کانگریس مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست کا کھیل بھی بڑا عجیب ہے۔ اس کھیل میں ہر کھلاڑی سوچتا کچھ ہے، بولتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہی ہے۔ کیا کانگریس پارٹی واقعی مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینا چاہتی ہے یا پھر یہ صرف ایک انتخابی اسٹنٹ ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے، جو ہر شخص کے من میں اٹھ رہا ہے۔

اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے مد نظر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ہر سیاسی پارٹی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے نام پر کھیل کھیل رہی ہے۔ اتر پردیش میں سیاسی پارٹیوں میں اس بات کو لے کر مقابلہ آرائی ہو رہی ہے کہ کون کتنے بہتر طریقے سے مسلمانوں کو بیوقوف بناکر ان کے ووٹ لے سکتا ہے۔ سبھی پارٹیاں مسلمانوں میں کنفیوژن پھیلا رہی ہیں، کیوں کہ ان کی نظر ریاست کی 18 فیصد مسلم آبادی پر ہے، جسے وہ آج تک صرف ایک ووٹ بینک سمجھتی آئی ہیں۔

کانگریس اگر مسلمانوں کی ترقی کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتی ہے تو سالوں سے دھول چاٹ رہی سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر اس نے کارروائی کیوں نہیں کی۔ انتخاب سے پہلے اچانک مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات کیوں یاد آگئی۔ کانگریس پارٹی کی حکمت عملی کیا ہے اور اتر پردیش کے انتخاب کو لے کر راہل گاندھی کی کیا کیا مجبوریاں ہیں، اسے سمجھنا ضروری ہے۔
مسلم ریزرویشن کے پیچھے کانگریس کی حکمت عملی صاف ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں، کسان احتجاج کر رہے ہیں، ترقی کا سلسلہ رک گیا ہے، صنعتوں کی حالت خراب ہے، اسٹاک ایکسچینج میں نقصان ہو رہا ہے، غریبوں کا جینا مشکل ہو رہا ہے اور دوسری طرف ایک کے بعد ایک گھوٹالوں کا خلاصہ ہو رہا ہے، جس میں کانگریس اور سرکار کے بڑے بڑے لیڈروں، وزیروں کے نام اجاگر ہو رہے ہیں۔ مرکز میں کانگریس پارٹی کی سرکار ہے، اس لیے لوگ کانگریس کو ذمہ دار مان رہے ہیں۔ اس درمیان رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے میں سرکار کی اتحادی پارٹیوں نے بھی کانگریس کاساتھ چھوڑ دیا۔ ان سب کے اوپر لوک پال کے لیے انا ہزارے نے تاریخی تحریک چھیڑ دی۔ کانگریس پارٹی تنہا اور چاروں طرف سے گھری ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس درمیان پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب بھی ہونے ہیں۔ پانچ ریاستوں میں سے ایک ریاست اترپردیش ہے اور یہی کانگریس کے لیے سب سے بڑی تشویش ہے۔ اتر پردیش کا اسمبلی انتخاب 2014 کے لوک سبھا انتخاب سے پہلے ہونے والا سب سے اہم انتخاب مانا جا رہا ہے۔ وہ اس لیے، کیوں کہ اس انتخاب میں کانگریس پارٹی کے راہل گاندھی کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
لوک پال اور انا ہزارے کی تحریک کے سبب کانگریس گھر گئی تو پارٹی میں غوروفکر کاسلسلہ چل نکلا۔ غور وفکر کا یہ سلسلہ بدعنوانی ختم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اتر پردیش کے انتخاب میں پارٹی کی ساکھ کیسے بچائی جائے اور اس کے لیے حکمت عملی کیا تیار کی جائے۔ انا ہزارے تحریک کی دھمکی دے رہے تھے۔ اتر پردیش کے انتخاب پر انا کا اثر کیسا اور کتنا ہوگا، کانگریس پارٹی نے سب سے پہلے اس کا اندازہ لگایا۔ کچھ دنوں پہلے کچھ صوبوں میں ضمنی انتخاب ہوئے، جن میں کانگریس پارٹی سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ مہاراشٹر میں بھی علاقائی انتخاب ہوئے، جن میں انا ہزارے کی تحریک کا اثر نہیں دکھائی دیا۔ اس کے علاوہ ایسی نیلشن اور اسٹار ٹی وی کا انتخابی سروے دکھایا گیا، جس میں کانگریس کی حالت مضبوط بتائی گئی۔ کانگریس پارٹی نے انہی باتوں کو بنیاد بنایا۔ یہ طے کیا گیا کہ سرکار مشوروں کو درکنار کرکے لوک پال بل لے کر آئے گی اور کانگریس پارٹی انا ہزارے سے سیدھی لڑائی لڑے گی۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ سونیا گاندھی انا ہزارے کو چنوتیاں دیں گی اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھائیں گی۔ اس حکمت عملی کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر لوک پال کے معاملے میں سرکار انا کی تحریک کی ہوا نکالنے میں کامیاب ہوگئی تو کانگریس فاتح ہو کر ابھرے گی۔
کانگریس کے پالیسی سازوں کو یہ بھی پتہ ہے کہ اگر انا کی تحریک پھر سے کامیاب ہوگئی تو اتر پردیش میں پارٹی کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے انہوں نے ایک اہم فیصلہ لیا۔ انا کی تحریک سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے مسلم ریزرویشن کا مدعا اٹھایا جائے گا۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ اس کے لیے آئین میں ترمیم نہیں کی جائے گی، بلکہ پچھڑی ذاتوں کو ملنے والے 27 فیصد ریزرویشن کے اندر ہی 4.5 فیصد سیٹیں مسلمانوں کو دی جائیں گی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کانگریس کا مقصد نہ تو مضبوط لوک پال لانا ہے اور نہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینا ہے۔ کانگریس کی ساری حکمت عملی اتر پردیش کے انتخاب پر مبنی ہے۔
اس حکمت عملی کو نافذ کرنے میں بھی کانگریس پارٹی نے کافی مشقت کی۔ پسندیدہ ٹی وی چینلوں اور اخباروں کے رپورٹروں اور ایڈیٹروں کو اسپانسرڈ خبریں دی گئیں۔ بھرم پھیلایا گیا۔ کبھی سی بی آئی کو لے کر الگ الگ خبریں آتی رہیں۔ کبھی سی بی آئی ڈائریکٹر (پرازیوکیوشن) کو مقرر کرنے کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی۔ میڈیا میں کبھی یہ بتایا گیاکہ سی اور ڈی گروپ کے ملازم لوک پال کے اندر ہیں تو کبھی یہ بھی خبر آئی کہ انہیں باہر رکھا گیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کو ٹی وی چینلوں پر بار بار یہ کہتے سنا گیا کہ سرکار ایک مضبوط لوک پال لے کر آ رہی ہے۔ جب لوک پال بل لوگوں کے سامنے آیا تو پتہ چلا کہ بل کے آنے سے پہلے کی ساری خبریں جھوٹی تھیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ سرکار لوگوں میں بھرم پھیلا رہی تھی، تاکہ انا کی تحریک ناکام ہو جائے۔ جہاں تک بات مسلم ریزرویشن کی ہے، اس کے بارے میں سلمان خورشید نے یہ اعلان کردیا کہ سرکار مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کرنے والی ہے۔ سلمان خورشید نے اس مدعے کی بنیاد رکھی، صرف اعلان کیا کہ جلد فیصلہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ ایک ہفتے تک سارے سرکاری بلوں کے بارے میں بات ہوتی رہی۔ پنشن بل، فوڈ سیکورٹی بل اور لوک پال بل پر بحث ہوتی رہی، لیکن کانگریس کے ایک بھی لیڈر نے مسلم ریزرویشن کی بات نہیں کی۔ اس درمیان راہل گاندھی کا بھی بیان آیا، لیکن وہ بیان رٹیل مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حمایت میں تھا۔ 22 دسمبر کو لوک پال بل پیش کیا گیا۔ اس سے ایک دن پہلے سونیا گاندھی کا بیان آیا کہ کانگریس کارکنوں کو انا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن 22 دسمبر کی شام کو انا ہزارے کا بیان آگیا۔ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور اتحادی پارٹیوں کا رخ پتہ چل گیا۔ کانگریس پارٹی کو سمجھ میں آگیا کہ انا اور ان کی ٹیم کو منایا نہیں جاسکتا۔ 22 تاریخ کی رات خبر آ گئی کہ مرکزی کابینہ نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے فیصلے پر مہر لگا دی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اقلیتوں کو پچھڑی ذات کے 27 فیصد کوٹے میں سے 4.5 فید ریزرویشن دینے کا فیصلہ لے کر ایک نیا سیاسی تنازعہ پیدا کردیا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اِس فیصلے کا فائدہ کانگریس کو ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اترپردیش کے انتخاب میں مسلم ووٹوں کا الگ الگ پارٹیوں میں بٹوارہ ہو جائے گا۔
ویسے اتر پردیش کی سیاست کا مزاج بدل رہا ہے۔ کچھ وقت پہلے اتر پردیش کی سبھی پارٹیاں ساری مشقت دلتوں کے دلوں کو جیتنے کے لیے کرتی تھیں۔ آج سماجوادی پارٹی، کانگریس پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور پیس پارٹی کے درمیان مسلم ووٹوں کے لیے مقابلہ آرائی ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کہتی ہے کہ وہ سب سے پہلی پارٹی ہے، جو مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی مانگ کر رہی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ سالوں سے سرکاری الماری میں سڑ رہی رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو جب چوتھی دنیا نے شائع کردیا، تب ملائم سنگھ یادو نے لوک سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے مرکزی حکومت کو رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی پڑی۔ مرکز میں کانگریس پارٹی کی سرکار ہے، جو یہ یقین دہانی کرا رہی ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ لے لیا گیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کو کانگریس پارٹی کی سرکار نے پارلیمنٹ میں تو پیش کردیا، لیکن ایکشن ٹیکن رپورٹ کے بغیر۔ دو سال ہو گئے، لیکن سرکار رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کو لاگو کرے گی یا نہیں، اس پر کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ اس لیے کانگریس پارٹی کی نیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ انتخاب سے ٹھیک پہلے یہ شگوفہ چھوڑ دینا کہ سرکار مسلمانوں کو ریزرویشن دینے والی ہے، صرف ایک انتخابی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے۔ مایاوتی بھی مسلمانوں کے ووٹوں کے لیے اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دے رہی ہیں، جن میں یہ بتایا جارہا ہے کہ جو کام پچھلے 40 سالوں میں سرکاریں نہیں کر سکیں، وہ پچھلے 4 سالوں میں مایاوتی نے مسلمانوں کے لیے کیا ہے۔ مایاوتی اب اپنی ہر تقریر میں مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور بولتی ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی نیت کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا، اس لیے وہ پہلے ہی دن سے قانون میں ترمیم کرنے کی بات کر رہی ہیں۔
مسلمانوں کی کئی ذات سماجی اور معاشی طور پر پچھڑی ہوئی ہیں، اس لیے مرکزی سرکار کی نوکریوں اور یونیورسٹیوں میں انہیں بھی ریزرویشن کا فائدہ ملتا ہے۔ دیگر پس ماندہ ذات (او بی سی) میں مسلمانوں کی کئی ذات ریزرویشن کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ہمارے آئین میں صرف مذہب کے نام پر ریزرویشن دینے کا انتظام نہیں ہے، اس لیے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ کانگریس پارٹی ریزرویشن کا اعلان تو کرتی ہے، لیکن آئین میں ترمیم کا نام نہیں لیتی، اس لیے اس کی نیت پر سوال کھڑا ہوتا ہے۔ جب سلمان خورشید کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو او بی سی کے کوٹے سے ریزرویشن دیا جائے گا تو یہ بھی سیاست سے متاثر نظر آتا ہے۔ اتر پردیش میں انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے یہ ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ اس کے پیچھے سیاست یہ ہے کہ کانگریس اگر او بی سی کے کوٹے سے مسلمانوں کو ریزرویشن دے گی تو سماجوادی پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔ صرف سماجوادی پارٹی ہی نہیں، بلکہ وہ سبھی پارٹیاں مخالفت کریں گی، جنہیں او بی سی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ بات بھی سمجھنا  ضروری ہے کہ سماجوادی پارٹی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی مخالفت نہیں کرتی ہے۔ ملائم سنگھ کی وجہ سے رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی، لیکن کانگریس کی حکمت عملی ایسی ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی حمایت کرنے والی پارٹیاں بھی مخالفت میں کھڑی ہو جائیں گی۔ ایسی حالت میں یہ بل پاس ہی نہیں ہو پائے گا۔ کانگریس اگر اس ترکیب سے ریزرویشن جیسے اہم مدعے پر سیاست کرے گی تو یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ وہ حقیقت میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینا چاہتی ہے۔ مایاوتی بھی یہ اعلان کر چکی ہیں کہ ان کی پارٹی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی حمایت کرتی ہے اور اس کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔
اتر پردیش میں کانگریس پارٹی نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ سب کچھ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی راہل گاندھی کو 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے بعد پوری اکثریت سے وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کے لیے اب راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کے علاوہ کوئی اور سیاسی یا نظریاتی لڑائی نہیں بچی ہے۔ سونیا گاندھی کے ہر فیصلے کے پیچھے کی سوچ یہی ہے کہ فیصلہ کس طرح راہل گاندھی کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اتر پردیش کا انتخاب راہل گاندھی کے لیے ایک بڑے امتحان کی مانند ہے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ جس طرح 2009 کے انتخابات میں 22 سیٹیں جیت کر وہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ہم پلہ کھڑی ہوگئی، اسی طرح اس اسمبلی انتخاب میں بھی کانگریس اچھا مظاہرہ کرے گی۔ کچھ ٹی وی چینلوں پر سروے رپورٹ دکھائی گئی، جس میں کانگریس کی حالت مضبوط نظر آرہی ہے۔ اگر کانگریس پارٹی کو 60 سے زیادہ سیٹیں مل جاتی ہیں تو کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کو فاتح مانا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ انتخاب کے بعد کانگریس کی مدد سے ہی اتر پردیش میں اگلی حکومت بنے۔ ایسی حالت پیدا ہو، یہی کانگریس کی حکمت عملی ہے۔ اگر کانگریس پارٹی کی سیٹیں پہلی جتنی نہیں رہیں یا گھٹ گئیں تو یہ کانگریس پارٹی کی نہیں، بلکہ راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کی ہار ہوگی۔ راہل گاندھی کی قابلیت اور قیادت پر سوال تو اٹھے گا ہی، 2014 میں وزیر اعظم بننے کا دعویٰ بھی کھوکھلا ثابت ہو جائے گا۔ کانگریس پارٹی پھر سے اسی راہ پر چل پڑے گی، جس پر وہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد چل پڑی تھی۔ ہار کے بعد راہل گاندھی کی ذہنی حالت کیا ہوگی، یہ تو کہا نہیں جاسکتا ہے، لیکن پارٹی کو مضبوط بنائے رکھنے کے لیے راہل گاندھی کے علاوہ کسی دوسرے لیڈر کی تلاش کرنی ہوگی، جسے وزیر اعظم کی شکل میں پیش کیا جاسکے اور وہ پرینکا گاندھی ہو سکتی ہیں۔
یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے، کیوں کہ زمینی حقیقت کانگریس کے موافق نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی کو مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی حمایت کے بغیر وہ اتر پردیش میں سیٹیں نہیں جیت سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مسلم ریزرویشن کا مدعا اٹھا یا ہے۔ اس کے باوجود اسمبلی انتخاب میں کانگریس کے لیے مسلم ووٹ پانا آسان نہیں ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی سیٹیں اس لیے بڑھی تھیں، کیوں کہ مسلمانوں نے کانگریس کا ساتھ دیا تھا۔ وہ بھی اس لیے، کیوں کہ ورون گاندھی نے مسلمانوں کے خلاف تقریر کی تھی۔ کہیں اڈوانی وزیر اعظم نہ بن جائیں، اس لیے بھی مسلمانوں نے کانگریس کا ہاتھ مضبوط کیا تھا۔ منموہن سنگھ نے مسلمانوں سے کئی وعدے کیے تھے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی وجہ سے کانگریس پر مسلمانوں کا اعتماد بحال ہوا تھا۔ لوک سبھا انتخاب کے دوران سماجوادی پارٹی کے مسلم لیڈر ناراض تھے۔ اعظم خاں پارٹی کے خلاف شعلہ بیانی کر رہے تھے۔ اس کا اثر پڑا اور مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر کانگریس کا ساتھ دیا تھا۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ مسلمانوں کو کانگریس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں رہا۔ بی جے پی اتر پردیش کے انتخاب میں جیتنے والی نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی ہندووای لیڈر وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں ہے۔ اس لیے کانگریس کی حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔ کانگریس کی دوسری سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اس کے اپنے کارکن ناراض ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے، ناراض کانگریسی کارکنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جن نوجوانوں کو راہل گاندھی نے پارٹی تنظیم سے جوڑنے کی مہم چلائی، وہ اب کانگریس کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ احساس کانگریس کے لیڈروں کو بھی ہے۔ پہلے راہل گاندھی نے اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ماحول بدلنے کی وجہ سے انہیں اجیت سنگھ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا پڑا۔ اس سے کچھ سیٹوں پر کانگریس کو فائدہ تو ہوگا، لیکن نقصان بھی جھیلنا پڑے گا۔ جہاں جہاں اجیت سنگھ کی پارٹی کے امیدوار کھڑے ہوں گے، وہاں وہاں کانگریس پارٹی کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا شگوفہ چھوڑا ہے۔ انتخاب سے پہلے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات اٹھانا محض ایک انتخابی اسٹنٹ ہے۔g

کوٹے میں کانٹا

پانچ  ریاستوں کے اسمبلی انتخابات، اوپر سے لوک پال پر اَنّا کی تحریک کا ڈر۔ کانگریس کے لیے پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ان سب کے درمیان مرکزی حکومت نے اقلیتوں کو 4.5 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کردیا اور کابینہ نے اپنی منظوری بھی دے دی۔ یہ ریزرویشن اوبی سی کوٹے کے 27 فیصد میں سے دیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ منڈل کمیشن نے ملک میں او بی سی کی آبادی 52 فیصد بتائی تھی، جس میں 8.4 فیصد آبادی اقلیتوں کی تھی۔ آج مسلمانوں کی آبادی 15 سے 16 فیصد ہے۔ ظاہر ہے، ایسے میں محض4.5 فیصد ریزرویشن سے اقلیت خوش ہو جائیں گے ، کہنا مشکل ہے۔ دوسری طرف رنگناتھ مشرا کمیشن نے تو 15 فیصد ریزرویشن کی سفارش کی تھی، جس میں سے 10 فیصد مسلمانوں اور 5 فیصد دیگر اقلیتوں کے لیے۔ اس کمیشن نے ایک اور فارمولہ دیا تھا کہ اگر 15 فیصد ممکن نہ ہو تو او بی سی کوٹے میں سے 8.5 فیصد ریزرویشن دیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں کانگریس کی یہ بازی کہیں الٹی نہ پڑ جائے۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *