سرکار کو ایڈجرنمنٹ موشن ماننا چاہئے

کمل مرارکا
خردہ  بازار میں غیرملکی داخلے پر جو سرکار نے فیصلہ لیا کہ اسے آگے نہیں بڑھائیں گے، یہ فیصلہ تو صحیح کیا، لیکن پرنب مکھرجی کا جو بیان ہے، اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوک سبھا  تحلیل کرنے کا دبائو بڑھے اور جلدی چنائو کرانا پڑے۔یہ اپنے آپ میں ایک طرح کا خلاصہ ہے۔ خلاصہ اس لئے کہ سرکار خود یہ سمجھتی ہے کہ عوام میں یہ ایک  مقبول پالیسی نہیں ہے۔کسی پالیسی پر فیصلہ کرنے سے پہلے عوام کی رائے کو اہمیت دینی چاہئے، تاکہ سرکار کو پھر سے قدم پیچھے نہ کھینچنا پڑے۔ سال 1970 میں اندرا گاندھی نے بینکوں کو قومیایا تھا، اس کی بھی مخالفت ہوئی تھی،لیکن اسی بات پر انہوں نے چنائو کرایا اور اکثریت سے جیت کر آئیں۔ یہ جمہوریت کا نیا چہرہ ہے کہ جمہوریت سے چنی ہوئی سرکار خود یہ مانتی ہے کہ جو پالیسیاں وہ لاگو کر رہی ہے ، وہ وہ مقبول نہیں ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ چنی ہوئی سرکار  پر پالیسیاں  مقرر کرنے پر کچھ پابندیاں ہونی چاہئے۔ کسی بھی سرکر پر قانون بنانے کے اختیار پر کچھ پابندی ہونی چاہئے۔سرکار وہی پالیسی بنا سکے، جس  منشور پر وہ منتخب ہوکر آئی ہے۔اس کے باہر قانون بنانے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے۔عوام نے سرکار کو چنا ہے، ان  کا مینی فیسٹو پڑھ کر اور اگر آپ اس سے آگے جانا چاہتے ہیں تو آپ کو پھر سے عوام کی رائے لینی چاہئے۔ پرنب مکھرجی کی تعریف کر رہا ہوں، جو کم سے کم صاف صاف بول رہے ہیں کہ اس مدعے کو آگے لے جانے میں خطرہ تھا۔ ہو سکتا تھا کہ جس طرح انہوں نے  نیو کلیر بل پاس کرایا، معاون پارٹیوں کو منا کر یا خرید فروخت کر کے اسے بھی پاس کرا لیتے، لیکن  ایسا نہیں ہوا، کیونکہ سرکار اپنے معاون پارٹیوں کو اس پالیسی پر سمجھا نہیں پائی، جس پر اسے خود  شک ہے۔
پارلیمنٹ میں دو  اہم مدعے تھے، مہنگائی اور کالا دھن۔ پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہو رہا تھا۔ بی جے پی پارلیمنٹ چلنے نہیں دے رہی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار اور اپوزیشن، دونوں مل بیٹھ کر پہلے ہی طے کر لیتے کہ کس مدعے پر، کس طرح سے بات ہوگی  اور کسی بھی حالت میں کام بند نہیں ہونا چاہئے۔ لوک سبھا میں تعطل  بہت ہے۔ جب ایڈجرنمنٹ موشن  آتا ہے تو ہونا یہ چاہئے کہ ا سپیکر کو اسے ماننا چاہئے۔ ایڈجرنمنٹ موشن کا مطلب پارلیمنٹ کا  اِسٹے نہیں ہے، بلکہ جو کام چل رہا ہے، اس کا اِسٹے ہونا چاہئے۔ جو زیادہ اہم موضوع ہے، ان پر بحث ہونی چاہئے۔ جب  ایڈجرنمنٹ  موشن  کے لئے پچاس  ممبر پارلیمنٹ کھڑے ہوں ۔اگر سارا اپوزیشن ایڈجرن چاہتا ہے تو سرکار کو اس پر کیا  اعتراض  ہے۔ ایڈجرنمنٹ موشن کو تو ماننا ہی چاہئے، تبھی ملک کے عوام کو اطمینان ہوگا۔ اسپیکر کو  پرستائو مان لینا چاہئے،چاہیں تو  ممبران  کی تعداد 50  کی جگہ60  کر سکتے ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *