آپ کا ہتھیار، حق اطلاع

اس قانون سے جڑی اطلاعات ہم آپ کو مسلسل دیتے رہتے ہیں۔ اس شمارے میں ہم تذکرہ کر رہے ہیں اس قانون کے اس حصے کا، جس سے عام طور پر درخواست کنندہ کا واسطہ پڑتا ہے۔ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ کسی درخواست کنندہ  کو حقِ اطلاع قانون کا استعمال کرنے پر دھمکی ملی یا جیل میں ٹھونس دیا گیا یا فرضی مقدمے میں پھنسا دیا گیا۔ ایسی کچھ مثالیں ہیں ، جن میں لوگوں کو جسمانی نقصان پہنچایا گیا، جب انہوں نے بد عنوانی کا بڑے پیمانے پر پردہ فاش کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ درخواست کنندہ کو ہمیشہ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اپنی شکایت کی صورت حال یا معاملوں کی جانکاری لینے کے لئے عرضی لگانے کا مطلب ’آبیل  مجھے مار‘ نہیں ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے، جب کوئی اطلاع نوکر شاہ ، ٹھیکدار کی ملی بھگت یا کسی مافیا کا پردہ فاش کرتی ہو۔ ظاہر ہے، سالوں سے زنگ لگے انتظامیہ اورجاگیری ذہنیت والی نوکر شاہی اس بات کو ہضم نہیں کر پاتی کہ کوئی عام آدمی ان سے سوال پوچھے۔ عام آدمی ان کے اقتدار کو چیلنج نہ کر سکے یا سوال نہ پوچھ سکے، اس لئے اقتدار اور انتظامیہ میں بیٹھے لوگ اپنے اختیار کا بیجا استعمال  کر کے ایسے درخواست کنندوں کو پریشان کرتے ہیں۔ لیکن ان سب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تھوڑی سمجھ داری سے اگر کام لیں تو ایسی دھمکیوں  سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اگر آپ نے آر ٹی آئی سے کسی بد عنوانی یا غلط کام کا پردہ فاش کیا ہے تو آپ  ویجلنس ایجنسیوں، سی بی آئیسے اس بارے میں شکایت کر سکتے ہیں یا ایف آئی آر بھی درج کرا سکتے ہیں۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ سرکار قصوروار کے خلاف  لگاتار شکایتوں کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ اگرچہ کوئی بھی ویجلنس ایجنسوں میں شکایت کی صورتحال آر ٹی آئی کے تحت پوچھ کر دبائو بنا سکتا ہے۔ لیکن غلط کاموں کا پردہ فاش میڈیا کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس طرح کی اطلاعات مانگنے اور غلط کاموں کا پردہ فاش ہونے سے افسروں کو پیغام جاتا ہے کہ اس علاقے  کے لوگ  بیدار ہو گئے ہیں اور مستقبل میں اس طرح کی کوئی غلطی ماضی کی طرح چھپی نہیں رہے گی۔
درخواست کا نمونہ (بدعنوانی سے متعلق شکایات کی صورتحال)
مڈڈے میل منصوبہ کی تفصیلات
خدمت میں،پبلک انفارمیشن آفیسر
( محکمہ کا نام)محکمہ کا پتہ)
موضوع:  حق اطلاع قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
——- کے پرائمری اسکول کے مڈ ڈے میل منصوبہ کے سلسلے میں حق اطلاع قانون کے تحت مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں۔
1۔ مذکورہ اسکول میں مڈ ڈے میل منصوبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل بیورا کے ساتھ دیں: (الف)   تاریخ  ——-سے  ——- کے دوران مذکورہ اسکول کو فراہم کرائی گئی غذا، میٹریل کی تفصیل ( ماہانہ بیورا کے ساتھ) فراہم کرائیں۔ (ب)  محکمہ جاتی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ غذا،میٹریل کتنے طلباء  میں تقسیم کی جانی تھی؟ (ج)   یہ غذا،میٹریل کس راشن دکان ؍ایجنسی کے ذریعہ فراہم کرائی گئی؟  (د)  مذکورہ دکان ؍ایجنسی کا انتخاب کس طرح کیا گیا؟اس سلسلے میں سرکار کے ذریعہ جاری کیے گئے سبھی احکام و ہدایات کی کاپی فراہم کرائیں۔  (ھ)  اس دوران محکمے کے ذریعہ اسکول کو غذا، میٹریل مہیا کرانے سے متعلق سبھی احکام کی  مصدقہ کاپیاں بھی فراہم کرائیں۔
2۔ مڈ ڈے میل منصوبہ کو بہتر ڈھنگ سے نافذ کرانے اورمعیار بنائے رکھنے کے سلسلے میں سرکار و محکمے کے ذریعہ جاری انتظاموں؍سمتوں، ہدایتوں کی  مصدقہ کاپیاں فراہم کرائیں۔
3 ۔ مڈ ڈے میل منصوبے  میں کالابازاری؍ بد عنوانی وغیرہ کی روک تھام کے لئے محکمے کے ذریعہ کیے گئے نظم و نسق کے سلسلے میں سبھی انتظام؍سبھی ضابطوں اور ہدایتوں کی مصدقہ کاپیاں فراہم کرائیں۔
4۔تاریخ  ——-سے  ——-کے دوران  مذکورہ اسکول سے کیا محکمے کو مڈ ڈے میل منصوبے کے سلسلے میں کوئی شکایت موصول ہوئی ہے؟اگر ہاں، تو شکایت کنندہ کا نام، پتہ، شکایت پر کی گئی کارروائی کی تفصیل اور اگر اس سلسلے میں کوئی جانچ کی گئی ہو تو جانچ رپورٹ کی کاپی بھی فراہم کرائیں۔
5۔مڈ ڈے میل منصوبہ کے تحت  منظور شدہ اشیاء خوردنی، میٹریل اگر کسی  وجہ سے کسی اسکول کے ذریعہ استعمال نہیں کیا جاتا ہے تو اس اشیائ، میٹریل کے  لئے محکمے نے کیا بندوبست کیا ہے؟اس سلسلے میں اصولوں ؍ہدایتوں کی مصدقہ کاپیاں فراہم کرائیں۔
6۔مڈ ڈے میل منصوبہ سے متعلق  مختلف اصولوں، ہداہتوں،احکام اور سرکولر کی مصدقہ کاپی فراہم کرائیں۔ میں درخواست فیس کی شکل میں 10 روپے الگ سے جمع کر رہا؍رہی ہوں
یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں اس لئے سبھی واجب الاداء سے آزاد ہوں۔میرا  بی پی ایل کارڈ نمبر——- ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ  کے محکمے؍دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حق اطلاع قانون 2005 کی دفعہ6(3)  کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ساتھ ہی قانون کی شقوں کے تحت اطلاع فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام و پتہ ضرور بتائیں۔
آپ کا:نام   ——————————————————————————————- ———– —————
پتہ   —————————————————————————– ———– ———————————
فون نمبر——————— ———– ———–  منسلکہ(اگرکچھ ہو)  ———– — —————————————————

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *