ملک کا اعتماد ٹوٹنے مت دیجئے

سنتوش بھارتیہ
سال 2009 میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔ چوتھی دنیا نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ شائع کردی اور سرکار سے کہا کہ اگر یہ رپورٹ جھوٹی ہے تو وہ کہے کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے۔ اُس رپورٹ کو لے کر راجیہ سبھا میں چار پانچ دنوں تک کافی ہنگامہ ہوتا رہا۔ راجیہ سبھا کے ممبروں نے ہمارے خلاف خصوصی اختیار کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا اور ہم نے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی کے نوٹس کا جواب بھی دیا۔ ایک طرف راجیہ سبھا نے ہمارے خلاف خصوصی اختیار کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا، وہیں دوسری طرف اگلے ہی دن لوک سبھا میں 20 سے زیادہ ممبر چوتھی دنیا ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے وزیر اعظم کے اوپر دباؤ ڈالا اور کہا کہ ہم ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے، اگر رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ایوان میں رکھنے کی یقین دہانی آپ ابھی نہیں کراتے ہیں تو۔ وزیر اعظم کو وہ یقین دہانی کرانی پڑی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ایوان میں رکھی گئی۔ یہ رپورٹ سرکار دو سال سے پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں رکھنے سے بچ رہی تھی۔ ہم نے اُس وقت راجیہ سبھا کے ممبران سے کہا تھا کہ آپ صحیح طریقے سے کوئی بھی بات کیوں نہیں اس کے منطقی انجام تک پہنچا پاتے ہیں؟ اس میں ہم نے راجیہ سبھا کے ممبران سے کچھ تیکھی باتیں بھی کہی تھیں۔
ہمارے من میں اُس وقت ایک سوال اٹھا تھا۔ راجیہ سبھا کی تشکیل ایک ایسے ایوان کی شکل میں کی گئی ہے، جو لوک سبھا کے ذریعے کی گئی غلطیوں میں اصلاح کرے گا اور ملک کو بتائے گا کہ دراصل کیا ہونا چاہیے۔ راجیہ سبھا کا استعمال ملک کے دانشوروں، سمجھدار لوگوں اور ان کے لیے ہوگا، جو الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں، لیکن جن کا بہت زیادہ وقت ملک کے لیے سوچنے اور سمجھنے میں نکل جاتا ہے۔ اب راجیہ سبھا میں کیا ہو رہا ہے، اس کے بارے میں تو ہم کچھ نہیں کہتے۔ کس طرح ممبر آتے ہیں، یہ بھی ہم نہیں کہتے، لیکن لوک پال بل پر ہوئی بحث نے بہت ساری چیزیں ملک کے لوگوں کے سامنے صاف کیں۔ شیوانند تیواری نے راجیہ سبھا میں بحث کے دوران کہا کہ اب راجیہ سبھا میں کس کس طرح کے لوگ آتے ہیں۔ ان کا اشارہ تھا کہ راجیہ سبھا میں لوگ پیسے کے بل پر آ جاتے ہیں۔ انہوں نے ’دھن پتی‘ یا ’پیسے والا‘ لفظ کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ آ جاتے ہیں، جن کے آنے سے راجیہ سبھا کا وقار کم ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹیاں ایسے لوگوں کو بھی بھیج دیتی ہیں، جنہیں وہ کہیں ایڈجسٹ نہیں کر پاتیں۔ راجیہ سبھا میں ایسے لوگ بھی آ جاتے ہیں، جو کبھی لوک سبھا کا انتخاب نہیں جیت سکتے۔
اس بار تو راجیہ سبھا نے ایک تاریخ ہی رقم کر دی۔ راجیہ سبھا کا ایک ممبر وزیر اعظم ہے، جس نے وزیر اعظم ہونے کے بعد لوک سبھا کا انتخاب لڑا ہی نہیں اور اس کے پہلے جب لوک سبھا کا انتخاب لڑا تو ہار گیا۔ اندرا جی کے وقت تک، بلکہ کہیں کہ اٹل بہاری واجپئی کے وقت تک عام طور پر یہ مانا جاتا تھا کہ آپ وزیر اعظم بھلے ہی راجیہ سبھا کا ممبر ہوتے ہوئے بن جائیں، لیکن آپ کو سیدھے الیکشن میں یعنی لوک سبھا کا انتخاب جیت کر وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری یقینی بنانی چاہیے۔ لیکن منموہن سنگھ نے نہ کبھی انتخاب لڑنے کے بارے میں سوچا اور نہ کانگریس پارٹی نے ان سے کہا کہ آپ لوک سبھا کا انتخاب لڑیں اور اخلاقی طور پر وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کو یقینی بنائیں۔ ایک خوشی کی بات ہے کہ راہل گاندھی راجیہ سبھا میں آ سکتے تھے، لیکن وہ نہیں آئے۔ انہوں نے لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور اس کے رکن بنے۔ سونیا گاندھی بھی راجیہ سبھا میں آ سکتی تھیں، لیکن وہ راجیہ سبھا میں نہیں آئیں، لوک سبھا کی رکن بنیں۔ لیکن کیوں منموہن سنگھ کو انتخاب لڑنے کے لیے راہل گاندھی یا سونیا گاندھی نے آج تک نہیں کہا، یہ راز کی بات ہے۔ راجیہ سبھا دھیرے دھیرے اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے۔ راجیہ سبھا کے ممبروں، جن میں حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں شامل ہیں، راجیہ سبھا چلانے والے قائم مقام چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اخیر میں چیئرمین کے برتاؤ سے بھی راجیہ سبھا کا وقار گھٹتا اور بڑھتا ہے۔
لوک پال پر بحث کے دوران ہم نے دیکھا کہ جہاں بہت سارے ممبروں نے مدلل باتیں رکھیں، وہیں کئی ممبران نے غیر مدلل باتیں بھی رکھیں۔ برسر اقتدار پارٹی نے راجیہ سبھا کا استعمال کچھ اس طرح کیا، گویا وہ بدعنوانی کی حمایت میں کھڑی ہے۔ بدعنوانی ختم ہوگی یا نہیں، یہ الگ چیز ہے۔ شاید اس کا فیصلہ ملک کے لوگ کریں گے اور جب وہ خود اپنا ذہن بنا لیں گے کہ انہیں بدعنوانی برداشت نہیں کرنی ہے، تو وہ ایسے لوگوں کو منتخب کرکے بھیجیں گے، جو ان کی امیدوں کو پورا کریں۔ پر ابھی تو راجیہ سبھا کے ممبر مجموعی طور پر بدعنوانی کے خلاف لڑتے نہیں دکھائی دیے۔ کانگریس پارٹی کا ایک رخ، بھارتیہ جنتا پارٹی کا دوسرا رخ اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا تیسرا رخ۔ کیا کہیں، یہ ماننے کا دل نہیں کرتا کہ راجیہ سبھا کے ممبر عقل میں کم ہیں یا سمجھداری میں کم ہیں۔ تو پھر یہی ماننے کا من کرتا ہے کہ راجیہ سبھا کے ممبر اور چیئرمین، سب نے ایک ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ لوک پال بل کے اوپر بامعنی بحث نہیں ہونی ہے اور راجیہ سبھا بدعنوانی سے سیدھے سیدھے لڑتی نہیں دکھائی دینی ہے۔ ایک اور اہم بات ہے۔ جب راجیہ سبھا میں کوئی ممبر پہنچتا ہے تو پہلے عام طور پر یہ مانا جاتا تھا کہ وہ صرف اپنے حلقے کا نمائندہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مجلس کا رکن ہوا ہے، جو پورے ملک کے بارے میں غور کرتی ہے اور وہاں پہنچنے والے ممبر مختلف پارٹیوں سے آتے ہیں، لیکن نقشہ ان کے سامنے پورے ملک کا ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا کے بارے میں تو یہ رائے بہت دنوں تک رہی کہ یہاں آنے والے لوگ اپنی پارٹی کی سطحی لائن سے متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ملک کو سامنے رکھ کر بحث کرتے ہیں، بات کرتے ہیں، صلاح دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں راجیہ سبھا کی تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔
بھوپیش گپتا صاحب کے بیان، راج نارائن جی کی تقریر، سب سے اہم کانگریس پارٹی میں رہتے ہوئے چندر شیکھر جی کے ذریعے ملک کے سب سے امیر گھرانے کے خلاف چلائی گئی مہم راجیہ سبھا کی تاریخ کے سنہرے صفحات ہیں۔ جب ہم راجیہ سبھا کی پرانی بحثیں دیکھتے ہیں تو ایسے ممبر ہمیں کم نظر آتے ہیں، جو پارٹی لائن کے اوپر راجیہ سبھا کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہوں، بلکہ زیادہ تر ایسے لوگ ملتے ہیں، جو راجیہ سبھا کو بہت سنجیدگی سے چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ پر لوک پال بل پر بحث کے دوران جس طرح کا برتاؤ راجیہ سبھا کے اراکین نے کیا، صرف برتاؤ ہی نہیں کیا، بلکہ کیا برتاؤ کرنے جا رہے ہیں، اس کی معلومات بھی وہ صحافیوں کو دیتے رہے۔ ایک ٹی وی چینل تو بار بار ایس ایم ایس دکھاتا رہا اور کہتا رہا کہ اب راجیہ سبھا میں یہ ہونے والا ہے، اور وہی ہوا۔ اپنی تشہیر کی لالچ میں کئی ممبرانِ پارلیمنٹ نے راجیہ سبھا کے عزت و وقار کا بھی خیال نہیں رکھا۔ آخر میں حد تب ہو گئی، جب راجیہ سبھا کے چیئرمین عزت مآب حامد انصاری صاحب نے یہ خواہش نہیں ظاہر کی کہ اس بحث کا کوئی منطقی نتیجہ نکلے۔ پورا ملک دیکھ رہا تھا اور ہر آدمی امید کر رہا تھا کہ حامد انصاری صاحب راجیہ سبھا کو تب تک چلائیں گے، جب تک اس بحث کا منطقی نتیجہ ووٹ میں نہ دکھائی دے، لیکن حامد صاحب نے ایک تھوڑے سے شور و غل کو بنیاد بناکر راجیہ سبھا کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ راجیہ سبھا کے بہت سارے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ساری رات بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، پر اُن کے اوپر چیئرمین محترم نے کوئی دھیان نہیں دیا۔
ملک کے لوگ امید تو کر رہے تھے، لیکن سبھی جانتے تھے کہ جیسے ہی گھڑی کی سوئیاں بارہ کا نمبر پار کریں گی، یہ ایوان غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا۔ راجنیتی پرساد، جو آر جے ڈی کے راجیہ سبھا کے ممبر ہیں، وہ کاغذ ایوان میں پھاڑ کر پھینکیں گے، یہ بات ایک چینل پہلے ہی بتا چکا تھا۔ یہ ساری معلومات کون دے رہا تھا؟ خود راجیہ سبھا کے لوگ۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ پہلی بار ہمیں پارلیمنٹ، ملک کو کمزور کردینے والے سوالات اور بدعنوانی سے لڑتی نظر نہیںآئی۔ لیکن وہ کم سے کم ناٹک ضرور کر تی ہے اور دکھاتی ہے کہ وہ فکر مند ہے۔ لیکن اب وہ پردہ بھی راجیہ سبھا نے ہٹانے کی کوشش کی۔ الگ الگ تقریر سب کی اچھی تھی۔ ارون جیٹلی نے اچھی تقریر کی، سیتا رام یچوری نے اچھی تقریر کی، شیوانند تیواری نے اچھی تقریر کی، ابھشیک منو سنگھوی نے اچھی تقریر کی، رام جیٹھ ملانی نے اچھی تقریر کی، لیکن اگر پوری تصویر کو دیکھیں تو پائیں گے کہ ساری تقریر مل کر کوئی ایک سمت طے نہیں کرتی۔ میرے جیسے لوگوں کو، جو راجیہ سبھا سے بہت امید کرتے ہیں، لوک پال بل پر ہوئی بحث دیکھ کر بہت ناامیدی ہوئی۔ ملک میں بہت سے لوگوں کو ناامیدی ہوئی۔ ہم ایک اپیل کرنا چاہتے ہیں راجیہ سبھا کے ممبروں اور چیئرمین سے، کہ آپ اپنے اندر اگر لوک سبھا سے زیادہ سنجیدگی لا سکتے ہیں تو لے آئیے اور ملک کے لوگوں کے من میں اِس اعتماد کو مت ٹوٹنے دیجئے کہ آپ اُن سمجھدار لوگوں میں سے ہیں، جن کے اوپر ملک کا اعتماد ہے۔ آپ ایسے لوگ ہیں، جو اگر کچھ نہ کر سکیں، لیکن غلط بات کے خلاف اپنا ہاتھ ضرور کھڑا کر سکتے ہیں۔ امید ہے، ہمارا بھروسہ آپ قائم رکھیں گے۔  g

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *