لوک پال بل پر سرکاری ڈرامہ

ڈاکٹر منیش کمار

پانچ جون، 1975 کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں لالو پرساد یادو نے کہا تھا کہ اس پارلیمنٹ کو آگ لگا دو۔ اگلے دن اخباروں نے اُن کے اسی جملے کو اس خبر کی سرخی بنائی۔ لالو یادو اُس وقت زمانۂ طالب علمی کے لیڈر تھے، نوجوان تھے اور جے پرکاش جی کی تحریک کے اہم رکن تھے۔ 29 دسمبر، 2011 کو لالو یادو واقعی پارلیمنٹ کو آگ لگانے کا کام کر رہے تھے۔ راجیہ سبھا میں دن بھر لوک پال بل پر بحث ہو تی رہی۔ سرکار کے پاس بل کو پاس کرانے کے لیے اکثریت نہیں تھی۔ رات نو بجے سے ایسی خبریں آنے لگیں کہ سرکار جان بوجھ کر ہنگامہ کرنے والی ہے۔

جنہیں پارلیمنٹ کے وقار کا خیال تھا، جنہیں پارلیمنٹ میں سول سوسائٹی کا دخل پسند نہیں تھا، جن پر پارلیمنٹ کی ساکھ بچانے کی ذمہ داری تھی، جن کے سامنے تاریخ رقم کرنے کا موقع تھا، وہ چوک گئے اور انہوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ کانگریس پارٹی نے لوک پال پر جو کیا، اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ملک چلانے والوں میں بدعنوانی ختم کرنے کی سیاسی قوتِ ارادی نہیں ہے۔ بدعنوانی کے اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے سرکار کو قانون بنانا تھا، لیکن اس نے بدعنوانی کو بڑھاوا دینے والا ایک اندھا قانون بنانے کی پہل کی ہے۔

بحث کو طول دے کر 12 بجا دیا گیا اور پھر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ رات کے 10 بج کر 50 منٹ پر لالو یادو کی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل کے رکنِ پارلیمنٹ راجنیتی پرساد تقریر کر رہے تھے۔ پورا ملک راجیہ سبھا کو لائیو دیکھ رہا تھا۔ تبھی ایک انگریزی چینل کے ایڈیٹر – اینکر نے اپنے رپورٹر سے کچھ تازہ جانکاری مانگنے کے لیے سوال پوچھا۔ راجنیتی پرساد کا نام سنتے ہی اُس رپورٹر نے سرکار کا پورا پلان بتا دیا۔ 10 بج کر 50 منٹ پر اُس رپورٹر نے بتایا کہ راشٹریہ جنتا دل، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو ایوان میں ہنگامہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وزیر سوالوں کے جواب دیں گے، تب ہنگامہ ہوگا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس پارٹی اور اِن پارٹیوں کے درمیان یہ پلاننگ ہوئی ہے کہ جب وزیر موصوف اقلیتوں کے ریزرویشن کے معاملے پر بولنا شروع کریں گے، اسی وقت راجنیتی پرساد انہیں روکیں گے۔ اِس رپورٹر نے جیسی جانکاری دی، بالکل ویسا ہی ہوا۔ جب پی ایم او میں وزیر مملکت نارائن سامی جواب دے رہے تھے، تبھی راجنیتی پرساد نے اُن سے بل کی کاپی چھین کر اُسے پھاڑ دیا اور ہال میں اچھال کر پھینک دیا۔ راجیہ سبھا میں ہنگامہ مچانے کی پلاننگ کو حتمی شکل دینے والے لالو یادو پارلیمنٹ میں موجود تھے اور جب یہ شرمناک واقعہ رونما ہو رہا تھا، اس وقت لالو یادو گیلری میں پورے نظارے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہنگامہ ہوا۔ ایوان کی کارروائی روک دی گئی۔ اپوزیشن یہ کہتا رہ گیا کہ وہ پارلیمنٹ میں لگاتار بیٹھنے اور ووٹنگ کرانے کو راضی ہے، لیکن راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری نے غیر معینہ مدت کے لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کرتے ہوئے راشٹر گان شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ پورا ملک حیران اور شرمسار ہو کر اس ڈرامے کو دیکھ رہا تھا۔ لوک پال بل لٹک گیا اور پارلیمنٹ پر دھبہ لگ گیا۔ اس طرح بدعنوانی کے خلاف سخت قانون بنانے نکلی سرکار کے ذریعے جمہوریت میں بدعنوانی کی نئی تاریخ لکھ دی گئی۔
سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے، یہ شروعات سے ہی لگ رہا تھا۔ جو لوک پال قانون سرکار نافذ کرنا چاہتی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے۔ جب سے لوک پال کو لے کر تنازع شروع ہوا، تب سے دو دو لوک پال بلوں کی بات چلی۔ ایک وہ، جو سرکار بنانا چاہتی تھی اور دوسری وہ، جو انا ہزارے کی ٹیم نے تیار کیا تھا، جسے جن لوک پال بل کہا جاتا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف ایک مضبوط لوک پال بنے، اس کے لیے انا ہزارے نے 5 اپریل، 2011 کو دہلی کے جنتر منتر پر اَنشن شروع کیا، انہیں لوگوں کی بے پناہ حمایت ملی۔ سرکار بھی ڈر گئی کہ دہلی میں کہیں مصر جیسی حالت نہ ہو جائے۔ اس لیے سرکار نے بل کو تیار کرنے کے لیے ایک جوائنٹ کمیٹی بنائی، جس میں ٹیم انا کے پانچ اراکین شامل کیے گئے۔ ٹیم انا کی طرف سے انا ہزارے، شانتی بھوشن، پرشانت بھوشن، سنتوش ہیگڑے اور اروِند کجریوال تھے، تو سرکار کی طرف سے پرنب مکھرجی، کپل سبل، پی چدمبرم، ابھشیک منو سنگھوی اور سلمان خورشید تھے۔ سرکار کے پاس اُس وقت بھی لوک پال بل کا ایک مسودہ تھا۔ جوائنٹ کمیٹی میں ٹیم انا نے کچھ مشورے دیے۔
سرکار کی نیت میں کھوٹ تھی، اس لیے اُس نے ٹیم انا کی بات نہیں مانی۔ آخر اس نے جوائنٹ کمیٹی کا ڈرامہ کیوں کیا؟ اس جوائنٹ کمیٹی میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ دونوں ہی لوک پال بل کابینہ کے سامنے رکھے جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انا نے رام لیلا میدان میں اَنشن کیا۔ تیرہ دنوں کے بعد سرکار اور انا میں سمجھوتہ ہوا۔ وزیر اعظم نے خط لکھ کر سینس آف ہاؤس کو لاگو کرنے کا یقین دلایا۔ انا کی یہ مانگ تھی کہ لوک پال بل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پاس کر دیا جائے گا۔ سرکار نے سرمائی اجلاس کے دوران لوک پال بل پیش کیا۔ سرکار کی چال، کردار اور چہرہ اجاگر ہو گیا۔ انا ہزارے کی تحریک سے پہلے سرکار نے لوک پال قانون کا جو مسودہ تیار کیا تھا، اس کے مقابلے موجودہ سرکاری لوک پال بل کی ہیئت خراب اور کمزور ہے۔
ملک کے جذبات کیا ہیں۔ ملک کے جذبات یہی ہیں کہ سرکار بدعنوانی کے خلاف ایک سخت قانون لائے۔ ایک ایسا قانون، جس سے بدعنوانی کو مٹایا جاسکے۔ سرکار نے نہ ملک کے جذبات کا خیال رکھا اور نہ وہ پارلیمنٹ کے جذبات کو لاگو کرنا چاہتی ہے۔ سینس آف دی ہاؤس کیا تھا۔ پارلیمنٹ میں یہ طے ہوا تھا کہ لوک پال بل میں سی اور ڈی کیٹیگری کے ملازم لوک پال کے ماتحت ہوں گے اور سٹیزن چارٹر کو لوک پال میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبوں میں لوک آیکت کی تشکیل لوک پال قانون کے تحت ہی ہوگی، لیکن سرکار نے جو وعدہ کیا تھا، اسے نہیں نبھایا۔ سٹیزن چارٹر بل کو الگ کر دیا گیا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے لیے الگ انتظام ہے اور نچلے ملازمین کو لوک پال کی جگہ سنٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی) کے دائرۂ اختیار میں دے دیا گیا۔ اگر یہ قانون پاس ہو گیا ہوتا تو نچلے درجے کے ملازمین کی بدعنوانی لوک پال کے تحت نہیں آتی۔ فوج کی بدعنوانی کی تحقیقات کرنے کا اختیار لوک پال کے پاس نہیں ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کی بدعنوانی بھی اب لوک پال کے دائرے سے باہر کر دی گئی ہے۔ عدلیہ بھی لوک پال کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ پارلیمنٹ میں سرکاری فریق نے اپنی کرکری خود کرائی۔ لوک سبھا میں سرکاری لوک پال بل میں کل 55 ترامیم پر ووٹنگ ہونی تھی، جن میں سے صرف 9 ترامیم ہی پاس ہو پائیں۔ یہ نو ترامیم وہ تھیں، جنہیں سرکاری فریق کی طرف سے رکھا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سرکار نے خود بل تیار کیا اور خود ترمیم کی عرضی بھی لگائی۔
سرکار کی منشا دیکھئے، ایسا لگتا ہے کہ لوک پال قانون بنانے والوں کو بدعنوان لوگوں کی فکر زیادہ ہے۔ سرکاری لوک پال قانون کے مطابق، اگر کسی آفیسر کے خلاف بدعنوانی کے الزام لگتے ہیں تو اسے سرکار کی طرف سے وکیل دیا جائے گا۔ مطلب یہ کہ بدعنوان افسروں کو وکیل پر پیسہ بھی نہیں خرچ کرنا پڑے گا۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص لوک پال کے پاس کسی افسر کے خلاف شکایت درج کرائے گا تو سرکار اُس افسر کو وکیل مہیا کرائے گی، تاکہ وہ عدالت میں شکایت کرنے والے پر یہ مقدمہ کر سکے کہ اُس کے خلاف لگائے گئے الزام فرضی ہیں۔ سرکار افسروں کو بچانے کے لیے ایک اور قانون بنانا چاہتی ہے۔ ملزم افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے سے پہلے اسے ایک نوٹس دے کر پوچھا جائے گا کہ اس کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہ درج کرائی جائے۔ ساتھ ہی اس کے خلاف جتنے ثبوت ہیں، وہ اسے دکھائے جائیں گے۔ ملزم اُس نوٹس کا پہلے جواب دے گا، تب جاکر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاسکے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس افسر پر بدعنوانی کا الزام لگے گا، اس سے پہلے پوچھا جائے گا کہ اس کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ اگر اس کے خلاف کارروائی ہوئی بھی تو پہلے سارے ثبوت اس کے سامنے رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ سرکار ایسا قانون بنانا چاہتی ہے، جس میں بدعنوانی کا معاملہ جانچ اور کارروائی کے لیے دفتروں میں گھومتا رہے گا اور بدعنوان افسر کو اتنا وقت مل جائے گا کہ وہ سارے ثبوت مٹا سکے۔ پہلے جو قانون لایا جا رہا تھا، اس میں یہ انتظام تھا کہ بدعنوان کے ہر ایک معاملے کو چھ ماہ کی مدت کے اندر نمٹا دیا جائے گا۔ اب یہ ضروری مدت ہٹا لی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ اب کسی گھوٹالے کی جانچ کئی سالوں تک چل سکتی ہے۔ جیسا کہ بڑے بڑے گھوٹالوں میں ہوا، جانچ اور عدالت میں سنوائی ہوتے ہوتے زمانہ گزر گیا اور گھوٹالے باز چھوٹ گئے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ انتظام سرکار نے لوک سبھا میں ترمیم کے تحت کیا۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ سرکار بدعنوان لوگوں کو پکڑنا چاہتی ہے یا پھر انہیں بچنے کا راستہ دینا چاہتی ہے۔ لوک پال قانون بنانے والوں کی مہارت دیکھئے۔ اگر کوئی غریب آدمی غلطی سے چوری کر لیتا ہے تو پولس اسے فوراً گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیتی ہے اور اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے، اسے بولنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ قانون میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی رحم نہیں ہے۔ سرکار نے جو لوک پال بل تیار کیا، اس کے پیچھے کی دلیل یہی لگتی ہے کہ وہ یہ مانتی ہے کہ ملک کے افسر ایماندار ہیں۔
نچلے درجے کے ملازمین کو سی وی سی کے ہاتھوں سونپ دیا گیا ہے۔ ملک میں 60 لاکھ سرکاری ملازم ہیں، جو مرکزی حکومت سے جڑے ہیں۔ ان میں سے صرف 3 لاکھ ملازم ہی لوک پال کے دائرے میں ہیں۔ لوک پال کے پاس صرف اے اور بی گروپ کے آفیسر ہیں۔ سرکار کی دلیل ہے کہ سارے ملازمین کو لوک پال کے تحت نہیں رکھا جاسکتا ہے، کیوں کہ یہ تعداد کافی زیادہ ہے۔ اگر یہ دلیل ہے تو انہیں سی وی سی کو کیوں دے دیا گیا، کیا سی وی سی کے پاس اتنے لوگ ہیں یا اس کی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ 57 لاکھ ملازمین کی بدعنوانی کے معاملوں کی تحقیقات کر سکے۔ سرکار نے یہ دلیل دے کر نچلے درجے کے ملازمین کو تو نکال دیا، لیکن ان کی جگہ کروڑوں اداروں اور لوگوں کو لوک پال کے حوالے کر دیا۔ ملازمین کو باہر نکال کر سرکار نے پرائیویٹ اداروں، مٹھ، مسجد، گرودوارے، چرچ، ٹرسٹ، یوتھ کلب، پرائیویٹ اسکول و کالج اور اسپتال، سب کو لوک پال کے دائرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ جو بھی آدمی یا ادارے چندہ اکٹھا کرتے ہیں، انہیں لوک پال کے دائرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ لوک پال کا مسودہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکار نے وہی کیا، جو وہ پہلے کرنا چاہ رہی تھی۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ لوک پال کی تقرری کون کرے گا۔ اس کی تقرری کے لیے پانچ لوگوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں وزیر اعظم، اسپیکر، چیف جسٹس، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر اور صدر کے ذریعے نامزد ایک جسٹس کو شامل کیا جائے گا۔ مطلب یہ کہ چیف جسٹس اور حزب اختلاف کے لیڈر کے علاوہ تمام ممبر حزبِ اقتدار کے ہوں گے اور سرکار اپنے حساب سے لوک پال کا انتخاب کرے گی۔ اس طرح لوک پال بھی سیاست سے  متاثر ہو جائے گا۔ جو حال گورنر کے عہدے کا ہے، اسی طرح سرکار اپنی پارٹی کے ریٹائر لوگوں کو لوک پال بنا دے گی یعنی سرکار جسے چاہے گی، اسے لوک پال بنائے گی۔ سرکار ہی لوک پال کو ہٹا سکتی ہے، جب چاہے اسے برطرف کر سکتی ہے۔ انا ہزارے کی ٹیم نے لوک پال کو ہٹانے کا اختیار عوام کو دیا تھا۔ جن لوک پال مسودے کے مطابق، کوئی بھی عام شہری لوک پال کے خلاف سپریم کورٹ جا سکتا ہے اور اسے ہٹوا سکتا ہے، لیکن سرکاری لوک پال کو ہٹانے کا حق صرف اور صرف سرکار کے پاس رہے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوک پال پوری طرح سرکار کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن جائے گا۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ سرکار جو لوک پال مقرر کرے گی اور اس کی برطرفی، برخاستگی کا اختیار اپنے پاس رکھے گی، وہ لوک پال وزیروں، وزارتوں اور بڑے بڑے افسروں کے خلاف کارروائی کیسے کر سکے گا؟ جس طرح سی وی سی سرکار کے وزیروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی، اسی طرح لوک پال بھی سی بی آئی اور سی وی سی جیسا بیکار اور بے اثر ادارہ بن کر رہ جائے گا۔ منموہن سنگھ سرکار کا یہی مضبوط لوک پال ہے۔
لوک پال قانون بناتے وقت سرکار سے ایک اور غلطی ہوئی۔ اس غلطی کی شکار ہوئی ہے سی بی آئی یعنی ملک کی پریمیم جانچ ایجنسی۔ سرکار نے دو کام کیے۔ ایک تو سی بی آئی کو کمزور کیا اور اپنا شکنجہ بھی برقرار رکھا۔ لوک پال یا بدعنوانی سے لڑنے والے کسی بھی ادارہ کا تصور تفتیشی افسر کے بنا نہیں کیا جاسکتا، لیکن سرکار نے لوک پال تو بنایا، پر اسے جانچ کا کوئی اختیار نہیں دیا۔ اختیار صرف اتنا دیا گیا کہ وہ متعلقہ معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی یا کسی دوسری جانچ ایجنسی سے کرا سکتی ہے۔ جانچ میں کیا ہو رہا ہے، ملزم کو گرفتار کرنا ہے یا نہیں، اس کے گھر چھاپہ مارنا ہے یا نہیں، ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے کیا کرنا ہے وغیرہ باتوں سے لوک پال کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ تفتیشی افسر یا ایجنسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا، وہ صرف جانچ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ہی کارروائی کر سکتا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم، کامن ویلتھ گیمس یا پھر حسن علی کے معاملے میں جانچ ایجنسیوں نے کیا کیا، یہ جگ ظاہر ہے۔ سپریم کورٹ اگر پرو ایکٹیو نہ ہوتا تو ان بڑے بڑے گھوٹالوں میں کسی کو کچھ نہیں ہوتا۔ پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیوں نے ایک عجیب و غریب پیغام دیا ہے۔ لوک پال کے دائرے سے بڑی بڑی کمپنیوں کو باہر کر دیا گیا۔ اس کام میں سبھی پارٹیوں نے سرکار کی مدد کی۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ہو یا کامن ویلتھ گیمس کا گھوٹالہ، ملک میں بدعنوانی کا طریقہ بدلا ہے۔ آج جتنے بھی گھوٹالے ہوتے ہیں، ان میں بڑی بڑی کمپنیاں شامل رہتی ہیں، جو افسروں کو رشوت دیتی ہیں، کاغذوں پر الفاظ کے ہیر پھیر سے کروڑوں روپے کماتی ہیں۔ یہ بڑی بڑی کمپنیاں افسروں اور لیڈروں سے ہاتھ ملا کر ملک کی معدنیاتی دولت لوٹ رہی ہیں، کسانوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہیں۔ سرکاری لوک پال قانون میں اِن کمپنیوں کے خلاف کوئی انتظام نہیں ہے۔ اب ایسے میں نتیجہ یہی نکالا جاسکتا ہے کہ سرکار بدعنوانی کو ختم کرنا ہی نہیں چاہتی ہے، کیوں کہ ان کمپنیوں سے لیڈروں، افسروں اور سیاسی پارٹیوں کی کمائی ہوتی ہے۔ عوام کا سیاسی پارٹیوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ سرکار ہی اگر پارلیمنٹ میں ہنگامہ کرنے لگ جائے تو یہ افسوس ناک ہے۔ دوسری سیاسی پارٹیوں کا رویہ بھی ٹال مٹول والا رہا۔ ملک کے عوام کو اِن سیاسی پارٹیوں کا کردار پہچاننے کی ضرورت ہے۔ عوام کو ان کی جوابدہی طے کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ لوک پال بل ہمیشہ کے لیے لٹکا رہ جائے گا۔ انا ہزارے اور بدعنوانی سے لڑنے والے دیگر لوگوں کے سامنے چنوتی ہے۔ انہیں نئے سرے سے تحریک کا آغاز کرنا ہوگا، سرکار اور سیاسی پارٹیوں پر دباؤ بنانا ہوگا، تاکہ بدعنوانی کے خلاف ایک فیصلہ کن لڑائی کی شروعات ہو سکے۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *