کہ ان کے جیل جانے کے پیچھے ایشورپا کا ہی ہاتھ تھا، وغیرہ وغیرہ۔ یدیورپا نے اپنے حق میں ماحول کو سازگار کرنے کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ آر اشوک، وزیر صنعت مرگیش نرانی اور وزیر برقی شریمتی شوبھاکر نڈلاجے کو دہلی روانہ کیا۔ ہائی کمان نے اس کا سخت نوٹس لیا، جس کی وجہ سے یہ تینوں منھ بسورتے ہوئے واپس بنگلور لوٹ آئے، اور مرگیش نرانی کے پیش کردہ ’’مصالحتی فارمولہ‘‘ کو ایل کے جی فارمولہ بتاتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔ یدیورپا کی ان حرکتوں پر پارٹی اعلیٰ کمان اور سنگھ پریوار نے سخت تاسف کا اظہار کرتے ہوئے یدیو رپا کے خلاف اپنے موجودہ موقف کو اور سخت بناتے ہوئے کھلم کھلا اس بات کا اعلان کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، سنگھ پریوار اور اعلیٰ کمان یدیورپا کے سامنے کسی قیمت پر بھی اپنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ اعلیٰ کمان کے سخت گیر موقف اور ناکہ بندی سے یدیورپا کی جان پر بنی ہوئی ہے اور یہی بات انہیں کھائے جا رہی ہے کہ رشوت ستانی کے خلاف ملک گیر ’’جاگرن رتھ یاترا‘‘ کرنے والے لال کرشن اڈوانی کسی بھی قیمت پر پارٹی کے ڈسپلن کو توڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ اڈوانی جی یدیورپا کی بحالی کی سخت مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ سنگھ پریوار نے بھی یدیو رپا کے خلاف بڑے سخت و شست لہجے کا استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بی جے پی کی حکومت کو کوئی نقصان پہنچتا ہے، تو انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سنگھ پریوار کہتا ہے کہ بی جے پی نظریات اور اصول پر مبنی پارٹی ہے۔ وہ اقتدار سے بے دخل ہو جانا پسند کرے گی، لیکن اپنے نظریات و اصول کو کسی کے لیے بھی قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھائے گی۔ ہوسکتا ہے، یدیورپا کسی ذات یا فرقہ کے ترجمان ہو سکتے ہیں، سنگھ پریوار تو سارے ہندوتوا کی علمبر دار ہے، اس اتحاد میں انتشار پیدا کرنے والے کو بخشا نہیں جائے گا۔ احسان فراموشی اور طعنہ زنی کرنے والوں کا صفایا کرنا ضروری ہو جائے گا، پارٹی کے وقار کو چیلنج کرنے والوں کو سبق سکھایا جائے گا۔ کسی بھی شخص کے ذریعے یہ مان لینا کہ وہ پارٹی سے زیادہ قدآور ہے، مضبوط ہے، یہ اس کی کم علمی کی دلالت کرتا ہے۔
سنگھ پریوار نے بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد پیدا ہونے والے طوفان کا اندازہ کرتے ہوئے، پہلی بار یہ محسوس کیا کہ یدیو رپا شتر بے مہار ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں کہ پارٹی میں وہ زبردست بحران پیدا کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے وہ آر ایس ایس سے بدگمان نظر آتے ہیں اور اعتدال پسندی کی راہ اپنائے ہوئے لگتے ہیں۔ سنگھ پریوار نے اسی لیے یدیو رپا کے حمایتی مہر سنگھ کے دولت خانہ پر ایک عبوری اجلاس منعقد کیا، جس میں پارٹی کے ریاستی صدر ایشورپا، موجودہ وزیر اعلیٰ سدانند گوڑا اور سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا کو آمنے سامنے ایک ہی ٹیبل پر بیٹھاتے ہوئے، اپنے تمام اختلافات کو ختم کرنے کا درس دیا۔ آپسی رسہ کشی کو ختم کرتے ہوئے بی جے پی میں اتحاد بنائے رکھنے کی اپیل کی۔ اجلاس کے آغاز میں یدیورپا نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر جو فرضی مقدمات دائر کیے گئے ہیں، اس کے خلاف پارٹی کے کسی بھی سینئر لیڈر نے آواز نہیں اٹھائی اور نہ ان کا ساتھ دیا، وہ تنہا خود اپنی لڑائی آپ لڑ رہے ہیں۔ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے۔ میٹنگ کے اختتام کے بعد انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پھر اپنی بات دہرائی کہ ممبرانِ اسمبلی کی ایک کثیر تعداد ان کی ہم نوا ہے اور کابینہ میں آدھے سے زیادہ لوگ ان کے حمایتی ہیں۔ وہ دریوزہ گری پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ انہیں اپنی قوتِ ارادی پر بڑا یقین ہے۔ اس اجلاس کے بعد سدانند گوڑا، ایشورپا کے چہروں سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ انہوں نے ابھی پوری طرح اپنی مخاصمت ختم نہیں کی ہے۔ موقع پرستی اور کینہ پروری کا انہوں نے مکمل طور پر قلع قمع نہیں کیا ہے۔ ان کے چہروں پر دوریاں اور فاصلے اب بھی نظر آرہے تھے۔ ان کے درمیان موجود اختلافات کو انہوں نے ابھی فراموش نہیں کیا تھا۔ یدیو رپا کے چہرے پر اقتدار کی ہوس میٹنگ کے بعد بھی ناچتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد سنگھ پریوار نے اپنا مخصوص اجلاس نریری کے مکان پر منعقد کیا۔ اس کے علاوہ سنگھ پریوار فروری میں بھی اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے، جس میں پارٹی کی بقا، ترویج اور قیادت کے لیے نومشق افراد کو نظرانداز کرتے ہوئے، آر ایس ایس کے کسی ہارڈ کور (سخت گیر) کا انتخاب کیا جائے گا۔ اعتدال پسندی کے نام پر بی جے پی کو نقصان پہنچانے والوں کو پارٹی سے دور رکھا جائے گا اور ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔ یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ سنگھ پریوار یدیورپا سے خائف نظر آتا ہے اور انہیں اپنی گرفت و دائرہ میں محسوس نہیں کرتا۔ یہ بات بھی سچ دکھائی دیتی ہے کہ یدیورپا سنگھ پریوار کے حق میں کچھ زیادہ ہی سرکش ہوتے جا رہے ہیں۔ جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یدیورپا کی دوریاں سنگھ پریوار سے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے رشتوں میں کھٹاس آنے لگی ہے اور اضطراب و بے چینی بڑھنے لگی ہے۔ فی الحال یہ اضطراب پرسکون دکھائی دیتا ہے، آگے آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والی یہ دراڑیں کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ کانگریس کے مایوس ایم ایل ایز سے یدیو رپا کی ملاقاتیں سنگھ پریوار کو ایک آنکھ نہیں بھاتی، وہ اسے پارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی گردانتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یدیورپا جس راہ پر چلنا چاہتے ہیں، وہ راہ ایک موڑ کے بعد سنگھ پریوار سے علاحدہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بی جے پی ہائی کمان یدیورپا کو پانچ ریاستوں میں جاری الیکشن کے ختم ہوجانے تک، مارچ کے اختتام تک صبر کرنے اور خاموش رہنے کی صلاح دے رہا ہے، مگر یدیورپا ہائی کمان کی ہدایت و مشورہ سننے کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جس پر کلیان سنگھ، اوما بھارتی، اور شنکر سنگھ واگھیلا چل چکے ہیں۔ یدیورپا کو دن رات یہ خیال ستا رہا ہے کہ ریاست کے چار ضلعوں میں اکثریت کی وکلیگا پارٹی کو جب کامیابی مل سکتی ہے، تو مقتدر فرقہ سے تعلق رکھنے والے یدیو رپا کو کیا کامیابی نہیں ملے گی؟ یدیو رپا فی الحال اس نئی سیاسی کیمسٹری پر غور و خوض کرتے نظر آتے ہیں۔ یدیورپا کا جھکاؤ جنتا دل (متحدہ) کی طرف زیادہ ہے، جس سے لنگایت فرقہ کو روحانی لگاؤ و تعلق ہے۔ 1999 میں جنتا دل (متحدہ) کو 18 اور جنتادل (سیکولر) کو 10 نشستیں حاصل ہو چکی ہیں۔ وہ بڑے پیمانے پر جنتا دل (متحدہ) کا احیاء کرنے کے لیے شرد یادو سے بھی گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یدیورپا نئی سیکولر سیاسی پارٹی بناکر اپریل 2013 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب میں حصہ لیتے ہیں تو انہیں 100 نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔ یدیورپا کی نئی سیاسی سیکولر پارٹی میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے ایم ایل ایز کی شمولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیا یدیو رپا زعفرانی پارٹی سے نکل کر اپنی الگ سیکولر پارٹی بنائیں گے؟ اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *