کیا شمالی سوڈان کو دوسرا لیبیا بنا دیا جائے گا ؟

وسیم احمد
خطہ افریقہ میں سب سے بڑے جمہوری ملک سوڈان  کے بارے میں یہ سمجھا جارہا تھا کہ تقسیمِ سوڈان کے بعد ملک میں استحکام پیدا ہوگا اور لوگوں کو امن و سکون کے ساتھ جینا نصیب ہوگا۔ سوڈان تقسیم ہوگیا۔ شمالی سوڈان اور جنوبی سوڈان کو عالمی نقشے پر منظوری بھی مل گئی  مگر لوگوں کو نہ تو سکون ملا نہ ہی معاشی آسودگی۔خاص طورپر شمالی سوڈان کے لئے یہ تقسیم مزید فقر و فاقہ اور بے چینیوں کا پیغام لے کر آئی ہے۔یہاں امریکہ کی مداخلت اور صدر عمر البشیر کو عہدے سے بر طرف  کیے جانے کے لئے نت نئی سازشوں سے ملک شدید سیاسی بحران کی زد میں ہے۔امریکہ اس بات کوجانتاہے، مگر وہ شمالی سوڈان کوافریقی خطے میں اپنے تسلط کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اس لئے امریکہ شمالی سوڈان کو کٹھ پتلی بنا کر رکھنا چاہتا ہے تاکہ جب  امریکہ افریقی خطے میں قدرتی ذخائر پر حاوی ہونے کے لئے  اپنا  اثر و رسوخ  بڑھائے تو اس وقت شمالی سوڈان اس کی راہ کا روڑا نہ بنے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ کی دخل اندازی سے نہ صرف شمالی سوڈان میں سیاسی بحران جاری ہے بلکہ امریکہ دوسروں کے معاملوں میں دخل اندازی کرنے کی وجہ سے خود بھی خسارہ اٹھا رہا ہے مگر اسے اس بات کا احسا س نہیں ہے۔چنانچہ چین کی نیوز ایجنسی ’’ زنہوا‘‘ نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے کہ’’ امریکہ کو دوسروں کو معاشی اصلاح کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔اگر امریکہ دوسروں کے معاملوں میں دخل اندازی کرنے کے بجائے اپنی اندرونی  اصلاحات پر توجہ دیتا تو اس کی اقتصادی حالت ایسی نہ ہوتی جس سے وہ دوچار ہے‘‘۔ دراصل سپر پاور ہونے کے زعم میں امریکہ کی توجہ اپنی  بنیادی ضرورتوں سے ہٹ گئی اور وہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملوں میں دلچسپی زیادہ لینے لگا۔بظاہر  اس کا فائدہ اسے ملا بھی اور وہ دنیا کا تنہا بے تاج بادشاہ بن تو گیا مگر امریکہ کے حکمراں  اپنے اس عمل کے دوررس منفی نتائج سے بے خبر تھے۔ وہ اس بات کو محسوس نہیں کررہے تھے کہ امریکہ کا یہ طرز عمل کبھی نہ کبھی اس کی معیشت کو تباہ کردے گا۔ آج وہ اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ اقتصادیات کے بد ترین دور سے گزرنے کے باوجود امریکہ اپنی عادتوں سے باز نہیں  آرہاہے اور دوسرے ملکوں کے داخلی معاملوں میں دخل اندازی کا سلسلہ نہیں روک سکا ہے۔اس کے اسی عمل کی وجہ سے مشرق وسطیٰ،یوروپ اور خطہ افریقہ سیاسی بے چینیوں کا شکار ہے۔خاص طور پر وہ ممالک جہاں مسلم اکثریت میں ہیں اور جہاں قدرتی ذخائر کی بہتات ہے ایسے ملکوں کو  امریکہ کے ناپاک عزائم کی وجہ سے زیادہ افراتفری کا سامنا ہے۔سیاسی مبصرین کی مانیں تو امریکہ اپنے اقتصادی بحران پر قابو پانے کیلئے  یا یوں کہیں کہ دولت کے لالچ میں ایک طرف ایشیائی ممالک سے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ہاتھ پیر مار رہا ہے  تو دوسری طرف وہ افریقی خطے میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لئے ان ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جو افریقی خطے میں اس کی چودھراہٹ قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں۔در اصل خطۂ افریقہ کو قدرت نے معدنیاتی ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے۔یہاں ہیرے، سونے ،المونیم، پٹرول اور دیگر معدنیات کے بڑے بڑے ذخیرے زمین میں دفن ہیں ۔ظاہر ہے ان پر تسلط قائم کرنے کے لئے پہلے ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو وہاں تک رسائی حاصل کرنے  سے اسے روک سکتی ہیں۔ چنانچہ افریقی ملکوں میں پہلے مصر کو راہ سے ہٹایا گیا۔ مصراگرچہ حسنی مبارک کے دور اقتدار میں  اسرائیل کا وفادار تھا مگر ادھر کچھ دنوں سے کچھ مسئلوں پر حسنی مبارک اور امریکہ کے مابین تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں،جن میں  فلسطین مسئلے کے علاوہ عرب دنیا میں بنیاد پرست ذہنیت کے خلاف عام مہم چلانے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ لہٰذا وہاں انقلاب لاکر حسنی مبارک کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیا۔ اس کے بعد خطہ افریقہ کا دوسرا ملک لیبیا تھا، جس سے امریکہ کو خطرہ ہوسکتا تھا،لہٰذا نیٹو کی مدد سے لیبیا اور کرنل قذافی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے۔ان دو ملکوں  سے نمٹنے کے بعد امریکہ کے لئے بہت حد تک خطہ افریقہ میں قدم جمانے کی راہیں ہموار ہوچکی تھیں مگر ایک خطرہ اب بھی ہے جو امریکہ کو افریقی سرحدوں میں دخل اندازی کرنے اور اس کی چودھراہٹ سے روکنے کی کوشش کرسکتا ہے۔وہ ہے سوڈان۔ سوڈان  جس کو افریقہ کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا درجہ حاصل تھا اور افریقہ میں اس کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی مگر2011 میں اسے ٹکڑے کرکے گرچہ چھوٹا بنا کر اس کی طاقت کو بانٹ دیا گیا ہے مگر عرب ملکوں میں اب بھی اس کا اثرو رسوخ گہرا ہے اور عرب لیگ میں اس کی آواز کو عزت و وقار کے ساتھ سنا جاتا ہے ، یہ کبھی بھی امریکہ کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔لہٰذا افریقی خطوں میں قدم جمانے سے پہلے امریکہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ سوڈان کو ایسی پوزیشن میں لے آئے کہ وہ امریکہ کے خلاف بولنے یا اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کا  تصور نہ کر سکے۔ظاہر ہے اس کے لئے اسے کسی ایسے مہرے کی تلاش ہے جو سوڈان کو اپنے آپ میں سمٹ کر رہنے پر مجبور کردے اور وہ افریقی ملکوں میں امریکہ کے لئے روڑے نہ اٹکائے۔چنانچہ امریکہ نے اس کے لئے ایک مہرہ تلاش کر  لیا ہے۔ایک مہرہ تو اسے پہلے سے ہی ملا ہوا تھا ۔وہ تھا سوڈانی صدر عمر البشیر کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جو کرمنل کورٹ سے جاری کیا گیا تھا۔یہ وارنٹ دارفر میں قتل عام کرانے کی وجہ سے جس میں تقریباً10 لاکھ انسانوں کے مارے جانے کا الزام ہے عمر البشیر کے خلاف وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔اس وارنٹ کو امریکہ 2009 سے ہی مہرے کے طور پر استعمال کرتا آرہا ہے اور گاہے بگاہے صدر سوڈان کو گرفتار کیے جانے کی  دھمکی دیتا رہتا ہے۔اب اسے ایک اور نیا مہرہ مل گیا ہے۔امریکہ شمالی سوڈان پر یہ الزام عائد کرنے لگا ہے کہ وہ  ابیعی کے علاقیمیں بمباری کرکے جنوبی سوڈان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ابیعی  تیل سے مالا مال علاقہ ہے جو سال رواں کے ابتدا میں تقسیم سوڈان  کے بعد سے ہی متنازع خطہ بنا ہوا ہے۔اس خطے کو شمالی سوڈان اپنے حصے میں شامل کرنا چاہتا ہے جبکہ جنوبی سوڈان اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ دراصل جنوبی سوڈان کی علیحدگی پسند جماعت پیپلز کانگریس نے ایک طرفہ طور پرابیعی میں ریفرنڈم کراکر اس علاقے کو جنوبی سوڈان میں شامل کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ شمالی سوڈان کا کہنا ہے کہ 2005 کے معاہدے میں ریفرنڈم کے لئے جو وقت مقرر کیا گیا تھا اس سے قبل ہی یکطرفہ ریفرنڈم کرایا گیا ہے لہٰذا اس ریفرنڈم کو کالعدم قرار دیا جائے۔مگریوروپی یونین نے اس علاقے کو جنوبی سوڈان کا خطہ قرار دیا ہے البتہ دونوں میں یہ طے ہوا کہ قدرتی تیل سے حاصل ہونے والے منافع کی رائلٹی شمالی سوڈان کو ملتی رہے گی۔ مگر جنوبی سوڈان کو یہ رائلٹی بھاری پڑ رہی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے رائلٹی کی ادائیگی سے نجات ملے۔در اصل تقسیم کے بعد قدرتی ذخائر سے مالا مال بیشتر زمینی حصے جنوبی سوڈان کے حصے میں چلے گئی مگر اس کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی تمام پائپ لائنیں شمالی سوڈان کے سمندری علاقوں سے ہوکر گزرتی ہیں اور بحر النیل کی بندرگاہ بھی شمالی سوڈان کے حصے میں ہے جس کی وجہ سے اسے  شمالی سوڈان کورائلٹی دینی پڑتی ہے۔اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تلخیاں ہیں۔ اس اختلاف کا فائدہ امریکہ اٹھارہاہے اور اسی اختلاف کو بنیاد بنا رکر وہ سوڈان پر ایسے الزامات عائد کر رہا ہے جن سے شمالی سوڈان کلی طور پر انکار کرتا آرہا ہے۔ امریکہ  شمالی سوڈان کے انکار کے باوجود  اس بات پر بضد ہے کہ شمالی سوڈان ابیعی کے مسئلے کو لے کر جنوبی سوڈان کے سرحدی علاقوں پر بمباری کررہا ہے۔ جبکہ شمالی سوڈان شدت سے اس بات سے انکار کر رہا ہے ۔ مگر امریکہ اس  الزام کو بنیاد بنا کر شمالی سوڈان کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ایک عربی اخبار ’’ الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق اوبامہ انتظامیہ میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ عمر البشیر کے تئیں کیا فیصلہ کیا جائے۔کیا  عمر البشیر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے طاقت کے ذریعہ وہی  طریقہ کار اختیار کیا جائے جو لیبیا میں کرنل قذافی کے ساتھ ہواہے  یا شمالی سوڈان کے معیشتی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے  طاقت کا استعمال نہ کیا جائے اور حکمت عملی اپنا کر عمر البشیرکو امریکی اشارے کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔
ٓ امریکہ شمالی سوڈان کو اپنے اشارے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور کرنے کے لئے ابیعی علاقے میں شمالی سوڈان کی طرف سے بمباری کو ہتھکنڈہ کے طور پر استعمال کررہا ہے،یہی وجہ ہے کہ شمالی سوڈان کے انکار کے باوجودوہ  شمالی سوڈان کے کسی بیان کو سچ ماننے کے لئے تیار نہیںہے۔وہ وہی  سچ مانتا ہے جو سوڈان میں امریکہ کی سفیر سوزان رایس کہتی ہیں۔انہوں نے ہی شمالی سوڈان پر بمباری کا الزام لگایا ہے جبکہ سوڈانی حکومت کے ترجمان  العبید مروح بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ سوزان امریکہ کو سوڈان کے بارے میں غلط اطلاع فراہم کررہی ہیں۔ مروح کا کہنا ہے کہ ہم جنوبی سوڈان کے ساتھ ہوئے معاہدے کی پاسداری کے پابند ہیں ،مگر العبید مروح کی صفائی کو نظر انداز کرتے ہوئے  امریکی وزارت خارجہ نے یہ بیان جاری کرکے کہ ’سوزان جو کچھ کہہ رہے ہیںوہ سچ ہے اور شمالی سوڈان کو اپنے رویے سے باز رہنا ہوگا‘شمالی سوڈان کے تئیں اپنے عزائم ظاہر کردیا ہے۔اب اگر صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو حقیقت بالکل کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شمالی سوڈان چاہے اپنے بارے میں کتنی ہی صفائی دیتا رہے، امریکہ سچ اسی بات کو مانے گا جو اس نے پہلے سے طے کر رکھا ہے ۔اور  وہ ہے  خطہ افریقہ میں اپنا قدم جمانے کے لئے شمالی سوڈان کو خوفزدہ کرنا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمر البشیر پر اسی طرح الزام لگتے رہے  اور امریکہ اپنے مفاد کے لئے شمالی سوڈان کو نشانہ بناتا رہا تو کیا یہ ممکن ہے کہ امریکہ  عراق اور لیبیاکی طرح یہاں بھی فوجی کارروائی کرے۔ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ اوبامہ اتنظامیہ شمالی سوڈان کے خلاف فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے مگر اس کے لئے دشواری یہ ہے کہ سوڈان لیبیا کی طرح مالدارملک نہیں ہے۔ اگر وہ یہاں فوجی کارروائی کرتا ہے تو تمام اخراجات اسے تنہا برداشت کرنے پڑیں گے  اور اسے لیبیا کی طرح سوڈان سے کوئی معاوضہ وصول کرنا ممکن نہ ہوسکے گا، کیونکہ سوڈان خطے میں انتہائی غریب ترین ملک ہے  یہاں کی 80 فیصد آبادی زراعت اور مویشی پالن کے کاموں سے گزر بسر کرتی ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ فوجی کارروائی کرتا ہے تو اسے  مالی  فائدہ ملنے کی امید نہیں ہے،ہاں وہ حکمت عملی اپنا کر عمر البشیر کو اپنے بس میں کرنے کی کوشش ضرور کرے گا اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کرمنل کورٹ سے جو گرفتاری کا وارنٹ عمر البشیر کے خلاف 2009 میں جاری کیا گیا تھا اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوششیں تیز کردی جائیں۔بہر حال امریکہ شمالی سوڈان پر فوجی کارروائی کرے یا  نہ کرے، لیکن سوڈان کی حکومت کو اپنے اشارے پر چلنے کے لئے کسی نہ کسی حکمت عملی کو ضرور اپنائے گا تاکہ اس کے لئے افریقی خطے میں داخلے کی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں اور وہ وہاں کی زیر قدرتی دولت کو سمیٹ سکے۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *