ملائم سنگھ کے خاندان میں اکھلیش اور شیو پال آمنے سامنے

روبی ارون
یو پی  میں سماجوادی پارٹی کا یہ نیا چہرہ ہے، جہاں پالیسیوں پر علیحدگی ہے، ٹکراؤ ہے، اقتدار پر قابض ہونے کی خواہش ہے اور پارٹی میں بالادستی قائم کرنے کو لے کر اندر ہی اندر سلگ رہا غصہ ہے۔ یہ اکھلیش یادو کا سماجواد ہے، جو اُن کے والد ملائم سنگھ کے سماجواد کے بالکل برعکس ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے کسی بھی اتار چڑھاؤ میں اپنے جس کنبے کو ایک ڈور میں باندھے رکھا تھا، ان کا وہی کنبہ اب انتشار کے دہانے پر ہے۔ بھائی شو پال سنگھ یادو، بیٹے اکھلیش یادو اور بیوی سادھنا گپتا کی خواہشوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کی بولتی بند ہو چکی ہے۔ اتر پردیش میں جیت کا سہرا کس پارٹی کے سر بندھے گا، اس پر فی الحال قیاس لگائے جا رہے ہیں، لیکن ملائم سنگھ کے گھر میں وزیر اعلیٰ کون بنے گا، اس پر جنگ چھڑ چکی ہے۔ دریں اثنا، ملائم سنگھ یادو کی بیوی سادھنا گپتا اپنے بیٹے پرتیک یادو اور بہو کو بھی انتخابی میدان میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ اُدھر ملائم سنگھ کے بھتیجے دھرمیندر یادو بھی چچا ملائم سے بے حد ناراض ہیں، حالانکہ دھرمیندر نے اپنے غصے کے غبار کو دبا رکھا ہے، لیکن وہ اکثر اس بات کی جھلاہٹ اپنے قریبی لوگوں کے درمیان نکالتے دیکھے، سنے جاتے ہیں کہ ملائم سنگھ بیٹے کی محبت میں اندھے ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنی پوری طاقت اکھلیش کو وزیر اعلیٰ بنانے میں جھونک دی ہے۔
دھرمیندر بھی رکن پارلیمنٹ ہیں اور ان کی دلی خواہش کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ یہ دیگر بات ہے کہ دھرمیندر اور اکھلیش اوپری طور پر کافی قریبی نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود دھرمیندر اگر خاموش ہیں، تو اس کی بڑی وجہ ہے، انہیں موقع کا انتظار ہے۔ ویسے صوبہ میں جب ملائم سنگھ کی حکومت تھی، تب دھرمیندر کی حکومت میں خوب دھمک رہتی تھی۔ اکھلیش کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں لگے ملائم سنگھ سے ان کا دوسرا بیٹا پرتیک بھی ناراض ہے۔ ویسے پرتیک زیادہ خود غرض نہیں ہے، لیکن اس کی ماں سادھنا اسے اس کا حق دلانے کے لیے کافی پرجوش اور بے قرار ہیں۔ پرتیک اب تک سیاست سے دور تھے، لیکن ان کی شادی کے بعد ماں سادھنا نے ان کی خواہشوں کو پروان چڑھایا۔ سادھنا گپتا چاہتی ہیں کہ جس طریقے سے نیتا جی نے اکھلیش کو سیاست میں آگے بڑھایا، اسی طرح وہ پرتیک کا بھی کریئر سنواریں۔ حالت یہ ہے کہ ملائم سنگھ کے کنبے کے تمام رکن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کنبہ اقتدار میں آئے اور وہی وزیر اعلیٰ بن جائیں۔
ان تمام قیاس آرائیوں کو درکنار کرتے ہوئے اکھلیش یادو اپنی مرضی کے حساب سے پارٹی اور اس کی آئڈیالوجی کو مہمیز لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اکھلیش سماجوادی پارٹی کے صوبائی صدر ہیں اور وہ اپنے فوری اور سخت فیصلوں کے ذریعے سب کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی میں وہی ہوگا، جو یہاں کا صدر چاہے گا۔ اکھلیش یادو کے اس رویے سے گھر ہی نہیں، پارٹی کے اندر بھی کئی گروہ بن چکے ہیں، جو اکھلیش سے ہونے والی کسی بڑی چوک کا انتظار کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں تک جن لوگوں کو ملائم سنگھ عزت بخشتے تھے، انہیں آج اکھلیش سماجواد کا نیا فلسفہ سمجھانے میں لگے ہیں۔ جو اِس راستے میں اکھلیش کا روڑا بن رہا ہے، اسے منھ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ اب وہ چاہے چچا شو پال سنگھ یادو ہوں یا کبھی پارٹی کی بے حد اہم شخصیت رہے اعظم خاں ہو ں یا پھر قومی ترجمان کا عہدہ گنوا چکے موہن سنگھ ہوں۔ سب سے زیادہ اگر کوئی خم ٹھونکے بیٹھا ہے، تو وہ ہیں چچا شو پال سنگھ یادو۔ جب ملائم سنگھ نے اکھلیش کو صوبائی صدر بنایا، تب شو پال کو یہ خراب تو بہت لگا، پر حالات کو دیکھتے ہوئے وہ خاموش رہے۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کی کمان سنبھالتے ہی، اکھلیش یادو نے نوجوانوں کو جوڑنے کی مہم شروع کی۔ لوگ اکھلیش کا موازنہ کانگریس کے یو راج راہل گاندھی سے کرنے لگے۔ اکھلیش یادو نے اپنے کرانتی رتھ کے ساتھ اتر پردیش کا دورہ اسی لیے کیا، تاکہ چچا شو پال سنگھ یادو کا اثر کچھ کم ہو سکے۔ باوجود اس کے، ووٹنگ سے پہلے ہی پارٹی کا ایک گروہ شو پال سنگھ یادو کی وکالت کر رہا ہے، وہیں دوسرا خیمہ اکھلیش یادو کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے پر کمربستہ ہے۔
ملائم سنگھ یادو کی دخل اندازی کے بعد بھی یہ خیمے بازی بڑھتی جا رہی ہے۔ دراصل، شو پال سنگھ سے پریشان پارٹی کے کچھ کارکنوں نے اکھلیش کو یہ سمجھا دیا کہ سیاست میں کوئی کسی کا نہیں ہوتا، اس میں تو صرف اقتدار حاصل کرنا ہی مقصد اور بنیادی اصول ہوتا ہے۔ بس یہیں سے سارا تنازع شروع ہوا۔ اکھلیش یادو کو لگا کہ اب انہیں اپنی عظمت اور طاقت دونوں ہی ثابت کرنی ہوگی۔ اکھلیش نے شو پال سنگھ یادو کے فیصلوں کو کھلے عام خارج کرنا شروع کردیا۔ کانپور میں شو پال سنگھ یادو نے مایاوتی کے سب سے قریبی وزیر نسیم الدین صدیقی کے بھائی حسیم الدین صدیقی کو اپنے سامنے سماجوادی پارٹی کی رکنیت دلوائی۔ اس بات سے بی ایس پی خیمے میں ہنگامہ مچ گیا۔ شو پال سنگھ یادو کے اس قدم کی تعریف ہونے لگی۔ تب اکھلیش یادو کے قریبی لوگوں نے انہیں سمجھایا کہ اس سے تو شو پال سنگھ یادو کے قد اور شہرت دونوں میں ہی اضافہ ہو جائے گا۔ بس پھر کیا تھا، جوش سے بھرے ہوئے، بغیر کچھ سوچے سمجھے اکھلیش یادو نے اعلان کر دیا کہ حسیم الدین صدیقی سماجوادی پارٹی میں نہیں ہیں۔ اکھلیش کے اس قدم سے شو پال سنگھ تلملا گئے اور انہوں نے اس بات کو اپنی آن سے جوڑ لیا۔ شو پال سنگھ نے فوراً جوابی حملہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حسیم الدین کو انہوں نے پارٹی جوائن کرائی ہے اور وہ پارٹی میں ہی ہیں۔
بات بڑھتی، اس کے پہلے ہی ملائم سنگھ نے بھائی -بھائی کا حوالہ دے کر معاملہ رفع دفع کردیا۔ ظاہر ہے، ملائم سنگھ کی اس کوشش نے اکھلیش کو اور بھی بیباک کر دیا۔ اکھلیش اتنے منھ پھٹ ہو چکے ہیں کہ وہ پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں کو ان کی حیثیت بتانے میں ایک پل نہیں لگاتے۔ اعظم خاں جیسے شہ زور اور قد آور لیڈر کو بھی ان کی جگہ بتانے میں اکھلیش کو گریز نہیں۔ اعظم خاں نے اپنے گھر میں ڈی پی یادو کو بلاکر اعلان کیا کہ ڈی پی یادو اُن کے ساتھ ہیں۔ ڈی پی یادو نے بھی کہا کہ انہوں نے نیتا جی سے اپنے اختلافات دور کر لیے ہیں اور اب وہ سماجوادی پارٹی کے سپاہی بن کر اس کے لیے کام کریں گے۔ پر اکھلیش یادو کو یہ بات بے حد ناگوار گزری کہ ان سے پوچھے بغیر اعظم خاں نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے لیا۔ لہٰذا، اکھلیش نے چچا شو پال سنگھ کی طرح اعظم خاں کو بھی پلٹ وار کرتے ہوئے نپٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پی یادو سمیت کسی بھی مجرم کے لیے سماجوادی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اعظم خاں پہلے تو ان کے اس بیان پر حیران رہ گئے، ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جب ملائم سنگھ ان کی بات نہیں کاٹ سکتے، تو بھلا اکھلیش یادو اُن کی مرضی کو کیسے بکواس بتا سکتے ہیں۔ یکبارگی اعظم خاں نے مخالفت بھی کرنی چاہیے، پر پارٹی کے ترجمان موہن سنگھ کا حشر دیکھ کر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ حالانکہ ڈی پی یادو کے خلاف ملائم سنگھ کے بھتیجے دھرمیندر بھی تھے، کیوں کہ ڈی پی یادو کی نظر ان کے حلقہ انتخاب بدایوں پر تھی۔ وجہ جو بھی ہو، پر اعظم خاں کے بارے میں ایک بات سب کو معلوم ہے کہ وہ اپنی بے عزتی جلدی نہیں بھولتے۔ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کھلے طور پر اعظم خاں بھلے ہی کچھ نہ کہیں، لیکن موقع ملتے ہی وہ بل کھانے سے نہیں چوکتے۔ اعظم خاں کے حمایتی بھی اکھلیش کے رویے سے ناراض ہو کر الگ گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں صوبے کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب لیے سیاسی جنگ لڑ رہے اکھلیش کی راہ آسان نہیں دکھائی دے رہی ہے، کیوں کہ جو ان کے خلاف کھڑے ہیں، ان میں سے زیادہ تر ان کے اپنے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ غیروں سے تو آپ نپٹ لیتے ہیں، پر اپنوں کی مخالفت بھاری پڑ جاتی ہے۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *