اترپردیش اسمبلی انتخابات: مایاوتی کا ماسٹر اسٹروک

ڈاکٹر منیش کمار

ہمارے آئین میں نیا صوبہ بنانے کا ایک طریق کار ہے۔ آئین کے مطابق نیا صوبہ بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، اگر کسی صوبہ کے علاقہ، سرحد یا نام بدلنے کی تجویز ہے تو ایسے بل کو صدر جمہوریہ پارلیمنٹ میں بھیجنے سے قبل متعلقہ صوبہ کی اسمبلی کو بھیج کر متعینہ مدت کے اندر رائے دینے کو کہیں گے، اور اگر اس متعینہ مدت کے اندر رائے نہیں دی جاتی ہے تو یہ مان لیا جائے گا کہ بل کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ صوبہ کی از سر نو تشکیل، تقسیم کی کارروائی شروع کرنے کے لیے متعلقہ صوبہ کی قانون ساز اسمبلی کے ذریعے تجویز کو پیش کیا جانا ضروری نہیں ہے۔

اتر پردیش کو چار حصوں میں بانٹنے کی مانگ اٹھا کر مایاوتی نے ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے۔ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایک نئی چال چلی ہے۔ اتر پردیش ایک بڑا صوبہ ہے۔ اس کے وزیر اعلیٰ کی سلطنت غازی آباد سے لے کر گورکھپور اور اعظم گڑھ تک ہوتی ہے۔ مایاوتی اتنے بڑے صوبہ کی وزیر اعلیٰ ہیں، تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسا کون وزیر اعلیٰ چاہے گا کہ اگلا انتخاب جیتنے کے بعد وہ ایک چھوٹے سے صوبہ کا وزیر اعلیٰ بنے، وہ بھی تب جب کہ صوبہ میں ایسا ماحول بھی نہیں ہے، جس میں یہ کہا جاسکے کہ سماجوادی پارٹی یا بھارتیہ جنتا پارٹی مایاوتی کو انتخاب میں بری طرح سے ہرانے والی ہیں۔ اتر پردیش میں ان صوبوں کی مانگ کو لے کر کوئی بڑی تحریک بھی نہیں چل رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر مایاوتی اتر پردیش کو چار حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ضرور کوئی گہرا راز ہوگا۔ کوئی بڑی سیاسی چال ہوگی۔

مطلب یہ ہے کہ صوبہ کو بانٹنے کا اختیار اور اس کے طریق کار میں صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ مایاوتی نے صوبہ کی تقسیم کا جو فیصلہ لیا ہے وہ محض ایک مشورہ ہے، اور یہ ایک ایسا مشورہ ہے جس کو ماننے کے لیے صدر جمہوریہ پابند بھی نہیں ہے۔ اتر پردیش کی تقسیم ہوگی یا نہیں، یہ فیصلہ دہلی میں ہوگا۔ مایاوتی آئین کو سمجھتی ہیں، حزب مخالف کی سیاست کو بھی سمجھتی ہیں۔ مایاوتی سے بہتر یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ اتر پردیش کی تقسیم کی مانگ کو نہ کانگریس اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی حمایت دے گی۔ وہ اس بات کو بھی اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ یہ ایسی مانگ ہے جو فی الحال پوری نہیں ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ یہ مدعا ایسا ہے جس سے ایک ہی جھٹکے میں سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے انتخاب سے متعلق سارے خواب چکناچور ہو جائیں گے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مایاوتی نے ان سب باتوں کو جانتے ہوئے بھی اتر پردیش کی تقسیم کے مدعے کو کیوں ہوا دی۔
مایاوتی کی پانچ سال کی مدتِ کار میں ایسا کچھ نہیں ہوا جسے ایک حصولیابی کہا جاسکے۔ ملک میں جو ماحول ہے، وہ بدعنوانی کے خلاف ہے۔ بہار کے انتخاب نے سبھی سیاسی پارٹیوں کو ڈرا دیا ہے، خاص کر اُن پارٹیوں کو جن کا بدعنوانی اور اچھی حکومت دینے کا ریکارڈ خراب رہا ہے۔ بہار کے انتخاب میں پہلی بار لوگوں نے ذات، مذہب اور فرقے کی دیوار کو توڑ کر ووٹ دیا۔ رام دیو اور انّا ہزارے نے اس ماحول کو آگے بڑھانے کا کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہریانہ کے حصار میں کانگریس پارٹی کی ضمانت ضبط ہو گئی، جب کہ کانگریس کے تین تین وزرائے اعلیٰ نے پرچار کیا۔ یہ تمام واقعات سیاسی اشارے کر رہے ہیں۔ جو سیاسی پارٹی ان اشاروں کو سمجھتی ہے وہ فائدے میں رہتی ہے۔ مایاوتی اس خطرے کو جانتی ہیں کہ پانچ سال اقتدار میں رہنے کے بعد لوگوں کا رخ اُن کے خلاف ہے۔ سماجوادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومت کے خلاف کئی معاملے ہیں۔ بدعنوانی اور گھوٹالے کی پوری فہرست ہے۔ وہ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ اگر اپوزیشن پارٹیوں کو انتخابی ایجنڈا طے کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، تو بدعنوانی اور بہتر حکومت مدعا بن جائے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو بھاری نقصان ہوگا، جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی ہے۔ مایاوتی کو کوئی ایسا مدعا چاہیے تھا جو لوگوں کی امیدوں اور جذبات سے جڑا ہو اور جو بدعنوانی جیسے مدعے پر بھاری پڑے۔
صوبہ کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا مدعا ایک مقبول مدعا ہے۔ اس مدعے سے مایاوتی نے ایک تیر سے کئی شکار کر دیے۔ بندیل کھنڈ، ہرت پردیش اور مشرقی صوبہ کی مانگ پرانی ہے۔ کئی سالوں سے یہاں الگ صوبہ کی مانگ ہو رہی ہے۔ یہاں تحریک چل رہی ہے۔ کئی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان سب سے زیادہ اہم الگ صوبہ کی مانگ رکھنے والے لیڈر اور تحریکوں کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ صوبہ کی تقسیم پر سماجوادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی واضح نظریہ نہیں ہے۔ مایاوتی نے یہ فیصلہ لے کر ان تحریکوں کو اپنی حمایت میں کھڑا کر دیا۔ وہ ان تحریکوں کا چہرہ بن گئی ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ ان پارٹیوں کو اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کریں۔ مطلب یہ کہ مایاوتی نے اس مدعے کو اٹھاکر نہ صرف اپنی حمایت میں اضافہ کیا، بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کو مصیبت میں ڈالا اور ساتھ ہی اپنے اور حکومت کے خلاف لگنے والے بدعنوانی کے الزام، قتل، وزیروں پر لگے الزامات اور خراب قانون و انتظامیہ کو مدعا بنانے سے روکا۔
مایاوتی کی حکومت کی سب سے بڑی چنوتی ملائم سنگھ کی سماجوادی پارٹی ہے۔ ملائم سنگھ کے بیٹے اکھلیش یادو کئی مہینوں سے اتر پردیش میں پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کی ریلیوں اور یاتراؤں کو عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ اکھلیش یادو میڈیا کی نظروں سے دور ضرور ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان کا کام انتخاب کو ضرور متاثر کرے گا۔ مایاوتی کے لیے اگر کہیں سے خطرہ ہے، تو وہ سماجوادی پارٹی سے ہے۔ اکھلیش یادو کی نظر مسلم ووٹروں پر ہے۔ سماجوادی پارٹی یادووں اور مسلمانوں کی حمایت سے انتخاب جیتتی ہے۔ سماجوادی پارٹی تقسیم کے خلاف ہے۔ اتر پردیش کی تقسیم سے مسلمانوں کے سامنے بھی ایک سوال کھڑا ہوتا ہے۔ ہرت پردیش یعنی مغربی اتر پردیش کے 10 ضلعے ایسے ہیں، جہاں مسلم آبادی 20 سے 49 فیصد ہے۔ مطلب یہ کہ علاقے کی سیٹوں کا فیصلہ مسلم ووٹر کریں گے۔ سیاسی طور پر وہ محض ایک ووٹ بینک سے سیاسی طاقت بن جائیں گے۔ مایاوتی نے اگر اس مدعے کو اٹھاکر انتخاب میں پرچار کیا تو سماجوادی پارٹی کے لیے مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے ایک خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں مذہب کی بنیاد پر پولرائزیشن ہو جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ویسے بھی اتر پردیش اس معاملے میں حساس ہے۔
کچھ سیاسی تجزیہ کار اور کئی اخبار یہ لکھ رہے ہیں کہ مایاوتی نے یہ فیصلہ راہل گاندھی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا ہے۔ اس دلیل میں کوئی دم نہیں ہے۔ اترپردیش میں کانگریس، تنظیم کے طور پر بہت کمزور ہے۔ یہ اسمبلی میں چوتھے نمبر کی پارٹی ہے۔ بدعنوانی، گھوٹالے اور مہنگائی کی مار سے پریشان عوام کا غصہ کانگریس کے خلاف ہے۔ کانگریس کے لیڈر بھلے ہی یہ اعلان کردیں کہ اس دفعہ وہ 200 سیٹیں جیتیں گے، زمینی حقیقت یہی ہے کہ کانگریس اگر اپنی سیٹوں کو بچا لے جائے تو یہ ایک ریکارڈ مانا جائے گا۔ اپنی ہی پارٹی کے مسائل میں الجھی کانگریس کو مایاوتی نے تقسیم کے مدعے پر مزید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ مرکز میں کانگریس کو ہی اس مدعے پر فیصلہ لینا ہے اور تقسیم کی حمایت کرنا کانگریس پارٹی کے لیے مشکل ہوگا۔ اس کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ مغربی اتر پردیش کے جاٹ ووٹرس کانگریس پارٹی سے دور چلے جائیں گے۔ مغربی اتر پردیش میں اجیت سنگھ کے سہارے سیٹیں بٹورنے کی کانگریس کی چال کو مایاوتی نے پٹری سے اتار دیا۔ اس علاقے کی ڈیموگرافی ایسی ہے کہ اس سے مسلمانوں کا ووٹ کانگریس کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ وہیں مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔
1955 میں بھیم راؤ امبیڈکر نے اسٹیٹ ری آرگنائزیشن قانون کا تجزیہ کیا تھا، جس میں انہوں نے اتر پردیش کو تین حصوں میں بانٹنے کا مشورہ دیا تھا۔ اُن کے مطابق، اتر پردیش کے مشرقی، وسط اور مغربی علاقے کو الگ صوبہ ہونے کا اعلان کر دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ مشرقی علاقہ کی الہ آباد، وسطی اتر پردیش کی کانپور اور مغربی اتر پردیش کی راجدھانی میرٹھ ہونی چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ قومی سیاست پر کہیں کوئی بڑا صوبہ حاوی نہ ہو جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں بڑے صوبے نہ ہوں۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ اتر پردیش کے ساتھ ساتھ بہار اور مدھیہ پردیش کو بھی تقسیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے ان کے مشوروں کو درکنار کر دیا۔ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار کی تقسیم کیے بغیر یہ قانون 1956 میں نافذ کر دیا گیا۔ اتر پردیش کو بانٹنے کی بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ 1972 میں 14ممبران اسمبلی نے اتر پردیش اسمبلی میں ایک تجویز رکھی۔ اس تجویز میں صوبہ کو تین یعنی برج پردیش، اودھ پردیش اور مغربی پردیش میں بانٹنے کی مانگ تھی۔ یہ تجویز پاس نہیں ہو سکی۔ اتر پردیش کی تقسیم تو ضرور ہوئی، لیکن تحریک کی وجہ سے اترا کھنڈ بن گیا۔ بہار سے جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ بنایا گیا۔ ان دونوں صوبوں میں بابا صاحب کی بات صحیح ثابت تو ہوئی، لیکن دلیل الگ تھی۔ دونوں صوبوں میں نابرابری کی وجہ سے تحریک ہوئی جس کی وجہ سے ان صوبوں کی تقسیم ہوئی۔ اتر پردیش میں ہرت پردیش، بندیل کھنڈ اور پوروانچل کو الگ صوبہ بنانے کی مانگ کو لے کر تحریک چل رہی ہے۔ تحریک میں اتنی جان تو نہیں ہے، لیکن اس علاقے کے لوگ ذہنی طور پر اس کی حمایت ضرور کرتے ہیں۔
الگ صوبہ کی سب سے پر زور آواز بندیل کھنڈ کے لوگوں کی طرف سے اٹھائی جا رہی ہے۔ آزادی کے کچھ دنوں بعد سے ہی یہاں کے مقامی لیڈر اور کئی تنظیمیں اسے الگ صوبہ بنانے کی مانگ اٹھا رہی ہیں۔ بندیل کھنڈ ہندوستان کے بالکل وسط میں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کا علاقہ ہے۔ بندیل کھنڈ علاقہ میں اتر پردیش کے للت پور، جھانسی، مہوبہ، باندہ، جالون، حمیر پور، فتح پور اور چترکوٹ ضلعے ہیں، جب کہ مدھیہ پردیش کے چھتر پور، ساگر، پنّا، ٹیکم گڑھ، دموہ، دتیا، بھنڈ، ستنا وغیرہ ضلعے شامل ہیں۔ دو صوبوں میں بنٹے ہونے کے باوجود جغرافیائی اور ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں معدنیاتی ذخائر ہیں۔ یہ مالی وسائل سے بھرپور علاقہ ہے، لیکن یہ ہندوستان کے سب سے پس ماندہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ ان کی دلیل وہی ہے، جو دلیل جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور وِدربھ کی ہے۔ سیاسی طور پر مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی ترقی نہیں ہو پائی ہے۔ نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کے پاس اس علاقے کی ترقی کے لیے کوئی روڈ میپ ہے۔ اس وقت بندیل کھنڈ علاقہ کی صورت حال نہایت سنگین ہے۔ یہاں کے لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر بندیل کھنڈ الگ صوبہ بن جاتا ہے، تو یہ علاقہ ترقی یافتہ ہو جائے گا۔ اس کی ممکنہ راجدھانی جھانسی ہے۔
بندیل کھنڈ کی مانگ نابرابری کی مار جھیل رہے لوگوں کی ہے، تو دوسری طرف مغربی اتر پردیش امیر اور ترقی یافتہ ہونے کے باوجود الگ صوبہ کی مانگ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتر پردیش کی سیاست میں یادو بااثر ہے۔ یادو اتر پردیش کے ہر علاقے میں پھیلے ہیں۔ مغربی اتر پردیش میں جاٹوں کی اکثریت ہے۔ ہریانہ اور پنجاب کی طرح یہاں کے جاٹ بھی امیر ہیں، لیکن سیاسی طور پر با اثر نہیں ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اتر پردیش کی آمدنی کا 72 فیصد پیسہ مغربی اتر پردیش سے جاتا ہے، لیکن اس کی ترقی پر بجٹ کا محض 18 فیصد پیسہ خرچ ہو تا ہے۔ اجیت سنگھ ہرت پردیش کی مانگ کرتے آئے ہیں۔ اجیت سنگھ کانگریس کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے والے ہیں، کانگریس ہرت پردیش کی کھلی حمایت نہیں کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے، نئے صوبہ کے مدعے پر مایاوتی نے انہیں اس مدعے پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اتر پردیش کا مشرقی علاقہ صوبہ کے دوسرے علاقوں سے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے الگ ہے۔ یہی نابرابری پوروانچل صوبہ یا مغربی پردیش کی مانگ کی بنیاد ہے۔ اتر پردیش کا مشرقی علاقہ جو بہار اور نیپال سے ملحق ہے، اسے پوروانچل کہا جاتا ہے۔ یہ اتر پردیش کے سب سے پس ماندہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ اگر اس کا موازنہ مغربی اتر پردیش سے کریں تو یہ علاقہ بہت ہی پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ یہاں کی آبادی زیادہ ہے، لیکن بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ یہ علاقہ ناخواندگی، بے روزگاری، خراب قانون و انتظامیہ اور غریبوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت کی اندیکھی کی وجہ سے یہ علاقہ پچھڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو علاقہ بچ جاتا ہے، وہ اودھ پردیش کہلاتا ہے۔ مایاوتی انہی چار صوبوں کی تشکیل کرنا چاہتی ہیں۔
مایاوتی نے اتر پردیش کی تقسیم کا جو مدعا اٹھایا ہے، وہ ایک انتخابی مدعا ہے۔ انتخاب سے قبل اس مدعے کو اٹھا کر مایاوتی نے انتخاب میں سبقت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے حساب سے انتخاب کا مدعا طے کیا ہے۔ دوسری پارٹیوں کو اب سوچنا پڑے گا کہ اس مدعے کے جواب میں کون سا مدعا اٹھایا جائے۔ اگر یہ مدعا انتخاب کا اہم مدعا بن گیا، تب مایاوتی کو ہرانا مشکل ہو جائے گا۔ سماجوادی پارٹی کو اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی پالیسی صاف رکھنی ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں الگ صوبہ بنانے والی تحریکوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔ اگر وہ اتر پردیش کی تقسیم کے خلاف ہے تو اسے یہ بتانا ہوگا کہ مخالفت کی وجہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مایاوتی کو چنوتی دینے والی پارٹیوں کو عوام سے جڑے مدعوں پر لوٹنا پڑے گا۔g

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *