یو پی اسمبلی انتخابات مسلمانوں کے لئے فیصلہ کن گھڑی

محمد فرقان عالم
یو پی آبادی کے اعتبار سے ہندوستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس صوبے کو جہاں علمی وادبی افق پر ایک اہم مقام حاصل ہے ، وہیں سیاسی میدان میں بھی اس کی حیثیت مسلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں یہاں کی کامیابی کو ہی اپنی ترقی کا ضامن سمجھتی ہیں،جو بہت حد تک صحیح بھی ہے۔ اس لیے تمام پارٹیوں کا خیال یہ ہے کہ اگر اترپردیش میں ان کی پوزیشن مضبوط رہی تو مرکز میں بھی انہیں کا دبدبہ ہوگا یعنی پارٹیاں 2014کے پارلیمانی انتخاب پر بھی نگاہیں جمائے ہوئی ہیں ۔ نتیجتاًوہ اترپردیش کی کامیابی کو 2014کا مقدمہ سمجھ رہی ہیں۔ مذکورہ مقاصد کے پیش نظر تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں میدان میں پوری طرح سرگرم ہوگئی ہیں اور ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کسی طرح کے ہتھکنڈے اپنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کی توجہ کا مرکز سب سے زیادہ مسلمان ہی ہیں، جنہیں کوہر کوئی اپنے سے قریب کرنے میں لگا ہے۔ تاہم کانگریس اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئی ہے۔ اس کی حساسیت کااندازہ موجود ہ ساڑھے چار فیصد ریزرویشن سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ عین انتخاب کے وقت اس نے ریزرویشن کا اعلان کرکے سیاسی دنیا میں ہلچل مچادی ہے، جس کی موافقت ومخالفت پر سیاسی لیڈران، سماجی کارکنان، ساتھ ہی عام قارئین کے خیالات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی طرح جہاں تک کانگریس کی سرگرمیوں کا تعلق ہے، اس میں بھی کانگریس سب سے آگے چل رہی ہے ۔ اس کے لیے اس نے اپنے یوراج راہل گاندھی کو کوئی دومہینے پہلے ہی میدان میں اتار دیا ہے۔ جو اپنے سلسلہ وار دورے  اور ’جاگو ،اٹھو، بدلو اترپردیش‘ کے نعرے کے ذریعے عوامی رابطے میں مصروف ہیں۔ ساتھ ہی اب پرینکا گاندھی بھی انتخابی مہم کے لیے میدان میں اترنے ہی والی ہیں، جو انتخابی مہم میں اپنے بھائی کا پورا پورا ساتھ دیں گی۔ گویاکانگریس نے پوری طرح یہ ذہن بنا لیا ہے کہ وہ اترپردیش کی باگ ڈور سنبھال کر ماضی کا کھویا ہوا وقار لوٹا کر ہی دم لے گی ۔ اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم کانگریس کے پیش نظر عوام کی سیاست ضرور رہنی چاہیے، اس لیے کہ اب عوام کی سیاست بھی بہت ہی زیادہ اہمیت رکھنے لگی ہے، جس کا اندازہ کانگریس خود ابھی کوئی ایک سال پیشتر بہار اسمبلی الیکشن میں لگاچکی ہے۔ کانگریس کی خوشی میں اس وقت اضافہ اس طور پر بھی ہوا ہے کہ اس کو رشید مسعود او ر اجیت سنگھ کی شکل میں مغربی اترپردیش کے لیے دو ایسے ہتھیار ملے ہیں، جو ممکن ہو اس کو کسی حد تک فائدہ پہنچائیں، لیکن یہ بھی یقینی نہیں ہے ۔ اس سے قطع نظر اگر ہم ماضی کا سہار الیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ابتداء میں قومی سطح کی پارٹیوں میں سب سے مضبوط انڈین نیشنل کانگریس تھی اور پچھلے الیکشن 2007میں وہی سب سے کمزور بھی رہی۔ 1951میں کانگریس کے ٹکٹ پر 429 امیدوار کھڑے ہوئے تھے، جن میں سے 388 کو جیت حاصل ہوئی تھی اور صرف ایک کی ضمانت ضبط ہوئی تھی، جب کہ دوسری سب سے بڑی پارٹی سماجوادی یعنی سوشلسٹ پارٹی کے 349 امیداوار وں میں سے 233 کی ضمانت ضبط ہوئی اور صرف 20 ہی کامیاب ہوئے۔ اُس وقت بھارتیہ جن سنگھ نے جو اَب بھارتیہ جنتاپارٹی کہلاتی ہے، 211 امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں سے صرف دو کامیاب ہوسکے، 153 کو اتنے کم ووٹ ملے کہ ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ ایک کم پچاس برس بعد 2007 کے الیکشن میں کانگریس کے 393 امیدواروں میں سے 323کی ضمانت ضبط ہوئی اور صرف 22ہی کامیاب ہوسکے، جب کہ بہوجن سماج پارٹی نے جو ریاستی الیکشن میں حصہ لینے والی قومی سطح کی پارٹیوں میں سب سے کم عمر تھی اور 1989 کے الیکشن میں غیر تسلیم شدہ رجسٹرڈ پارٹی کی حیثیت سے انتخابی اکھاڑے میں اتری تھی 2007 میں 206 سیٹیں جیت کر اپنی لیڈر کو چوتھی بار وزیراعلیٰ کا تاج پہنادیا۔ اس بار وہ اپنی وزارت اعلیٰ کے پانچ سال پورے کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 1995-96 میں 14مہینے، 1997 میں 6مہینے، 2002-3میں 15 مہینے وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔ ایک بار انہوں نے ملائم سنگھ یادو کے ساتھ مل کر بھی حکومت بنائی تھی مگر حالات سازگار نہ رہے ، بالآخر دوستی جھگڑے میں تبدیل ہوگئی یہاں تک کہ جھگڑے ہی پر ختم بھی ہوئی۔ اس تاریخی پس منظر میں اگر ہم دیکھیں تو 1951سے 2007 تک میں سب سے خراب پوزیشن کانگریس ہی کی رہی اور سب سے مضبوط پوزیشن بہوجن سماج پارٹی کی۔ کانگریس کی پوزیشن خراب ہونے کی اصل وجہ اس کی خانہ جنگی ہے، جس میں ایک طرف چندر بھان گپتا کا گروہ تھا تو دوسرے گروہ کی قیادت کملاپتی ترپاٹھی کررہے تھے۔ دونوں گروپوں کی سردجنگ تیز سے تیز تر ہوتی گئی، نتیجتاً 1967کے انتخاب میں کانگریس کو یوپی اسمبلی میں اکثریت نہیں مل سکی۔ یہیں سے اس کا زوال شروع ہوگیا۔ ایک بار کانگریس بہوجن سماج پارٹی سے بھی مل کر الیکشن لڑی اور دب کر سمجھوتہ کیا، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی کے اسی جھرونکے نے کانگریس کو اس بار کچھ زیادہ ہی متحرک کر دیا ہے، جس کے لیے وہ کسی بھی طرح اترپردیش میں پارٹی کو بہت حدتک نہ سہی کسی حد تک مضبوب بنانے کے لیے ہر طرح کے جتن کررہی ہے۔ لیکن کیا کانگریس کی موجودہ سرگرمیوں کے تعلق سے یہ کہنا درست ہوگاکہ اترپردیش میں کانگریس ہی کی قسمت کا تارا چمکے گا؟ ایسا کسی بھی طرح درست نہیں، حالات کیا کروٹ لیں، یہ کہنا مشکل ہے، اس لیے کہ بہار اسمبلی الیکشن میں بھی کانگریس کے تعلق سے اسی طرح کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی تھیں، لیکن عوام کی سیاست نے جہاں عام لوگوں کے ہوش اڑا دیے، وہیں سیاسی ماہرین کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ تمام طر ح کے بیوقوف بنانے والے حربے ان کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ واضح رہے کہ بہار اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو 243 میں سے 4 ہی سیٹو ںپر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ رہا دیگر پارٹیوں کا سوال، تو اس وقت برسراقتدار پارٹی کی سرگرمیاں بھی کافی تیز ہیں۔ مایا جی نے سب سے ہٹ کر سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوںنے ایک الگ طرح کا سیاسی ہتھکنڈہ وزرا ء کو باہر کی راہ دکھانے کی شکل میں اپنا یا ہے، جس کی وجہ سے اب تک وہ کئی وزیروںکو ذمہ داری سے پہلو تہی کے الزام میں باہر کرچکی ہیں۔ تعجب تو اس پر ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مایا وتی جی کو وزراء کی لاپروائیاں نظر نہیں آئیں، اب قریب وقت میں نظر آرہی ہیں ۔ کاش ! پہلے ہی اس تعلق سے مایا جی متفکر ہوجاتیں تو شاید عوام کا کچھ بھلا ہوگیاہوتا، ساتھ ہی پارٹی اس کا صحیح فائدہ بھی اٹھا پاتی۔ اسی طرح مایا جی نے 18دسمبر کی ہنگامی ریلی کے ذریعہ بھی دلت ، خاص طورپر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ملائم سنگھ کی پوزیشن بھی زیادہ مستحکم نہیں دکھائی دیتی۔ اہم بات یہ ہے کہ تمام چھوٹی پارٹیوںپر مشتمل ’’اتحاد فرنٹ ‘‘کے وجودمیں آنے سے جہاں دیگر پارٹیاں بے چینی میں مبتلا ہوئی ہیں وہیں ملائم جی کی پریشانیاں بھی مزید بڑھ گئی ہیں۔ ’’اتحادفرنٹ ‘‘جو تقریباً 20ُٓ پارٹیوںپر مشتمل ایک محاذ ہے۔یہ ایک بڑے ادارے کے مؤقر عالم دین مولاناسید سلمان حسنیی ندوی کی انتھک کاوشوں اور بلند فکر کا نتیجہ ہے۔ ’’اتحاد فرنٹ ‘‘سبھی 403 سیٹوں پر الیکشن لڑے گا ۔لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر ’’اتحاد فرنٹ‘‘ اپنی موجودہ شکل پر باقی رہا اور اپنے مشن پر جما رہا تو اس کو خاصا فائدہ بھی ہوگا اور یوپی کی سیاست میں ایک اچھی تبدیلی بھی ممکن ہوسکے گی۔ بہرحال، آگے حالات جو بھی ہو ں، تاہم یہ گھڑی مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فیصلہ کن ہے۔ اس لیے کہ تمام پارٹیاں اسی کے تئیں سب سے زیادہ ہمدرد ہیں۔ لہٰذا، ایسے وقت میں اترپردیش کے مسلمانوں کو بہت ہی سوچ سمجھ کر، سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے۔ کہیں ایسانہ ہوکہ ان کی ذراسی چوک کے نتیجے میں وہ لوگ برسر اقتدار ہوجائیں، جو محض وعدوں پرہی اکتفا کرتے رہے ہیں ۔اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ 2007 کے مقابلے 2012میں مسلمانوںکی نمائندگی میں اضافہ ہو، 2007میں مسلم ممبرانِ اسمبلی کی تعداد 55 تھی، حالانکہ تناسب کے اعتبار سے یہ تعداد 75 ہونی چاہیے تھی۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *