مسلمان سیاسی بازی گروں سے بچیں۔۔۔۔ووٹ کا صحح استعمال کریں

وسیم راشد
آج  بات شروع کرتے ہیں اس شعر سے
ہمیں جلدی نکالو مندرو مسجد کے جھگڑوں سے
ہمیں بچوں کے مستقبل کو بھی روشن بنانا ہے
نئی نسل کی سوچ میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔وہ سانحہ بابری مسجد کو تاریخ کا بد ترین سانحہ تو سمجھتے ہیں، مگر وہ اس کو صرف تاریخ کا ایک حصہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ،نہ کہ سیاسی بازیگروں کے ہاتھوں کا کھلونا ۔وہ وقت کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ میرٹھ ، ملیانہ ، ہاشم پورہ اور گجرات جیسے فرقہ وارانہ فساد کے زخم کافی حد تک بھر چکے ہیں اور اب  ہماری نئی نسل جو بات  بار بار سوچنے سمجھنے اور محسوس کرنے لگی ہے،وہ یہ ہے کہ اب بس کرو! اس مندر مسجد کے جھگڑے سے نکل کر ہمیں اپنے بچوں کی پڑھائی اور روشن مستقبل کی طرف دیکھنے دو۔بالکل وہی بات ،وہی احساس ،وہی جذبہ آج اس شعر میں نظر آیا کہ بس اب بہت ہوگیا۔کب تک ہم  اس طرح سیاسی بازی گروں  کے ہاتھوں کا کھلونا بنتے رہیں گے۔کب تک ہمیں بے وقوف بنا کر ہمارے بچوں کو ،ہمارے نوجوانوں کو اصل مسائل سے ہٹا کرافیم دے  کر سلایا جاتا رہے گا۔اب اس قوم کو کچھ نہیں چاہئے۔صرف اور صرف تعلیم ہی اس قوم کی اصل ضرورت ہے ۔مگر سیاسی شعبدہ باز نئی نئی چالوں سے ہمیں اور ہماری نئی نسل کو اپنا شکار بنارہے ہیں۔ اس وقت جبکہ الیکشن کا ماحول ہے ،مسلمان پھر سے دو راہے پر کھڑے ہیں۔پانچ ریاستوں کے الیکشن میں خاص طور پر یوپی کے الیکشن میں اس مرتبہ پھر سے مسلم ووٹ کی سیاست شروع ہوگئی ہے ،کبھی مسلکی اختلاف کو ہوا دے کر دیوبندی بریلوی کا قضیہ،کبھی مسلم ریزرویشن کا لالچ اور کبھی مختلف مسلم سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے بیانات پر اور کبھی سلمان رشدی کی ہندوستان آمد کی سیاست اچھال کر بار بار اس قوم کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یوپی میں مسلم ووٹوں کی اہمیت کو ہر سیاسی پارٹی تسلیم کرتی ہے اور یہ جانتی ہے کہ مسلمانوں کو ملائے بنا کوئی بھی پارٹی اقتدار تک نہیں پہنچ سکتی ۔اسی لئے سبھی سیاسی پارٹیوں نے کچھ مسلم چہروں کو اپنے ساتھ رکھا ہے، جیسے ملائم سنگھ نے اعظم خان پر دائو پھینکا ہے۔ویسے اعظم خان کو مسلمان پسند بھی کرتے ہیں ۔ ملائم سنگھ یادو نے جب بھی الیکشن جیتا ہے تو اعظم خاں کی بدولت ہی جیتا ہے۔ اس کی مثال ہم گزشتہ الیکشن سے دے سکتے ہیں کہ اعظم خاں جب ملائم سنگھ یادو کے ساتھ نہیں تھے تو مسلمانوں نے بھی ملائم سنگھ یادو کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔اسی طرح مایاوتی نے نسیم الدیں صدیقی کو مسلم چہرہ بنا کر مسلم ووٹ کا دائوں کھیلا ہے اور کانگریس کے پاس تو ترپ کا ایسا پتہ ہے جو سب کو مات دے سکتا ہے یعنی سلمان خورشید،کانگریس نے سلمان خورشید کو پوری طرح استعمال کرنا شروع کردیا ہے ورنہ سلمان خورشید کبھی بھی 9 فیصد مسلم ریزرویشن کی بات نہ کرتے جبکہ  4.5 فیصد پر ہی کافی ہنگامہ مچ چکا ہے۔اس طرح مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی جو کوشش کانگریس نے کی تھی وہ سامنے آچکی ہے۔ رشید مسعود بھی کانگریس کے پاس ایک اہم مسلم چہرہ ہے۔راشٹریہ لوک دل بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔اس پارٹی نے حاجی یعقوب قریشی کو مسلم چہرہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔بی جے پی کے پاس مختار عباس نقوی ہیں۔یہی نہیں ،سبھی پارٹیوں نے مسلم ووٹ کے لئے کئی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ بھی دیئے ہیں۔بی ایس پی نے 2007 کے الیکشن میں 61 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن 2012 کے الیکشن میں اس تعداد کو بڑھا کر 85 کردیا ہے۔سماجوادی پارٹی  نے 2007 میں 57 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن اس پارٹی نے بھی 2012 کے الیکشن میں 84 امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ اس سے صاف نظر آرہا ہے کہ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی سمیت تمام پارٹیوں کی نظر میں مسلم ووٹوں کی اہمیت کس قدر بڑھ چکی ہے۔تمام پارٹیوں کو مسلم ووٹ کی ضرورت ہے۔
اتر پردیش اب کانگریس اور بی ایس پی کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ظاہر ہے کہ مایاوتی دوبارہ اقتدار میں آنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔ویسے ایک بات صاف ہے کہ پوپی کے دلتوں کو جہاں ہاتھی نظر آجائے گا وہ آنکھ بند کرکے اس پر ٹھپہ لگا دیںگے،لیکن مسلمانوں کے ووٹ نہ بٹ جائیں ،ہمیں بس یہی ایک فکر ہے،کیونکہ چھوٹی چھوٹی مسلم سیاسی جماعتیں ووٹ کاٹنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ایک اور مسئلہ دیوبندی اور بریلوی کا بھی شروع کردیا گیا ہے حالانکہ 1947 سے ہی ملک میں دیوبندی اور بریلوی کا مسئلہ رہا ہے۔1947 سے 1991 تک کانگریس کی لیڈر شپ نے ہمیشہ دیوبندی لیڈر شپ کو ابھارا اور دیوبند ی علماء سے بات چیت کی ۔1991 کے بعد نرسمہارائو کی حکومت کو بریلوی علماء نے یہ بات باور کرائی کہ 70 سے 80 فیصد تو بریلوی مسلک کے مسلم ہیں تو لیڈر شپ دیوبندیوں کی کیوں بنے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا اجلاس بھی دہلی کے رام لیلا میدان میں کیا گیا تھا۔تب سے کانگریس کی اعلیٰ کمان کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ووٹرس تو زیادہ بریلوی میں ہیں مگر وہ آرگنائزڈ نہیں ہیں اور منتشر ہیں اس لئے فائدہ زیادہ تر دیوبندیوں سے اٹھایا جا سکتا ہے۔دیوبند کے تین بڑے ادارے  دارالعلوم دیوبند،ندوۃ العلماء لکھنو،مدرسہ رحمانیہ خانقاہ مونگیر کے علماء بہت مشہور و معروف ہیں جبکہ بریلوی مسلک کے پاس اتنے بڑے قد آور علماء کم ہیں ۔ اب چونکہ دیوبندیوں کا اثر کانگریس پر زیادہ ہے لیکن یوپی میں تعداد بریلویوں کی زیادہ ہے تو ہو سکتا ہے کہ کانگریس کو اس سے نقصان ہوجائے، مگر س طرح کا کارڈ کھیلنا مسلمانوں کے لئے اور بھی نقصان دہ ثابت ہوگا،کیونکہ اگر اسی طرح ان کے جذبات ابھار کر،لڑوا کر ووٹوں کی سیاست کی جاتی رہے گی تو مسلمان کبھی بھی متحد نہںہو پائیں گے۔ ابھی تو اس قوم نے تعلیم کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا ہے۔ابھی تو اس قوم میں اتحاد کی ایک امید پیدا ہونی شروع ہوئی ہے،ایسے میں اگر یہ قوم مسلکی تنازع میں پھنس جاتی ہے تو اس کا مستقبل تاریکی میں ڈوب سکتا ہے۔اس لئے انہیں چاہئے کہ کسی بھی مسلک یا عقیدے کے چکر میں نہ پڑ کر صرف خود کو متحد کریں۔ اس وقت اتر پردیش کے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی سوجھ بوجھ اور سیاسی سمجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں کیونکہ 403 میں سے 113 حلقوں میں وہ اپنے ووٹ کے بادشاہ ہیں اور بہ آسانی اقتدار پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ۔ انہیں ہوشیار ہونا چاہئے کہ سلمان رشدی کا مسئلہ ہو، دیوبندی یا بریلوی کا مسئلہ ہو، ریزرویشن کا مسئلہ ہو ،مسلمانوں کو ان سب سے اوپر اٹھ کر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔مسلمانوں کے جذبات سے یوں تو کھلواڑ ہمیشہ ہی کیا گیاہے ۔کیا کانگریس کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ سلمان رشدی مسلمانوں کے لئے کس قدر قابل نفرت شخص ہے۔ کیا جے پور لٹریری  کانفرنس کرانے والے آرگنائزر کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اگر سلمان رشدی کو بلائیں گے وہ بھی ایسے  وقت میں جب الیکشن سر پر ہے اور مسلمان ویسے ہی کشمکش کے شکار ہیں توایسے  میں مسلمانوں کے جذبات مجروح نہیںہوں گے؟اورمسلمانوں کو بھی اتنا واویلا مچانے کی کیا ضرورت تھی خاص طور پر دیوبند کے علماء کو اس سلسلے میں کوئی بیان بازی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔ کیونکہ اس سے رشدی کو اور زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے ہوسکتا ہے یہی شیطانی جذبہ رکھ کر اس کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہو۔ اس سے قبل مقبول فدا حسین نے ہندو دیوی دیوتائوں کی قابل اعتراض تصاویر بنائیں تو انہیں اتنا پریشان کیا گیا کہ انہیں ملک بدر ہونا پڑا اورآخری وقت تک وہ اپنے ملک ہندوستان آنے کے لیے ترستے رہے یہاں تک کہ لندن میں ان کا انتقال ہوگیا۔اس وقت کسی آرگنائزیشن یا کسی مذہبی ادارے نے ان کو ملک واپس آنے کے لئے یا کسی پروگرام میں شرکت کے لیے دعوت نامہ نہیں بھیجا۔اس لئے کہ ہم اس جمہوری ملک کی اقدار کو سمجھتے ہیں ۔ہمیں اندازہ ہے کہ ہمیں اپنے ہندو بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اس عمل سے ہمارے ملک کے سیکولرازم پر داغ لگے گا ۔جب ہم اس طرح سوچ رہے ہیں تو پھر ہمارے جذبات و احساسات کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا۔ اسلام میں دوسرے مذاہب اور ان کے مذہبی رہنمائوں کا پورا احترام کرنے کا حکم آیا ہے تو پھر دوسرے مذاہب میں بھی تو اسی طرح ہر مذہب کا احترام کیا جاتا چاہئے ،پھر کیوں بار بار مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کی جا تی ہے ،کیوں بار بار ان کو مندر مسجد،سلمان رشدی و تسلیمہ نسرین میں الجھا دیا جاتاہے۔بہر کیف یہ وقت انتہائی حساس ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو بس یو پی الیکشن پر نظر رکھنی ہے اور بہت ہی زیادہ اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے۔ انہیں کسی بھی سیاسی پارٹی اور کسی بھی مسلک کے ہاتھوں میںکھلونا نہیں بننا ہے ۔ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہے اور بس۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *