ڈاکٹر منیش کمار 
ملک کی عدالتِعظمیٰ میں فوج اور حکومت آمنے سامنے ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستانی فوج کا یہ سب سے شرمناک امتحان ہے، جس میں بری فوج کے سربراہ کے ادارہ کو حکومت داغدار کر رہی ہے۔ پہلی بار آرمی چیف اور حکومت کے درمیان موجود تنازع کافیصلہ عدالت میں ہوگا۔ تنازع بھی ایسا، جسے سن کر پوری دنیا میں ہندوستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ آرمی چیف جنرل وجے کمار سنگھ کی تاریخ پیدائش کا ہے۔
حکومت کی ناراضگی کی کئی وجہیں ہیں۔ ہندوستانی فوج ایک ٹرک کا استعمال کرتی تھی۔ اس کا نام ہے ٹیٹرا ٹرک۔ ہندوستانی بری فوج ٹیٹرا ٹرک کا استعمال میزائل لانچر کی تعیناتی اور بہت زیادہ بھاری چیزوں کے ٹرانسپورٹیشن میں استعمال کرتی ہے۔ ان ٹرکوں کا پچھلا آرڈر فروری 2010 میں دیا گیا تھا۔ لیکن اس کی خرید میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کی شکایتیں سامنے آئیں تو آرمی چیف وی کے سنگھ نے اس سودے پر مہر لگانے سے انکار کر دیا۔ بھارت اَرتھ موورس لمیٹڈ یعنی بی ای ایم ایل کو جس وقت ان ٹرکوں کی سپلائی کا ٹھیکہ ملا، اس وقت ہندوستانی فوج کی کمان جنرل دیپک کپور کے ہاتھ میں تھی۔ قانون کے مطابق ہر سال آرمی چیف کو اس ڈیل پر دستخط کرنا ہوتا ہے، لیکن رشوت خوری سے لے کر پیمانوں کی خلاف ورزی تک کی شکایتوں کی وجہ سے جنرل وی کے سنگھ نے دستخط نہیں کیے۔
اس معاملے میں ایک پی آئی ایل سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ وہاں کیا ہوگا، یہ پتہ نہیں، لیکن اس تنازع کو لے کر جو بھرم پھیلا یا جا رہا ہے، اسے سمجھنا ضروری ہے۔ چوتھی دنیا نے اِس تنازع پر تحقیقات کی۔ تقریباً چھ ماہ قبل ہم نے اِس تنازع سے جڑے سارے حقائق کو سامنے رکھا۔ سارے دستاویز پیش کیے۔ سارے حقائق اور ثبوت اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہے، لیکن حکومت نے اس حقیقت کو ٹھکرا دیا اور بری فوج کے سربراہ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 مان لی۔ حکومت کی اِس ضد کا راز کیا ہے۔ حکومت کیوں ملک کے سپریم آرمی کمانڈر کو بے عزت کرنے پر تلی ہے، جب کہ یہ دن کے اجالے کی طرح صاف ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہے۔ ثبوت اتنے پختہ ہیں کہ سپریم کورٹ کے تین تین سابق چیف جسٹس نے اپنی رائے جنرل وی کے سنگھ کے حق میں دی ہے۔ اس کے باوجود اگر تنازع جاری ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرورہے۔
ایک بھرم پھیلا یا جا رہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے ہی اپنی تاریخ پیدائش کے تنازع کو اٹھایا ہے۔ میڈیا جھوٹی خبر دکھا رہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ اپنی تاریخ پیدائش کو بدلنا چاہتے تھے۔ یہ تنازع جنرل وی کے سنگھ نے نہیں اٹھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کو لے کر کبھی کوئی تنازع تھا ہی نہیں۔ جب سے وہ فوج میں آئے، تب سے 36 سال تک فوج کے سرکاری دستاویزوں، پروموشن اور ہر جگہ ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہی لکھی گئی۔ جب جنرل وی کے سنگھ آرمی چیف بنے، اُس وقت ایسی خبریں عام تھیں کہ پورے ملک میں آرمی کی زمین لوٹی جا رہی ہے۔ ملک کے الگ الگ علاقوں سے آرمی کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کی خبریں بک جانے والے ٹی وی چینلوں اور میڈیا میں لگاتار آ رہی تھیں۔ فوج کے آفیسر اور زمین مافیا مل جل کر اس کام کو انجام دے رہے تھے۔ سُکنا زمین گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس گھوٹالے میں سابق ملٹری سکریٹری لیفٹیننٹ جنرل اودھیش پرکاش کا نام آیا، تب وہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل دیپک کپور کے خاص صلاح کاروں میں شمار ہوتے تھے۔ سکنا زمین گھوٹالے پر جنرل وی کے سنگھ نے رپورٹ دی۔ لگا کہ فوج کی زمین کا سودا کرنے والے افسران کو سزا ملے گی، لیکن جنرل کپور نے خود سے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کے چند آفیسر زمین مافیا کے ساتھ مل کر فوج کی زمین کی بندر بانٹ کر رہے تھے۔ وی کے سنگھ کے آتے ہی یہ گورکھ دھندا بند ہو گیا۔ جنرل وی کے سنگھ نے فوج کو اس کی عظمت واپس دلائی۔ بدعنوانی کو روکا۔ ایسی کیا بات ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا تنازع تب اٹھایا گیا، جب اودھیش پرکاش کا نام سُکنا زمین گھوٹالے میں اجاگر ہوا۔
یہ تنازع جنرل وی کے سنگھ نے نہیں، بلکہ ملٹری کی سکریٹری برانچ نے شروع کیا ہے، وہ بھی تب، جب جنرل وی کے سنگھ فوج کو 36 سال کی اپنی خدمات دے چکے تھے۔ پورے 36 سال تک ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہی رہی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کسی بھی فوجی کی تاریخ پیدائش کے ریکارڈ کو رکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ کون سا ریکارڈ سرکاری طور پر قابل قبول ہے۔ قانون کے مطابق، یہ کام ملٹری کی ایڈجوٹینٹ برانچ کا ہے۔ حکومت کو ملک کے عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ اس نے ایڈجوٹینٹ برانچ کے ریکارڈ کو کیوں ترجیح نہیں دی، جب کہ یہی سرکاری طور پر مستند ہے۔ حکومت کی کیا مجبوری ہے، جس کی وجہ سے وہ اس تنازع میں سکریٹری برانچ کی بات کو سچ مان رہی ہے، جب کہ اِس برانچ کا کام افسروں کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا نہیں ہے۔
جو لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ انہوں نے این ڈی اے کے فارم میں اپنی تاریخ پیدائش10 مئی 1950 درج کرائی تھی، اس لیے ان کی تاریخ پیدائش یہ بتائی جا رہی ہے، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جنرل وی کے سنگھ جب این ڈی اے میں داخل ہو ئے تھے، تب ان کی عمر 15 سال تھی۔ مطلب یہ کہ وہ ایک نابالغ تھے، اور کسی نابالغ کے ذریعے بھرے گئے فارم کی قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ قانون کے مطابق، جب کوئی نابالغ کسی دستاویز کو پیش کرتا ہے تو اسے پورا ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے۔ قانون کی نظر میں تاریخ پیدائش کا سب سے بڑا ثبوت دسویں کلاس کا سرٹیفکیٹ مانا جاتا ہے۔ جنرل وی کے سنگھ کی دسویں کلاس کے سرٹیفکیٹ میں 10 مئی 1951 اُن کی تاریخ پیدائش ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ دو تین سال کے بعد این ڈی اے میں جمع کیا گیا، کیوں کہ اس زمانے میں اسکول اور کالج کے سرٹیفکیٹ بننے میں اتنا وقت لگ جاتا تھا۔ اس کے بعد سے ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہو گئی۔ 1997 میں ایڈجوٹینٹ جنرل برانچ نے لکھ کر دیا کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہے۔ 2007 میں بھی ایڈجوٹینٹ جنرل برانچ نے پھر یہ بتایا کہ ان کی صحیح تاریخ پیدائش 10 مئی 1951 ہے۔
میڈیا میں ایک خبر پھیلائی جا رہی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے 24 جنوری 2008 کو یہ مان لیا تھا کہ ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 ہے، جب کہ یہ معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ چوتھی دنیا اس تنازع پر پہلے ہی یہ اطلاع دے چکا ہے کہ اُس وقت کے آرمی چیف دیپک کپور نے یہ دباؤ بنایا تھا کہ وہ اپنی منظوری کا ایک خط لکھ کر دیں، نہیں تو ان کے خلاف ایکشن لیا جاسکتا ہے اور جنرل وی کے سنگھ نے یہ لکھ کر دیا تھا کہ ’’ایز ڈائریکٹیڈ بائی چیف آف آرمی اسٹاف، آئی ایکسیپٹ‘‘ (فوجی سربراہ کے حکم کے مطابق میں اسے قبول کرتا ہوں)۔ جنرل وی کے سنگھ کا انبالہ سے کولکاتا ٹرانسفر ہو گیا۔ انہوں نے پھر چیف آف آرمی اسٹاف کو خط لکھا کہ آپ نے مجھے بلایا، آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے معاملے کو وزارتِ قانون بھیج رہے ہیں۔ آپ پر چیف کے نیتا میرا پورا اعتماد ہے، لیکن آپ نے وعدہ کے حساب سے جو کہا تھا، وہ نہیں کیا، اخلاقی اور منطقی طور پر یہ صحیح نہیں ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے وہ خط رکھ لیا، جواب نہیں دیا۔ جب جنرل وی کے سنگھ ملنے گئے تو جنرل دیپک کپور نے کہا کہ میں کچھ نہیں کروں گا، تم چیف بننا تو خود ٹھیک کروا لینا اپنی تاریخ پیدائش۔ جنرل وی کے سنگھ خاموشی کے ساتھ واپس چلے آئے۔ اب حکومت اسی خط کو ایک ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
حکومت کی ناراضگی کی کئی وجہیں ہیں۔ ہندوستانی فوج ایک ٹرک کا استعمال کرتی تھی۔ اس کا نام ہے ٹیٹرا ٹرک۔ ہندوستانی بری فوج ٹیٹرا ٹرک کا استعمال میزائل لانچر کی تعیناتی اور بہت زیادہ بھاری چیزوں کے ٹرانسپورٹیشن میں استعمال کرتی ہے۔ ان ٹرکوں کا پچھلا آرڈر فروری 2010 میں دیا گیا تھا۔ لیکن اس کی خرید میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کی شکایتیں سامنے آئیں تو آرمی چیف وی کے سنگھ نے اس سودے پر مہر لگانے سے انکار کر دیا۔ بھارت اَرتھ موورس لمیٹڈ یعنی بی ای ایم ایل کو جس وقت ان ٹرکوں کی سپلائی کا ٹھیکہ ملا، اس وقت ہندوستانی فوج کی کمان جنرل دیپک کپور کے ہاتھ میں تھی۔ قانون کے مطابق ہر سال آرمی چیف کو اس ڈیل پر دستخط کرنا ہوتا ہے، لیکن رشوت خوری سے لے کر پیمانوں کی خلاف ورزی تک کی شکایتوں کی وجہ سے جنرل وی کے سنگھ نے دستخط نہیں کیے۔ قانون کے مطابق ٹیٹرا ٹرک کی خریداری سیدھے کمپنی سے ہونی چاہیے، لیکن بی ای ایم ایل نے ٹیٹرا سپاکس (یوکے) لمیٹڈ سے خریدی جو نہ تو خود آلات بناتی ہے اور نہ ہی آلات بنانے والی کمپنی کی ذیلی شاخ ہے۔ آلات بنانے والی بنیادی کمپنی کا نام ہے ٹیٹرا سپاکس اے ایس، جو سلوواکیہ کی کمپنی ہے۔ دراصل، بی ای ایم ایل ٹیٹرا ٹرکوں کی خرید کا پورا معاملہ شک کے گھیرے میں ہے۔ ایک انگریزی اخبار کے مطابق، وزارتِ دفاع کی طرف سے ابھی تک دیے گئے کل ٹھیکوں میں ایک بڑی رقم بطور رشوت دی گئی ہے، اور یہ پورا ریکٹ 1997 سے چل رہا ہے۔ بی ای ایم ایل میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ایک سابق اہل کار کے حوالے سے یہ بھی خبر آئی کہ ابھی تک یہ کمپنی ٹیٹرا ٹرکوں کی ڈیل سے جڑا کل پانچ ہزار کروڑ روپے تک کا کاروبار کر چکی ہے۔ یہ کاروبار ٹیٹرا سپاکس (یو کے) لمیٹڈ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسے سلوواکیہ کی ٹیٹرا سپاکس اے ایس کی ذیلی شاخ بتایا جا رہا ہے۔ بی ای ایم ایل کے اس سابق اہل کار کے مطابق، پانچ ہزار کروڑ روپے کے اس کاروبار میں 750 کروڑ بی ای ایم ایل اور وزارتِ دفاع کے عہدیداروں کو بطور رشوت دیے گئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے، بی ای ایم ایل کے ایک شیئر ہولڈر سینئر ایڈووکیٹ کے ایس پیریا سوامی صدر کی مداخلت اور سی بی آئی جانچ کی مانگ کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خرید کے لیے جتنی رقم کی منظوری دی جاتی ہے، اس کا کم از کم 15 فیصد کمیشن میں جاتا ہے۔ اوپر سے نیچے تک سب کو حصہ ملتا ہے۔ میں نے 2002 میں کمپنی کی اے جی ایم میں یہ مدعا اٹھایا تھا، لیکن اس پر بحث نہیں کی گئی۔ ایک مشہور بزنس اخبار نے یہاں تک لکھا کہ بی ای ایم ایل کے ٹیٹرا ٹرکوں کی ڈیل کو کارگر بنانے میں جٹی اسلحہ کاروباریوں کی لابی نے آرمی چیف کو آٹھ کروڑ کروپے کی رشوت کی بھی پیش کش کی تھی، جسے جنرل سنگھ نے ٹھکرا دیا۔
ٹرکوں کی مشکوک ڈیل کو لے کر 8 مئی 2005 کو میڈیا میں خبر آئی تھی۔ مذکورہ انگریزی اخبار نے ایک اور خلاصہ کیا کہ ٹیٹرا سپاکس (یو کے) لمیٹڈ کی تشکیل 1994 میں برطانیہ میں ہوئی تھی۔ جوزف مجسکی اور وینس پروجیکٹس لمیٹڈ اس کے شیئر ہولڈر تھے۔ سلوواکیہ کے جسٹس ڈپارٹمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، ٹیٹرا سپاکس اے ایس 1998 میں وجود میں آئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 1997 میں بی ای ایم ایل نے ایسی کمپنی کی ذیلی شاخ کے ساتھ معاہدہ کیا، جو اس وقت موجود نہیں تھی۔ ٹیٹرا سپاکس (یو کے) کی شیئر ہولڈنگ میں کئی بار تبدیلی ہوئی، لیکن سلوواکیہ کمپنی کے پاس کبھی اس کا ایک شیئر بھی نہیں رہا۔ بی ای ایم ایل کے چیئرمین وی آر ایس نٹراجن کے مطابق، انگلینڈ کے ویکٹرا گروپ کے پاس ٹیٹرا کمپنیوں کا مالکانہ حق ہے۔ ویکٹرا گروپ کے چیئرمین روندر رشی ہیں۔ ویکٹرا گروپ کے پاس ہی ٹیٹرا سپاکس (یو کے) کا بھی مالکانہ حق ہے۔ ٹیٹرا چیک کمپنی کے بھی زیادہ تر شیئر ویکٹرا گروپ کے پاس ہی ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آرمی چیف پر اس لیے اپنا عہدہ چھوڑنے کا دباؤ ہے، کیوں کہ انہوں نے ٹیٹرا ڈیل پر دستخط نہیں کیے تھے؟ کیا بی ای ایم ایل سیکنڈ ہینڈ ٹرکوں کا امپورٹ کر رہی ہے اور کیا سلو واکیہ میں مینوفیکچرنگ پلانٹ بند ہوگیا ہے؟ کیا پرانے ٹرکوں کی مرمت کو گھریلو پیداوار کے طور پر دکھایا جا رہا ہے؟ روند رشی کون ہے، اسے اتنے دفاعی سودوں کا ٹھیکہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس لابی کے لیے حکومت میں کام کرنے والے کون لوگ ہیں؟ اگر موجودہ حکومت ان سوالوں کا جواب نہیں دیتی ہے تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ آرمی چیف کو ٹھکانے لگانے کے لیے مافیا اور افسروں نے مل جل کر تاریخ پیدائش کا بہانہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ جنرل وی کے سنگھ نے فوج کی تجدید کاری کے لیے ایک پلان تیار کیا۔ یہ پلان وزارتِ دفاع میں لٹکا ہوا ہے۔ انہوں نے اس درمیان کئی ایسے کام کیے، جس سے آرمس ڈیلروں اور بچولیوں کی نیند اڑ گئی۔ سنگاپور ٹکنالوجی سے ایک ڈیل ہوئی تھی۔ اس کمپنی کی رائفل ٹیسٹ کرنے کے بعد جنرل وی کے سنگھ نے یہ رپورٹ دی کہ یہ رائفل ہندوستان کے لیے کارگر نہیں ہے۔ ہندوستانی فوج کو نئے اور جدید اسلحوں کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے اگلے ایک دو سالوں میں بڑی مقدار میں فوجی اسلحے اور نئے آلات خریدنے کی تیاری ہے، خاص کر ہندوستانی حکومت اس سال بڑی مقدار میں ماڈرن اسالفٹ رائفل خریدنے والی ہے۔ ہندوستانی فوج کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آرمس ڈیل کے دوران جم کر رشوت خوری اور گھپلے بازی ہوتی ہے۔ جنرل وی کے سنگھ فوجی اسلحوں کی خریداری میں شفافیت لانا چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسا سسٹم بنانا چاہتے ہیں، جس سے ہمارے فوجیوں کو دنیا کا جدید ترین ہتھیار ملے، لیکن کوئی بچولیا نہ ہو اور نہ ہی کہیں کسی کو دلالی کے پیسے کھانے کا موقع ملے۔ جب سے وہ آرمی چیف بنے ہیں، ہندوستانی فوج پر کسی گھوٹالے یا بدعنوانی کا الزام نہیں لگا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے جو پرانے معاملے تھے، انہیں نہ صرف نپٹایا، بلکہ آدرش جیسے گھوٹالے کی جانچ میں ایجنسیوں کی مدد بھی کی۔ آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی کے زمین گھوٹالے میں جنرل وی کے سنگھ نے مستعدی دکھائی۔ فوج کی کورٹ آف انکوائری کی تشکیل کی، جس میں دو سابق فوجی سربراہوں : جنرل دیپک کپور اور جنرل این سی وِج سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اِن سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ آرمس ڈیلروں کی لابی، آفیسر، لینڈ مافیا اور ایسے کئی سارے لوگ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف کھڑے ہوگئے اور ان کی تاریخ پیدائش کے تنازع کو ہوا دی۔ جنرول وی کے سنگھ نے ایک اور کام کیا، جس کی وجہ سے اہل کاروں کو پریشانی ہوئی۔ یہ معاملہ جوانوں کے یونیفارم یعنی کپڑوں سے جڑا ہوا ہے۔ پہلے جو کپڑا سپلائی ہوتا تھا، وہ آدھے سے زیادہ فوجیوں کو فٹ نہیں ہوتا تھا، کپڑا جوانوں کی ناپ کے مطابق نہیں ملتا تھا، اسے دوبارہ سلوانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ جنرل وی کے سنگھ نے اسے روکا۔ انہوں نے یہ فیصلہ لیا کہ جوانوں کو ملنے والے کپڑے اچھی کمپنی کے ہوں اور ہر فوجی کے یونیفارم کی سلائی اس کا ناپ لے کر کی جائے۔ جنرل وی کے سنگھ کا ایک اور فیصلہ قابل ذکر ہے۔ انہوں نے آرمی میں میٹ (گوشت) کی سپلائی کرنے والے میٹ کارٹیل کا صفایا کیا۔ ان لوگوں کے ذریعے سپلائی کیا جانے والا میٹ ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے اس کے لیے گلوبل ٹنڈر کی شروعات کی، تاکہ دنیا کا سب سے بہتر میٹ فوج کے جوانوں کو ملے۔
جب جنرل وی کے سنگھ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا، اس وقت ہندوستانی فوج کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش ہو چکا تھا۔ اب تک ایماندار سمجھے جانے والے اس محکمہ کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔ دبی زبان میں فوج کے لوگ بھی کہنے لگے تھے کہ بدنظمی کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اوپر سے پاکستان کی جانب سے دراندازی کا سلسلہ لگاتار جاری تھا۔ ملک میں نکسلی حملے ہو رہے تھے۔ حکومت نکسلیوں کے خلاف فوج کا استعمال کرنے کا من بنا رہی تھی۔ مطلب یہ کہ جنرل وی کے سنگھ کے سامنے کئی چنوتیاں تھیں۔ آرمی چیف بنتے ہی انہوں نے فوج میں موجود بدعنوانی اور مافیا گیری کو ختم کرنا شروع کردیا۔ لگتا ہے، اس سے نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک میں بیٹھے اہل کاروں کو برا لگ گیا۔ ملک میں سرکاری نظام کیسے چل رہا ہے، یہ ایک اسکول کے بچے کو بھی پتہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکاری مشینری میں ایماندار اور اصول پسند لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہیں انعام کی جگہ سزا دی جاتی ہے، انہیں ذلیل کیا جاتا ہے۔
کیا اس ملک میں الگ الگ شہریوں کے لیے الگ الگ قانون ہے، یا پھر یہ مان لیا جائے کہ اس ملک کو مافیا سرغنہ اور سرکار میں بیٹھے اس کے دلال چلا رہے ہیں۔ پورا ملک ایک گھناؤنے واقعہ کو رونما ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ آرمی چیف جھوٹ بول رہے ہیں اور دوسری طرف ان سے ڈیل بھی کرتی ہے کہ انہیں کسی ملک کا سفیر یا کسی صوبہ کا گورنر بنا دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انہیں یہ دھمکی بھی دی جا رہی ہے کہ اگر وہ کورٹ گئے، تو انہیں آرمی چیف کے عہدہ سے برخاست کر دیا جائے گا۔ جنرل وی کے سنگھ کو کورٹ جانے کا پورا حق ہے،کیوں کہ یہ معاملہ جنرل وی کے سنگھ کا نہیں ہے۔ یہ ان کی تاریخ پیدائش کے تنازع کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ آرمی چیف کے ادارہ سے جڑا ہوا ہے۔ اس ادارہ کا تعلق ملک کے شہری – فوجی رشتے، جمہوریت اور مستقبل سے ہے۔ایک سچے فوجی کو ہر حال میں لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس لیے جنرل وی کے سنگھ کو خود کے لیے نہیں، بلکہ اس ادارہ کی عظمت کو بچانے کے لیے عدالت میں جانا چاہیے۔ اگر وہ نہیں گئے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ملک کے مافیا، سرکاری اہل کار اور لیڈر جب چاہیں گروہ بناکر مستقبل کے فوجی سربراہوں کو نیچا دکھا سکتے ہیں، انہیں من چاہا کام کرانے کو مجبور کر سکتے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ لڑ رہے ہیں، یہ اچھی بات ہے۔ ہو سکتا ہے، مستقبل میں پھر ایسا کسی دوسرے ایماندار آرمی چیف کے ساتھ ہو، اور وہ جنرل وی کے سنگھ کی طرح لڑ بھی نہ سکے۔g






