سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کا ہجوم اور اندر کھچا کھچ بھری عدالت میں ہندوستان کی تاریخ کے ایک عجیب و غریب معاملہ کی سنوائی ہوئی۔ یہ معاملہ آرمی چیف کی تاریخ پیدائش کا ہے۔

ایک سینئر وزیر نے نجی طور پر بتایا کہ یہ معاملہ سنگین سیاسی نتیجہ لا سکتا ہے۔ کچھ وزراء نے غیر آئینی اتھارٹیز والے کاکس کے آگے خود کو بے بس بتایا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں جتنی بھی سازش اور گھوٹالے دیکھنے کو ملے ہیں، ان سب میں اسی غیر آئینی اتھارٹیز والے کاکس کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ سرکار نے شروع میں دھمکی دے کر کام نکالنے کی سوچی۔ جب ایسا نہیں ہوا، تب لالچ دکھایا۔ کچھ نمائندوں کو بھیج کر جنرل کو یہ پیغام دلوایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں دیگر سہولیات دی جائیں گی۔جب اس سے بھی سرکار جنرل کو نہیں خرید پائی، تب کچھ ثالثین کے سہارے سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی، لیکن بیچ بیچ میں میڈیا نے اس معاملے میں کچھ ایسے راز افشا کیے، جن سے سرکار کی مشکلیں بڑھ گئیں۔

 

ایک طرف ہندوستانی حکومت اور دوسری طرف ایک ایماندار آرمی چیف، جسے ایک سازش کے تحت ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ 3 فروری کو جب سماعت شروع ہوئی تو تھوڑی ہی دیر میں ججوں کے سوالوں سے سرکار کی ایسی کرکری ہوئی کہ سرکاری وکیل کو عدالت سے وقت مانگنا پڑا۔ آرمی چیف وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے معاملے میں سرکار کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اس معاملے میں چوتھی دنیا نے سب سے پہلے سرکار کی کرتوتوں کے ثبوت پیش کیے تھے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے چوتھی دنیا نے اس کے الگ الگ پہلوؤں کو آپ کے سامنے رکھا۔ چوتھی دنیا اس معاملہ سے جڑی سازش، گھوٹالے، بدعنوانی، جانشینوں کے انتخاب اور اسلحوں کی خریدو فروخت کا پردہ فاش کر چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے جو سوال اٹھائے، ان کا خلاصہ چوتھی دنیا میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔
سماعت کے دوران ایسے کئی سوال اٹھے، جن کا جواب سرکار ایمانداری سے نہیں دے سکتی۔ سپریم کورٹ نے سرکار کی اس کارروائی پر ہی سوال اٹھا دیا، جس کے ذریعے وزارتِ دفاع نے یہ طے کیا تھا کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکار اس معاملے میں نیچرل جسٹس اور قانون کے اصولوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہہ دیا کہ سرکار نے جنرل وی کے سنگھ کے معاملے میں جس طریقے سے ان کی قانونی شکایت کو خارج کیا، وہ بدنیتی کے جذبے سے متاثر لگتا ہے۔ وزیر دفاع اے کے انٹونی نے گزشتہ 30 دسمبر کو ایک آرڈر جاری کیا تھا، جس میں جنرل سنگھ کی اُس قانونی شکایت کو خارج کر دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوج کے ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 نہیں، بلکہ 10 مئی، 1951 ہے۔ جسٹس آر ایم لوڑھا اور جسٹس ایچ ایل گوکھلے کی بنچ نے سرکار سے کئی سوال پوچھے۔ عدالت کا ماننا تھا کہ وزارتِ دفاع کا 21 جولائی، 2011 کا وہ آرڈر اٹارنی جنرل کی رائے پر مبنی تھا، جس میں تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 مانی گئی تھی۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا سرکار 30 دسمبر کا اپنا آرڈر واپس لینا چاہے گی۔ اٹارنی جنرل جی ای واہن وَتی نے کہا کہ وہ اِس مدعے پر سرکار سے ہدایات حاصل کریں گے۔ سرکار کے فیصلہ لینے کے عمل پر سوال کھڑا کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جتنی تشویش فیصلہ کو لے کر نہیں ہے، اتنی فیصلہ لینے کے عمل کو لے کر ہے، جو کہ بدنیتی کے جذبے سے متاثر ہے، کیوں کہ 21 جولائی کا آرڈر اٹارنی جنرل کی رائے پر غور کرنے کے بعد دیا گیا اور جب 30 دسمبر کو آرمی چیف کی طرف سے دی گئی قانونی شکایت پر فیصلہ کیا گیا، تب بھی اٹارنی جنرل کی رائے پر صلاح و مشورہ کیا گیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ سرکار نے دونوں بار اٹارنی جنرل کی رائے کیوں لی۔ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو حکومتِ ہند نے کہا کہ عدالت بغیر اس کی بات سنے کوئی فیصلہ نہ کرے۔ حکومت کے پاس جنرل وی کے سنگھ کے خلاف ثبوت ہی ثبوت ہیں، لیکن یہ ثبوت ایسے ہیں جنہیں حکومت نے خود ہی بنایا ہے، ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ حکومت کے ساتھ کپل سبل، چدمبرم، سلمان خورشید اور ابھشیک منو سنگھوی جیسے لوگ ہیں، جو سپریم کورٹ کے بڑے وکیل ہیں اور جن کی رائے سے ہندوستانی حکومت چل رہی ہے۔ اس کے بعد واہن وتی ہیں، جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے کے فن میں ماہر ہیں۔ یہ ہم اس لیے کہہ رہے ہیں، کیوں کہ وزارتِ قانون کے ذریعے دی گئی اپنی ہی رائے کو وزارتِ قانون نے کوئی قانونی بنیاد بتائے بغیر بدل دیا۔ اس کے علاوہ حکومت کے ساتھ صحافیوں کی ایک بڑی فوج ہے، جو اپنے پیشہ کی عزت کا خیال رکھے بغیر، حکومت کے حق میں جھوٹی کہانیاں روز شائع کر رہی ہے اور ٹیلی ویژن میں کچھ ایسے بڑے دلال قسم کے ایڈیٹر ہیں، جو راجیہ سبھا میں صدر کے ذریعے نامزد کیے جانے کی امید میں حکومت کے ساتھ اس جھوٹ میں بے شرمی سے کھڑے ہیں۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ حکومت کی حمایت کریں، لیکن ہمارا ضمیر ہمیں کہتا ہے کہ ہم سچ کا ساتھ دیں، اور سچ تو پوری طرح تبھی ثابت ہوگا جب سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گا۔ لیکن ہمارے پاس سرکار کے ذریعے چھپائے گئے حقائق سامنے ہیں، جنہیں ہم ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کے سامنے جیتے جاگتے ثبوت کی طرح پوری ذمہ داری سے رکھ رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، وزارتِ دفاع 1996 میں بھی ایسا ہی ایک کمال کر چکی ہے۔ اس نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ اُس وقت بھی بتایا تھا۔ یہ واقعہ سپریم کورٹ اور سپریم کورٹ کے سپریم کورٹ یعنی آپ، یعنی ہندوستانی عوام کے لیے نہ صرف آنکھ کھولنے والا ہے، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کس طرح کا غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہوتا ہے۔
ایک کرنل رمیش چندر جوشی ہیں۔ انہیں ملٹری سکریٹری یعنی ایم ایس برانچ سے ریٹائرمنٹ کے لیے ایک آرڈر ملا۔ یہ آرڈر اس بنیاد پر جاری کیا گیا تھا کہ ان کی تاریخ پیدائش 22 ستمبر 1944 درج ہے، حالانکہ ایڈجوٹنٹ برانچ میں واضح طور پر ان کی تاریخ پیدائش 25 نومبر، 1945 درج تھی۔ کرنل جوشی نے اس کے بارے میں ایم ایس برانچ کو خط لکھ کر اس سے رابطہ کیا، لیکن ان کے خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ہدایت کے مطابق کرنل جوشی کو 30 ستمبر 1996 کو ریٹائر ہونا تھا۔ جب اس افسر کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا، تب اس نے آرمی چیف سے براہِ راست رابطہ کیا۔ اس کے بعد جلدی ہی، ان کے پاس ایک پیغام آیا۔ ہیڈ کوارٹر سے آئے اس پیغام میں پہلے بھیجے گئے خط کی ہدایت کو رد کرنے کی بات تھی۔ ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ افسر کی تاریخ پیدائش اب 25 نومبر 1945 مان لی گئی ہے اور وہ اگلی ہدایت تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ اسی طرح کا معاملہ جنرل سنگھ کا بھی ہے۔ ان کے کیس میں یو پی ایس سی فارم میں تاریخ پیدائش غلط بھری گئی تھی، جسے بعد میں یو پی ایس سی کے ذریعے اور پھر نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے ذریعے درست کر لیا گیا تھا۔ کرنل جوشی اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ جب ان کے کیس میں سدھار ہو گیا، تب جنرل سنگھ کے کیس میں کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ وزارتِ دفاع نے فوج کی اے جی برانچ کو یہ حکم دیا ہے کہ فوج کی ہر دستاویز میں جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 کر دی جائے۔ ساتھ ہی خط میں حکم کی تعمیل کی رپورٹ وزارت کو بھیجنے کو کہا گیا ہے۔ آرمی چیف کے دعوے کو ٹھکراتے ہوئے، وزارتِ دفاع نے 21 جولائی کے اپنے پہلے آرڈر میں اے جی برانچ سے کہا تھا کہ وہ جنرل سنگھ کا سال پیدائش 1950 درج کرے۔ اس آرڈر سے تنازع نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ ویسے چیف آف دی آرمی اسٹاف، جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے تنازع میں ہر روز ایک نیا موڑ آ جاتا ہے۔ سرکار کی ضد ہے کہ وہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 منوا کر ہی چھوڑے گی۔ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے، لیکن سرکار ہر روز کچھ نہ کچھ نیا ضرور کر دیتی ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا سرکار کو سپریم کورٹ کی فہم و فراست پر بھروسہ نہیں ہے۔ اگر بھروسہ ہے تو سپریم کورٹ میں سماعت سے پہلے وزارتِ دفاع نے یہ رخ کیوں اپنایا۔ اس آرڈر میں فوج کی ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ سے یہ کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کو درست کرکے اس میں آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کا سالِ پیدائش 1950 کیا جائے، جب کہ جنرل وی کے سنگھ نے اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 ہے۔  ویسے یہ تنازع بالکل معمولی سا ہے۔ کسی بھی شخص کی تاریخ پیدائش کو طے کرنے کے لیے ہائی اسکول کا سرٹیفکٹ کافی ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی آدمی نے کسی فارم میں کیا بھرا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرکار کا دعویٰ ہے کہ فوج کے دو ڈپارٹمنٹ میں جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش الگ الگ ہے۔ سرکار کہتی ہے کہ ملٹری سکریٹری برانچ یعنی ایم ایس برانچ میں درج تاریخ ہی صحیح ہے۔ ایم ایس برانچ نے جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کو 10 مئی، 1950 مانا ہے، لیکن آرمی کی آفیشیل ریکارڈ کیپر یعنی  ایڈجوٹنٹ جنرل (اے جی) برانچ میں جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہی درج ہے۔ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ وزارتِ دفاع نے ایم ایس برانچ کے ذریعے دی گئی جانکاری کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا، جب کہ تاریخ پیدائش کو متعین کرنے کا اختیار اس برانچ کے پاس نہیں ہے۔ سرکار کی طرف سے نہ صرف سرکاری فرمان جاری کیے جا رہے ہیں، بلکہ میڈیا کے ذریعے بھرم بھی پھیلا یا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے یہ بھی خبر آئی تھی کہ جنرل وی کے سنگھ اور سرکار میں سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ سرکار نے جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 مان لی ہے، اور جنرل وی کے سنگھ بھی اس سال ریٹائر ہونے کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔ یہ خبر جھوٹی تھی، جسے سرکار کی طرف سے میڈیا میں لیک کیا گیا۔ ملک ویسے ہی برے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں سرکار کو کئی سوالوں کے جواب دینے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار سرکار اور فوج سپریم کورٹ میں آمنے سامنے ہیں۔ اس تنازع کو سنجیدگی کے ساتھ سلجھانے کی ضرورت ہے، لیکن سرکار اپنی ضدپر اڑی ہوئی ہے۔
ایسی بھی پھسپھساہٹ ہے کہ سیاست، سیاسی چندے، آرمس لابی، بزنس مافیا اور بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس پورے معاملے میں شامل ہیں۔ کیا کوئی اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے آگے آئے گا، تاکہ ہماری فوج اپنی خدمات کو بہتر ڈھنگ سے انجام دے سکے۔ جنرل وی کے سنگھ کے معاملے میں تو حد ہی ہو گئی۔ سرکار نے سارے ہتھکنڈے اپنا لیے۔ خفیہ طریقے سے میڈیا کے ذریعے بھی جنرل سنگھ کو کورٹ جانے سے روکنے اور استعفیٰ دلوانے کے لیے مہم چلائی گئی۔ اس بات کا بھی خوف دکھایا گیا کہ سپریم کورٹ جنرل سنگھ کی عرضی پر سوال اٹھائے گا اور اسے آرمڈ فورس ٹریبونل میں لے جانے کے لیے جنرل سنگھ سے کہے گا۔ دراصل، کچھ اسباب کی بناپر آرمڈ فورس ٹریبونل کے فیور میں ماحول بنانے کی کوشش کی گئی۔ ظاہر ہے، جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش کا مسئلہ ذاتی نہیں رہ گیا۔ کئی ایسی سلسلہ وار چیزیں تھیں، جن کی وجہ سے یہ مسئلہ  یہاں تک پہنچ گیا۔ اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ وہ کون سی اندرونی اور بیرونی باتیں تھیں، جن سے یہ مسئلہ یہاں تک پہنچا۔ ایسے کون سے باہری اثرات یا دباؤ تھے، ان سب کی جانچ ہونی چاہیے۔ انڈین آرمی کو نقصان پہنچانے والی ایسی کون سی طاقتیں ہیں، جنہوں نے ایک ذاتی مسئلہ کو اتنا بڑا بنا دیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ ان سب کی بھی جانچ کی جانی چاہیے۔ زیادہ تر فوجی اہل کاروں کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں تنازع کے لیے جگہ ہی نہیں ہے۔ ملٹری سکریٹری برانچ اس مسئلہ کو بہت آسانی سے حل کرسکتی تھی۔ 36 سالوں تک لگاتار جنرل سنگھ کی سالانہ خفیہ رپورٹ میں ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہی درج ہوتی رہی ہے۔ ملٹری سکریٹری برانچ اسے تسلیم کرکے اس میں سدھار کر سکتی تھی۔ آرمی لسٹ میں اس قسم کے کئی معاملے ہیں، جہاں تاریخ پیدائش یا آئی سی نمبر یا نام غلط درج ہو جاتا ہے۔ کئی افسر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ پر رہتے ہوئے ریٹائر ہو گئے، صرف آرمی لسٹ میں غلط آئی سی نمبر درج ہونے کی وجہ سے۔ اگر ملٹری سکریٹریزواقعی ’مین آف آنر‘ ہیں، تو انہیں اپنی غلطیاں قبول کرنی چاہئیں اور ایم ایس برانچ کے طریق کار میں اصلاح کرنی چاہیے۔ آرمی کو جاننے والوں کے درمیان ایسی بحث بھی ہو رہی ہے کہ یہ جینٹل مین کم از کم دو آرمی چیف کے ساتھ مل کر اس سازش میں شامل ہو چکے تھے۔ انہوں نے جان بوجھ کر جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش کو ٹھیک نہیں کیا اور آرمی لسٹ کو ہتھیار بناکر جنرل سنگھ کو بلیک میل کیا۔ فوج کے تقریباً 90 فیصد اہل کار آرمی لسٹ کو دیکھے بغیر ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ فوج میں ایسا کہا جاتا ہے کہ آرمی لسٹ کو صرف دھوکہ باز یا اپنے کریئر کو لے کر الرٹ لوگ ہی دیکھ پاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنرل سنگھ نے 1950 کو اپنا سالِ پیدائش کن حالات میں قبول کیا۔
سرکار کہتی ہے کہ کور کمانڈر بناتے وقت جب ایم ایس برانچ نے ان سے کہا تھا، تب جنرل وی کے سنگھ نے یہی تاریخ پیدائش مان لی تھی۔ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 مان چکے ہیں۔ یہی دلیل سرکار اور جنرل وی کے سنگھ کے مخالفین کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ صرف قبول کر لینے سے کسی کی تاریخ پیدائش وہ نہیں ہو جاتی اور نہ ہی اس سے کسی کا ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ بن جاتا ہے۔ یہاں تو آرمی چیف کا سوال ہے۔ کوئی بھی قبولیت بغیر مطالبہ کے نہیں ہو سکتی اور جنرل سنگھ کے کیس میں تو بلیک میل کا بھی امکان ہے۔ کوئی بھی مہذب اہل کار اس قسم کی زبان کا استعمال نہیں کرے گا، جس طرح کی زبان کا استعمال متعلقہ ملٹری سکریٹری نے اس آدمی کے ساتھ کیا، جو اگلا آرمی چیف بننے جا رہا تھا۔ 21 جون 2008 کو لکھے گئے ایک خط میں ملٹری سکریٹری جنرل سنگھ سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی آفیشیل تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 برقرار رکھنے کے لیے مجبور ہیں اور یہی ریکارڈ اے جی برانچ میں بھی برقرار رکھنے کے لیے بول دیا گیا ہے، جب کہ کسی افسر کی ذاتی تفصیلات سے متعلق معاملے میں ایم ایس برانچ کے پاس اے جی برانچ کو حکم صادر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ 21 جنوری 2008 کو لکھے ایک دوسرے خط میں ملٹری سکریٹری نے لکھا کہ ہم نے آپ کی آفیشیل تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 برقرار رکھی ہے اور آپ کے سبھی ریکارڈ میں یہی تاریخ برقرار رکھی جائے گی۔ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اسے قبول کر رہے ہیں۔ اس کے بعد باری آتی ہے دھمکی کی۔ 24 جنوری 2008 کو لکھے ایک خط میں ملٹری سکریٹری برانچ نے کہا کہ 21 جنوری 2008 کو لکھے گئے خط کے پیرا 5 میں درج تاریخ پیدائش کو قبول کرنے سے متعلق، اگر آپ اپنا جواب 25 جنوری 2008 کے دس بجے تک نہیں دیتے ہیں، تو پھر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ کوئی بھی عزت دار آدمی اس قسم کی زبان اور سیدھے سیدھے بلیک میل کو قبول نہیں کر سکتا۔ ان سب سے نمٹنے کا جو صحیح اور باعزت راستہ ہو سکتا تھا، وہی راستہ جنرل سنگھ نے اپنایا۔ انہوں نے پہلے چار سابق چیف جسٹس کی رائے لی۔ ایک قصوروار آدمی کیا ایسا کرتا؟ نہ ہی کوئی قصوروار آدمی سپریم کورٹ میں جائے گا۔ صرف ایک باعزت اور ایماندار آدمی ہی اپنے کریئر کے آخری وقت میں ایسا کرے گا۔ ایسے میں جو لوگ جنرل سنگھ کے اس قدم کو دس مہینے مزید کی مدتِ کار پانے کے لیے اٹھایا گیا قدم بتا رہے ہیں، وہ دراصل اپنی اخلاقی سوچ اور کردار کو کھو چکے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے اپنے آرمی چیف کی قانونی شکایت پر فیصلہ لینے میں چار ماہ سے زیادہ کا وقت لگایا، جب کہ یہ متعینہ مدت سے زیادہ تھا۔ اس درمیان، وزارتِ دفاع کی طرف سے کہا گیا کہ وہ کسی متعینہ مدت کی پابند نہیں ہے۔ اتنا وقت اس لیے لیا گیا، تاکہ وقت گزرتا رہے اور اس درمیان جانشینی کے منصوبہ (Succession Plan) کے تحت نئے آرمی چیف کا اعلان کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اگر وزیر دفاع ایک آرمی چیف کی قانونی شکایت کے نپٹارے میں چار ماہ کا وقت لگا سکتے ہیں، تو انڈین آرمی کے ایک جوان کی شکایت کا کیا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک پروپیگنڈہ کیا گیا کہ جانشینی کے منصوبہ کو خارج کرنے کے لیے جنرل اپنا استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ کچھ اہل کاروں سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جنرل کو استعفیٰ بھی نہیں دینے دیا جائے گا، کیوں کہ وہ صدر کے رحم و کرم سے کام کر تے ہیں۔
فوج کا سپاہی پیسے کے لیے نہیں جیتا مرتا، وہ اپنی آن بان اور شان کے لیے جیتا ہے اور مرتا ہے، مارتا بھی ہے۔ اگر فوج کے جوانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ سرکار  یہ سوچتی ہے کہ فوج پیسے کے لیے کام کرتی ہے، تو ہماری فوج پاکستان کی فوج ہو جائے گی، ہماری جمہوریت پاکستان کی جمہوریت ہو جائے گی۔ ہم فوج کے بارے میں ایسی سوچ پیدا کرکے ملک کی جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک کے کمرے میں بیٹھے لوگ فوج کی جانبازی سے واقف نہیں ہیں۔ فوج کا ہر سپاہی ملک کی خاطر جان دینے کے لیے ہمیشہ بے قرار رہتا ہے۔
آرمی چیف کی تاریخ پیدائش کو لے کر جو تنازع ہے، وہ دراصل عجیب ہے اور آرمی جیسے ادارہ کے ویلیو سسٹم میں ہو رہی کمی کا اشارہ بھی ہے۔ یہ اچانک رونما ہونے والا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اس واقعہ سے پہلے بھی لیفٹیننٹ جنرل رینک کا ایک افسر اپنے پروموشن کے سلسلے میں سول کورٹ جا چکا ہے۔ صرف آرمی چیف جیسا ہی ایک ادارہ تھا، جسے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیوں کہ یہ فوج کا آخری افسر ہے۔ ایسا معلوم پڑتا ہے کہ پورے نظام نے ایک غیر اخلاقی رویے اور سازش کو اپنا لیا ہے، جس سے اس ادارہ کی جانشینی کی سیریز اور مدت میں پھیر بدل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جنرل وی کے سنگھ کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ بھی اسی کا نتیجہ معلوم پڑتا ہے، ورنہ یہ معاملہ اتنا آسان ہے کہ اس کے حل کے لیے عدلیہ کی نہیں کامن سینس کی ضرورت تھی۔ یہ معاملہ فوج کی ملٹری سکریٹری برانچ اور ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ کے ریکارڈ میں فرق ہونے کی وجہ سے سامنے آیا۔ ایڈجوٹنٹ جنرل برانچ ہی ریکارڈ کیپر ہوتی ہے۔
اس تنازع میں میڈیا نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ شروع میں جتنے لوگوں نے اس تنازع پر رپورٹنگ کی، ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے سرکار کی بات کو ہی سامنے رکھا۔ دریں اثنا، میڈیا کے کچھ ذمہ دار اور حب الوطن حصے نے سچ کو سامنے رکھا۔ اس سے سچائی کو اور تقویت ملی۔ سرکار کو محسوس ہوا کہ یہ معاملہ اصولی اور قانونی طور پر اس کے خلاف جائے گا۔ ایک سینئر وزیر نے نجی طور پر بتایا کہ یہ معاملہ سنگین سیاسی نتیجہ لا سکتا ہے۔ کچھ وزراء نے خود کو غیر آئینی اتھارٹیز والے کاکس کے آگے خود کو بے بس بتایا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں جتنی بھی سازش اور گھوٹالے دیکھنے کو ملے ہیں، ان سب میں اسی غیر آئینی اتھارٹیز والے کاکس کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ سرکار نے شروع میں دھمکی دے کر کام نکالنے کی سوچی۔ جب ایسا نہیں ہوا، تب لالچ دکھایا۔ جب اس سے بھی سرکار جنرل کو نہیں خرید پائی، تب کچھ ثالثین کے ذریعے سمجھوتہ کروانے کی کوشش کی۔ لیکن بیچ بیچ میں میڈیا نے اس معاملے میں کچھ ایسے راز افشا کیے، جن سے سرکار کی مشکلیں بڑھ گئیں۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *