آرٹی ای: مسلمانوں کے لئے بے حد نقصان دہ

وصی احمد نعمانی
کسی بھی جمہوری ملک کی ترقی اور خوش حالی کا انحصار اس کے شہریوں کے تعلیمی معیار پر ہوتا ہے، اور اسی پیمانہ پر وہ ملک ترقی یافتہ یا کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے تمام ممالک نے تعلیم کو ہی ترقی اور خوش حالی کے لیے ضامن مانا ہے۔ اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے تعلیم کو ہی انسانی فروغ کے لیے اہم مانا ہے اور اپنے تمام منشور یا تعلیم سے متعلق ہر اعلامیہ میں حصولِ علم اور اس کے مرتبے کو بنیادی انسانی حقوق کا پیمانہ مانا ہے۔

علم ریاضی یا علم نجوم نے ہندوستان کی ’’ماٹی‘‘ کو زبردست عزت و شہرت اور مرتبہ عطا کیا ہے۔ مگر حصولِ علم کے جو مدارج اور مراحل ہندوستان کی مٹی نے اپنے اندر سمو اور سجو کے رکھے ہیں، اس میں مکتب، مدرسہ، پاٹھ شالہ، گرو کل، سنسکرت وِدیالیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے، او ریہ خصوصیت اس ملک کی ’’مٹی‘‘ میں خمیر کی طرح رواں دواں رہی ہے۔ ندی کے کنارے، پیپل کے پیڑ کی چھاؤں میں، کٹیا اور مڑھی یا جھونپڑی میں، مسجدوں، مندروں کے صحن میں تعلیم دینے، حاصل کرنے کا رواج اور روایت رہی ہے، جو اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہر جگہ موجود ہے۔

ہندوستان بھی بظاہر علم کو صف اوّل میں رکھتا ہے، کیوں کہ یہ علم و آگہی کی سرزمین کی حیثیت سے روزِ اول سے جانا جاتا رہا ہے، بلکہ علم کے میدان میں تو کچھ شعبوں میں اسے بین الاقوامی پیمانہ پر اول مانا گیا ہے۔ مثال کے طور پر علم ریاضی یا علم نجوم نے ہندوستان کی ’’ماٹی‘‘ کو زبردست عزت و شہرت اور مرتبہ عطا کیا ہے۔ مگر حصولِ علم کے جو مدارج اور مراحل ہندوستان کی مٹی نے اپنے اندر سمو اور سجو کے رکھے ہیں، اس میں مکتب، مدرسہ، پاٹھ شالہ، گرو کل، سنسکرت وِدیالیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے، او ریہ خصوصیت اس ملک کی ’’مٹی‘‘ میں خمیر کی طرح رواں دواں رہی ہے۔ ندی کے کنارے، پیپل کے پیڑ کی چھاؤں میں، کٹیا اور مڑھی یا جھونپڑی میں، مسجدوں، مندروں کے صحن میں تعلیم دینے، حاصل کرنے کا رواج اور روایت رہی ہے، جو اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہر جگہ موجود ہے۔
اس جذبہ کو کسی نہ کسی خاص طرز کار کی وجہ سے دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ صرف مجروح کیا جا رہا ہے، بلکہ اگر ہندوستان اپنے بالغ ذہن و شعور کو بروئے کار لا کر اس جانب توجہ نہیں دیتا ہے تو ملک کا دیرینہ تعلیمی شیرازہ بکھر جائے گا۔ مثال کے طور پر حکومت ہند نے ’’مفت اور لازمی حصولِ تعلیم بچوں کا قانونی حق‘‘ یا The Right of Children to Free and Compulsory Education Act – 2009 کے ذریعے جو خوش کن قدم اٹھایا ہے، وہ نہایت نقصاندہ ہے، کیوں کہ حکومت کے اِن اقدام کی وجہ سے پورا تعلیمی نظام درہم برہم ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے ’رہنما اصول‘، ’بنیادی حقوق‘ جو ملک کے آئین میں یہاں کے شہریوں کو دستیاب ہیں، اس کے تحت اس ایکٹ کو پاس کرکے مقاصد تعلیم کے حصول کا خواب دیکھا ہے، مگر اس کا انجام کار نہایت دل دہلادینے والا ہے، اس لیے ہندوستان کے مختلف مذہبی، سیاسی، سماجی اور علمی رہنماؤں یا تنظیموں نے کافی مضبوط تحریک کے ذریعے اس ایکٹ میں ترمیم کے لیے کوششیں کی ہیں۔ حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب، نائب صدر مسلم پرسنل لا بورڈ اُن میں سرفہرست ہیں۔ جیسا کہ خبر گرم ہے کہ حکومت نے ترمیم کا وعدہ کیا ہے، غالباً کابینہ نے ان ترامیم کو پاس بھی کر دیا ہے اور اب یہ ایکٹ ترمیم کے ساتھ پارلیمنٹ کے نئے سیشن میں پیش کر دیا جائے، اور اگر ترامیم منظور کر لی گئیں تو یہ ایکٹ کا حصہ بن کر قانون کی شکل لے لیں گی۔پر قانون کے طالب علم کی حیثیت سے اپنا ذاتی اور مضبوط خیال یہ ہے کہ یہ ترامیم نہ تو اقلیتوں اور نہ اکثریتوں کے تعلیمی اداروں کو فائدہ دیں گی اور نہ ملک کا بھلا ہوگا ہمارے دیرینہ ہندوستانی تعلیمی نظام کو پوری طرح درہم برہم کردیں گی۔ ہم اس ایکٹ کی چند اہم دفعات، مثال کے طورپر 30,29,22,21,19,18,16,10,6,5,3,2 رولز16,15,11وغیرہ پر تبصرہ کریں گے۔ا س کے ساتھ منظوری کی شرائط جو منسلکہ درخواست میں مذکور ہیں، خاص طورپر شرائط نمبر13,11,9,8,7,6وغیرہ مگران دفعات، ضابطے اور شرائط پر غور کرنے سے پہلے ہمیں دستور ہند کے رہنمااصول، بنیادی حقوق بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت تعلیم کی تعریف وغیرہ کو ذہن میں رکھنا ہوگا تب ہم آسانی سے اس مہلک ایکٹ کی اہم دفعات کو سمجھ سکیں گے۔ جس کے نتیجے یا ہدایت کی وجہ سے اس ایکٹ کو پاس کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہم مندرجہ ذیل پیرا گرافز میں دستور ہند کے رہنما اصول آرٹیکل 645دستور ہند کے بنیادی حقوق کے آرٹیکل 30,29,21Aکے ساتھ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی اہم دستاویزات جیسے انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ1948 بین الاقوامی منشور برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق 1966کی دفعات 26اور13کو ترتیب وار پڑھیں گے۔ ان دفعات میں تعلیم کی تعریف ضرورت اوراس کی ملکی اور بین الاقوامی توجیہہ پیش کی گئی ہے ان تمام باتوں کو مرکزی حکومت نے ضرور اپنے ذہن میں رکھ کر ’’مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا قانونی حق ایکٹ 2009کی تخلیق کی ہوگی۔ آئیے ان تمام اہم دفعات کو ٹھیک سے یکے بعد دیگرے پڑھتے ہیں اوران سب کا تجزیہ کرتے ہیں۔
(a) آرٹیکل 45دستور ہند اسے ’’رہنما اصول‘‘ بھی کہا جاتا ہے مملکت اس آئین کی تاریخ نفاذ سے دس سال کی مدت کے اندر سب بچوں کو چودہ سال کی عمر پوری کرنے تک مفت اور لازمی تعلیم دینے کی توضیع کرے کی کوشش کرے گی۔(b)آرٹیکل21A ’’تعلیم کا حق‘‘ مملکت، چھ سال سے چودہ سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ایسے طریقے جو مملکت قانون کے ذریعے، طے کرے، مفت اور لازمی تعلیم دینے کا انتظام کرے گی۔(c)آرٹیکل29 ’’دستور ہند اقلیتوں کے مفاد کا تحفظ‘‘ (1)ہندوستان کے علاقے میں یااس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی الگ جداگانہ زبان، رسم الخط، یا ثقافت ہو، اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا۔
2کسی شہری کو ایسے تعلیمی ادارہ میں جس کو مملکت چلاتی ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو داخلہ دینے سے محض، مذہب، نسل، ذات، زبان یاان میں سے کسی کی بنا پر منع نہیں کیاجائے گا۔
(d) آرٹیکل26 ’’مذہبی امور کے انتظامات کی آزادی‘‘ اس شرط کے ساتھ کہ امن عامہ، اخلاق عامہ اورصحت عامہ متاثر نہ ہوں ہر ایک مذہبی فرقے یااس کے کسی طبقے کا حق ہوگا۔
(الف)مذہبی اور خیراتی اغراض کے لیے ادارے قائم کرنے اورچلانے کا (ب) اپنے مذہبی امور کے انتظام خود کرنے کا (ج)منقولہ اور غیرمنقولہ جائداد کے مالک ہونے اوراس کو حاصل کرنے کا اور  (د)ایسی جائداد کا قانون کے بموجب انتظام کرنے کا
آرٹیکل27کسی خاص مذہب کے فروغ کے لیے ٹیکس اداکرنے کے بارے میں آزادی۔ کسی شخص کو ایسے ٹیکسوں کے اداکرنے پر مجبور نہیں کیاجائے گا جس کی آمدنی کسی خاص مذہب یا مذہبی فرقہ کی ترقی یااس کو قائم رکھنے مصارف ادا کرنے کے لیے صراحتاً صرف کی جائے۔
آرٹیکل30دستور ہند اقلیتوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے اوران کا انتظام کرنے کا حق (۱) تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بنا پر ہوں یا زبان کی، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔
(الف) فقرہ (1)میں محولہ کسی اقلیت کے قائم کردہ اور زیر انتظام کسی تعلیمی ادارے کی کسی جائیداد کے لازمی حصول کی نسبت کوئی قانون بناتے وقت مملکت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ایسی جائیداد کے حصول کے لیے ایسے قانون کی رو سے مقررہ یااس کے تحت تعین شدہ رقم ایسی ہو جس سے اس ضمن کے تحت ایسا حق، جس کی ضمانت دی گئی ہے، محدود یا ساقط نہ ہوجائے۔
(2)    مملکت تعلیمی اداروں کو امداد عطا کرنے میںکسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس بنا پر امتیاز نہ برتے گی کہ وہ کسی اقلیت کے زیرانتظام ہے خواہ وہ اقلیت مذہب کی بنیاد پر ہو یازبان کی مندرجہ بالا تمام دفعات ہمارے ہندوستان قوانین میں جو تعلیم کی ضرورت اوراس کی اہمیت کا محاصرہ کرتے ہوئے حکومت کی ذمہ داری طے کرتی ہیں اوراقلیتوں کو چاہے کہ وہ مذہبی ہوں یا لسانی ان کے اختیارات کے تحفظ کی حفاظت کرتی ہیں۔
آئیے ہم چند بین الاقوامی تعلیمی قوانین کو بھی نگاہ میں رکھیں جس کے خدوخال نے بھی مندرجہ بالا ’’مفت اور لازمی حصول تعلیم ایکٹ‘‘ کی تخلیق میں حکومت کے ذہنوں کو متاثر کیاہوگا۔ یا کم سے کم یہ قوانین بھی ان کے ذہنوں میں محفوظ رہے ہوں گے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی اہم دستاویز جیسے ’’انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ 1948کی دفعہ 26میں تعلیم کے متعلق اس طرح کہا گیا ہے (1)ہر شخص کو تعلیم کے حصول کا حق حاصل ہے۔ تعلیم مفت ہوگی۔ کم ازکم ابتدائی اور بنیادی سطح پر۔ ابتدائی تعلیم لازمی ہوگی۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم عمومی طورپر میسر کی جائے گی اور اعلیٰ تعلیم تک اہلیت کے مطابق یکساں طورپر ہر شخص کی رسائی ہوگی۔
(2)    تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی مکمل نشوونما اورانسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی پختگی کا حصہ ہوگا۔ تعلیم تمام اقوام، نسلی اورمذہبی گروہوں میں مفاہمت، رواداری اور دوستی کو فروغ دے گی اور قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔
(3)    والدین کو اپنے بچوں کو دی جانے والی تعلیم کے انتخاب کا ترجیحی حق حاصل ہوگا۔
(1) اسی طرح بین الاقوامی منشور برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق(1966)کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 16دسمبر1966کو منظوری دیتے ہوئے مورخہ3جنوری 1976کو لاگو کرتے ہوئے دفعہ 13میں تعلیم سے متعلق کہا ہے کہ:
’’اس منشور کی فریقین مملکتیں ہر شخص کے تعلیم کے حق کو تسلیم کرتی ہیں۔ وہ اس بات  پر راضی ہے کہ تعلیم اس طرح کی ہونی چاہئے کہ اس سے انسانی شخصیت اور اس کے وقار کے احساس کا مکمل فروغ ہو اوراس سے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو مزید تقویت حاصل ہو۔ وہ اس بات پر بھی راضی ہیں کہ تعلیم اس قسم کی ہونی چاہئے کہ تمام لوگ موثر طورپر کسی آزاد معاشرے میں شرکت کرسکیں۔ دنیا کی تمام اقوام اور تمام نسلی یا مذہبی گروپوں کے مابین، سمجھ، صبروتحمل اور دوستی کا فروغ ہو اورامن قائم کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملے۔
(2) اس منشور کی فریقین مملکتیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ اس حق کے مکمل حصول کے لیے (الف) سب کے لیے ابتدائی تعلیم لازمی اور مفت ہوگی۔
(ب) اپنی مختلف مشکلوں میں ثانوی تعلیم جس میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ ثانوی تعلیم بھی شامل، تمام مناسب ذرائع سے اور خاص طورپر مفت تعلیم کے تدریجی آغاز کے ذریعہ سبھی کو میسر اور قابل رسائی ہوگی۔ (ج)  اعلیٰ تعلیم سبھی کو اس کی حیثیت کے مطابق تمام مناسب ذرائع سے اور خاص طورپر مفت تعلیم کے تدریجی آغاز کے ذریعہ مساوی طورپر قابل رسائی ہوگی۔ (د) بنیادی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جائے گی یااسے فروغ دیا جائے گا تاکہ جہاں تک ممکن ہو، اس کی رسائی ان لوگوں تک ہوسکے جنہوںنے ابتدائی تعلیم حاصل نہیں کی ہے یاس کی مکمل میعاد پوری نہیں کی ہے۔ (ہ)  سبھی سطحوں پر اسکول کے نظام کو فروغ دیاجائے گا ایک معقول فیلو شپ نظام قائم کیاجائے گااور تدریسی عملے کے لیے بیشتر سہولیات کو برابر فروغ دیاجائے گا۔
(3)اس منشور کی فریقین مملکتیں اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ وہ والدین اور جہاں ان کا اخلاق ہو وہاں قانونی ولیوں کو اپنے بچوں کے لیے اسکولوں کا، ان کے علاوہ جو سرکاری حکام نے قائم کیے ہوں،جو کم سے کم ایسے تعلیمی معیار پر پورے اتر تے ہوں، جو مملکت مقرر کرے یا منظور کرے، انتخاب کی آزادی کا احترام کرے گی اور اس بات کو یقین بنائے گی کہ ان کے بچوں کی مذہبی اور اخلاقی تعلیم ان کے اپنے عقیدوں کے مطابق ہو۔
(4)    اس دفعہ کے کسی بھی حصے کی ایسی تعبیر نہیں لی جائے گی جس سے افراد اور انجمنوں کی تعلیمی ادارے قائم کرنے اور متعلقہ ہدایات دینے کی آزادی میں خلل پڑے۔ البتہ ایسا کرتے وقت اس دفعہ کے پیرا۔
(1)میں دیے گئے اصولوں کی پابندی اوراس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہمیشہ لازم ہوگا کہ ایسے اداروں میں دی گئی تعلیم کم سے کم ان معیاروں کے مطابق ہو جو مملکت مقرر کرے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی مملکتوں نے تعلیم کو زندگی کے لیے فروغ انسانیت اوراس کے احترام و اکرام کے لیے لازم و ملزوم قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا قانونی حق ایکٹ 2009کس طرح ملکی اوربین الاقوامی قوانین کے جذبات کے منافی تشکیل دیا گیا ہے اس پر اہم تبصرہ آگلے مضمون میں انشاء اللہ کریںگے۔
ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 45، 21A، 29، 30 بین الاقوامی اعلامیہ کے پیش نظر لازمی اور مفت تعلیم یا ابتدائی تعلیم، 6 سال سے 14 سال کی عمر کے بچے بچیوں کے لیے لازم قرار دینے کے لیے موجودہ ایکٹ ’’مفت اور لازمی تعلیم بچوں کا حق 2009‘ نے مباحثہ کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ کافی وسیع القلبی کا اظہار کیا گیا ہے کہ مفت اور لازمی تعلیم دے کر ہندوستانی سماج کو کافی تعلیم یافتہ بنایا جائے گا۔ اس طرح یا اس ایکٹ کے پوری طرح اطلاق کے بعد ہندوستان سو فیصدی تعلیم یافتہ کہا جانے لگے گا۔ مگر ان تمام دفعات کو یکجا کرکے پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ کافی دفعات عملی طور پر ایک دوسرے سے بھی اور آئین ہند و بین الاقوامی اعلامیہ کی دفعات سے بھی متصادم ہیں۔ تعلیم کا جو مقصد ہندوستانی ماحول میں یا دنیا کے کسی مذہب اور دھرم کے اصول و نظریہ کے مطابق تعلیم دینے کا جو صحت مند معاشرہ تھا، یا اس وقت موجود ہے، وہ بالکل مجروح سا کر دیا گیا ہے۔ نہ تو مدارس و مکاتب، نہ پاٹھ شالہ اور نہ گروکل میں تعلیم دی جائے گی، بلکہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ مجرمانہ فعل ہوگا اور ایک لاکھ روپیہ تک ادارہ چلانے والوں کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر بغیر منظوری کے یہ ادارے چلائے جاتے ہیں، تو حکومت ایسے اداروں کو بند کرنے کا حکم جاری کرے گی۔ اگر اس کے بعد بھی ادارہ چلایا جاتا ہے تو ہر روز دس ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ حکومت اس ایکٹ کی دفعات 21 اور 22 میں ترمیم کی تجویز پیش کرکے بظاہر یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ اقلیتوں کے اداروں کو مستثنیٰ قرار دیتی ہے۔ اگر یہ وہی تجویز ہے، جو ترامیم میں پیش کی گئی ہے، تو اس سے بالکل صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو اقلیتی ادارے اور نہ پبلک کانونٹ، نہ پاٹھ شالہ اور نہ گروکل چلائے جاسکتے ہیں۔اس حقیقت کو سمجھنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہم اس مہلک ایکٹ کی چند اہم دفعات کو سمجھ لیں۔
مفت تعلیم کیا ہے، اسے سیکشن 8 میں بتایا گیا ہے کہ حکومتِ مجاز کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ہر بچہ کو الیمنٹری یا بنیادی (کلاس 6 سے 8 تک) تعلیم دے اور مفت دے، کسی طرح کا کچھ بھی چارج نہ کرے۔ حکومت مجاز کا فرض ہوگا کہ وہ لازمی طور پر ہر بچہ کو داخل اسکول کرے، حاضری پوری کرے، بنیادی تعلیم کی تکمیل کرائے، پڑوس میں اسکول مہیا کرائے، کمزور طبقہ یا ’ڈِس ایڈوانٹیج‘ طبقہ کے بچوں کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہ ہو، اس کی گارنٹی لے تاکہ وہ مفت اور لازمی تعلیم پوری کر سکیں۔ اسکول، اساتذہ، معیاری تعلیم، جو اس ایکٹ کے شیڈولڈ ایک میں مذکور ہیں، پوری کرائے، الیمنٹری تعلیم (حکومت کے ذریعہ) طے شدہ نصاب کے مطابق دیں اور ان اسکولوں میں تعلیم دینے والے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے سہولتیں مہیا کرائے، یعنی لازمی اور مفت تعلیم کا مطلب ہے کہ سیکشن 5.3(1) کے مطابق ہر ایک بچہ، جس کی عمر 6 سال سے 14 سال کے درمیان ہے، اس کا حق ہوگا کہ وہ مفت اور لازمی تعلیم اپنے پڑوس کے اسکول میں حاصل کرے۔ اسی سیکشن کے مطابق، ایسے بچوں سے کوئی فیس یا معاوضہ وصول نہیں کیا جاسکتا ہے، جو ان کی حصول تعلیم کے لیے مانع ہو۔ یہی مطلب ہے مفت اور لازمی تعلیم کا۔
اس ایکٹ کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے حکومت مجاز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے تین سال کے اندر بچوں کے پڑوس میں، جس کی نشاندہی کردی گئی ہو، کا قیام کر دیا جائے۔ اگر کوئی اسکول اس ایکٹ کے لاگو ہوتے وقت موجود نہیں تھا، ہر ایک والدین یا گارجین کا فرض ہوگا کہ وہ اپنے بچے یا وارڈ کا داخلہ پڑوس کے اسکول میں لازمی طور پر کرائے، جہاں وہ الیمنٹری تعلیم پوری کر سکے۔ اگر بچہ کمزور ہے اور اسے ابتدائی تیاری کی ضرورت ہے تو ایسی حالت میں ’’پری اسکول‘‘ کی تعلیم کے لیے حکومت مجاز ان بچوں کی تیاری کرانے کا انتظام کرے گی، جب تک کہ وہ بچہ 6 سال کی عمر تک نہیں پہنچ جاتا ہے۔ اس مفت اور لازمی تعلیم کا ایک اور جادو یہ ہے کہ کسی بھی بچہ کو درجہ 6 سے 8 تک کی تعلیم کے درمیان کبھی بھی فیل نہیں کیا جائے گا، چاہے بچہ جیسا بھی ’’نکھٹو‘‘ ہو، مگر اسے ہر سال ترقی دے کر اگلی کلاس میں جانے دینا ہے اور اس طرح آٹھویں کلاس مکمل کرنے تک اس بچہ کو نہ کبھی فیل کیا جائے گا، نہ اس کا نام اسکول سے کاٹا جائے گا۔ اس طرح کسی بھی بچہ کو الیمنٹری یعنی درجہ آٹھ پاس کرنے کے قبل کبھی بھی نہ تو امتحان میں بیٹھنا ہوگا اور نہ کسی بورڈ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہر ایک بچہ کو بنا کوئی امتحان پاس کیے، الیمنٹری امتحان پاس کرنے کا سرٹیفکٹ عنایت کر دیا جائے گا۔ یہ تو ہوا بچوں کی تعلیم اور امتحان و سرٹیفکٹ کا حال۔ اب ذرا ہم اس ایکٹ کے تحت اسکول اور اسکول چلانے والوں کے حالات کا تجزیہ کریں گے۔
اسکول کسے کہیں گے؟
اس ایکٹ کی دفعہ 18 اور 19 بے حد اہم ہیں، جو ایسے اسکولوں کے خدو خال، چلانے کے شرائط اور ان اسکولوں سے متعلق لوازمات کا تذکرہ کرتی ہیں، یعنی بغیر منظوری حاصل کیے کوئی اسکول اب قائم ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسکول صرف وہ ہوگا، جسے حکومت مجاز یا لوکل اتھارٹی تسلیم کرے گی، ورنہ وہ مجرمانہ فعل ہوگا۔ حکومت مجاز یا مقامی اتھارٹی کے ذریعے قائم شدہ یا زیرنگرانی اسکولوں کے علاوہ اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے بعد کوئی بھی اسکول بغیر منظوری یا سرٹیفکٹ حاصل کیے نہ تو قائم کیا جاسکتا ہے، نہ کنٹرول اور دیکھ ریکھ میں چلایا جاسکتا ہے، جب تک کہ حکومت مجاز یا لوکل اتھارٹی سے سرٹیفکٹ نہ حاصل کر لیا جائے۔ اور یہ منظوری تب ہی دی جائے گی جب ایکٹ کی دفعہ 19 میں مذکور شرائط کی تکمیل ہوتی ہو۔ مزید یہ کہ اگر کسی اسکول کو سرٹیفکٹ تو حاصل ہوگیا، لیکن کسی وجہ سے جو اس ایکٹ میں مذکور ہیں، ان کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور ضابطہ کی کارروائی کے بعد اس کی منظوری کی تنسیخ ہو گئی ہے۔ ایسی حالت میں اس اسکول کو بند کردینا ہوگا۔ اگر منظوری کی منسوخی کے بعد بھی اسکول کا چلایا جانا جاری رہتا ہے، تو ایسی حالت میں دفعہ 19 اور 18 کے تحت ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اس اسکول کے خلاف کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ مبلغ دس ہزار روپے یومیہ کا لگاتار جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
سیکشن 19 / اسکول کا طریقہ کار اور معیار
اس ایکٹ کی دفعہ 18 کے تحت نہ تو کوئی اسکول قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی چلایا جاسکتا ہے، جب تک کہ شیڈولڈ میں درج شرائط کی تکمیل نہ ہو جائے۔ اس دفعہ 19 کے تحت اگر کوئی اسکول اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے قبل سے چل رہا ہے، تو اسے شیڈولڈ کے تمام شرائط کی تکمیل کرنی ہوگی۔ اگر تین سال کے اندر بھی اسکول شرائط کے خلاف چلایا جا رہا ہے تو اس کی منظوری منسوخ کرکے ایک لاکھ روپیہ تک جرمانہ ہوگا، اور جاری رہنے کی شکل میں مبلغ دس ہزار روپے یومیہ کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ایسے اسکول کی نگرانی کیسے ہوگی، اس کے لیے ہر ایک اسکول کی ایک منیجنگ یا انتظامیہ کمیٹی ہوگی، سوائے ان اسکولوں کے جو حکومت مجاز یا مقامی اتھارٹی سے کسی طرح کی کوئی امداد حاصل نہیں کرتے ہیں۔ یہ منیجنگ کمیٹی ہی اصل میں اسکول کی دیکھ ریکھ کرے گی اور چلائے گی، بجٹ بنائے گی، پلان اور منصوبہ تیار کرے گی اور سرکار کے ذریعے طے شدہ تعلیمی نصاب کو لاگو کرے گی۔ اس کمیٹی کے ممبران مقامی اتھارٹی کے منتخب نمائندے ہوں گے، والدین یا بچوں کے گارجین ہوں گے، اساتذہ بھی اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔ یہ ممبران طلباء کی تعداد اور نوعیت کے تناسب میں ہوں گے۔ اس طرح 3/4 فیصد ممبران طلباء کے گارجین اور والدین ہوں گے، جب کہ تمام ممبران کی تعداد کا پچاس فیصد خواتین ہوں گی۔
ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت یہ منیجنگ کمیٹی ضابطہ کے مطابق اسکول کے لیے ترقیاتی منصوبہ بندی کرے گی۔ اسی کی منصوبہ بندی کی بنیاد پر حکومت مجاز یا لوکل اتھارٹی سے اسکول کو گرانٹ ملے گی۔ اس طرح یہ منیجنگ کمیٹی اسکول چلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
نصابِ تعلیم
سیکشن 29 کے تحت حکومت مجاز یا لوکل اتھارٹی پرائمری تعلیم، نصاب اور طریقہ تعلیم کا تعین کرے گی۔ یہ سب کچھ ایک سرکاری نوٹی فکیشن کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت کی زیر نگرانی اور کنٹرول نصاب تعلیم اور طریقہ تعلیم کا فی الواقع تعین ’’اکیڈمک اتھارٹی‘‘ کرے گی، جس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اِن باتوں کو اپنی نگاہ میں رکھے: وہ تعلیمی نصاب دستورِ ہند کے تقاضوں کے مطابق ہو، بچوں کی ہمہ جہت ترقی، ان کی صلاحیت، ذہانت اور علم کا فروغ، ان کی اندرونی اور مخفی صلاحیتوں کے عروج کے پیش نظر ان کے تجسس کی صلاحیت کو پروان ملے، جہاں تک ممکن ہو بچوں کی مادری زبان کو ان کا ذریعہ تعلیم بنایا جائے وغیرہ۔ کاش یہ باتیں شرمندۂ تعبیر ہو جائیں۔
اس ایکٹ کے خد و خال کو زیادہ اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیکشن 19 اور 25 کے تحت بنائے گئے شیڈولڈ میں مندرجہ نکات کو ایک بار زیادہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں، جس سے طریقہ تعلیم اور اسکول کے لازمی معیار کا خاکہ سامنے آ سکے اور ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ یہ ایکٹ ہندوستان کی ’’ماٹی‘‘ میں مشغول و سرگرداں اسکولوں کے لیے کس قدر فائدہ مند یا نقصاندہ ہے۔ شیڈولڈ کے مطابق : (a) چھ سے آٹھویں کلاس کے لیے لازمی ہے کہ ہر ایک کلاس کے لیے کم سے کم ایک ٹیچر ہو۔ مثال کے طور پر (i) سائنس و ریاضی کے لیے ایک ٹیچر، (ii) سوشل سائنس کے لیے ایک ٹیچر، (iii) لسانیات کے لیے ایک ٹیچر۔
(b) ہر ایک 35 طالب علم پر ایک استاد ہوگا۔
(c) جس اسکول میں 100 سے زائد طالب علم ہوں، وہاں کے لیے لازم ہوگا کہ (i) ایک کل وقتی ٹیچر ہو، (ii) جز وقتی اساتذہ بھی ہوں، (iii) آرٹس، صحت اور جسمانی تعلیم کے لیے اساتذہ ہوں۔
(d) ہر ایک ٹیچر کے لیے کم سے کم ایک کلاس روم ہو۔ آفس، اسٹور یا ہیڈ ماسٹر کا کمرہ۔ بغیر کسی رکاوٹ (پردہ) کے آنا جانا ہو، لڑکے لڑکیوں کے لیے الگ الگ ٹوائلیٹ ہو، تمام بچوں کے لیے تسلی بخش اور محفوظ پینے کے پانی کا انتظام ہو۔ مڈ ڈے میل کے لیے اسکول کا اپنا ایک کچن ہو، کھیل کا گراؤنڈ ہو، باؤنڈری وال یا فنسنگ کے اندر اسکول ہو، درجہ چھ سے آٹھ تک کے بچوں کو سال میں کم سے کم 220 دن پڑھایا گیا ہو۔ اسی طرح درجہ ایک سے درجہ چھ تک کے بچوں کو سال میں کم سے کم 200 دن تعلیم دی گئی ہو۔ ہر ایک اسکول میں لائبریری ہو، اخبار میگزین، کتابیں، کہانی کی کتابیں مہیا ہوں، کھیل کود کے لیے میٹیریل، ہر ایک کلاس کو دستیاب ہوں وغیرہ وغیرہ۔ اس شیڈولڈ کے مطابق، ’’اسکول‘‘ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860 یا کسی پبلک ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہو، اسکول کسی فردِ واحد، تنظیم یا کسی گروپ کے فائدہ کے لیے نہیں چلایا جا رہا ہو۔ اسکول کی عمارت یا عمارت کا کوئی حصہ یا گراؤنڈ صرف تعلیمی سرگرمی اور بچوں کی صلاحیت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہو۔ اسکول کے دروازے ہمیشہ سرکاری معائنہ کے لیے کھلے ہوں۔ اسکول حکومت مجاز، لوکل اتھارٹی کے ذریعے موقع بہ موقع جاری کیے گئے سرکلر اور اعلانات وغیرہ کو لاگو کرتا ہو وغیرہ وغیرہ۔
مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر مختلف مسلم جماعتوں نے حکومت ہند سے میمورنڈم، سمینار، مباحثہ کے ذریعے درخواست کی ہے کہ موجودہ ’’مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا حق ایکٹ 2009‘‘ کی دفعات نہایت نامناسب اور دستور ہند کے آرٹیکل 29 اور 30 کے صریحاً خلاف ہیں۔ اس میں ترمیم کی جائے۔ سنا ہے کہ شاید حکومت نے مان بھی لیا ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں ان ترامیم کو پیش کرکے پاس کراکر قانون کی شکل دے دی جائے گی۔ ترامیم کا خلاصہ میرے سامنے ہے۔ دستور ہند، بین الاقوامی تعلیمی اعلامیہ کی دفعات اور موجودہ ایکٹ کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ ایکٹ ہندوستانی تعلیمی معاشرہ کے لیے نہایت نقصاندہ ہے، بلکہ مجوزہ ترامیم کسی طرح بھی اصل مرض کی دوا نہیں ہیں۔ ان نکات پر اگلی قسط میںتبصرہ کیا جائے گا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *