یو پی اسمبلی انتخاب: انتشار کی آگ میں جلتی مسلم سیاست

اعجاز احمد
یو پی میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے ۔ جوڑ توڑ ، وعدوں ، تسلیوں اسکیموں اور فلاحی امور پر سیاست کی بساط پھیلادی گئی ہے ہر پارٹی کی یہی کوشش ہے کہ عوام کو کیسے بہلا پھسلا کر اقتدار پر قبضہ جمایا جائے اورلوگوں کا ذات ، برادری مذہب وزبان کے نام پر استحصال کیا جائے۔
مسلمان اگرچہ اقلیت میں ہیں لیکن ’’کنگ میکر ‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جدھر مسلمانوں کاجھکائو ہوا وہی کامیابی سے ہمکنار ہوا، یہ مسلم ووٹ ہی کی طاقت ہے کہ جب تک وہ لالو کے ساتھ رہے لالوحکومت میں برقرار رہے اور جیسے ہی مسلمانوں نے اپنا رخ لالو سے موڑلیا وہی لالو جو بہارکو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اوریہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب ان کو اقتدار سے ہٹانے والا کوئی نہیں ، پلک جھپکتے ہی ان کے خوابوں کاشیش محل چکنا چور ہوگیا اور اب انہیں دوبارہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے سخت پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں ۔
دوسری طرف بنگال کی کمیونسٹ پارٹی جو تقریباً چوتیس سال تک بنگال کی مختار کل رہی اور اس نے بنگال کو کنگا ل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور غریبی اور بیروزگاری دور کرنے کے فارمولے پر سیاست کرتی رہی اور پوری ریاست کے قدرتی وسائل کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کرتی رہی لیکن جب عوام کو احساس ہواکہ ان کا صرف استحصال ہورہاہے تو انہوںنے کمیونسٹ پارٹی کو بھی داستان عبرت بناکر رکھ دیالیکن کمیونسٹ پارٹی کی شکست اور ممتاجی کی فتح مسلمانوں کی محبت وناراضگی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ مسلمانوں کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ کیجئے کہ ایک دن تھا کہملائم سنگھمسلمانوں کی بنیاد پر ہی اقتدار میں تھے اورجب تک مسلمانوں کی ہمدردی ملائم سنگھ کے ساتھ رہی ملائم اقتدار کی کرسی سے وابستہ رہے لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے ملائم سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا توانہیں احساس ہواکہ انہوںنے کچھ غلط کیا ہے چنانچہ وہ مسلمانو ںکو منانے اور راضی کرنے میں پوری تندہی سے لگے ہوئے ہیں تاکہ دوبارہ کرسی نصیب ہوسکے ۔
لیکن مسلم ووٹ کی طاقت او ر اہمیت سے شاید یوپی کے مسلمان بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کر منتشر کیاجارہاہے۔اس وقت یوپی میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں او ر تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی ہمدردی ، غمخواری ، مسلم ریزرویشن کے متعلق باتیں کرتی نظر آرہی ہیں ۔انہیں اب اس بات کا احساس ہوگیاہے کہ مسلم ووٹ ہی ان کی فتح کاضامن ہے جس سے خوش ہوگئے اس کا بیڑا پار اور جس سے ناراض ہوگئے اس کی نیاّایسے ڈوبے گی کہ پھر نکل بھی نہ سکے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو لبھا نے کے لئے ہر پارٹی اپنے اپنے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔
اسمبلی انتخاب میںکچھ ماہ رہ گئے ہیں او ر چھوٹی بڑی پارٹی یا تو پالا مارنے کے لئے یاحکومت میں شرکت کے لئے کمر بستہ ہوگئی ہے قابل غور بات یہ ہے کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آتاجارہا ہے پارٹیوں میں اضافہ ہوتاہی چلاجارہاہے یوپی میں تقریباً تیس پارٹیاں ہیں۔ کچھ علاقائی ہیں کچھ برادری والی ہیں اگر کچھ صوبائی ہیں تو کچھ صرف اشتہاری ، کچھ کار جسٹریشن ہواہے اور کچھ بغیر رجسٹریشن کے کام چلا رہی ہیں ان میں سرفہرست پیس پارٹی ، علماء کونسل ،لوک پنچ ، پچھڑا جن سماج ، قومی ایکتا دل راشٹریہ لوک نرمان پارٹی ، پسماندہ مسلم سماج ، یونائیٹیڈ جن لوک پارٹی ، نیشنل لوک تانترک پارٹی ، راشٹریہ لوک دل ، جن کرانتی پارٹی ، مانوتا سماج وادی پارٹی ، بھاکپا، اور انڈین جسٹس پارٹی ۔ جی ہاں یہ ہیں یوپی کی کچھ قدیم اور اور کچھ نئی  پارٹیاں اور تقریباً اس میں اکثریت کانعرہ صرف مسلم ریزرویشن ، سچر کمیٹی کی سفارشات کانفاذ ،اور مسلمانوں پر کی جار ہی زیادتیوں کے خلاف واویلا ہے جبکہ بڑی پارٹیوں میں سپا ، بسپا کانگریس ، بھاجپا ، پیس پارٹی ، لوک منچ ،اور جن شکتی شامل ہیں جی ہاں !یوپی میں اسمبلی الیکشن کابگل بچ چکا ہے سیاسی بازی گر میدان میں کود پڑے ہیں سب کانشانہ ہے مسلم ووٹ بینک ۔ مایاوتی اور ان کے وزراء  جنہوں نے اپنی حکومت کا ’’شبھ آرمبھ‘‘مسلمانوں کودہشت گرداوراس ملک کاغدار جیسے الفاظ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی کی دیوار یں گرواکر کیاتھا، جس کی حکومت نے اپنی زبان سے پانچ سالہ دور میں کبھی مسلمانوں کا نام تک بھی لینا گوارہ نہ کیا، اس نے بھی اپنا کفر توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کی فکرمیں دبلی ہوئی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم کو لکھے گئے خظ میں بہن جی نے مسلم ریزرویشن کی وکالت کرکے آئندہ الیکشن کیلئے راہ ہموار کرنے کی ناکام کوشش کی ہے حالانکہ اب وہ دن گئے جب میاں فاختہ اڑا یا کرتے تھے ،جبکہ مایاوتی حکومت کاحال بدحال ہے اس نے ’’سروجن ہتائے اور سروجن سکھائے ‘‘کانعرہ لگاکرصرف پارکوں ، ہاتھیوں ، اور امبیڈ کرکے مجسموں کی تعمیر کا’’کار خیر ‘‘کرتی رہی ہے کوئی بھی محکمہ اس حکومت کا ایسا نہیں ہے جس میں بدعنوانی کا بول بالانہ ہو، اوپر سے نیچے تک ایک منظم بدعنوان حکومت کا نام بن چکاہے مایا وتی حکومت ۔ ا س لئے محترمہ کو کم از کم مسلمانوں سے زیادہ امید نہ رکھنی چاہئے اور جہاں تک دلت ووٹوں کا سوال ہے تو ان کی تقسیم کے لئے جن شکتی پارٹی کے ناخداپاسوان جی مدعو کئے گئے ہیں حالانکہ موصوف بہار سے شکست فاش کھانے کے بعد  یوپی میں قسمت آزما ئیں گے بے شک الیکشن میں ان کا بھی اہم رول ہوسکتاہے لیکن صرف دلتوں کی تقسیم تک ہی محدود رہیں گے۔
ملائم سنگھ جن کی امیج مسلمانوںمیں کافی اچھی تھی اور وہ ایک سنجیدہ اور سلجھے ہوئے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور مسلمانوں کی ہمدردی بھی ان کے ساتھ تھی کیونکہ چاہے وہ مسلمانوں کے لئے کچھ بھی نہ کریں لیکن انکا ذکر خیر ضرور کرتے رہتے ہیں لیکن’’ کلیان‘‘ کی دوستی نے ان کی شخصیت بھی غیر معتبر بنادی حالانکہ معافی تلافی کے بعد جو ناراضگی مسلمانوں میںپائی جاتی تھی وہ کم تو ضرور ہوگئی ہے لیکن ایک دم سے مسلمانوں کا رخ ملائم کی طرف ہوجائے یہ بھی ممکن نہیں ہے ۔ ان کے ہونہار سپوت اکھلیش یادویاترائوں کے ذریعہ فضا بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کیا وہ کوئی کرشمہ دکھاپائیں گے یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا۔دوسری بات جو سب سے اہم ہے اور جو مسلم ووٹ پر نظر لگائے ہے وہ ہے نوتشکیل شدہ پیس پارٹی ،گزشتہ  ضمنی الیکشن کے نتائج سے تو یہی لگتاہے کہ پیس پارٹی کابھی  آنے والے الیکشن میں اہم رول ہوسکتاہے اور چونکہ مسلمان ان قیادتوں سے پریشان ہوچکے ہیں اس لئے یہ نو تشکیل شدہ پارٹی مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے،لیکن خیال رہے کہ کانگریس اوربی جے پی بھی اس دوڑ میں شامل ہیں حالانکہ بی جے پی کو ایک بھی مسلم ووٹ نہ ملنے کی توقع ہے پھر بھی بطور تسلی کے وہ بھی کچھ ’’مسلم ناموں ‘‘کااستعمال کررہی ہے ۔ رہی بات کانگریس کی افواہ، تویہ اڑی ہے کہ اگر حکومت کانگریس کی بنتی ہے تو یوپی کے وزیر اعلیٰ سلمان خورشید ہوں گے اس وجہ سے سلمان خورشید بھی مسلم ریزرویشن کا راگ الاپتے نظر آرہے ہیں حالانکہ کانگریس کایہ ’’  لالی پاپ‘‘  مسلمانوں کو ہضم نہیں ہورہاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ راہل کادلتوں کے ساتھ قیام وطعام کیا چمتکار دکھاتاہے۔
بہرکیف حکومت کسی کی بنے یانہ بنے اوربہتر بھی یہی ہے کہ اکثریت کے ساتھ تو کسی کی حکومت بننے ہی نہ دی جائے ۔ مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکر یہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کاصحیح استعمال کریں ۔ کسی کے بہکاوے میں نہ آکر اپنے لئے صحیح رہنما کو منتخب کریں اور اپنے ’’بادشاہ گر‘‘ووٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کریں کیونکہ مسلمانوں کااتحاد ہی یوپی کے حاکم کافیصلہ کرے گا اور جذباتیت سے اجتناب کرکے ہوش و حواس کے ساتھ اپنے مستقبل کا انتخاب کریں ۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *