ہم تیل پر جنگیں لڑ چکے ، اب پانی کی باری ہے

اسد مفتی
فرانس ہالینڈ کے ایک جریدے نے ملیشیا کی ایک کمپنی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملیشیا میں ایک ایسی مشین ایجاد کی گئی ہے جو مسلمانوں کو پانی کے اسراف کے بغیر وضو کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔سبز رنگ سے مزین  یہ مشین خود کار ہے ۔ اس طرح پانی کے عالمی مسئلے یعنی پانی کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملے گی۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 1.7 بلین ہے ۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ان ہی علاقوں میں  پانی کی قلت ہے۔ مشین کے موجد  اے اے سی ای نے ان مشینوں کی فروخت  کے لئے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے دولت مند ممالک پر انحصار کیا ہے۔ یہ مشین جس کی قیمت 3سے 4 ہزار ڈالر ہوگی ،آئندہ چھ ماہ میں مارکیٹ میں لائی جائے گی۔ لوگوں کو پانی کو ضائع  ہونے سے بچانے کے لئے مختلف طریقے اور ایک نئی ترغیب دی جائے گی جو روایتی طریقہ کار کے بجائے ہائی ٹیک طریقے پر مبنی ہوگی۔ کمپنی کے صدر گومز نے پریس کو بتایا کہ روایتی طریقۂ وضو میں بہت سا پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔ گومز نے کوالالمپور میں اس مشین کی لانچنگ کے وقت یہ تمام  تفصیلات اخبار نویسوں کو بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس آلہ میں ریکارڈ شدہ قرآنی آیات کو ایک مخصوص بٹن دبا کر سنا بھی جا سکے گا۔ مشین کی اونچائی لگ بھگ پانچ فٹ ہے اس سے وضو کرنے میں صرف 1.3 لیٹر پانی خرچ ہوگا۔ زمانہ حج کے دوران لگ بھگ 20 لاکھ  عازمین حج کے لئے روزانہ وضو کے لئے 50 ملین لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے  جبکہ اس مشین کے استعمال سے یومیہ صرف 10 ملین لیٹر پانی صرف ہوگا ایسی صورت میں 40 ملین لیٹر پانی کی آسانی سے بچت ہوسکے گی۔ دبئی نے اپنے ایر پورٹ  کے لئے اس مشین کو خریدنے کا آرڈر دیاہے۔ کمپنی کے صدر گومز نے بتایا کہ اس مشین کی تیاری میں دو سال کا عرصہ لگا تقریبا ً 50 لاکھ ڈالر خرچ کیا لیکن ہمارا تجربہ بے حد کامیاب رہا۔
ملیشیا کے مسلمانوں نے اس ہائی ٹیک مشین کے تعلق سے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے یہ ایک بہترین ایجاد ہے جو عین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہے۔بعض دیگر مسلمانوں کا خیال ہے کہ اس ملک میں پانی ارزاں ہے اس لئے اس مشین کی کوئی معقول وجہ نہیںہے۔ایک صحافی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قدرتی وسائل کے تحفظ میں مشین بے حد مددگار ثابت ہوگی ہمیں انسانیت اور آنے والی نسلوں کے لئے نئی اشیاء ایجاد اور سہولتیں فراہم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے اقدام کرنے ہوں گے ۔ادھر اقوام متحدہ نے ایک بے حد اہم وارننگ دی ہے کہ انسان کرۂ ارض کے وسائل کا بے دردی سے استعمال کررہا ہے جس کو فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔ ورنہ بڑے پیمانے پر ایک عالمگیر تباہی ہمارا انتظار کررہی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں پانی کے ذخیروں کو  تباہ کن طریقے سے آلودہ کیا جا رہا ہے، دستیاب پانی فی الحال سالانہ 45 فیصد استعمال ہورہا ہے اور اس میں سے دو تہائی زرعی مقاصد کے لئے زیر استعمال ہے سال 2025  میں یہ کھپت 70 فیصد ہوجائے گی جبکہ 4.5  بلین لوگ جو دنیا کی آبادی کا 45 فیصد حصہ ہوں گے وہ ایسے ملکوں کے باشندے ہوں گے جن کی فی کس 50 لیٹر  پانی کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہ ہوسکے گی۔ آئندہ پچاس برس میں دنیا کی آبادی لگ بھاگ دس بلین ہوجائے گی ۔ چین اور جنوبی  ایشیا (پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش وغیرہ)میں زیر زمین پانی کی سطح ابھی سے  ہر سال ایک میٹر کے لگ بھگ نیچے اترتی جارہی ہے۔ آج بھی دنیا کے ایک ارب 20 کروڑ افراد کو صاف پانی میسر نہیں ہے اور ترقی پذیر ممالک میں 95 فیصد گندا پانی اور 70 فیصد فیصد صنعتی گندگی دریائوں ، نہروں ، ندی، نالوں میں بہا دی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے ک کہ اس صدی میں پانی تیل کی طرح قیمتی اشیاء میں شامل ہوجائے گا اور اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ فائدہ آسٹریلیا کو ہوگا کہ یہ ملک آبی وسائل سے مالا مال ہے اور وہ سعودی عرب کے تیل کی طرح پانی سے مالا مال ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر تین سیکنڈ میں ایک بچہ پانی کی مناسب سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہوکر مرجاتا ہے اور جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں مغربی ممالک میں آگ اور سورج کو مرکزیت حاصل ہے تو مشرق میں پانی کے مختلف ذرائع مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ کہاوت ہے کہ’’ سادہ پانی صرف گھوڑے پیتے ہیں‘‘ چنانچہ پانی کے بجائے مغربی ممالک کے باشندے شراب سے پیاس بجھاتے ہیں لیکن یہی شراب سے تشنگی بجھانے والی قومیں پانی کی اہمیت سے آگاہ ہورہی ہیں اور اب یہ بھی متفق ہیں کہ قدرت کا بہترین مشروب صاف و شفاف پانی ہے کہ پانی زندگی کو پروان چڑھاتا ہے ۔ پانی صحت کے لئے لازمی اور ضروری ہے۔ سائنس دانوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کا طوفان اور پھیلتی ہوئی آلودگی کے باعث پانی کے لئے جنگوں کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ جرمنی کے پروفیسر ولیم ہاگن نے کہا ہے کہ ’’ ہم تیل پر جنگیں لڑ چکے ،یہ ہماری زندگی ہی میں لڑی گئیں ،اسی طرح پانی پر بھی جنگیں ممکن ہیں یہ ہماری زندگی ہی میں ہوں یا آئندہ نسل اس کا خمیازہ بھگتے‘‘۔یہ بات اس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو ’ورلڈ واٹر ویک‘ کے ختم ہونے پر کتابی صورت میں شائع کی گئی ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ متمول ممالک میں لاعلمی نظر آرہی ہے جو اچھی علامت نہیں۔ امریکہ کے پروفیسر شپرل ریسورسز مچل نے کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ نا آسودہ علاقوں کو خشک سالی، وبائی امراض اور پانی کے حقوق پر متوقع جنگوں سے کون روکے گا؟اس حقیقت سے کون جھنجھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا  ان ممالک میں شامل ہیں جہاں ان جنگوں کا خطرہ ہے۔ 2015 تک پاکستان ’پانی کی انتہائی قلت‘ والا ملک بن جائے گا۔ پاکستان میں فی کس پانی کی فراہمی جو گزشتہ صدی 1951 میں 5650 مکعب میٹر تھی 1999 میں 1450 مکعب میٹر رہ گئی تھی جبکہ آئندہ چند برسوں میں یہ مزید کم ہوکر ایک ہزار مکعب میٹر کو بھی نہیں چھو پائے گی اور کشور حسین شادباد میں موجود زیر زمین پانی کی سطح لگ بھگ 50 فٹ مزید نیچے چلی جائے گی۔ میرے حساب سے ہندوستان اور پاکستان کے لئے سب سے اہم مسئلہ پانی کا حصول ہے نہ کہ کوئی اور۔اس لئے ہمیں اس طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے تاکہ ہمیں صاف و شفاف پانی میسر آسکے کہ یہی وقت کا تقاضہ ہے۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *