مسلم ووٹوں کی فراق میں سیاسی پارٹیاں

یو پی میں 2012کے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی مسلم سیاست نے تیزی پکڑ لی ہے۔ بیشتر جماعتوں نے امیدوار طے بھی کر دیے ہیں۔ نامزدگی کا دور چل رہا ہے۔ پارٹیوں میں جتنی چھینا جھپٹی مسلم اور جیتنے والے امیدواروں کو لے کر مچی ہوئی ہے، اتنی ہی دلتوں اور پچھڑوں کے لیڈروں کے معاملے میں بھی ہے۔ یو پی کی مسلم سیاست میں سب سے زیادہ دخل رکھنے والی سماجوادی پارٹی ہے، جس کے مکھیا ملائم سنگھ یادو ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مسلم ووٹ تب سماجوادی کے پالے میں آ گیا،جب بی جے پی نے مندر مسجد کے چکر میں رام لہر کو ہوا دی اور ہندو ووٹ یک مشت بی جے پی کی جھولی میں چلا گیا، جس سے 90کی دہائی کے پہلے سال میں بی جے پی کی حکومت صوبہ میں مکمل اکثریت کے ساتھ آ گئی۔ یہیں سے مسلم ووٹوں اور ہندو ووٹوں کی سیاست نے زور پکڑا۔ ہندو مسلم سیاست جہاں کلیان سنگھ کو ہندوئوں کا رہنما ماننے لگی، وہیں مسلمانوں کے رہنما کے طور پر ملائم سنگھ کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔ ایودھیا کے ایشو کو لے کر ملائم سنگھ یادو کا جو معیار رہا، اسی کے سبب وہ مسلمانوں کے ہیرو بن کر ابھرے۔ 1993 اور 1996کے الیکشن میں مسلمانوں کے پسندیدہ لیڈر ملائم سنگھ ہی رہے، جس کا فائدہ ملائم سنگھ کو مسلسل ملتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ملائم سنگھ کو ملّا ملائم کہا جانے لگا۔ اس دوران ملائم سنگھ نے مسلمانوں کے مفاد کے لیے کئی قدم اٹھائے۔ اتر پردیش کی پولس میں مسلمانوں کی بھرتی میں پیروی کی اور اردو ترجمہ نگاروں کی بھی بھرتیاں کرائیں۔
کہتے ہیں کہ منڈل اور کمنڈل کی سیاست سے پہلے مسلم ووٹ کانگریس کے کھاتے میں جایا کرتے تھے، لیکن ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے مسلمانوں نے کانگریس سے منھ موڑ لیا، جس سے کانگریس اتر پردیش میں حاشیہ پر چلی گئی۔ مسلم طبقہ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے وہ کانگریس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ نتیجتاً 1993، 1996، 2002 اور 2007تک کانگریس بیس سے 30سیٹوں کے درمیان ہی سفر کرتی رہی۔ کانگریس مسلمانوں کو اپنے پالے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی رہی، لیکن مسلم رائے دہندگان نے کانگریس کا ساتھ دینا گوارا نہیں سمجھا۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اتر پردیش میں2007کے اسمبلی انتخاب میں 393 امیدواروں میں سے 323کی ضمانت ہی ضبط ہو گئی۔  کانگریس سے ناراضگی کے سبب ہی اتر پردیش میں مسلم ووٹروں پر ملائم سنگھ کے واحد راج سے مرکز میں سماجوادی پارٹی کی ساکھ مضبوط ہوئی۔ ملائم مرکزی اقتدار میں مداخلت کرنے لگے۔ مسلمانوں کی بدولت ہی وہ وزیر دفاع کی کرسی تک پہنچے اور ایک بار تو کئی حصوں سے بنی مرکزی حکومت میں وہ نائب وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے۔ کہتے ہیں کہ اس میں بھی سونیا گاندھی کا ہی ہاتھ تھا۔
ملائم کی مسلم ووٹوں پر بادشاہت کو ختم کروانے میں بی ایس پی کا کردار کافی اہم مانا جاتا ہے۔ گیسٹ ہائوس معاملہ میں ملائم کو اپنا دشمن سمجھنے والی مایاوتی نے مسلمانوں کو اپنے پالے میں کھینچنے کے لیے سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ اپنایا، جس میں انہوں نے ایک تیر سے دو نشانے کیے۔ایک طرف تو برہمنوں کو ٹکٹ دے کر بی جے پی کے ووٹ کاٹنے کی کوشش کی تووہیں دوسری طرف مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دے کر سماجوادی پارٹی کے مسلم ووٹ پر ڈاکہ ڈالا۔ لہٰذا مایاوتی کا سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ اتنا ہٹ ہوا کہ توقع سے زیادہ ووٹ ان کی جھولی میں آگرے، جس سے سماجوادی اور بی جے پی چاروں خانے چت ہو گئی۔
سوشل انجینئرنگ کے دم پر مایاوتی نے جہاں نوکر شاہی کو مٹھی میں کر لیا، وہیں ٹھاکر، برہمن نمائندگان پر بھی لگام کسنی شروع کر دی۔بہن جی کے حکم کی نا فرمانی کرنے کا حق کسی کو نہیں تھا۔ لہٰذا جو بولتیں وہ بہن جی ہی بولتیں۔ اسی کے سبب اندرونی حالات بدتر ہو تے گئے۔ اندرونی خلفشار، لوٹ مار، خاموشی سے لال بتی والے کچھ لیڈر عوام کی خون پسینے کی کمائی کو گھن کی طرح چاٹنے لگے۔ یہ سب مایاوتی کی ناک کے نیچے ہو رہا تھا، لیکن نہ تو میڈیا بول پا رہا تھا اور نہ ہی اپوزیشن۔
2009میں لوک سبھا انتخابات ہوئے۔ کانگریس کے یوراج راہل کی دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان پکڑ بنانے کی جدوجہد جاری تھی۔ کانگریس کے یوراج بھی ایک تیر سے دو نشانے لگا رہے تھے۔ ایک طرف تووہ مسلم ووٹروں کو لبھا رہے تھے تو وہیں دوسری طرف کانگریس کو دلت ووٹوں کی بھی سخت ضرورت تھی۔ راہل کی دلتوں اور مسلمانوں کے تئیں محبت اور لگائو سوشل انجینئرنگ جیسی ہی تھی۔ راہل بغیر کسی پلان کے اتر پردیش چلے جاتے تھے۔ مایاوتی کو ان کے آنے کی خبر تب ملتی تھی، جب وہ کسی دلت کے گھر پہنچ جاتے تھے۔ اس پر راہل کی حفاظت کو لے کر ریاستی حکومت نے کئی سوال اٹھائے اور مایاوتی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ راہل اپنے دوروں کا بیورہ ریاستی حکومت کو پہلے ہی بتا دیا کریں۔ مایاوتی کو راہل کا اتر پردیش میں آنا ناگوار گزرتا تھا، کیونکہ بی ایس پی سپریمو کو اپنے گھر میں ووٹ کٹنے کا ڈر ستانے لگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے راہل کے دوروں پر کافی نکتہ چینی کی، لیکن کانگریس کے برسراقتدار ہونے کے سبب بہن جی راہل گاندھی کے راستہ میں زیادہ رخنہ اندازی نہیں کر سکیں۔ مایاوتی اب ملائم سنگھ کے تئیں کم بلکہ راہل کے تئیں زیادہ سخت نظر آئیں۔ مایاوتی یہ جانتی تھیں کہ کانگریس کوئی گل کھلا رہی ہے۔ مرکز کی کانگریس حکومت نے یو پی کے مسلمانوں کے تئیں کئی اسکمیں بنا کر خزانہ کھولنے کی کوشش کی، پیکیج دینے کی بات کہی، جس سے مسلم طبقہ کانگریس کی طرف راغب ہوا۔
کانگریس کے لیے سب سے اہم بات یہ رہی کہ جس عبادت گاہ کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے کانگریس سے منھ موڑ رکھا تھا، وہ جب ختم ہو گیا، جب ایودھیا کے فیصلہ سے پہلے ہندو اور مسلمان کسی ناگہانی سے بچنے کے لیے متحد نظر آئے، جہاں ہندو مذہبی رہنمائوں نے ہون اور پاٹھ کرائے وہیں مسلم مذہبی رہنمائوں نے اللہ سے امن و سکون کی دعائیں مانگیں۔ لہٰذا فیصلہ کی تھوڑی بہت گرماہٹ تو رہی، لیکن کوئی سختی سے پیش نہیں آیا۔ کانگریس اور بی جے پی کے لیے جہاں یہ مفید ثابت ہوا، وہیں اس سے مایا اور ملائم کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ حالانکہ مسلم ووٹوں کی خاطر کئی لیڈر آگے آئے ،لیکن کچھ خاص اثر نہی دکھا پائے۔
کانگریس کو یہ موسم سہانا لگا، جب ہندو مسلم کے درمیان خلیج پٹتی نظر آئی۔ کانگریس نے اس درمیان ہر وہ ترکیب کی، جس سے اس کے تئیں ناراض مسلمان اور ہندو اس کی چھتری کے نیچے آ سکے۔کانگریس اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چل رہی تھی، خاص طور سے مسلم ووٹ بینک کے لیے۔ 2009کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں کانگریس کی کارکردگی غیر متوقع رہی۔ کانگریس نے 2009کے انتخابات میں اکیلے اپنے دم پر 21سیٹیں جیت کر باقی تمام پارٹیوں کو حیران کر دیا۔ اس کو یہ جیت اس کے روایتی ووٹ بینک، مسلم، دلت اور برہمن ووٹروں کی بدولت ملی تھی۔ انہیں نتائج نے کانگریس کی اتر پردیش میں واپسی کی امیدوں کو زندہ رکھا۔ اب سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کو یہ ڈر ستانے لگ گیا کہ اگر کانگریس اپنے روایتی ووٹ بینک کو بٹورنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر اتر پردیش میں ان کے وجود کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ لوک سبھا انتخابات سے یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کو کانگریس سے کوئی پرہیز نہیں رہا ہے۔ وہ اب ہندو مسلم کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتا، وہ صرف ترقی چاہتا ہے، جہاں اسے اطمینان کے ساتھ دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے۔ کانگریس نے یو پی کے انتخابات میں عین وقت پر ریزرویشن کا کارڈ چل کر مسلمانوں میں پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔g

پارٹیوں کے مسلم سپہ سالار
یو پی کے اسمبلی انتخابات کے مدنظر ملائم سنگھ نے مسلمانوں کی رہنمائی کا کردار ادا کرنے کے لیے اعظم خاں کو آگے رکھا ہے۔ اعظم خاں فائر برانڈ مسلم لیڈر ہیں۔ ملائم سنگھ کے ساتھ بیشتر عوامی جلسوں میں اسٹیج پر وہ ملائم سنگھ کے ساتھ رہتے ہیں، تو وہیں بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بندیل کھنڈ کے ووٹوں کی باگ ڈور اپنی پارٹی کے قدآور مسلم لیڈر نسیم الدین صدیقی کے سپرد کی ہے۔ ان کے پاس تقریباً ڈیڑھ درجن سے زائد محکمے ہیں۔ جب کبھی اتر پردیش میں مایا وتی کی حکومت آئی ہے، صدیقی کواعلیٰ وزارتوں کا چارج دیا گیا ہے۔ پارٹی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلوں میں ان کا اہم کردار رہتا ہے۔ مسلمانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی ذمہ داری نسیم الدین صدیقی ہی ادا کرتے ہیں۔ ادھر کانگریس نے مسلمانوں کی مضبوط وکالت کی کمان مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید کے سپرد کی ہے۔ سلمان خورشید کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ مرکز میں ان کا کافی عمل دخل ہے۔ اگر کانگریس یو پی میں اقتدار میں آتی ہے تو یقینا وہ مسلمانوں کے لیے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ آر ایل ڈی نے جہاں حاجی یعقوب قریشی کو مسلم ووٹوں کو اپنے پالے میں کرنے کے لیے اپنا سپہ سالار بنایا ہے،  تو وہیں بی جے پی نے مختار عباس نقوی کو آگے رکھا ہے۔ نقوی رامپور پارلیمانی حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ فی الحال وہ بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور میڈیا انچارج ہیں۔

بی جے پی کے ایجنڈے میں اب جناح اور کلیان سنگھ
بی جے پی کے سخت مخالف اور جن کرانتی پارٹی کے لیڈر کلیان سنگھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی کب رام رام جپنے لگے اور کب خداخدا، اس کا کچھ پتہ نہیں۔ ہندوتو کے بجائے بی جے پی اب مسلمانوں کو لبھانے کی پالیسی پر آمادہ ہو گئی ہے۔ بی جے پی کے ایجنڈے میں رام کی جگہ اب جناح نے لے لی ہے۔ یہ وہی بی جے پی ہے جس نے ہندوتو کے دم پر یو پی میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ بی جے پی 50سے زیادہ سیٹیں اتر پردیش میں حاصل نہیں کر سکے گی۔

پارٹیوں میں مسلمانوں کا بڑھتا دخل
سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ اپنانے والی بی ایس پی نے 2007کے انتخاب میں61مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے،جبکہ اس بار اس نے ان کی تعداد بڑھا کر 85کردی ہے۔ اسی طرح 2007میں سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کی تعداد 57تھی جو اس بار بڑھ کر 84ہو گئی ہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ سماجوادی اور بی ایس پی میں مسلم ووٹوں کو لے کر سخت مسابقت ہے۔ دونوں ہی پارٹیاں مسلمانوں کی ہمدرد بننے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتیں۔ لہٰذا کانگریس بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہے۔ کانگریس کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب اس کا نمبر مسلم ووٹ لینے کا ہے۔ اس لیے کانگریس نے مسلم امیدواروں کی تعداد 2007 کے مقابلہ 2012 میں 56 کی جگہ 61 کر دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس نے بھی اس مرتبہ مسلم ووٹ کی طاقت کا اعتراف کیا ہے۔ بی جے پی مسلم امیدواروں کے معاملہ میں سب سے پیچھے ہے۔ بی جے پی نے جہاں 2007میں ایک بھی مسلم امیدوار انتخابی میدان میں نہیں اتارا تھا ، وہیں اس نے ایک چھوٹا قدم چل کر مسلم طبقہ میں یہ پیغام دیا ہے کہ اب وہ مسلمانوں کے تئیں اچھوتی نہیں رہ گئی ہے۔ اس بار اس نے بھی ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *