سرکاری اور پارٹی میں دراڑ

ملک کی حکومت اس وقت دو قطبین میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف سونیا گاندھی اور کانگریس پارٹی ہے، تو دوسری طرف وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے کچھ خاص وزیر ہیں۔ وزیر اعظم بغیر کچھ بولے سونیا گاندھی کی سبھی صلاحوں کو درکنار کرکے، ان کا قد چھوٹا کرنے کی فراق میں ہیں تو سونیا گاندھی ملک کے سب سے طاقتور ادارہ قومی صلاح کار کمیٹی کے مشوروں کو نافذ کرانے کا دباؤ سرکار پر، بنانے میں لگی ہیں۔ لیکن منموہن یہاں بھی داؤ کھیل رہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے صلاح کاروں کے ذریعے تیار کیے گئے فوڈ سیکورٹی بل کے جس مسودے کو منموہن نے غیر اخلاقی بتا کر سال بھر پہلے درکنار کر دیا تھا، اب اسی کو وہ آناً فاناً میں عملی جامہ پہنانے میں لگے ہیں۔ وجہ ہے ان کے لاڈلے پی چدمبرم، جنہیں منموہن پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں مخالفین کے وار سے بچانا چاہتے ہیں۔

روبی ارون
وزیر  اعظم منموہن سنگھ کو قریب سے جاننے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ جو بات کہتے ہیں، معنی اس کے نہیں ہوتے، بلکہ وہ جو نہیں کہتے ہیں مطلب اُس کا ہوتا ہے۔ گزشتہ سات سالوں کے دوران اگر اس بات سے سب سے زیادہ واسطہ کسی کا پڑا ہے، تو وہ ہیں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی۔ حالانکہ منموہن سنگھ نے کبھی بھی اپنے لیڈر کی شان میں زبانی طور پر گستاخی نہیں کی، مگر گزشتہ دو سالوں میں منموہن سنگھ اور ان کے صلاح کاروں نے سونیا گاندھی اور ان کے صلاح کاروں کے سبھی مشوروں کو سرے سے خارج کرتے ہوئے یہ جتانے میں دیر نہیں کی کہ وہ ہوں گی پارٹی کی ہائی کمان، لیکن سرکار تو ہم ہی چلاتے ہیں۔ لہٰذا سونیا گاندھی کی صدارت والی قومی صلاح کار کمیٹی (این اے سی) کی سبھی صلاحوں کو وزیر اعظم کا دفتر بغیر کسی مشاورت کے خارج کر دیتا ہے۔ جب کمیٹی کے ممبر وجہ پوچھتے ہیں تو وزیر اعظم کے صلاح کار، سونیا گاندھی کے صلاح کاروں کے مشوروں کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وزیر اعظم کا صلاح کار گروپ، سونیا گاندھی کی قومی صلاح کار کمیٹی پر حاوی ہو تا جا رہا ہے، اور کبھی بے حد طاقتور رہے اس ادارہ کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے۔ منموہن سنگھ نے بڑے مدعوں پر سونیا کی اندیکھی نہیں کی ہے، مثلاً کابینہ کی توسیع۔ لیکن کئی ایسے معاملے ہیں جنہیں وہ منع کر دیتے ہیں۔ قوانین کے مسودے ان میں سے ایک ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں سونیا کی سفارشیں سنی تو جاتی ہیں، لیکن ان پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔ این اے سی نے گھریلو تشدد بل، حق اطلاع اور یہاں تک کہ منریگا میں کمیوں پر خوب شور مچایا تھا۔ دوسرے کئی مدعوں پر بھی این اے سی کی سرکار سے ٹھنی ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ بھول جاتے ہیں کہ خود کو مضبوط وزیر اعظم ثابت کرنے کے چکر میں اور سونیا گاندھی کی کٹھ پتلی کے تمغے سے خود کو بچانے کی فراق میں وہ ملک کے لوگوں کا کتنا بڑا نقصان کر جاتے ہیں۔
ایسے تمام مسئلے ہیں، جن میں سونیا گاندھی کی صلاحوں کی کھل کر اندیکھی کی گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ مثلاً، این اے سی کے اس اعتراض کے باوجود کہ پوسکو کا پروجیکٹ جنگلات سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، حال ہی میں اسے ہری جھنڈی دکھا دی گئی۔ این اے سی کے رکن این او سی سکسینہ نے اس وقت کے وزیر ماحولیات جے رام رمیش کو 3 اگست، 2010 کو لکھ کر بتایا تھا کہ پروجیکٹ کن کن قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ جے رام رمیش نے پہلے تو اس پروجیکٹ پر اعتراض جتایا، لیکن پھر ان کی وزارت نے پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کردی۔ پوسکو کی مخالفت کرنے والوں کا الزام ہے کہ پوسکو پروجیکٹ کو پی ایم او کے دباؤ میں منظوری دی گئی، جب کہ سونیا اس پروجیکٹ کے حق میں نہیں تھیں۔ سونیا نے وزیر اعظم سے صاف طور پر کہا تھا کہ پوسکو پروجیکٹ جنگلات سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے روک دینا چاہیے۔ خاص کر ویسی حالت میں، جب اڑیسہ کا بازآبادکاری پیکیج بھی کمزور ہے، اس وجہ سے وہاں کے قبائلیوں کے مفادات کا تحفظ پختہ طور پر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن منموہن نے پوسکو کو مشروط منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اڑیسہ جنگلات سے متعلق قانون سے تال میل بیٹھا کر چلنا چاہیے۔ تحویل اراضی بل جیسے بے حد اہم اور سنجیدہ معاملہ پر بھی وزیر اعظم اور ان کے صلاح کاروں نے سونیا کی ایک نہ سنی۔ سونیا کا کہنا ہے کہ جہاں بھی تحویل اراضی کی وجہ سے ایک ساتھ اگر چار سو کنبے بے دخل ہوتے ہیں، تو سرکار وہاں کی سو فیصد زمین اپنی تحویل میں لے اور کسانوں کے لیے زمین لینے کا کام پرائیویٹ کمپنیاں کریں۔ اس کے ساتھ ہی راحت اور باز آبادکاری قانون کو تحویل اراضی قانون کے ساتھ جوڑا جائے۔ لیکن وزیر اعظم اس پر بھی اعتراض جتاتے ہوئے سونیا گاندھی کو یہ جواب دیتے ہیں کہ سرکار کی حلیف پارٹی ترنمول کانگریس اس قدم سے ناراض ہو سکتی ہے، کیوں کہ ممتا بنرجی تحویل اراضی میں سرکاری رول کی حامی نہیں ہیں۔ منموہن سنگھ کا ماننا ہے کہ بازآبادکاری قانون کو تحویل اراضی قانون کے ساتھ جوڑنے کی این اے سی کی سفارش سے مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ منموہن سنگھ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ چونکہ راحت – بازآبادکاری قانون قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کے لیے ہے، اسے لیے اسے تحویل اراضی قانون کے ساتھ جوڑنا غلط ہوگا۔ اس سے موجودہ حالات میں سیاسی دنیا اور صنعتی طبقے کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے سبب تحویل اراضی بل کے پارلیمنٹ تک پہنچنے کی راہ فی الحال مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ نتیجتاً یہ بل سرکار کے ان بلوں کی فہرست سے غائب ہیں، جو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے ہیں۔
این اے سی کے رکن جیاں دریج کہتے ہیں کہ این اے سی کی کئی سفارشیں یا تو نظر انداز کر دی جاتی ہیں یا نامنظور کر دی جاتی ہیں۔ اگر کبھی مانی بھی جاتی ہیں، تو جزوی طور پر۔ ایک اور مثال، منموہن سنگھ کے عزیز نیوکلیئر بل کو لوک سبھا سے پاس کرانے کے لیے سونیا نے انہیں بھرپور حمایت دی تھی۔ سونیا نے سرکار کے گرنے تک کا خطرہ مول لیا تھا، لیکن سونیا گاندھی کا پسندیدہ خواتین ریزرویشن بل، این اے سی اور سونیا کی منتوں کے باوجود ابھی بھی بیچ میں لٹکا پڑا ہے۔ سونیا، پارلیمنٹ میں خواتین کی 33 فیصد سے کم کی نمائندگی سے خوش نہیں ہیں۔ سونیا گاندھی جب بھی منموہن سنگھ سے اس بارے میں ذکر کرتی ہیں، تو انہیں جواب ملتا ہے کہ ایوان میں سرکار کے پاس اس بل کی حمایت میں وافر تعداد موجود نہیں ہے۔ مگر حقیقت سب جانتے ہیں کہ کبھی بھی سرکار کی طرف سے اس بل کی حمایت میں اتفاق رائے بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کچھ ایسی ہی بدحالی سونیا کی ایک دوسری خواہش ہند- عرب دوستی کی بھی ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ گاندھی فیملی کے رشتوں کی ایک خوش نما تاریخ ہے۔ شمال بعید اور عرب ممالک کے ساتھ کانگریس کی روایتی وفاداری والے رشتے رہے ہیں، جس کا فائدہ بھی گاہے بگاہے کانگریس کو ملتا رہا ہے۔ سونیا چاہتی ہیں کہ یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو۔ اس کے لیے سفارتی قدم اٹھائے جائیں، لیکن یہ معاملہ منموہن سنگھ کے ایجنڈے میں ہے ہی نہیں۔ حالانکہ سونیا نے پاکستان کے ساتھ امن بحالی کے یک نکاتی ایجنڈے میں کھل کر ان کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ جب وزیر اعظم کے اہم صلاح کار کی غلطی کی وجہ سے شرم الشیخ کے مدعے پر سرکار کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور منموہن کی اپنے ہی ساتھیوں کے درمیان تنقید شروع ہو گئی تھی، تب بھی سونیا نے سب کو نصیحت دے کر خاموش کرا دیا تھا۔
سونیا کو منموہن کے سامنے کشمیری مہاجرین کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے مسئلے پر بھی منھ کی کھانی پڑی ہے۔ سونیا نے کشمیری مہاجرین کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کی مانگ کی حمایت کرتے ہوئے سرکار کو کئی بار خط لکھا ہے۔ ہر بار جواب میں منموہن سنگھ کا پرانا خط نئی تاریخ کے ساتھ سونیا کے پاس چلا آتا ہے، جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ٹیکس سے متعلق ملکی قوانین میں افراد کے گروہ کو چھوٹ دینے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یونیک آئڈینٹی فکیشن یعنی یو آئی ڈی بھی وزیر اعظم کی سونیا گاندھی سے سرد جنگ کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس اسکیم اور تکنیک پر این اے سی کے کچھ ممبران کا اعتراض ہے۔ ان کے مطابق، یہ انفرادی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا نافذ ہونا ملک کے مفاد میں نہیں ہے، جب کہ منموہن سنگھ کی پرزور کوشش ہے کہ ان کے بے حد خاص رہے نندن نلیکنی کے ذریعے چلائی جا رہی یہ اسکیم نہ صرف پورے ملک میں نافذ ہو، بلکہ یو آئی ڈی کو فوڈ سیکورٹی اور منریگا کے جاب کارڈوں سے بھی جوڑا جائے۔ یہی حال منریگا کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی اجرت کے مسئلے کا بھی ہے۔ پچھلے سال 11 نومبر کو سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر منریگا کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی کم از کم اجرت طے کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وزارتِ دیہی ترقی نے منریگا سے کم از کم مزدوری کی لازمی شرط ختم کر دی تھی۔ وزیر اعظم نے جب اس خط کا جواب دیا تو اس میں لکھا تھا کہ وہ سونیا گاندھی کے صلاح کاروں کی رائے سے متفق نہیں ہیں اور وزارتِ دیہی ترقی نے کم از کم مزدوری کی شرط کو ختم کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے، وہ بالکل صحیح ہے۔ حالانکہ بعد میں کم از کم مزدوری میں جزوی اضافہ کردیا گیا، لیکن وزیر اعظم کے اس برتاؤ سے تلملائی این اے سی کی رکن ارونا رائے کھل کر کہتی ہیں کہ سرکار مزدوروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور پچھڑے طبقے کو حاشیے پر دھکیل رہی ہے۔ منموہن سرکار نے این اے سی کے ذریعے جنگلات سے متعلق قانون کی عمل آوری میں مضبوطی لانے کی سفارش کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ الٹے این اے سی کو ہی یہ صلاح دے دی گئی ہے کہ ایسے معاملوں پر وہ سیدھا مشورہ دینے کی بجائے قبائلی اور ماحولیات سے متعلق امور کی وزارت سے بات کرے۔ یہی حال حق اطلاع قانون کے لیے بنائے گئے نئے مسودے کا ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اب کوئی درخواست گزار کسی ایک موضوع پر محض 250 الفاظ میں ہی سوال کر سکتا ہے۔ این اے سی کا کہنا ہے کہ یہ آر ٹی آئی قانون کی روح کے خلاف ہے اور شفافیت کی خلاف ورزی بھی۔ لیکن سرکار اس کی صلاح پر غور کرنے کے لیے تیار تک نہیں۔ وزیر اعظم اور ان کے صلاح کاروں کے رویے سے این اے سی کے رکن بے حد نالاں ہیں اور بے عزتی محسوس کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس کے تین ممبران : جیاں دریج، ارونا رائے اور ہرش مندر نے اس بات کی کھل کر مخالفت کی۔ ملک نے دیکھا کہ کس طرح خصوصی اختیارات والی این اے سی کے ممبران کو بھی اپنی مانگوں کے لیے عام آدمی کی طرح سڑک پر اترنا پڑا۔
تازہ مسئلہ فوڈ سیکورٹی قانون کا ہے۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے لیے ایجنڈے کا اعلان منموہن سنگھ نے نہیں، بلکہ سونیا گاندھی نے کیا تھا۔ یو پی اے دوئم کی دوسری سالگرہ کے موقع پر دیے گئے عشائیہ میں سونیا نے اعلان کیا کہ سرکار اگلے اجلاس میں تحویل اراضی اور فوڈ سیکورٹی بل میز پر رکھے گی۔ وہاں موجود کانگریس کی ایک سینئر وزیر کابینہ بتاتی ہیں کہ یہ سن کر منموہن سنگھ صرف مسکرائے، لیکن انہوں نے اس پر کچھ بول کر عشائیہ کا مزا کرکرا نہیں کیا، شاید یہ سوچ کر کہ یہ بل پیش تو کیے جائیں گے، لیکن ان کی شکل و صورت ویسی نہیں ہوگی جیسی تیار کرنے کی ہدایت سونیا نے دی ہے۔ فوڈ سیکورٹی بل پر سرکار اور سونیا کی قیادت والی قومی صلاح کار کمیٹی (این اے سی) کے درمیان گزشتہ دو سال سے بحث چل رہی ہے۔ پیچ پھنسا ہے غریبی کے اعداد و شمار پر۔ این اے سی خط افلاس سے نیچے کے خاندانوں (بی پی ایل) کا دائرہ بڑھانا چاہتی ہے۔ این اے سی نے سونیا گاندھی سے صلاح و مشورہ کرکے اس کا مسودہ پچھلے سال ہی وزیر اعظم کے پاس بھیجا تھا۔ ملک میں روزگار گارنٹی اسکیم نافذ کرنے کے بعد فوڈ سیکورٹی کا قانون نافذ کروانا سونیا کی سب سے بڑی خواہش تھی، لیکن ان کے مسودے اور تجویز کو منموہن سنگھ کے اقتصادی صلاح کار اور مالی کمیٹی کے صدر سی رنگ راجن نے یہ کہتے ہوئے ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا کہ این اے سی کے مشوروں کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا، کیوں کہ ملک میں نہ تو اتنا اناج موجود ہے اور نہ ہی اتنی رقم کہ 12,000 کروڑ کی سبسڈی دی جاسکے۔ کافی وقت سے سرکار اس پر ٹال مٹول کر رہی تھی، لیکن اچانک اس مسودے پر کام شروع ہوگیا اور اس میں اہتمام بھی وہی کیے گئے جو سونیا اور ان کی صلاح کار کمیٹی نے بتائے تھے۔ جو دو اہم تبدیلی کی گئی ہے، ان میں عام خاندانوں کو تین کلوگرام غذائی اجناس کی فراہمی اور اس کا دائرہ بڑھا کر اس میں دودھ پلانے والی عورتوں، غریبوں اور عمر دراز لوگوں کے علاوہ بچوں کا تغذئی کھانا شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دودھ پلانے والی عورتوں کو چھ ماہ کے لیے ایک ہزار روپے کی رقم دی جانی ہے۔ اب یہ 52 ضلعوں کی بجائے ملک بھر میں دی جائے گی، جب کہ پہلے اسی پوائنٹ کو سی رنگ راجن نے منع کر دیا تھا۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے مجوزہ فوڈ سیکورٹی بل کے ترمیم شدہ مسودے کو منظوری دے دی ہے۔ اب اس بل کو جلد ہی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ حالانکہ مجوزہ بل سے اب سرکار پر سبسڈی کا سالانہ بوجھ 1,00,000کروڑ روپے کا پڑے گا، جب کہ فی الحال سرکار کا فوڈ سبسڈی بل سالانہ 70,000 کروڑ روپے کا ہے۔
منموہن سرکار کے ایک وزیر اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن پارٹیوں کا سیدھا حملہ بدعنوانی اور گھوٹالوں کے مسئلے پر پی چدمبرم پر ہی ہوگا۔ وزیر اعظم کے لاڈلے وزیر کو مصیبت سے بچانے کے لیے ترکش سے یہ تیر نکالا گیا ہے، تاکہ کھانے کے حق کا قانون نافذ کروانے کی واہ واہی کی آڑ میں سرکار مہنگائی جیسے مسئلے پر بھی اپنا دامن بچانے کی کوشش کر سکے۔ پچھلی دفعہ انتخابی جیت کا باعث منریگا کی طرز پر اس دفعہ بھی انتخاب جیتنے کے لیے فوڈ سیکورٹی قانون کا ڈھنڈورا پیٹا جاسکے۔g

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *